دکھوں کا ابراہیم۔۔۔رفعت علوی/قسط 4

SHOPPING
SHOPPING

1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ ،خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے  ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی!

کیپٹن فہیم گھر پہ نہیں تھے۔۔
تم نے اپنے وسیع و عریض ڈرائنگ روم میں جہاں اندھیرا اجالا گلے مل رہا تھا ہمارا استقبال کیا۔۔۔یہ تم تھیں ستارا فہیم۔۔نئی نویلی دلہن۔۔اس طرح سفید کپڑوں میں ۔۔میں تم کو پہچان نہ پایا۔۔۔۔تمھارےحزن آلود خوبصورت سرخ و سفید چہرے کے گرد سیاہ دوپٹے نے ہالہ سا بنا رکھا تھا مگر نہیں یہ سیاہ دوپٹہ نہیں یہ تو وہ سیاہ حاشیہ تھا جو میں نے خود اپنے ھاتھوں سے ایزل پر لگے کورے سادہ کاغذ پر کھینچ دیا تھا اور تم سے کہا تھا کہ “تصویر بننا تو ابھی شروع ہوئی ہے” اور لگتا تھا آج یہ تصویر مکمل ہوگئی تھی
آپ۔۔۔۔۔۔۔تم نے شاکی نظروں سے میری طرف دیکھا، ٹھیک ہی تو تھا قصور وار تو میں تھا، تم تو ایک مجبور کمزور اور بےبس مشرقی لڑکی تھیں کہ ہونٹ بند رہتے ہیں آنکھیں بولتی ہیں جب کہ میں ایک بزدل اور خود پسند لڑکا جس کو خودی کا زہر  آہستہ آہستہ چاٹ رھا تھا
نئی زندگی مبارک ہو بیگم فہیم۔۔۔۔۔۔نیلگوں شیشے کا نازک گلدان میں نے تمھاری طرف بڑھاتے ہوئے کہا، اس دن مجھے معلوہوا کہ زخم کھا کر مسکرانا کتنا مشکل کام ھے
نئی زندگی؟۔۔۔۔۔شیشے کا گلدان تمھارے مہندی لگے اہتھ میں لرزا اور میرے پیروں پہ گر کے چور چور ہوگیا
چوٹ تو نہیں لگی؟۔۔۔۔۔تم نے تڑپ کر کہا اور بےساختہ فرش پر بکھرے شیشے کے ٹکڑوں پر اپنا سرخ چوڑیوں بھرا گلابی ہاتھ رکھ دیا
میں چپ رہا۔۔۔۔بولتا بھی کیا۔۔۔۔۔اپنی کون کون سی چوٹ دکھاتا
شیشے کے کرچی کرچی ٹکڑوں کو سمیٹ کر جب تم کھڑی وہئیں تو تمھارا سرخ چوڑیوں بھرا گلابی ہاتھ اور گلابی ہو چکا تھا
اوہو۔۔۔۔آپ تو زخمی ہیں ۔۔۔میں نے بے اختیار تمھاری طرف ہاتھ بڑھائے
تم کچھ جھجھک کر پیچھےہٹیں اور سرگوشی کے انداز میں بولیں زخموں کے سوا آپ نے مجھے دیا بھی کیا ہے۔۔

دکھوں کا ابراہیم۔۔رفعت علوی /قسط 3
بہت سے لمحے چپ چاپ گذر گئے، تم اپنی زخمی انگلی پر اپنا آنچل لپیٹتی رہیں، میں اپنے آپ میں ڈوبتا رہا ابھرتا رہا،
“آپ اپنی نئی زندگی سے خوش تو ہیں” میں نے اپنے اتھل پتھل ہوتے دل کو سنبھال کر تم سے پوچھا
ةم لڑکیوں کی خوشی اور ناخوشی بھی کیا دلشاد احمد صاحب، تم مسکرائیں، آنسوؤں میں گھلی ملی مسکراھٹ میرے دل میں ترازو  ہو گئی
ہم لڑکیاں تو کٹی پتنگ کی طرح ہوتی ہیں جو ہوا کے دوش پر ڈولتی اپنی مرضی کے خلاف کسی بھی گھر کے آنگن میں جا گرتی ہیں
بجھے بجھے لہجے میں محرومی اور حسرت کا درد سمیٹے تمھاری مترنم ھنسی میری بےحس ذات کے سنگدل بت سے ٹکرا کے رہ گئی مگر میرے اندر کہیں کوئی پھلجھڑی سی چھوٹی، جلی اور بجھ گئی
میں نے جواب میں کچھ کہنے کے لئے نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا مگر تم پردہ ہٹا کر دوسرے کمرے میں جا چکیں تھیں، فضاء میں ابھی تک تمھاری چوڑیوں کی آواز تھی جنکی جھنکار میرے نصیب میں نہ تھی اور دروازے پر لٹکتا ہوا وہ پردہ ابھی تک ہل رہا تھا جو میرے نصیب پر پڑ چکا تھا، میں تم سے اتنا بھی نہ کہہ سکا کہ ہنسنے کا یہ انداز ٹھیک نہیں تارا۔۔۔۔۔ذرا اپنی بھیگی پلکیں تو پونچھ لو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تارا۔۔۔۔!!۔۔۔۔۔مجھے اس بےتکلفی سے اپنا نام لینے پر معاف کرنا کیونکہ اب ہمارے درمیان کے نفرت محبت اور دھوپ چھاؤں کے سارے رشتے ٹوٹ چکے ہیں مگر ابھی ہمارے درمیان ایک رشتہ تو موجود  ہے۔۔۔۔۔۔درد کا رشتہ۔۔۔۔!!
اس سے پہلے کہ ہمارا یہ آخری رشتہ بھی ختم ہوجائے مجھے ایک بار اسی پرانی بےتکلفی سے اپنا نام لینے کی اجازت دیدو
تو تارا۔۔۔۔جانے کتنے چاند بیتے۔۔۔۔۔ہمارے سارے ساتھی نئے آسمانوں کی تلاش اور روشن مستقبل کی آس میں جانے کدھر کدھرکو نکل گئے پر میں زیست کے اس لق و دق ویران و سنسان صحرا میں اپنی خودی کی سولی اپنے کاندھے پر اٹھائے اکیلا ہی چلتا رہا۔۔۔چلتا رہا۔۔۔اس آبلہ پائی میں کئی بار لڑکھڑایا، بھٹکا جانے کتنی بار منہ کے بل گرا، میرا جسم لہولہان ہوا مگر میری ذات اور خودی کا بت کبھی سرنگوں نہ ہوا، نہ اسے چوٹ آئی اور نہ کوئی خراش۔۔۔۔۔۔۔
میری خودی کا یہی بت جو محبت کےتیشے کی کاری ضرب بھی برداشت کرگیا تھا جس بت کے لئے تم ابراہیم نہ بن سکیں آج چکنا چور ہوگیا، آج اُسے “ابراہیم” مل گیا ہے۔۔۔۔”دکھوں کا ابراہیم”۔۔۔۔۔۔درد کا تیشہ۔۔۔۔اس تیشے کی ابدی تپش نے اس بت کو پگھلا دیا ہے۔۔۔۔ٹکڑے ٹکڑےکردیا ہے
اب اس کا  ہر ٹکڑا میری صدا  ہے۔۔۔۔۔ہر  ریزہ میری آواز  ہے۔۔۔آج میرے لئے یوم حشر ہے۔۔۔۔آج میں سارے قرضے چکا دونگا، آج ان کہی کو کہی کرنے کا دن  ہے آج یوم جزا بھی  ہے اور یوم سزا بھی۔۔۔۔آج اعتراف گناہ کا دن ھے، آج کی بات بس آخری بات ھے، اس خودی کے پاش پاش بت کے ٹکڑوں پہ برہنہ پاؤں کھڑے ہو کر میں تمھارے حضور اپنے سارے گناہ قبول کرتا ہوں
تم کو اچھی طرح پتا  ہے نا کہ ہم ایک ساتھ اپنی زندگی شروع کرسکتے تھے، میں تمھارے لئے ایک مکان بناتا، تم اس مکان کو گھر بناتیں۔۔۔۔ہمارے ڈھیر سارے بچے ہوتے۔۔۔۔ہم ایک ساتھ جیتے۔۔۔۔خوشی میں ہنستے اور غم میں ایک ساتھ آنسوں بہاتے، پہلے اپنی اولاد کی قلقاریاں سنتے پھر ان کے بچوں کی کلکاریاں سنتے اور پھر ایک دوسرے کی سنگت میں بوڑھے ہوجاتے، اور ایک دن ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے پیچھے اس دنیا سے رخصت ہوجاتے مگر یہ سارے خواب خواب ہی رہ گئے، خودی کے اس سفاک بت نے ہم کو ایک دوسرے سے جدا رکھا، آج یہ بت ہاش پاش ھوا بھی تو کب جب وقت ہمارے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل چکا ھے۔۔۔
ہاں ۔۔۔ہاں۔۔۔۔ستارا تم ۔۔۔۔صرف تم۔۔۔۔۔ میری زندگی کی پہلی اور آخری محبت رہی ہو، میں نے تم کو اس شدت سے چاہا  ہے جس شدت سے کوئی اپنی زندگی سے پیار کرتا  ہے
تم جو ایک بہت سمجھدار اور آئیڈیل لڑکی تھیں جس نے یونیورسٹی کے کتنے ہی ڈیشنگ ، شوخ اور اسمارٹ لڑکوں کو چھوڑ کر ایک عام خدوخال والے معمولی سے لڑکے کو اپنی زندگی کا حاصل بنایا تھا، مان لو کہ تم اس بزدل لڑکے کی پہلی اور آخری خواہش تھیں، آج میں اقرار کرتا ہوں کہ تمھارا وجود ازل سے میری ذات کا اٹوٹ حصہ رہا  ہے، تمھاری محبت کی دھیمی دھیمی آنچ میرے رگ و پے  میں اتر گئی ہے، آج مجھے کہہ لینے دو کہ یونیورسٹی میں میری ساری ایکٹیویٹیز جس پر سب لڑکے لڑکیاں تعریفوں کے پھول نچھاور کرتے تھے میرے وہ گیت جو آج تک بھٹک رھے ہیں، میرے خواب جو جھوٹے نکلے میرے نغمے جو دم توڑ گئے میرے اشعار، وہ کتابوں کا سودا، میرے افسانے جن میں تم مسرتیں تلاش کرتی تھیں وہ سب ہاں سب کی سب صرف تمھارے لئے تھیں صرف تمھارے لئے۔۔۔۔۔۔ستارا
تم سے شکوہ صرف اتنا  ہے ستارا کہ تم وہ بت شکن نہ بن سکیں جو میری خودی کا فرضی بت توڑ سکتیں، اب مجھے یہ بت شکن ملا بھی تو “دکھوں کے ابراہیم” کی شکل میں۔۔۔درد کا تیشہ بن کر۔۔۔اور آج۔۔۔۔۔

دیوار انا کافور ہوئی، حائل تھا جو پتھر ٹوٹ گیا

برسوں کی ریاضت خاک ہوئی، جب وہ بت آذر ٹوٹ گیا!

SHOPPING

جاری  ہے۔۔

SHOPPING

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دکھوں کا ابراہیم۔۔۔رفعت علوی/قسط 4

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *