دکھوں کا ابراہیم۔۔۔رفعت علوی/آخری قسط

1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی!

دکھوں کا ابراہیم۔۔۔رفعت علوی/قسط 4
تیز رفتار ٹیوٹا کار نے سڑک پر تیز رفتاری کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ایک شارپ موڑ لیا، گاڑی ذرا سی ترچھی ہوئی پھر سیدھی ہو کر سڑک پر بھاگنے لگی، یہ کراچی کا پوش ایریا تھا، گاڑی شاہراہ امیر خسرو کو کراس کرتی فیز سکس کی طرف مڑی اور خیابان سحر کی ایک ذیلی اسٹریٹ پر مڑ گئی، گاڑی کے بریک چرچرائے اور اس کے ڈرائیور نے ایک گھر کے دروازے پر زور زور سے مخصوص انداز میں ہارن بجایا، گھر کی دیواروں پر گلابی پیلے اور سرخ بگن ویلیا کی بیل جھکی ہوئی تھی اور گیٹ کے ایک پلر پر لپٹی عشق پیچاں کی گھنی بیل نے مالک مکان کے نام کی تختی کو چھپا لیا تھا، ڈرائیور نے بے صبری سے پھر ہارن بجایا، کسی نے اندر سے چلا کر کچھ کہااور لوہے کا بڑا سا کالا دروازہ ہلکی سی آواز کے ساتھ کھل گیا۔۔۔
گاڑی اندر داخل ہوکر پورچ میں رک گئی، کار کا پچھلا دروازہ کھلا اور ایک بردبار باوقار سی عورت دھانی ساڑھی پرہلکی نیلی شال لپیٹے باہر نکلی، پھر ڈرائیونگ سیٹ پر سے ایک  سمارٹ سا لڑکا اترا جس نے سرخ ٹی شرٹ پر گھسی ہوئی نیلی جینز پہنی ہوئی تھی، لڑکے نے شرارت بھری نظروں سے عورت کی طرف دیکھا اور بولا “کیوں مما میری ڈرائیونگ شاندار ہے نا”۔ عورت نے ناراض سی نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور ایک پیار بھری گُھرکی دے کر گھر کے اندر چلی گئی، لڑکا اس کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہوا اور ہنستا ہوا ماں سے لپٹ گیا،
اسی وقت اوپر سے اترتی ہوئی سیڑھیوں کے پہلے زینے پر سیاہ آنکھوں والی ایک لڑکی نمودار ہوئی اور اس نے وہیں سے چلا کر کہا زیادہ بٹرنگ مت کرو سلمان، مما نے تمھارے لئے لڑکی پسند کرلی ہے۔۔۔پھر وہ دو دو زینے پھلانگتی ہوئی نیچے آگئی
عورت نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور بولی ” میری پسند نہ پسند کا کیا سوال ہے، یاد رکھو بچوں کہ زندگی اسی کے ساتھ بسر کرنا چاہیے جس سے تمھارا دل جڑے ورنہ غلط فیصلے عمر بھر کا پچھتاوا بن جاتے ہیں، اور پھر یہی پچھتاوے بعد میں سمجھوتے بن کر زندگی کی خوشیوں کو ڈستے رہتے ہیں”
اور سنو سفینہ، ذرا ڈرائنگ روم کھلوا کر صاف کروا دو، شام کو فرقان سرمدی اور عزم رومانی صاحبان آئیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وال ٹو وال نیلے دبیز کارپٹ سے سجے ڈرائنگ روم کی ایک دیوار پر سنہرے فریم میں قید ایک پینٹنگ لگی تھی جس میں بادبانی جہاز نرم رو موجوں میں بہتا چلا جا رہا تھا جہاز کے پس منظر میں ڈوبتے سورج کی پیلی کرنوں نے سمندر کی لہروں پہ سونا بکھیر دیا تھا، بالکل سامنے والی چھوٹی سی مخروطی میز پر بحری جہازوں میں استعمال ہونے والے اسٹیئرنگ وہیل کا ماڈل رکھا ہوا تھا، سفینہ نے ایک بار پھر ناقدانہ نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لیا اور پھر سلمان کی طرف متوجہ ہوگئی جس نے میوزک سسٹم پہ کسی مشاعرے کی سی ڈی لگا رکھی تھی اور مجروح سلطان پوری اپنی دلکش آواز میں مشہور غزل پڑھ رہے تھے
ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو، ہم تھےپریشاں تم سے زیادہ
چاک کیے ہیں ہم نے عزیزو، چار گریباں تم سے زیادہ

کیا غزل ہے۔۔۔سلمان جھوم کر بولا
سفینہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی گھر کے دروازے کی گھنٹی بجی۔۔۔شاید مہمان آگئے تھے، سلمان اور سفینہ دونوں ہی فرقان سرمدی اور عزم رومانی صاحبان کو اچھی طرح جانتے تھے، مگر آج ان کے ساتھ ایک اجنبی بھی تھا، ادھیڑ عمر کا یہ کھلتی ہوئی رنگت کا شخص دلکش خدو خال کا مالک تھا، سنجیدہ اور مدبر چہرے پر تفکرات اور وقت نے کچھ لکیریں کھینچ دیں تھی، کنپٹیوں پر بال سفید ہوچکے تھے ،ماتھے پہ جھکی بالوں کی ایک چاندی کی لٹ اسکے وقار میں اضافہ کررہی تھی۔۔
ابھی وہ بیٹھنے بھی نہیں پائے تھے کہ دروازے پر آہٹ ہوئی اور سلمان کی ماں اندر داخل ہوئیں اور ایک اجنبی کو دیکھ کر ٹھٹک گئیں
یہ ڈاکٹر شاد احمد ہیں یونیورسٹی میں آرٹس فیکیلٹی کے ڈین۔۔۔۔اور یہ ہیں ہماری ستارہ بھابھی۔۔۔۔ستارہ فہیم صاحبہ، عزم صاحب تعارف کرواتے ہوئے بولے۔۔

چاک کیے ہیں ہم نے عزیزو۔۔۔مجروح کی مترنم آواز جیسے کہیں بہت دور سے آئی
ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو۔۔دیوار پر لگی پینٹنگ چلانے لگی
چاک جگر محتاج رفو ہے۔۔۔مخروطی میز پر سجے جہاز کےاسٹیئرنگ وہیل نے دہائی دی
زخم کے مہر و ماہ سلامت۔۔۔ستارہ نے اپنے آپ سےکہا
زخم کے مہر وماہ سلامت۔۔۔سالوں کی ریاضت سے رفو کیے زخموں کے  بخیے  کہیں کھل نہ جائیں
کچھ دیر خاموشی رہی، جذباتی تغیر کا لمحاتی وقفہ آیا اور گذر گیا
جی۔۔۔ ہم جانتے ہیں ان کو، وہ سنبھل کر بولی
آداب۔۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ ماتھے تک لے جا کر چھوڑ دیئے۔۔۔۔سلام کرنے کا وہی پرانا قرینہ
ہم اور دلشاد صاحب کلاس فیلو رہ چکے ہیں۔۔۔وہ مسکرائی، وہی برسوں پرانی دلکش مسکراہٹ، کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا اس میں، بس وقت اسکے چہرے پہ ایک ملال کا سایہ سا چھوڑ گیا تھا۔۔
کچھ دیر خاموشی رہی، شاد احمد چپ چاپ کسی ناکردہ گناہگار کی طرح سرجھکائے بیٹھا رہا۔۔
پھر جیسے ایک دم سب ایک ساتھ بولنے لگے۔۔

