حسن ِنظر ۔۔۔فوزیہ قریشی

’’ارے رکو، سنو تو کائنات۔۔۔ کائنات‘‘
میری آواز آس پاس کے شور میں کہیں دب کر رہ گئی اور وہ اس کا ہاتھ تھامے بس میں سوار ہو گئی۔
’’وہ کون تھا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں کیوں تھا؟
کون ہو سکتا ہے؟ جس کے ہونے کا احساس اتنا قوی ہے کہ اسے کچھ سنائی نہیں دیا۔‘‘
کیا وہ کائنات ہی تھی؟ میں خود سے ہی سوال کر رہی تھی۔
ایسا دو بار پہلے بھی ہو چکا تھا۔ اس دن بھی تو یہی گورا اس کے ساتھ تھا جب وہ جوبلی ( انڈر گراؤنڈ ٹرین) میں سوار ہو گئی تھی اور میں اسے آوازیں دیتی رہ گئی۔ ہاں ہاں بالکل ، یہی تو تھا۔
پچھلے دو برسوں میں وہ مجھے کئی بار اس کے ساتھ دکھائی دی تھی کبھی شاپنگ مال میں تو کبھی ٹرین میں کبھی بس میں سوار ہوتے ہوئے لیکن چاہتے ہوئے بھی ہماری ملاقات نہ ہو سکی۔۔۔۔۔
آج دو برس بعد ایک جانی پہچانی آواز پر میں نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو وہ اسی گورے کے ساتھ تھی۔
’’پش چئیر (pushchair ) میں یہ سرخ وسفید بچہ کون ہے؟‘‘ میں چونکی۔
“کائنات، ماں بن گئی”۔ میری حیرت انتہا پر تھی۔۔۔۔۔۔ وہ تو بانجھ تھی۔۔۔
پش چئیر کو ایک گورا دھکیل رہا تھا۔۔ کہیں یہ مائیکل تو نہیں۔
میں خیال کے گھوڑے دوڑا رہی تھی اور وہ تیز قدم بڑھاتی میری ہی طرف آرہی تھی۔
’’ارے ہاں! یاد آیا کائنات نے شادی کر لی تھی۔‘‘
خیال کے گھوڑوں نے یادوں کی کافی مسافت طے کر لی تھی۔۔۔۔ مجھے بہت کچھ یاد آچکا تھا۔ زیادہ پرانی بات تو نہیں تھی لیکن میرے حالات نے میری یاداشت کو بھی متاثر کیا تھا۔۔یہی وجہ تھی کہ وقت پڑنے پر جاننے والوں کے نام بھی مجھے کچھ کچھ بھولنے لگے تھے۔
’’اچھا تو یہ ہے اس کا روم میٹ۔۔۔ ‘‘بہت سارے سوال میرے ذہن میں ابھرے۔۔۔۔۔
اب وہ میرے قریب آچکی تھی۔
’’کیسی ہو تم ؟ ‘‘وہ بولی
’’ میں ٹھیک ہوں، تم سناؤ؟‘‘
’’ ایک دم مجے(مزے) میں‘‘وہ بولی۔
’’اچھا اس سے ملو یہ مائیکل ہے اور یہ میرا بیٹا سعد!۔۔۔۔‘‘
مائیکل نے میری طرف دیکھ کر بولا
’’ہیلو !‘‘
میں نے بھی ہیلو کیا اور اس کا حال احوال اسی  کی زبان میں پوچھا۔۔۔۔
میرا سارا دھیان اس حسین بچے پرتھا جو رنگ روپ میں ہو بہو باپ جیسا تھا۔۔ میں نے دھیان بچے سے ہٹایا اور اس سے بہت ساری باتیں کیں ۔ دونوں پرانی یادوں میں کچھ دیر کے لئے کھو سے گئے لیکن تشنگی پھر بھی رہ گئی۔۔۔۔۔وقت کی کمی کی وجہ سے ایک دوسرے سے اجازت چاہی۔
ایک دوسرے کے حا ل  سے آگاہی کے بعد، ہم دونوں خوشی خوشی خدا حافظ کہہ کر پھر سے اپنے اپنے راستوں کی جانب رواں دواں ہو گئیں۔۔
یہ مختصر ملاقات مجھے پل بھر کے لئے ماضی میں لے گئی۔۔

تین برس بیت گئے۔
ہاں! تین برس، کل کی ہی تو بات تھی۔۔ جب اسے آشیانے (وومن سنٹر) میں زخمی حالت میں لایا گیا تھا۔
وہ بہت خوفزدہ اور سہمی ہوئی تھی۔ چپ چاپ فرش اوردیواروں کو تکے جا رہی تھی۔ دو پولیس اہلکار اس کے ساتھ تھے۔ ایک نے اس کے دائیں بازو کو تھام رکھا تھا۔
پھٹی ہوئی قمیض میں سے اس کا سانولا سلونا سڈول بدن جھانک رہا تھا۔۔۔ اس کی سانولی رنگت میں عجیب سا جادو تھا۔
بھنوئیں بے ترتیب سی تھیں، کاجل یا سرمہ نام کی کوئی چیز دور دور تک نہیں تھی۔ بنجر آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ چکے تھے۔
مسلسل آنسوؤں یا نیند کی کمی ، یہ اندازہ لگانا مشکل تھا۔
ہونٹوں پر پیپڑیاں شاید سردی کی وجہ سے جمی ہوئی تھیں۔
روکھی پھیکی بنجر آنکھیں سوجن کی وجہ سے عجیب دکھائی دے رہی تھیں۔
پھر بھی نجانے کیسی کشش تھی؟ اس میں، جو اسے بار بار دیکھنے پر اکساتی تھی۔۔۔۔۔
سانولی رنگت، لمبے گھنے، کالے سیاہ بال، درمیانہ قد اور متوازن جسامت۔ بہت زیادہ حسین نہ ہونے کے باوجود بھی وہ پر کشش تھی۔۔
پھٹے کپڑوں سے جھانکتے زخمی انگ اور سہمے ہوئے چہرے سے اس کے کرب کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔۔۔
آشیانے کے قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ دفتری کاغذی کارروائی کے بعد، اسے ہم سب سے ملوایا گیا۔۔
سنو لڑکیو! اب یہ یہیں رہے گی آشیانے میں۔۔۔۔ ہماری سپورٹ ورکر نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمیں آگاہ کیا۔
چھوٹا سا آشیانہ، بے سہارہ، بے بس و لاچار عورتوں کا آشیانہ۔ امید و آس کا یہ آشیانہ سات کمروں پر مشتمل تھا۔ جس میں ایک کچن، چار باتھ روم ایک سٹنگ اور ڈائننگ ایریا جسے سبھی خواتین اور بچے شیئر  کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک چھوٹا سا باغیچہ۔ جس میں بیٹھنے کے لئے دو لکڑی کے بینچ رکھے گئے تھے۔۔ جہاں بچوں کے لئے ایک جھولا اور ان کے کھیلنے کا سامان بھی موجود تھا۔
آشیانے میں دو بنگالی، ایک انڈین اور تین پاکستانی خواتین رہتی تھیں۔ ایک کمرہ خالی تھا جو کائنات کو دیا گیا۔
یہاں رہنے والی سبھی خواتین ایسے ہی حالات سے گزر کر کسی نہ کسی طرح یہاں تک پہنچی تھیں۔۔ ایک جیسے دکھ، درد ،کرب اور ایک ہی جیسی تکالیف بھی۔ بے شک ان کے حالات و واقعات الگ الگ تھے لیکن دکھ سبھی کے سانجھے تھے۔ ان میں سے اکثر کا یہی ماننا تھا کہ زندگی میں بہت سارے فیصلے آپ کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتے۔ یہ ڈوریاں تو شاید کہیں اور سے ہلتی ہیں۔ کٹھ پتلیاں تو صرف ڈور ہلنے کی منتظر ہوتی ہیں۔
آس و امید کے اس آشیانے میں خواتین کو حالات سے مقابلہ کرنا سکھایا جاتا تھا اور آنے والے وقت کے لئے تیار بھی کیا جاتا تھا تاکہ وہ بہتر زندگی کا آغاز کر سکیں۔ مختلف پیشہ ورانہ اور ذاتی دفاع جیسے تربیتی کورسز بھی کروائے جاتے تھے۔۔ یہاں ان کی خود اعتمادی بحال کرنے، نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے پیشہ ورانہ مدد اور رہنمائی بھی کی جاتی تھی۔۔
کائنات کو یہاں آئے چند دن گزر چکے تھے۔ شروع کے دنوں میں وہ بس گُم صُم سب کو دیکھتی رہتی تھی اور کسی سے کچھ نہ کہتی لیکن آہستہ آہستہ وہ سب کے ساتھ تھوڑا تھوڑا گھلنے ملنے لگی۔۔ گو کہ وہ اکثر چپ چاپ ہی رہتی تھی لیکن کبھی کبھی اپنی سندر اور مدھر آواز میں کچھ گنگنا بھی لیا کرتی تھی۔
اس نے سنگیت کی باقائدہ تعلیم بنگال سے ہی حاصل کی تھی۔ وہ بنگالی اور ہندی زبانوں میں یکساں مہارت کے ساتھ گانے کی اہلیت بھی رکھتی تھی۔
کبھی کبھی وہ ہماری فرمائش پر ہندی گیت سنا دیتی۔ گیت سنا کر وہ خود کو بہت ہلکا محسوس کرتی۔ دھیرے دھیرے اس کا اعتماد بھی بحال ہونے لگا۔۔۔ اب وہ خود پر بھی دھیان دینے لگی تھی۔۔خود کو بنانا سنوارنا اسے پھر سے اچھا لگنے لگا تھا۔ بہت ہی کم عرصے میں اس نے خود کو سنبھال لیا تھا۔ باہر جانا، گھومنا پھرنا، ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اسے اب اچھا لگنے لگا تھا۔
یوں وقت کے مرہم نے اس کے زخموں کو بھی کچھ کچھ بھردیا۔۔ اس کے سبھی معاملات کافی حد تک طے ہو چکے تھے۔
ننھے ، معصوم پرندے کی طرح وہ کچھ کچھ خوفزدہ بھی تھی۔ جسے جلد ہی پہلی اڑان بھرنی تھی۔ اپنے ننھے ننھے پروں کے بھروسے آسمان کی وسعتوں میں اڑنا تھا۔ زندگی کو ایک نئے ڈھب سے دیکھنا تھا۔ تیز ہواؤں اور طوفانوں سے مقابلے کے لئے اس کے نوخیز پر تیار تھے۔۔
اسے ایک شیئرنگ اپارٹمنٹ مل گیا تھا۔۔ جہاں اس نے ایک گورے کے ساتھ مل کر رہنا تھا۔ جس کی زبان اور ثقافت (کلچر) الگ تھے۔ پھر ایک اجنبی کے ساتھ اشتراکی رہائش کا ایک انجانہ خوف بھی اسے لاحق تھا لیکن جانا بھی مجبوری تھی۔
اگر اس کا کوئی بچہ ہوتا تو یہاں کی کونسل اسے ایک چھوٹا سا گھر دے دیتی۔ لیکن بچہ کیسے ہوتا؟
وہ تو بانجھ تھی۔ اس کی چار سالہ شادی شدہ زندگی میں ایک ہی طعنہ تو ہمیشہ سننے کو ملا تھا۔ارے یہ بچہ نہیں جن سکتی، یہ تو بانجھ ہے، بانجھ !۔۔
خود وہ یہاں کسی کو جانتی نہیں تھی اس لئے سپورٹ ورکر نے جس اپارٹمنٹ کا بندوبست کیا۔ اس نے قبول کر لیا۔ آخر وہ اپنے نئے آشیانے میں چلی گئی۔
کبھی کبھی وہ اپنے زیر التوا معاملات نپٹانے کے لئے دفتر آیا کرتی ، اور ہم سب سے بھی مل کر جاتی۔ کافی حد تک مطمئن اور خوش دکھائی دیتی تھی۔۔۔۔پھر مہینے گزر گئے اور کائنات بھی اپنی دنیا میں کہیں گُم ہوگئی۔
ایک دن وہ خوشی خوشی آشیانے میں آئی۔۔۔۔ اس کے ہاتھ میں ہم سب کے لئے کیک تھا۔۔اس نے اپنے روم میٹ سے شادی کرلی تھی۔۔۔اس دن پہلی بار اس نے ماضی کی راکھ میں چھپی چنگاری کو ہوا دی۔
سنو سہیلیو! میں آج بہت خوش ہوں لیکن جب میں یہاں سے پہلی بار اپنے اپارٹمنٹ میں گئی تھی اس دن میں بہت خوفزدہ تھی کیونکہ پہلے بھی ایک مرد کے ساتھ رہنے کا خطرناک تجربہ میری روح کو اندر تک گھائل کر چکا تھا۔ اس حادثے کے بعد میں نے اپنے سب خوابوں کو ایک پوٹلی میں باندھ کر ایک طرف رکھ دیا تھا۔ مائیکل سے ملنے کے بعد مجھے پہلی بار لگا کہ میں ایک انسان ہوں کوئی مورتی نہیں۔ میرا بھی دل ہے، جذبات ہیں،خواہشات ہیں،حسرتیں ہیں۔۔۔۔۔۔میں بدصورت نہیں ھوں۔ میرا کالا وجود بھی کسی کے لئے کشش کا باعث ہے۔ میں بھی دنیا کی حسین عورتوں جیسی ہوں۔ مجھ میں کوئی کمی نہیں ہے۔ میں بھی چاہے جانے کے لائق ہوں۔۔یہ احساس میرے دل میں مائیکل نے جگایا۔۔۔۔ اس کا دل بھی اس کے رنگ کی طرح حسین تھا شاید یہی وجہ تھی اسے میں حسین لگتی تھی۔۔۔
وہ مجھ سے کہتا، کائنات! تم کائنات کی سب سے حسین اور پرکشش عورت ہو۔
تمہاری یہ جھیل جیسی گہری آنکھیں بہت بولتی ہیں۔۔ ۔تم کچھ نہ بھی کہو تو مجھے یہ سب بتا دیتی ہیں۔۔۔
وہ میری آنکھوں کی تعریف کرتا۔ میری آواز کو سراہتا۔۔ میری سیاہ رنگت اسے اچھی لگتی۔۔
سچ ہے محبت رنگ و روپ اور لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔۔۔۔محبت کی کوئی مخصوص زبان نہیں ہوتی۔۔۔
محبت میں آنکھیں بھی بولتی ہیں۔ یہ سب مجھے اسی نے بتلایا۔۔۔۔۔
میری انگریزی کچھ زیادہ اچھی نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ سب سمجھ لیتا اورمجھے بھی سمجھا دیتا تھا۔۔
وہ میرا کوئی نہیں ہوکر بھی میرا سب کچھ ہو گیا۔۔ وہ نہ میرا محرم تھا اور نہ محافظ۔۔۔۔ پھر بھی مجھے اپنا محافظ اور محرم لگنے لگا۔۔۔
عبداللہ، میرا سابقہ شوہر، جو میرا محافظ اور میرا محرم بھی تھا۔ جو مجھے بنگال سے لندن لایا۔ جس نے چار گواہوں اور بھری برادری کے سامنے یہ عہد کیا تھا کہ وہ آج سے میرا ذمہ دار ہوگا، میرا محافظ بنے گا۔۔۔۔۔۔ لیکن افسوس، نہ ہی وہ میرا محرم بن سکا اور نہ ہی محافظ۔۔۔۔۔۔۔ میں سارا سارا دن اس کا انتظار کرتی۔ اس کے لیئے گھر کو سجاتی سنوارتی۔ اس کے لئے کھانا بناتی۔ اس کی ہر بات کا مکمل خیال رکھنے کی کوشش کرتی، سجتی سنورتی لیکن رات گئے جب وہ نشے میں دھت کسی نہ کسی کے سہارے گھر تک پہنچتا تو میری ساری حسرتیں وہیں ڈھیر ہو جاتیں۔ صبح جب اسے ہوش آتا تو میں شکایت کرتی کہ میں سارا دن بور ہو جاتی ہوں۔کوئی میل ملاقات والا یہاں نہیں ہے اور مجھے ٹھیک طرح سے زبان بھی نہیں آتی کہ باہر ہی گھوم آؤں۔
اس پر وہ مجھے ہی کوستا۔ کہ تم خود ہی اس ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش نہیں کر رہی۔ میرا انتظار مت کیا کرو۔ خود کو یہاں ڈھالنے کی کوشش کرو۔۔یہ شادی میں نے فیملی کے اصرار پر کی ہے ورنہ مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ تم جیسی بد صورت عورتوں سے مجھے سخت چڑ ہے جو گھر آتے ہی پیچھے پڑ جاتی ہیں۔ گھر آرام کے لئے ہوتا ہے۔۔ تم بھی اپنے آپ کو مصروف کرو۔ میرے پاس وقت نہیں جو تم جیسی بد شکل عورت پر ضائع کروں۔۔۔۔۔۔۔یہاں ایک سے ایک حسین عورت مل جاتی ہے جو نہ تو نخرہ کرتی ہے اور نہ ہی تم دیسی عورتوں کی طرح کبھی شکایت۔
آہستہ آہستہ میری شکایتیں بڑھنے لگیں تھیں۔ جس کے لئے میں سب کچھ چھوڑ کر آئی ۔ وہ رات رات بھر غائب رہتا۔ دوسری عورتوں کی بانہوں میں راتیں گزارتا۔ اس کے لئے میری حیثیت ایک چیونٹی سے بھی کم تر تھی۔ اب تو اس نے نشے کی حالت میں مجھ پر ہاتھ بھی اٹھانا شروع کر دیا تھا۔
اس رات بھی جب میں نے شکایت کی تو اس نے شراب کی بوتل مجھے دے ماری لیکن خوش قسمتی سے میں اس کے اس وار سے بچ گئی پھر اس نے انہی  ٹوٹے ہوئے کانچ کے ٹکڑوں سے میرے بدن کو لہولہان کرنا شروع کر دیا۔ میں چیخی چلائی، تڑپی لیکن اس پر تو خون سوار تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جان بچانے کی غرض سے اسی حالت میں گھر سے باہر نکل گئی۔ نہ میرے پاؤں میں جوتا تھا نہ سر پر چادر۔ تن کے کپڑے بھی جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے۔ ننگے سر کا ہوش، نہ ہی پھٹے کپڑوں سے جھانکتے بدن کو ڈھانپنے کا خیال۔۔۔۔۔۔تکلیف اور ڈر نے شرم و حیا کا احساس بھی مٹا دیا تھا۔ میرے شور مچانے پر میری ہمسائی نے پولیس کو کال کر دی اور عبداللہ کو نشے کی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ مجھے مرہم پٹی کے بعد یہاں لایا گیا۔ میرا خوف اب دنیا کے ہر مرد کے لئے ویسا ہی تھا۔۔ یہ جو لاشعور کا خوف ہوتا ہے نا یہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔۔۔۔۔ یہ سانپ کی طرح کنڈلی مار کر تحت الشعور میں بیٹھ جاتا ہے۔۔۔
مائیکل نے مرد ذات پر میرا اعتبار بحال کیا۔ اس کے ساتھ رہتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ شرم وحیا، تہذیب اور اقدار وروایات کا کوئی خاص مذہب نہیں ہوتا۔۔ جب تک میں اسے نہ بلاتی وہ میرے کمرے کی طرف جھانکتا بھی نہیں تھا اور نہ ہی مجھے یہ احساس ہونے دیتا کہ اس گھر میں ایک مرد بھی رہتا ہے جس سے ڈرنا مجھ پر واجب ہے۔جس کا احترام نہیں کرو ں گی یا اس سے شکایت کروں گی تو وہ  اپنی مردانگی دکھائے گا۔ میرے لیے  یہ انوکھی اور عجیب بات تھی۔ گھر میں گندگی پھیلانے پر میں اکثر اس پر غصہ کرتی لیکن وہ معذرت کرکے میرے ساتھ گھر کی صفائی میں مدد کرنے لگتا اور یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلا جاتا، آئندہ نہیں کروں گا۔ تھوڑے ہی عرصے میں اس نے میرا سارا خوف دور کر دیا۔ ہمارے درمیان فاصلے مٹنے لگے۔ مجھے لگتا تھا میں اس گھر کی رانی ہوں اور یہ گھر میری سلطنت جہاں صرف میرا حکم چلتا ہے۔ چاہے جانے کا احساس مجھے اس کے اور قریب لے گیا۔۔۔ مجھے بھی وہ اچھا لگنے لگا۔۔
جب میں کچھ نیا بناتی تو اسے بھی دیتی تھی۔ سوکھی مچھلی پکانے پر پورے گھر میں پھیلنے والی باس پر بھی وہ بیچارہ کچھ نہیں بولتا تھا جبکہ یہاں (آشیانے) میں تم لوگ کتنا شور کرتی تھیں!۔
وہ میرے کلچر، مذہب، اقدار اور پسند و ناپسند کا احترام کرتا۔۔
صرف چند جملے انگریزی کے جن سے میں اپنی بات اسے سمجھا دیتی تھی اور وہ میری ٹوٹی پھوٹی انگریزی سے نہ جانے کیسے سب سمجھ لیتا تھا؟
دھیرے دھیرے مجھے اس کی عادت ہونے لگی۔بس ایک “مذہب کی دوری تھی”جو ہم دونوں کے بیچ میں تھی۔ اس نے مجھے احساس دلایا کہ میں بھی انسان ہوں ،جیتی جاگتی، سانس لیتی “ایک انسان”
میرا وجود قابل نفرت نہیں ہے۔۔ ساتھ رہتے رہتے کب وہ میرے اتنے قریب آگیا کہ مجھے پتہ بھی نہیں چلا۔ پھر ایک دن اس نے مجھے کہا وہ میرے ساتھ شادی کرنا چاہتا ھے۔ اگر میں انکار بھی کر دوں تب بھی وہ میرا اسی طرح احترام کرے گا۔۔ میں اب شاید خود بھی یہی چاہتی تھی. اس لئے اسے انکار نہ کرسکی۔۔۔ عبداللہ سے خلع آشیانے میں ہی لے چکی تھی اس لئے میں نے اس کے ساتھ شادی کر لی۔ میرے مذہبی احترام میں اس نے میرے ساتھ نکاح بھی کیا۔ آج میں بہت خوش ہوں۔۔میں سچ میں اس گھر کی رانی ہوں۔۔۔
وہ جی جان سے میرا خیال رکھتا ہے جیسے شادی سے پہلے رکھتا تھا۔۔۔جو مجھے پسند نہیں وہ نہیں کرتا۔ میری خاطر وہ حلال و حرام کا بھی خاص خیال رکھتا۔ میرے مذہب، کلچر اور اقدار کی اسی طرح قدر کرتا ہے جیسے وہ شادی سے پہلے کرتا تھا۔ آج میں سچ میں بہت خوش ہوں۔‘‘
کچھ دیر ہمارے ساتھ وقت گزار کر وہ چلی گئی لیکن جاتے جاتے وہ بہت کچھ ایسا بتا گئی جو ہمیں صرف فلموں میں ہی دیکھنے کو ملتا تھا۔
کچھ عرصے بعد میں بھی اپنے گھر چلی گئی اپنے بچے کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔ اب صرف وہاں کی یادیں رہ گئی تھیں۔
مجھے کائنات آج بھی ملتی ہے کیونکہ وہ ابھی بھی اسی علاقے میں رہتی ہے۔۔۔۔۔ آتے جاتے ہیلو ہائے بھی ہوتی ہے۔ پہلی بار میں اسے تب ملی جب دو ماہ کا بچہ پش چیئر میں اس کے ساتھ تھا اور پش چئر کواس کا مائیکل دھکیل رہا تھا۔۔ وہ میم صاحبہ کی طرح ہاتھ میں ایک ادا سے پرس لٹکائے لانگ سکرٹ میں اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ آخری بار مجھے وہ پچھلے ماہ ملی۔ اس بار بھی اس کے شوہر نے ایک بچہ اپنے سینے کے ساتھ لگی چائلڈ جیکٹ میں ڈال رکھا تھا اور دوسرا بچہ پش چیئر میں تھا۔ اس کا شیرخوار اپنے باپ کے سینے سے لگا اس دنیا کو اپنی ننھی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور کائنات بڑی شان سے اٹھلاتی ہوئی اس کے ساتھ ساتھ قدم بڑھا رہی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *