علی اختر کی تحاریر
علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

یہ طوطے قصر صدارت کے۔۔۔علی اختر

کہتے ہیں کہ سکندر اعظم کو ہندوستان کے ایک راجہ نے تحفتاً ایک پرندہ دیا تھا ۔ یونانی تو اس پرندہ کی حقیقت سے واقف نہ تھے سو شکریہ کے ساتھ قبول فرما لیا ۔ دراصل یہ ایک جاسوس طوطا←  مزید پڑھیے

پکڑ دھکڑ دھپڑ دھوس اور بالا بکری چور۔۔۔۔علی اختر

کچی سڑک پر بس دھول اڑاتی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی ۔ وہ بس کی سب سے آخر   سیٹ پر بیٹھا اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس نے اس گاؤں آنے کا فیصلہ کیا ۔←  مزید پڑھیے

بانوے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔۔علی اختر

یہ سن بانوے  کی بات ہے ۔ وہ والا بانوے  نہیں جس میں پاکستان نے مشہور زمانہ ورلڈ کپ جیتا ۔ ارے وہ تو بہت اچھا دور تھا ۔ میں بہت پہلے کی یعنی 1592 کی بات کر رہا ہوں←  مزید پڑھیے

شبر زیدی ” ایک اور ناکام تبدیلی”۔۔۔علی اختر

تبدیلی سرکار نے کچھ عرصہ پہلے ایف بی آر کے چیئر مین کے طور پر ملک کے سینئر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ محترم شبر زیدی صاحب کا تقرر کیا ہے ۔ بے شک انکی قابلیت پر کوئی  اعتراض نہیں ۔ یقیناً  وہ←  مزید پڑھیے

احوال ہم گندے بچوں کی عید کا۔۔۔علی اختر

راقم کو قارئین جانتے نہیں سو راقم بیان کر سکتا ہے کہ وہ ایک اعلی ، امیر و ادبی گھرانے کا چشم و چراغ ہے جو سونے کا چمچ منہ میں لیے  دنیا میں آیا ، ابا حضور سول سرونٹ،←  مزید پڑھیے

میرا، تیرا اور جذباتی عورت کا چاند۔۔۔علی اختر

پاکستان بننے سے دو سال پہلے یعنی سن 1945 کا ایک دن ہے ۔ لاہور میں اکھاڑا تیار کیا جا چکا ہے ۔ پنڈال میں دو لاکھ سے زیادہ تماشائی موجود ہیں ۔ آج کشتی کی تاریخ کا بہت بڑا←  مزید پڑھیے

گدا گری کا” کمپٹیسن “۔۔۔علی اختر

راقم یار باش ملنگ قسم کا آدمی ہے ۔ اپنے لڑکپن کے زمانے سے ہی ناظم آباد کراچی میں انکوائری آفس پر واقع ایک پارک میں واک اور رننگ کرنے جاتا تھا۔ وہاں ایک فقیر کو ہاتھ میں ناڑے اٹھائے←  مزید پڑھیے

میں خدا کو نہیں مانتا ۔۔۔۔۔علی اختر/ قسط 8

کچھ ہی دن بعد مجھے استنبول کے اوورسیز لوگوں کے آفس جانا تھا جو فاتح کے علاقے ہی میں واقع تھا تو کام سے فراغت کے بعد میں نے اورہان سے ملاقات کا سوچا ۔ آفس سے نکل کر میں←  مزید پڑھیے

مودی زندہ باد۔۔۔۔علی اختر

انڈیا کے حالیہ الیکشن میں بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کی ہے ۔ یعنی اگلی بار پھر مودی سرکار ۔ پاکستان میں زیادہ تر لوگ نا خوش ہیں ۔ کہتے ہیں کہ  بی جے پی انتہا پسند جماعت←  مزید پڑھیے

چیئر مین ! اللہ تم کتنے رومانٹک ہو ۔۔۔علی اختر

یہ غالباً اس وقت کی بات ہے جب راقم نیا نیا کالج میں پہنچا تھا ۔ اردو کا پیریڈ تھا ۔ میر کی غزل ۔ پڑھانے والی ایک خرانٹ سی پردہ دار خاتون ۔ شعر کچھ یوں تھا ۔ نازکی←  مزید پڑھیے

ہمیں قحبہ خانے چاہئیں ۔۔۔۔علی اختر

اس موضوع پر قلم اٹھاتے مجھے افسوس بھی ہے اور شرم بھی محسوس ہو رہی ہے ۔ میں اس بات پر اصرار نہیں کرتا کہ  میں صحیح ہوں اور نہ ہی یہ خواہش رکھتا ہوں کہ  میرے قارئین مجھ سے←  مزید پڑھیے

ناعاقبت اندیش قوم کے بیہودہ تبصرے۔۔۔علی اختر

کہتے ہیں کہ  بغداد میں بہلول دانا سڑک کے کنارے بیٹھے تھے کہ ایک مفلس آدمی انکے سامنے آیا ادب سے ہاتھ باندھ کر دریافت کیا کہ “حضور نادار ہوں ۔ مفلس ہوں ۔ محض دو درہم جیب میں ہیں←  مزید پڑھیے

میں خدا کو نہیں مانتا۔۔۔علی اختر/ قسط 7

استنبول میں واقع حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر پہلی بار میں علی بخش کے ساتھ گیا ۔ اسکا کہنا تھا کہ  جب کبھی دل پریشان ہو تو اس جگہ آکر کچھ وقت گزارا کرو ۔ قلبی سکون کااحساس←  مزید پڑھیے

فلمیں ، ناول اور تیل کا کنواں۔۔۔۔علی اختر

میدان جنگ میں دونوں لشکر آمنے سامنے تھے ۔ منگولوں کے مقابلے میں خوارزم شاہ کا لشکر آدھا بھی نہیں تھا ۔ اس نے میمنہ اور میسرہ پر اپنے آزمودہ کار جرنیلوں کو مقرر کر دیا تھا ۔ تیر انداز←  مزید پڑھیے

ایک پاؤ”چینی”۔۔۔۔۔علی اختر

راقم کے بچپن میں فلم پانچ روپے اور وی سی آر مبلغ تیس روپے کرائے کے عوض دکانوں پر دستیاب تھا اور کبھی کبھار چھٹیوں کے دوران فلمیں دیکھنے کا پروگرام ترتیب دیا جاتا تھا ۔ ایک ایسے ہی خوش←  مزید پڑھیے

آداب سے عاری رویہ۔۔۔۔۔۔علی اختر

اتفاق سمجھیے کے مکالمہ پر لگنے والا میرا آخری مضمون “کچھ رویہ بدلنے کی ضرورت ہے” بھی گفتگو کے آداب کے بارے میں ہی تھا ۔ کل  ایک افسوسناک واقعے میں جناب محترم قمر زمان کائرہ صاحب کا بیٹا ایک←  مزید پڑھیے

میں خدا کو نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔علی اختر/ قسط 6

میں یہ نوٹ کرتا تھا کے عرب اسٹوڈنٹس کا رویہ ایرانیوں کے ساتھ تو سرد تھا ہی میرے ساتھ بھی اب وہ گرمجوشی نہ تھی ۔ پھر ایک دن ایک بریک کے دوران میرے ایک شامی کلاس فیلو “خالد” نے←  مزید پڑھیے

کچھ رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔علی اختر

کافی عرصہ ہوا دومختصر سی تحریریں نظر سے گزری تھیں ۔ ہمارے قومی رویہ کو سمجھنےمیں ان کو پڑھ کر بہت حد تک مدد ملے گی ۔ پہلی تحریرکچھ یوں تھی ۔ “اگر ہم سڑک پر کھڑے کسی موٹر سائیکل←  مزید پڑھیے

ہم بیٹیاں بیچنے والی قوم ہیں۔۔۔۔علی اختر

بحیثیت قوم ہم پاکستانی کچھوے سے مشابہہ ہیں ۔ اپنی زندگی ایک خول میں گزار دیتے ہیں ۔ ہماری دنیا ، ہماری سوچ کا محور ایک خول ہے ۔ یہ خول ہماری  بابت ہماری سوچ کا ہے ۔ یہ سوچ←  مزید پڑھیے

رنگیلہ شاہ کا گھوڑا وزیر۔۔۔اختر علی

محمد شاہ رنگیلا کا دور حکومت ستائس سال پر محیط تھا ۔ وہ 1729 سے 1748 تک ہندوستان کا بادشاہ رہا ۔ بدنام زمانہ سید برادران نے اسے جیل سے آزاد کرا کر تخت پر بٹھادیا تھا ۔اس سے منسوب←  مزید پڑھیے