کہاں ہوتے ہیں آپ دلشاد احمد صاحب۔۔۔۔آپ کے گیت ،آپ کے نغمے، آپ کے افسانے، آپ کی شاعری۔۔اس نے بڑے فارمل لہجے میں پوچھا۔۔
دلشاد احمد نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، ریم لیس چشمے کے پیچھے سے دو دل گرفتہ آنکھیں اوپر اٹھیں اور جھک گئیں
کتنا عجیب لگ رہا ہے  نا آج پچیس برس بعد ہم پھر ملے ہیں مگر اجنبیوں کی طرح، ستارا نے سوچا
اب تو بڑے آدمی ہوگئے ہیں آپ ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔ ڈین آف آرٹس فیکلٹیز۔۔۔کہاں فرار رہے اتنے سالوں۔۔۔۔اس نے لہجے کو نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
ارے ہم۔۔۔۔ہم  کہاں۔۔ وہ سر جھکائے انکساری سے بولا
ہم کو کہاں فرار اس دنیا سے، ہم تو آج بھی اسی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں آپ ہم سب کو چھوڑ کر کیپٹن فہیم کے ساتھ رخصت ہوگئی تھیں، ایک شکست خوردہ سا تبسم اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوا
آپ کے بیوی بچے۔۔۔۔وہ سب کہاں ہیں، اس نے رک رک کے پوچھا
شادی ہی نہیں کی تو بچے کہاں سے آتے، وہ یوں شرمسار لہجے میں بولا گویا شادی نہ کرنا بھی جرم ہو
کیوں، آپ تو لڑکیوں میں بہت مقبول تھے اس وقت، کوئی بھی لڑکی تیار ہوجاتی شادی کے لئے، آپ کوئی اشارہ تو کرتے، شاد احمد کو اس لہجے میں ایک شکوہ ایک شکایت ایک محرومی کی کسک سی محسوس ہوئی۔۔
جی تیار تو ہو جاتیں ۔۔۔۔مگر، وہ ذرا کی  ذرا  رکا۔
مگر آپ کو تو فہیم صاحب اڑا کر لےگئے تھے تو پھر ہم کس کو اشارہ  کرتے، اس نے ایک شرارت آمیز لہجے میں کہا
سب نے ایک فلگ شگاف قہقہہ لگایا، سلمان اور سفینہ نے دلچسپی سے اس خوبصورت آدمی کی طرف دیکھا جو ان کی ماں کا بےتکلف کلاس فیلو رہ چکا تھا۔
تو کیا آپ کو مما جیسی کوئی دوسری لڑکی نہیں ملی، سفینہ نے کچھ شوخی سے کہا
شاد احمد نے مسکراتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور بہت مشفقانہ لہجے میں بولا
جانے کتنی تمنائیں دل کے دریچے پر دستک دے دے کے لوٹ گئیں ۔۔۔۔
مگر بیٹا اب اس ذکر کو جانے دو، ہم دل کے بازار میں بیٹھے ہیں  خسارہ  کرکے، بہت سے بھید کھل جائیں گے ہمارے اور سفینہ کھلکھلا کر ہنس پڑی.
چلتے وقت دلشاد نے اپنی شاعری کی کتاب “عذاب آگہی” پر ایک نوٹ لکھ کر ستارا کو دیا
رات کو بچوں کے اپنے اپنے کمروں میں چلے جانے کے بعد ستارا نے سائیڈ ٹیبل لائٹ آن کی اور “عذاب آگہی” کے ورق پلٹنے لگی، پہلے صفحے پر خوشخط تحریر میں لکھا گیا تھا

نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جدا ہوئے،
نہ تو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گذر گیا

کتاب کے دوسرے صفحے پر شاد احمد کے دستخطوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا نوٹ بھی تھا
ستارا تم یہ نہ سمجھنا کہ ہماری آج کی یہ ملاقات اتفاقیہ تھی، میں خاص طور پر اپنی نادانیوں کی تلافی اور اپنے ضمیر کی پکار پر اختیاری اور ارادی طور پر تمھارے گھر آیا تھا، تم کو اور بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھ کر میرے دل کا کچھ بوجھ ہلکا ہوگیا، تمھارے بچے بالکل تمھارے جیسے ہیں، خاص طور پر سفینہ، خوبصورت اور نازک، تم نے ان کی تربیت بھی بہت اچھی کی ہے، تمنا ہے کہ اللہ ان کے نصیب ہم سے اچھے کرے۔
پچھلے پچیس برسوں پہلے جو ہونا تھا سو ہو چکا، ہمارا لڑکپن رخصت ہوئے زمانہ ہوا، میری کنپٹیوں کے بالوں پر برف پڑ چکی، تم بھی اپنی اولاد کی جوانی پر دعاؤں کے تعویذ باندھتی ہوگی، آؤ ہم اپنی تقدیر کی محرومیوں کا نوحے پڑھنے اور اپنی نادانیوں پر سینہ کوبی کرنے کے بجائے آج کے کم عمر لڑکے لڑکیوں کے لئے ایک بات تو کہتے جائیں کہ نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے، پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے، محبت اعتماد اور تعلقات میں اگر “انا” اور “خودی” کی گانٹھ لگ جائے تو پھر لاکھ کوشش کریں اس گانٹھ کو کھلنے میں وقت تو لگتا ہے،

بچوں سے کہہ دینا کہ کبھی مایوس نہ ہوں۔۔۔۔جیسے ہی انھیں کسی سے محبت ہوجائے تو موقع ملتے ہی اپنے دل کی بات کہنے میں دیر نہ کریں۔
الودع ۔۔۔۔اچھی دوست۔۔
چاک جگرمحتاج رفو ہے ، آج تو دامن صرف لہو ہے۔۔۔

ہوا کے دوش پر لہراتی مجروح کی آواز پھر آئی اوپر کمرے میں سفینہ نے مشاعرے کی سی ڈی دوبارہ  لگادی تھی
ستارا نے ایک گہری سانس لی اور لائٹ آف کرکے آنکھیں بند کرلیں۔۔آنسوؤں  کا ایک قطرہ اسکی آنکھ سے ٹپک کر تکیے میں جذب ہوگیا۔۔۔
آج تو دامن صرف لہو ہے۔۔۔اور مجروح کی آواز اندھیرے میں بڑی دیر تک گونجتی رہی!!!

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *