علی اختر کی تحاریر
علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

گنجے جانور کی قربانی۔۔۔علی اختر

نام تو انکا کچھ اور تھا لیکن سارامحلہ انہیں “ماموں” کے نام سے جانتا تھا ۔ خود صاحب اولاد نہ تھے لیکن ساتھ ایک بیوہ بہن اور اسکے تین عدد بچے رہتے تھے ۔ ان بھانجوں کو وہ بالترتیب”بڑا” “منجھلا”←  مزید پڑھیے

وی آئی پی بلاک ۔۔عید اسپیشل/علی اختر

میرے والد ایک خاندانی رئیس تھے ۔ آنکھ کھلی تو ابا کا بزنس سارے ملک میں پھیلا دیکھا ۔ بچپن سے ہی بڑا محل نما گھر ، گیراج میں کھڑی نئے ماڈل کی گاڑیاں اور نوکروں کی قطاریں دیکھیں ۔←  مزید پڑھیے

پاپی بچھوا۔۔۔علی اختر

میرے دن کی شروعات “بخت علی” کی چائے سے ہوتی ہے ۔ میں صبح صبح بوجھل قدموں سے اپنے آفس کی سیڑھیاں چڑھتا ہوں ، آفس کھولتا ہوں،کرسی پر نیم دراز ہو جاتا ہوں ۔ نیم وا آنکھوں سے بخت←  مزید پڑھیے

کس کس کو ہے الرجیءِ “کِس”۔۔۔۔۔علی اختر

یہ غالباً سن 2002کی بات ہے ۔ کراچی میں اس وقت سی ویو سے آگے پکی سڑک صرف ویلیج ریسٹورنٹ تک ہوا کرتی تھی اس سے آگے کی سڑک پختہ نہ تھی اور نہ ہی کوئی اسٹریٹ لائٹ موجود تھی←  مزید پڑھیے

افغان نمک حرام اور مطالعہ پاکستان۔۔۔۔علی اختر

یہ تحریر اسامہ اقبال خواجہ کی تحریر پڑھنے کے بعد لکھی گئی ہے۔ افغانی اور کشمیری احسان فراموشی مت کریں۔۔۔۔۔اسامہ اقبال خواجہ سردی کی شام تھی اور کراچی میں دن بھر موسلا دھار بارش ہوتی رہی تھی ۔ یہ اس←  مزید پڑھیے

لڑکا موٹا چل جاتا ہے لیکن لڑکی نہیں ۔۔۔۔علی اختر

نوٹ : یہ تحریر  میاں جمشید صاحب کی تحریر کے جواب  میں لکھی گئی ہے! لڑکا موٹا ہو تو چل جاتا ہے مگر لڑکی نہیں۔۔۔میاں جمشید ہمارے خطے میں چند موضوعات بہت مشہور ہیں ۔ جب آپکے پاس لکھنے کو←  مزید پڑھیے

“حامد ” فلم ریویو۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی اختر

میں بہت کم فلمیں دیکھتا ہوں اور وہ بھی گھر پر لیپ ٹاپ یا موبائل میں ۔ سینما جانے کا بھی کبھی اتفاق نہیں ہوا ۔ لیکن آج دیکھی ہوئی  ایک فلم کی دل کو چھو لینے والی کہانی نے←  مزید پڑھیے

انتظار تھا جس کا ،یہ وہ بجٹ تو نہیں ۔۔۔علی اختر

بجٹ کیا ہو تا ہے ؟ کوئی  بھی کمپنی ہو ، گھر ، ادارہ، دکان یا پورا ملک چلانے کے لیے  پیسہ چاہیے  ہوتا  ہے  ،جس سے اخراجات (expense) پورے کیےجا سکیں  ۔ آ نے والے سال میں ہونے والے←  مزید پڑھیے

یہ طوطے قصر صدارت کے۔۔۔علی اختر

کہتے ہیں کہ سکندر اعظم کو ہندوستان کے ایک راجہ نے تحفتاً ایک پرندہ دیا تھا ۔ یونانی تو اس پرندہ کی حقیقت سے واقف نہ تھے سو شکریہ کے ساتھ قبول فرما لیا ۔ دراصل یہ ایک جاسوس طوطا←  مزید پڑھیے

پکڑ دھکڑ دھپڑ دھوس اور بالا بکری چور۔۔۔۔علی اختر

کچی سڑک پر بس دھول اڑاتی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی ۔ وہ بس کی سب سے آخر   سیٹ پر بیٹھا اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس نے اس گاؤں آنے کا فیصلہ کیا ۔←  مزید پڑھیے

