ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 190 )

دکھوں کا ابراہیم۔۔۔رفعت علوی/آخری قسط

1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی! دکھوں کا ابراہیم۔۔۔رفعت علوی/قسط 4 تیز رفتار ٹیوٹا کار نے سڑک پر تیز←  مزید پڑھیے

محبت کی پہلی کہانی۔ ۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ برف زمانے تھے جب گہری نیند سوئی ہوئی لڑکی کے کمرے کی مشرقی کھڑکی کے پاس اس بیل نے ننھے پتے پیدا کرنے کا آغاز کیا تھا جو خزاں میں سرخ ہو جاتے ہیں۔وہ اپنی کھڑکی کی چوکھٹ پر←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی۔۔۔محمد جاوید خان/قسط20

رَامہ نگرمیں بانسر ی کے اُداس سُر: رَامہ میدان کے آغاز میں سیاحوں کے لیے خیمے لگے تھے۔ایک خیمے سے خُود کار جدید ٹیپ ریکارڈ سے بانسری کی ریکارڈ شُدہ لَے نکل کر پورے جنگل میں پھیل رہی تھی۔یہ لَے←  مزید پڑھیے

رقصِ مرگ۔۔۔فوزیہ قریشی/افسانہ

ایک عجیب سی بے بسی کا امڈتا ہوا سمندر اس کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ چہرے پر انمٹ صدمات کی دھول عمیق اداسیوں کی مہر ثبت کر چکی تھی۔ اب تو شاید، اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی بوڑھی←  مزید پڑھیے

روزہ خوروں کی نشانیاں۔۔۔گل نو خیز اختر

رمضان سر پر ہے لہٰذا اِس کی تیاریاں بھی پورے عروج پر ہیں۔ جن لوگوں نے روزے رکھنے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ اس بات کی تیاری کر رہے ہیں کہ کھجوریں‘ بیسن اور بھلّیاں پہلے سے خرید لی جائیں←  مزید پڑھیے

پانچ قبریں ۔مسٹری مائیکرو فکشن ۔۔۔عامر صدیقی

آج بھی مجھے اچنبھے میں دیکھ کر وہ بوڑھا بول ہی پڑا،’’یہ پانچچ قبریں میرے پانچ دوستوں کی ہیں۔ ان پانچوں کا مجھ پر جو احسان ہے وہ میں کبھی نہیں اتار سکتا، ایسا احسان بھلا کب کسی نے، کسی←  مزید پڑھیے

ہسٹری کا پیریڈ ۔۔۔ قمر سبزواری

  یونیورسٹی کی کینٹین میں اکثر اُن کی بحث ہوتی۔ وہ ہمیشہ نوک جھونک کرتا اور وہ مسکرا دیتی۔ آج پھر وہ وہ شرارت کے موڈ میں تھا۔ کیا  یار !  یہ تم لڑکیاں بھی نا، عجیب وضع کا لباس←  مزید پڑھیے

ماں۔۔۔محمد فیاض حسرت/نظم

زندگی پہلے قربان کر دیتی ہے پھر فدا وہ دل و جان کر دیتی ہے اپنے حصے کی خوشیاں سبھی بانٹ کر مشکلیں یوں وہ آسان کر دیتی ہے نام کر کے بہاریں سبھی اوروں کے زندگی اپنی ویران کر←  مزید پڑھیے

میری امی ۔۔ میری سپر ہیرو …روبینہ فیصل

کائنات کی سب ماؤں کی کہانی ایک سی ہو تی ہے ۔محبت ، مہربانی اور قربانی کی کہانی ۔جس کہانی میں یہ سب نہ ہو، وہ عورت تو ہو سکتی ہے ، بچہ پیدا کرنے والی مشین بھی ہو سکتی←  مزید پڑھیے

ہمیں بھی پڑھاؤ نا۔۔۔علی اختر

شوکت ! “ایک چائے میٹھا کم” مجھ سے نظریں ملتے ہی شوکت کی خوشی دیدنی تھی۔ “ارے آپ لوگ پھر سے شروع ہو گئے۔ ” “ہاں یار اپنی زندگی بس یہی ہے”۔ میں نے جواب دیا تو شوکت مسکراتا ہوا←  مزید پڑھیے

حسن ِنظر ۔۔۔فوزیہ قریشی

’’ارے رکو، سنو تو کائنات۔۔۔ کائنات‘‘ میری آواز آس پاس کے شور میں کہیں دب کر رہ گئی اور وہ اس کا ہاتھ تھامے بس میں سوار ہو گئی۔ ’’وہ کون تھا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں←  مزید پڑھیے

اپنا اپنا جہنم۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ سیانوں سے سنتی چلی آئی تھی کہ بیٹا جنمے تو لوگ بدھائیاں دینے آئیں نہ آئیں،  در و دیوار سے پھوٹتی خوشی اور دروازوں پہ ٹنگی شرینہہ کی ٹہنیاں ہی اعلان کرتی پھرتی ہیں کہ نعمت خداوندی کا ،اولاد←  مزید پڑھیے

لیڈی ان پنک۔۔۔معاذ بن محمود/افسانہ

“تو یہ سنو۔ لنکن پارک کا نمب۔ ایک تو یہ راک میوزک ہے۔ دکھوں کی فریکوینسی سے میل کھاتا۔ دوسرا مجھے اس گانے میں اپنی کہانی سنائی دیتی ہے”۔ چیسٹر بیننگٹن کو پہلی بار سننا عاصم کے لیے کسی حد←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔۔ جاویدخان/قسط19

پکی پھٹور وں کے درمیان تنگ سُکڑی سڑک : ایک تنگ سی سڑک پہاڑوں پہ چکر کاٹتی اُوپر کو جارہی تھی۔پہاڑوں نے اِسے زیادہ جگہ دینے سے اِنکار کردیا تھا۔نیچے کہیں کہیں کھائی نما گہرائیاں تھیں۔لِہٰذا یہ سُکڑنے پہ مجبور←  مزید پڑھیے

دکھوں کا ابراہیم۔۔۔رفعت علوی/قسط 4

1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ ،خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے  ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی! کیپٹن فہیم گھر پہ نہیں تھے۔۔ تم نے اپنے وسیع و عریض ڈرائنگ←  مزید پڑھیے

حرامی ۔۔مریم مجید ڈار

شہر میں جگہ جگہ سسکیوں والے ریستوران کھل چکے تھے ۔ وہاں کوئی خاص خوراک تو نہیں بنتی تھی مگر پھر بھی سب سے زیادہ ہجوم وہیں پایا جاتا تھا۔ نوجوان جوشیلے لڑکے اور امنگوں سے لبریز نمکین دھندلے مرغولوں←  مزید پڑھیے

خیال۔۔سارہ خان

وہ میرے ہی گیٹ پہ چوکیدار سے میرے بنگلے کا پتہ پوچھ رہا تھا اور میں دعاؤں کی قبولیت پہ کبھی حیران کبھی پریشان اور کبھی دل میں ڈھیروں شکر ادا کرتی۔۔۔میں کیا کرتی میری خوشی میرے اختیار میں کب←  مزید پڑھیے

زمانے کے انداز بدلے گئے۔۔۔گل نوخیز اختر

بالیوں تک تو ٹھیک تھا لیکن مردانہ ماڈلنگ کی کچھ تصاویر دیکھ کر دل اچھل کر حلق میں آ گیا ہے۔ اچھے خاصے نوجوانوں نے میکسیاں پہنی ہوئی ہیں جبکہ ایک جواں مرد نے تو باقاعدہ سر پر دوپٹہ بھی←  مزید پڑھیے

چلے تھے دِیوسائی ۔۔۔۔جاویدخان /قسط18

اَستور بازار ایک نالے کے آر پار واقع ہے۔پار والا حصہ نیم ڈھلوانی سطح پہ کھڑا ہے۔اَستور ضلع ہے۔2004 ء میں اِسے ضلع کا درجہ دِیاگیا پہلے یہ ضلع گلگت کا حصہ تھا۔اَستور 1966   مربع میل ہے۔پُورے گلگت بلتستان←  مزید پڑھیے

دکھوں کا ابراہیم۔۔رفعت علوی /قسط 3

1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ،خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے  ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی! تم نے بہت شکایتی اور اداس نظروں سے میری طرف دیکھا اور اپنے چہرے←  مزید پڑھیے