بانوے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔۔علی اختر

یہ سن بانوے  کی بات ہے ۔ وہ والا بانوے  نہیں جس میں پاکستان نے مشہور زمانہ ورلڈ کپ جیتا ۔ ارے وہ تو بہت اچھا دور تھا ۔ میں بہت پہلے کی یعنی 1592 کی بات کر رہا ہوں←  مزید پڑھیے

شبر زیدی ” ایک اور ناکام تبدیلی”۔۔۔علی اختر

تبدیلی سرکار نے کچھ عرصہ پہلے ایف بی آر کے چیئر مین کے طور پر ملک کے سینئر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ محترم شبر زیدی صاحب کا تقرر کیا ہے ۔ بے شک انکی قابلیت پر کوئی  اعتراض نہیں ۔ یقیناً  وہ←  مزید پڑھیے

احوال ہم گندے بچوں کی عید کا۔۔۔علی اختر

راقم کو قارئین جانتے نہیں سو راقم بیان کر سکتا ہے کہ وہ ایک اعلی ، امیر و ادبی گھرانے کا چشم و چراغ ہے جو سونے کا چمچ منہ میں لیے  دنیا میں آیا ، ابا حضور سول سرونٹ،←  مزید پڑھیے

میرا، تیرا اور جذباتی عورت کا چاند۔۔۔علی اختر

پاکستان بننے سے دو سال پہلے یعنی سن 1945 کا ایک دن ہے ۔ لاہور میں اکھاڑا تیار کیا جا چکا ہے ۔ پنڈال میں دو لاکھ سے زیادہ تماشائی موجود ہیں ۔ آج کشتی کی تاریخ کا بہت بڑا←  مزید پڑھیے

گدا گری کا” کمپٹیسن “۔۔۔علی اختر

راقم یار باش ملنگ قسم کا آدمی ہے ۔ اپنے لڑکپن کے زمانے سے ہی ناظم آباد کراچی میں انکوائری آفس پر واقع ایک پارک میں واک اور رننگ کرنے جاتا تھا۔ وہاں ایک فقیر کو ہاتھ میں ناڑے اٹھائے←  مزید پڑھیے

میں خدا کو نہیں مانتا ۔۔۔۔۔علی اختر/ قسط 8

کچھ ہی دن بعد مجھے استنبول کے اوورسیز لوگوں کے آفس جانا تھا جو فاتح کے علاقے ہی میں واقع تھا تو کام سے فراغت کے بعد میں نے اورہان سے ملاقات کا سوچا ۔ آفس سے نکل کر میں←  مزید پڑھیے

مودی زندہ باد۔۔۔۔علی اختر

انڈیا کے حالیہ الیکشن میں بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کی ہے ۔ یعنی اگلی بار پھر مودی سرکار ۔ پاکستان میں زیادہ تر لوگ نا خوش ہیں ۔ کہتے ہیں کہ  بی جے پی انتہا پسند جماعت←  مزید پڑھیے

چیئر مین ! اللہ تم کتنے رومانٹک ہو ۔۔۔علی اختر

یہ غالباً اس وقت کی بات ہے جب راقم نیا نیا کالج میں پہنچا تھا ۔ اردو کا پیریڈ تھا ۔ میر کی غزل ۔ پڑھانے والی ایک خرانٹ سی پردہ دار خاتون ۔ شعر کچھ یوں تھا ۔ نازکی←  مزید پڑھیے

ہمیں قحبہ خانے چاہئیں ۔۔۔۔علی اختر

اس موضوع پر قلم اٹھاتے مجھے افسوس بھی ہے اور شرم بھی محسوس ہو رہی ہے ۔ میں اس بات پر اصرار نہیں کرتا کہ  میں صحیح ہوں اور نہ ہی یہ خواہش رکھتا ہوں کہ  میرے قارئین مجھ سے←  مزید پڑھیے

ناعاقبت اندیش قوم کے بیہودہ تبصرے۔۔۔علی اختر

کہتے ہیں کہ  بغداد میں بہلول دانا سڑک کے کنارے بیٹھے تھے کہ ایک مفلس آدمی انکے سامنے آیا ادب سے ہاتھ باندھ کر دریافت کیا کہ “حضور نادار ہوں ۔ مفلس ہوں ۔ محض دو درہم جیب میں ہیں←  مزید پڑھیے