اپنا اپنا جہنم۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ سیانوں سے سنتی چلی آئی تھی کہ بیٹا جنمے تو لوگ بدھائیاں دینے آئیں نہ آئیں،  در و دیوار سے پھوٹتی خوشی اور دروازوں پہ ٹنگی شرینہہ کی ٹہنیاں ہی اعلان کرتی پھرتی ہیں کہ نعمت خداوندی کا ،اولاد نرینہ کا نزول ہوا ہے ۔۔سنا ہے بیٹے والے گھر میں چڑیاں کوئے بھی مبارک دینے آتے ہیں مگر آج تیسرا دن تھا سلطان کو دنیا میں آئے ہوئے اور اس چھوٹے سے گھر  میں خوشی کی ہوا کا بھی گزر نہ ہوا تھا۔ چھوٹی سی کوٹھڑی میں توری کے پھول جیسی زرد نسیم کے چہرے پہ جو زردی کھنڈی تھی وہ فقط تازہ ترین زچگی کے باعث ہی نہ تھی۔۔وہ بدترین خوف سے پیلی پھٹک تھی کہ ابھی وہ آئیں گے اور منتوں مرادوں سے دنیا میں آنے والا اس کا جگر گوشہ اس سے چھین لیں گے۔
شادی کے چار سالوں تک جس گل گوتھنے کو اس نے خیالوں میں گدگدایا تھا، ہر مزار کی چوکھٹ پر اسے پانے کو دئیے جلاتی تھی، آج جب وہ اس کے سینے پہ منہ مارتا اور زندگی سے بھرپور آواز میں روتا چلاتا تھا تو پھر وہ کیوں ادھ مری ہوئی جاتی تھی؟؟
برسات کے حبس مارے دن تھے اور ایک کروٹ پہ لیٹی دودھ پلاتی نسیم کا پہلو اور کمر کے نیچے بستر کی جگہ سیلی ہو رہی تھی مگر بچے کی خوراک میں رخنہ نہ پڑے اس خیال سے وہ کروٹ بدلنے سے بھی کترا رہی تھی۔
جلد ہی وہ سیر ہو کر سو گیا تو اس نے دھیرے سے دودھ چھڑا کر اسے احتیاط سے لٹایا اور اٹھ کر بیٹھی تو کمر کے نچلے حصے میں اٹھنے والی درد کی شدید لہر نے اسے لرزا کر رکھ دیا۔
اقبال، اس کا شوہر جو راج مزدوری کا کام کرتا تھا ابھی تک گھر نہیں آیا تھا۔  بھوک سے کلیجہ تھرتھراتا تھا اور اس کی تشفی کا انتظام بھی اسے خود ہی کرنا تھا۔ بمشکل خود کو گھسیٹ کر چارپائی سے اتری اور دروازے کی جانب بڑھی۔ ابھی ایک پاؤں دہلیز کے باہر اور ایک اندر تھا کہ جانے کیا خیال آیا۔ واپس پلٹی اور دروازے کے پیچھے ایک کیل پہ لٹکا موٹا دیسی ساخت کا تالا اتار لائی۔ احتیاط سے دروازہ بھیڑ کر اس نے کنڈی لگائی، پھر تالا بھی ڈال دیا اور چابی کو الجھے بالوں میں گندھے پراندے کے آخری سرے پر گرہ دے کر باندھ لیا۔
اب وہ سکون اور اطمینان سے اپنا کام کر سکتی تھی۔  باورچی خانے میں جھانکا تو دل مسوس کر رہ گئی۔ سارے برتن اوندھے پڑے تھے، صبح اقبال نے جس پتیلی میں چائے بنائی تھی اس پر اور باقی استعمال شدہ برتنوں پر مکھیاں بھنک رہی تھیں ۔ چیونٹیوں کی طویل قطار چینی کے ڈبے کی درز سے اندر داخل ہو رہی تھی اور کھردرے سیمنٹ کے فرش پر سبزی کے چھلکے بکھرے پڑے تھے۔
ہر طرح کے حالات میں بھی گھر گرہستی کو فرض نمازوں کی طرح ادا کرنے والی کو اس خستہ حالی نے بوکھلا کر رکھ دیا۔ بھوک اور زچگی کے زخموں کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اس نے آہستہ آہستہ باورچی خانے کی حالت سدھارنی شروع کی اور جب وہ ایک ہاتھ ناف کے نیچے دئیے، ٹیسوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ روٹی کے لقمے چائے کے ساتھ نگل رہی تھی تو تبھی داخلی دروازے کی کنڈی بجی۔
دروازے پر حسب توقع اقبال ہی تھا جس کے چہرے پر نسیم کو دیکھتے ہی زمانے بھر کی نفرت اور کراہیت امنڈ آئی تھی۔ وہ اس سے ذرا بچ کر چلتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔
“چائے بناؤں؟” نسیم نے اس کے پیچھے آتے ہوئے سوال کیا۔ اس نے مڑ کر قہر بار نظروں سے اسے دیکھا۔” ہاتھ سلامت ہیں میرے! ابھی صرف عزت کا جنازہ نکلا ہے، آپ کر لوں گا میں اپنے کام! تو جا!! اس عذاب اور بدعا کو کلیجے سے لگا، ہونہہ!! غیض و غضب سے بڑبڑاتا ہوا وہ اس کمرے میں داخل ہو گیا جس میں زچگی سے قبل اس کی اور نسیم کی چارپائیاں تھیں مگر نسیم اب معتوب و معزول ہو کر اس کوٹھڑی میں پڑی تھی جسے بیکار اشیا اور سردی گرمی کے بستر رکھنے کے لئیے استعمال میں لایا جاتا تھا۔اور سچ تھا!! جس جان کو اس نے جان پر کھیل کر جنم دیا تھا،اس  نے دنیا میں آتے ہی اپنے بخت کی کالک ماں کے ماتھے پر بھی پوت دی تھی۔
نسیم  کے دکھے ہوئے دل پر اقبال کے اس سلوک نے مزید چرکے تو لگائے مگر اب اسے بیوی سے بڑھ کر ماں کے منصب کی فکر تھی۔
ایک سرد آہ بھر کر اس نے آسمان کو دیکھا ۔ شکوے شکائت کا کیا سوال؟ چار  سال خالی گود لیے بیٹھی رہی، اب جو بھر دی ہے تو ناشکری بن کر سوال کرتی پھروں کہ ایسا کیوں اور ویسا کیوں نہیں؟؟”  اس نے خود کو بیک وقت ڈپٹا بھی اور حوصلہ بھی دیا اور بچے کی کوٹھڑی کی جانب بڑھ گئی۔
وہ جاگ چکا تھا اور ہاتھ پیر چلاتے ہوئے بری طرح سے چیخ چلا رہا تھا۔ نسیم تیزی سے اس کی جانب لپکی” ماں صدقے”!! اس نے بے تابی سے اسے اٹھا کر سینے سے لگایا۔ بچے نے بستر گیلا کر دیا تھا اور نمی سے بے چین ہو کر رو رہا تھا۔ نسیم نے اسے گھٹنے پر اوندھا کیا اور گیلا لنگوٹ بدلنے لگی  ۔ خشک کپڑے کے تکونی ٹکڑے کو جب وہ اس کی ناف کے قریب گرہ دے رہی تھی تو اس کی نظر اس کی ننھی منی ٹانگوں کے عین درمیان میں پڑ گئی اور حقیقت سے آشنا ہونے کے باوجود اس کے دل کو دھکا سا لگا۔
“ہائے نسیم!! یہ کیا “؟؟؟ اس کے ذہن میں دائی حمیداں کے حیرت، خوف اور کراہیئت سے بوجھل آواز پھر سے گونجی اور اس وقت کی تکلیف پھر سے تازہ ہو گئی جب ولادت کی اذیت سہہ کر اور پسینے اور خون میں لت پت نسیم نے بچے کی چیخ سن کر اپنے سارے پنڈے کو سجدہ ریز ہوتے محسوس بھی نہیں کیا تھا کہ دائی نے اس کے کانوں میں زہر گھول دیا تھا۔
“یہ تو۔۔۔ زنخا ہے نسیم”!! اس نے سفاکی سے کہا تھا اور باہر بے تاب کھڑے اقبال پر شرمندگی اور غصے نے ایسا حملہ کیا تھا کہ وہ دیواروں سے سر ٹکرانے پر آمادہ تھا۔
بمشکل ہاتھ پیر جوڑ کر  نسیم نے حمیداں کو اس کا ناڑو کاٹنے اور صاف ستھرائی پر آمادہ کیا تھا ورنہ وہ تو اسے چھونے کو بھی تیار نہ تھی۔ “توبہ توبہ!! دو کم چالیس سال ہو گئے مجھے بچے جنواتے، چھوکری ہوتی یا چھوکرا!! مگر زنخا؟؟ رب خیر کرے”!! وہ بڑبڑاتی ہوئی ان چاہے دل سے جلدی جلدی بچے کو الٹا سیدھا صاف کر کے ماں کے پہلو میں ڈال کر چلتی بنی۔
وہ ابھی صرف ماں بننے کے احساس کو ہی محسوس کر رہی تھی اور لڑکی لڑکے یا زنخے کے پیمانے میں اپنی اولاد کو، منتوں مرادوں سے پانے والی اولاد کو نہیں تول رہی تھی۔ اس نے قمیض اٹھائی اور شکر گزاری کے گہرے احساس کے ساتھ بچے کو دودھ دینے لگی۔
اس کے ننھے ہونٹوں کے سینے پر پہلے لمس نے اس کے اندر کی دنیا ہی بدل ڈالی۔ اس کے بدن کے ہر حصے سے عورت نکل گئی اور ماں آن سمائی۔ وہ صحتمند اور چست تھا، سیاہ بال اور گندمی رنگت کا خوبصورت بچہ۔ شکر گزاری کے دو آنسو اس کی سوجی ہوئی آنکھوں کے کویوں سے ٹپک پڑے اور تبھی کمرے کا دروازہ ایک دھماکے سے کھلا۔
اس نے سہم کر بچے کو خود سے چمٹا لیا۔ دروازے پر اقبال کھڑا تھا۔ نفرت ،شرمندگی اور غصہ اس کے جثے میں گیس کی طرح بھرا ہوا تھا  ۔ وہ نسیم کی چارپائی کے پاس لپک آیا۔
“تو یہ سوغات جنمی ہے تو نے شادی کے اتنے سال بعد منحوس عورت”! وہ اس کے قریب جھکا غرا رہا تھا۔ “اقبال!! یہ ہماری اولاد ہے۔۔ ہمارا بچہ”!! اس نے روتے کرلاتے دل اور آنسو بہاتی آنکھوں سے کہنا چاہا مگر اقبال نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ “چپ کر بدبخت!! یہ ہیجڑا ہے!! میری اولاد نہیں ہے یہ سنا تو نے؟؟ کیا منہ دکھاوں گا دنیا کو؟؟ کیا کہوں گا کہ ہیجڑے کا باپ بنا ہوں؟؟” وہ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے دبا دبا چلا رہا تھا۔ “سارے محلے والے اب ہر چوک میں میرا مذاق اڑائیں گے! وہ دیکھو!! ہیجڑے کا باپ جا رہا ہے! وہ دیکھو!! اس کے گھر زنخا ہوا ہے!! نہیں!! میں اس ذلت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ “وہ اپنے بال نوچنے پر آمادہ تھا۔
نسیم نے اسے سمجھانا چاہا کہ یہ تو اللہ کی ذات کے فیصلے ہیں اس میں اس کا یا بچے کا کیا قصور؟ مگر اقبال پر اس کی کسی بات کا اثر نہ ہوا۔
کچھ دیر بکنے جھکنے کے بعد وہ کف اڑاتا، گری پڑی چیزوں کو ٹھوکروں سے اڑاتا گھر سے نکل گیا اور اپنی اور اپنے بچے کی قسمت پہ آنسو بہاتی نسیم اس سارے معاملے میں اپنا قصور کھوجتی رہی۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب نڈھال اور نیم غنودگی میں جاتی نسیم کے حواس ایک کھٹکے سے بیدار ہوئے تھے۔ مندی مندی آنکھوں سے اس نے دیکھا کہ اقبال اس کی چارپائی کے نزدیک کھڑا بچے کی جانب ہاتھ بڑھا رہا تھا ۔ وہ بجلی کی مانند تڑپ کر اٹھ بیٹھی اور بچے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اسے اقبال کی نیت سمجھنے میں دیر نہ لگی وہ بچے کو گزند پہنچانا چاہتا تھا ۔نسیم کو بیدار ہوتے دیکھ کر وہ گڑبڑا سا گیا مگر دوسرے ہی لمحے سینہ تان کر کھڑا ہوا اس سے بچہ طلب کر رہا تھا” لا دے مجھے!” وہ ہاتھ بڑھائے کہہ رہا تھا” درگاہ کے ساتھ جو ہیجڑوں کی ٹولی رہتی ہے وہ مانگ رہے ہیں”وہ ایسے عام انداز میں کہہ رہا تھا جیسے پڑوسن کو نمک کی چٹکی دینی ہو۔ “اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہے؟؟ انہی کی چیز ہے بھول چوک سے ہمارے گھر آ گئی۔۔لا دے!” وہ دو قدم آگے بڑھا تو غیظ و غصے سے تھر تھر کانپتی نسیم نے پھرتی سے جھک کر چارپائی تلے رکھی تیز دھار تاتر اٹھا لی۔”تو ہاتھ تو لگا میری اولاد کو۔۔۔ کاٹ ڈالوں گی۔۔ خدا کی قسم!! نیاز میں نہیں بٹ رہا تھا یہ بچہ!! میں نے پیدا کیا ہے اسے اقبال!! تو نے چوہیا بھی کبھی جنمی ہوتی تو تجھ سے پوچھتی کہ اولاد اور اسکی تڑپ کیا ہے۔”وہ تاتر تانے شیرنی کی طرح غرا رہی تھی۔بچہ اسکی گرفت میں کسمسا کر رونے لگا تھا۔اقبال اس کے تیور دیکھ کر سہم سا گیا کہ اس نسیم کا یہ روپ اس کے لیے بالکل نیا تھا جو اس سے چار چوٹ کی مار کھا کر بھی ٹانگیں دبانے سے انکار نہیں کرتی تھی۔ وہ عورت کے اس طاقتور روپ سے خائف ہو گیا اور بکتا جھکتا باہر جانے لگا۔”آئندہ میرے بچے کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا ناں تو تیری جان لے کر نیلا تھوتھا چاٹ لوں گی سمجھا!! اس نے باہر نکلتے اقبال کی پشت کو گھورتے ہوئے پھنکار کر کہا اور کمرے کے دروازے کی چٹخنی لگا کر دوسری خالی پڑی چارپائی بھی گھسیٹ کر اس کے آگے جما دی مگر اقبال کی اس حرکت نے اسے لاشعوری طور پر اس قدر سہما دیا تھا کہ وہ تمام رات دیوار سے ٹیک لگائے پلک جھپکے بغیر بیٹھی رہی۔ چشم تصور سے بار بار خالی گود دیکھتی تو گھبرا کر بچے کو سینے سے لگا لیتی۔۔وہ تمام رات جاگتی رہی اور اگلی سویر وہ اپنی چارپائی اور ضروری سامان اس چھوٹی کوٹھڑی میں منتقل کر چکی تھی جہاں اسے زنخا پیدا کرنے کے جرم میں جانے کب تک پڑے رہنا تھا۔
شوہر پر اب اسے ایک رتی برابر بھی بھروسہ نہیں رہا تھا لہذا کام کاج کے اوقات میں کوٹھڑی پر تالا ڈال دیتی کہ اقبال اس کی مصروفیت کا فائدہ اٹھا کر بچے کو کوئی گزند نہ پہنچائے یا ہیجڑوں کی اس ٹولی کے حوالے نہ کر آئے جو سلطان بابا کی درگاہ کے ساتھ ایک کھولی میں رہتی تھی۔
اقبال نے دوبارہ اس سے بچہ مانگا تو نہیں البتہ دوسرے ہتھکنڈوں سے اس نے نسیم کا جینا خوب دوبھر کر رکھا تھا۔ اکثر باہر سے کھا آتا اور بھوکی نسیم باسی ٹکڑوں کو چائے یا اچار سے نگل کر صبر شکر کر کے بیٹھ رہتی۔ کچھ دن تو محلے گلی میں بچے کے زنخا ہونے کا چرچا رہا مگر جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے بہت دن تک ایک ہی واقعے سے اکتا جاتے ہیں تو یہ معاملہ بھی جلد ہی نائی کی بیٹی کے گھر سے بھاگنے اور موچی کی بیوی کے کمہار کے کوٹھے پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے سنسنی خیز ہنگاموں تلے دب کر غیر اہم ہو گیا۔
نسیم نے بچے کا نام درگاہ والے پیر کی عقیدت مند ہونے کے ناطے سلطان رکھا تھا۔ آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آنے لگی تھی۔ اقبال کی سلطان سے نفرت کم تو نہیں ہوئی تھی مگر بیوی کو وہ کوٹھڑی سے دوبارہ کمرے میں لا چکا تھا کہ تازہ روٹی اور دھلے کپڑوں کی فراہمی کے علاوہ شوہر کا بستر گرم کرنا بھی بیوی کے فرائض منصبی میں داخل ہے۔
دن گزرتے رہے، سلطان چھ ماہ کا ہو چکا تھا۔ وہ ایک خوبصورت اور ہر طرح سے صحتمند بچہ تھا۔نسیم کو اس کے مستقبل کی فکر ستاتی تو ضرور مگر اس نے تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ اس کمی کے بھیانک نتائج کا شکار اپنی اولاد کو نہیں ہونے دے گی۔
گزرتے وقت نے نسیم کی جھولی میں دو مزید بچے ڈال دئیے ایک لڑکا، ایک لڑکی! جو ہر طرح سے تندرست اور واضح جنس کے ساتھ پیدا ہوئے تھے اور انکی روح جسم کے سانچے کے عین مطابق تھی۔ اقبال دونوں بچوں سے بڑا لگاو رکھتا تھا مگر انہیں اٹھائے ہوئے، ان سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے ہوئے جب اس کی نظر بڑی بڑی آنکھوں والے خاموش سلطان پر پڑتی تو منہ کڑوا ہونے لگتا اور وہ دانستہ نگاہ پھیر لیتا۔
دن بھر ماں کے پلو سے لگا رہنے والا سلطان بے مہر باپ سے بڑی انسیت رکھتا تھا مگر باپ کے لیے آج بھی وہ اس کی اولاد نہیں بلکہ قدرت کی غلطی سے پیدا ہونے والا ایک زنخا تھا۔ اس مقام پر نسیم جو آج بھی سلطان سے سب سے زیادہ لگاؤ  رکھتی تھی، ہار جاتی کہ اقبال کے پتھر دل کو موم کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ وہ اسی بات پر خدا کا شکر ادا کر کے مطمئن ہونے کی کوشش کرتی کہ اس کا بچہ تیسری جنس کا ہونے کے باوجود کسی درگاہ، کسی ہیجڑے کے ٹھکانے پر رل نہیں رہا۔ گھر اور ماں کی آغوش میں پل رہا ہے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ سماج میں ایسی روحوں کو اپنے اپنے جہنم کے ساتھ اتارا جاتا ہے اور اس جہنم کی آگ بجھانے کی اہلیت کوئی نہیں رکھتا۔
وہ پانچ سال کا ہوا تو نسیم نے محلے کی مسجد کے امام صاحب سے اسے قرآن  پڑھانے کی درخواست کی ۔ امام صاحب ایسے اچھل پڑے جیسے مخمل کی گدی میں تیز دھار نوکیلے کانٹے اگ آئے ہوں” لاحول ولا ۔۔! یہ دن بھی دکھانا تھا مولا نے؟؟ کہ ایک ہیجڑے کو کلام مقدس سکھانے کا کام سونپا جائے؟؟ اے بی بی ! یہ معاذ اللہ گانا بجانا نہیں ہے، جو تم اسے سکھانے کا کہہ رہی ہو مقدس پاکیزہ کلام ہے۔۔سمجھیں!! ” امام صاحب کی شکل ایسے بگڑی جیسے وہ قے کرنے والے ہوں اور کاندھے پر پڑا صافہ انہوں نے یوں ہاتھ سے جھاڑا جیسے نسیم اور سلطان کو دفعان ہونے کا کہتے ہوں۔ آنسو پیتی نسیم نے ٹھنڈی آہ بھر کر سلطان کی انگلی تھامی اور خانہ خدا  میں ترتیب سے بیٹھے بچوں کو قرآن پڑھتے دیکھ کر اس نے ایک شکوہ کناں نظر آسمان پر ڈالی اور گھر لوٹ آئی۔
امام صاحب کے ایمان افروز جملوں کا بوجھ اس قدر تھا کہ نسیم نے دوبارہ ایسی کوئی کوشش نہیں کی اور جس قدر اسے آتا تھا وہی بچے کو سکھانے لگی۔
وہ بچے کو انتھک محنت سے پال رہی تھی ۔ اس کی فطرت میں جو کمی خدا نے لکھ رکھی تھی وہ اسے ختم تو نہیں کر سکتی تھی مگر بہت حد تک اسے چھپانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔ وہ بچے کو احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دینا چاہتی تھی لہذا دونوں بہن بھائیوں کو اس کے ساتھ مل جل کر کھیلنے کے لیے کہتی ،انکا خیال رکھنے کی تاکید کرتی مگر سلطان غیر محسوس طریقے پر ان سے الگ تھلگ ہوتا گیا ۔ اس کے جسم اور روح کے غلط تار اب الجھنے لگے تھے اور پندرہ سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے اس پر یہ حقیقت پوری سفاکی کے ساتھ واضح ہو چکی تھی کہ معاشرے میں آدم کی پہچان جن دو جنس سے ہوتی ہے وہ ان میں سے ایک بھی نہیں تھا۔ وہ تیسری جنس تھا جس سے ہمیشہ کراہیئت کھائی جاتی ہے اور ان کے جہنم ان کے حساس ذہنوں اور دکھے ہوئے قلوب میں ہمیشہ بھڑکتے رہتے ہیں۔
گلی محلے میں کہیں کوئی ہیجڑوں کی ٹولی نکل آتی تو وہ چھت کی اینٹوں کی موریوں سے انہیں چپکے چپکے تکا کرتا۔ شوخ لباسوں اور عجیب رنگوں سے لتھڑے ہوئے انسان ۔۔جو مرد اور عورت کے بین بین ہوتے تھے، انہیں ناچتے گاتے دیکھ کر اس کے دل میں بیک وقت دہشت بھی پیدا ہوتی اور انسیت بھی۔ وہ اسے اپنے ساتھی لگتے، اپنے جیسے! وہ ماں جیسے نہیں تھے جو عورت تھی، وہ باپ جیسے بھی نہیں تھے جو مرد تھا!! وہ صرف سلطان جیسے تھے جو ہیجڑا تھا، زنخا تھا۔
ایک شام جب  پڑوس والے دکاندار کے بیٹے کی بارات کے آگے آگے ہیجڑے ناچ رہے تھے تو چھت کی موریوں سے دیکھتے سلطان کے قدم اپنے آپ ہی ڈھول کی آواز پر تال دینے لگے اور کسی کام سے چھت پر آتی نسیم پر اپنی محنت یوں اکارت جاتے دیکھ کر بجلی گر پڑی۔
وہ پھرتی سے اس تک پہنچی اور اسے گھسیٹ کر نیچے لے جانے لگی۔”نامراد!! منحوس!! کمبخت بس یہی دن دکھانے کو رہ گیا تھا!” وہ شاید زندگی میں پہلی بار اسے یوں اندھا دھند چپلوں سے پیٹ رہی تھی۔ “دیکھ لینا! خود ہی جا پہنچے گا کسی دن اپنے ہوتوں سوتوں کے پاس!” ہونہہ! اس کے ذہن میں اقبال کی پیشگوئی کسی بم دھماکے کی طرح گونج رہی تھی جو وہ اکثر چلتے پھرتے اسے دیکھ کر کیا کرتا تھا ۔
اس رات خوب مار چکنے کے بعد نسیم نے قرآن پر قسم لی تھی سلطان سے کہ وہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا۔ ورنہ اسے اپنی پیاری ماں کا مرا ہوا منہ دیکھنا پڑے گا اور اس گھر میں صرف ایک نسیم ہی تو تھی جس سے وہ اپنا کوئی رشتہ سمجھتا تھا ۔ اس نے  خوفزدہ اور ہراساں  واویلا کرتی روتی کرلاتی ماں کی تشفی کی خاطر فطرت سے لڑنے کا وعدہ کر لیا تھا۔ اس سولہ سال کے انسان نے بہت ہی کٹھن وعدہ کیا تھا مگر واحد دستیاب رشتے کے بھرم کی خاطر وہ اپنی اصلیت بھلانے کی کوشش میں مصروف ہو گیا۔
“میں مرد ہوں۔۔۔میں مرد ہوں۔۔” کوٹھڑی کے میلے چٹخے ہوئے آئینے کے سامنے وہ گھنٹوں کھڑا یہ راگ الاپتا رہتا۔ نسیم بھی گاہے گاہے اس پر نظر رکھتی اور یہ دیکھ کر مطمئن ہو جاتی کہ اس کے بعد سلطان نے ایسی کوئی حرکت نہ کی تھی۔
وہ دن رات خود پر مشقت اور کوشش سے مرد کا خول چڑھاتا رہا ۔چال ڈھال پر قابو، انداز اور اطوار، گفتگو کا لب و لہجہ ! وہ اپنا استاد خود بن گیا تھا اور اب اسے دیکھ کر یہ کہنا مشکل تھا کہ وہ ایک نوجوان لڑکا نہیں بلکہ ایک زنخا ہے۔ ہاں مگر لاشعور کا تنہا انسان کبھی کبھی شکوہ کناں نظروں سے اسے تکا ضرور کرتا تھا، جسے وہ جھٹ سے ماں کے وعدے کے بوجھ تلے دبا دیتا ۔
اقبال اب بوڑھا ہو گیا تھا اور نسیم چاہتی تھی کہ سلطان اس کا ہاتھ بٹانے کے لیے  راج مزدوری کا کام سیکھے تا کہ زندگی کی گاڑی کو قدرے آسانی سے کھینچا جا سکے مگر یہ وہ کام تھا جس کے لیے  سلطان کے ہاتھ نہیں بنے تھے  ۔ چند دنوں تک سوتر اور ڈوریوں سے غلط پیمائش کرنے، مصالحے میں پانی کا تناسب برقرار نہ رکھنے اور اینٹوں کی سیدھی چنائی نہ کرنے پر اقبال کی گالیاں  اور ہاتھوں و کمر پر گرمالے اور کانڈیاں کھانے کے بعد بھی وہ اناڑی ہی رہا تو اقبال نے اس پر لعنت بھیجتے ہوئے ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا۔
مگر ایسا نہیں تھا کہ سلطان کو قدرت نے بالکل ہی بے ہنر رکھا ہو۔ وہ پیدائشی اور فطری طور پر ایک فنکار تھا جس کے ہاتھوں کی مہارت پہلی بار نسیم اور اقبال نے تب دیکھی جب وہ برسات کی بارشوں کے خاتمے کے بعد گھر کو سفیدی کر رہا تھا۔ کسی ماہر رنگ ساز کی طرح چلتے اس کے ہاتھوں میں اس قدر صفائی تھی کہ پرانی اینٹوں سے بنے گھر نے جگمگاہٹ کی چادر اوڑھ لی تھی۔ ایک برابر رنگ اور برش کے پھیلاؤ  میں رتی برابر فرق نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے دیوار پر رنگ پھیرا نہیں گیا بلکہ دیوار کو رنگ سے ہی بنایا گیا ہے۔۔ اس پر پھرتی کا یہ عالم کہ سورج کی آخری کرن بجھنے سے قبل ہی وہ چھت کی منڈیر تک رنگ کر فارغ ہو چکا تھا۔
نسیم اور اقبال نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فیصلہ ہو گیا۔ کچھ ہی دنوں میں اقبال نے اسے رنگوں کے ڈبے، برش، کوچیاں اور رنگوں کے انتخاب کی کتاب دلوا دی اور سلطان اپنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت بن کر مرکزی شاہراہ کے فٹ پاتھ پر بیٹھنے لگا جہاں مختلف مزدور اپنے ہنر کی پہچان سامنے رکھے رزق کی پکار کے منتظر بیٹھے ہوتے تھے۔ نام سے کون کس کو جانتا تھا؟ سب کے اوزار ان کی پہچان تھے۔ ہتھوڑیوں، آریوں اور رندوں والے بڑھئی تھے اور رنگوں برشوں کو سامنے سجائے رنگ ساز تھے۔ پرانی بوریاں کندھے پر رکھے بوجھ ڈھونے والے مزدور تھے ۔
جلد ہی سلطان کی مہارت نے اسے فٹ پاتھ کا سب سے زیادہ مطلوب رنگ ساز بنا دیا۔ اس کی ایک اضافی خوبی اس کا اخلاق تھا۔ اس نے کبھی کسی گاہک سے نہ بحث کی نہ ہی لین دین پر جھگڑا کھڑا کیا۔ دراصل وہ اس کام کو مزدوری سے زیادہ شوق  جان کر کرتا تھا۔ بے رنگ سلیٹی دیواریں اس کے ہاتھوں رنگ کا پیراہن اوڑھتیں تو اسے لگتا ان بے ہنگم رنگ ملے چہروں میں سے کسی ایک کا چہرہ سنوار دیا ہو۔ وہ چہرے جنہوں نے خود پر رنگ مل کر اپنی پہچان بنائی تھی وہ ان کی روح کی اذیت کا ایک تنکا ہلکا کر رہا ہو جیسے! جیسے وہ باعزت روزگار والی زندگی اپنا کر اپنے ہم جنسوں کا سر فخر سے اونچا کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کر رہا ہو۔
وہ اپنے اندر کے تیسری جنس کے احساس کو تقریبا بھلا ہی چکا تھا جب اس کی کوششوں سے سرد کئیے جانے والے جہنم کو پھر سے بھڑکا دینے والی رات آن پہنچی۔
دو دن سے لگاتار ہونے والی بارش خدا خدا کر کے اختتام کو پہنچی تو دن دوسرے پہر میں داخل ہو چکا تھا۔ اقبال کو کچھ دن سے بخار تھا اور راشن تقریبا اختتام پر تھا اسی لیے  وہ نسیم کے روکنے کے باوجود اپنا سامان اٹھا کر نکل آیا اگرچہ مزدوری کے وہ اوقات گزر چکے تھے جن میں کام ملنے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں پھر بھی وہ سورج ڈھلنے تک برش اور رنگ کے ڈبے فٹ پاتھ پر رکھے رزق کی پکار کا منتظر رہا مگر شام تک “رنگ ساز” کے نام سے کوئی پکار نہ پڑی  ۔
شام گہری ہونے لگی تو تھک ہار کر اس نے اپنا سامان سمیٹا اور گھر واپسی کے ارادے سے جب وہ فٹ پاتھ سے اٹھ رہا تھا تو تبھی ایک بڑی سفید گاڑی وہاں آ کر رکی اور سامنے کا دروازہ کھول کر ایک داڑھی مونچھوں والا آدمی باہر نکلا جو حلیے  سے ملازم معلوم ہوتا تھا۔
“اے رنگ والے!! مزدوری چاہیے”؟؟ اس نے سلطان کو مخاطب کیا اور وہ جو دوپہر سے اس پکار کے انتظار میں بیٹھا تھا فوراً  اثبات میں سر ہلا کر کام کی تفصیل پوچھنے لگا۔ داڑھی والے نے جو کہ ایک صاحب کے بنگلے کا چوکیدار تھا اسے بتایا کہ ان کے صاحب کی بیٹی کی شادی ہے اور اس موقع پر وہ بنگلے کو نیا رنگ کروانے کے ساتھ ساتھ باہر کے احاطے اور ملازموں کے رہائشی کمروں کو بھی رنگ کروانا چاہتے ہیں۔ اندر کا کام تو ختم ہو چکا ہے مگر باہری دیواریں اور ملازموں کے کمرے اگر وہ کل صبح سے پہلے پہلے رنگ دے تو صاحب معقول رقم کے علاوہ اضافی انعام بھی دے دیں گے۔ سلطان کچھ لمحے تو سوچ میں پڑ گیا کہ اس سے قبل وہ رات گھر سے باہر کبھی نہ رہا تھا۔ ایک لمحے کو جی میں آیا کہ انکار کر دے مگر پھر آٹے دال کے خالی کنستر نظروں کے سامنے آ گئے اور وہ اپنا سامان اٹھا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔
شادی والے گھر میں مخصوص شور و ہنگامہ تھا۔ جب وہ پہنچا تو صاحب جو گہرا نیلا ریشمی شب خوابی کا لباس پہنے باغیچے میں ٹہل رہے تھے قریب آ گئے۔ سلطان نے سلام کیا اور کام کا معاوضہ وغیرہ طے کرنے لگا۔ صاحب گہری نظروں سے اسے بار بار دیکھ رہے تھے۔ اٹھارہ سالہ خوبرو نوجوان! جو چہرے پر داڑھی کی علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے دلکش لگ رہا تھا۔ وہ لاشعوری طور پر اسے دیکھتے رہے۔ “رنگ والے! آؤ  میں تمہیں ملازموں کا احاطہ دکھا دیتا ہوں” صاحب نے اسے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا اور ملازموں نے معنی خیز نظروں کا تبادلہ کیا۔ وہ اسے لیے  آگے بڑھ گئے تو ایک ملازم کی نظر اس مشروب کی چپٹی بوتل پر پڑ گئی جو صاحب ان کے آنے سے قبل پی رہے تھے۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا اور ہوشیاری سے اسے پار کر لیا۔ اگر صاحب کا جی موج مستی کا ہو رہا تھا تو انہیں بھی حصہ ملنا تھا، تب وہ مشروب مزہ دوبالا کر دیتا۔
کچھ ہی دیر بعد اس نے سرخ چہرے اور چڑھی آنکھوں کے ساتھ صاحب کو آتے دیکھا۔ وہ اس کے قریب رکے”زنخا ہے سالا!! ہیجڑا!” سرور سے ان کے قدم الٹے سیدھے پڑ رہے تھے ۔
ملازم نے جلدی جلدی گھونٹ لگائے اور اس جانب بڑھ گیا جہاں صاحب سلطان کو لے گئے تھے
“مجھے چھوڑ دو!! کیا تم لوگوں کو رحم نہیں آتا” تباہ حال سلطان کے آنسو اور ناک سے بہتی رطوبت ہونٹوں پر جمع ہو رہی تھی۔ بھوری شلوار دروازے کے قریب پڑی تھی اور پھٹی ہوئی قمیض گلے میں جھول رہی تھی۔
“اوئے!! زیادہ ڈرامے نہ کر!! چوکیدار نے اسے قابو کیا ہوا تھا اور ڈرائیور اپنی بھوک مٹا رہا تھا۔
“زنخا ہے تو تو!! اور ہیجڑے زنخے تو یہی دھندہ کرتے ہیں” چوکیدار نے اس کی سسکیوں پر کان نہ دھرتے ہوئے ڈرائیور کو جلدی کرنے کا اشارہ کیا۔
انسانیت کی دھجیاں بکھرنے لگیں اور شیطانیت محو رقص ہو گئی۔۔۔ تکلیف اور ذلت سے تڑپ تڑپ کر سلطان بالاخر نیم بے ہوش سا ہو گیا۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب فٹ پاتھ کے قریب گاڑی رکی اور کھلے ہوئے دروازے سے سلطان کو باہر دھکیل دیا گیا۔ فوراً  ہی اس کے برش کوچیاں اور رنگ کے ڈبے بھی اس کے ہمراہ سڑک پر پڑے تھے ۔ رنگ کے چھینٹوں سے بھری قمیض جو جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی، اس کی جیب محفوظ تھی جس میں پانچ سو روپے کا ہرا نوٹ شرمندہ شرمندہ منہ چھپائے پڑا تھا  ۔
اسے ایسے لگ رہا تھا وہ فٹ پاتھ پر نہیں بلکہ قعر مذلت کی تنہا ترین گہرائی میں اوندھے منہ غلیظ اور سیاہ کیچڑ میں پڑا ہے اور خدا کہیں اس کے کنارے پر بیٹھا شرم سے آنسو بہا رہا ہے۔
اس کی سسکیاں رات کے سناٹے میں بلند ہوتی گئیں ۔ وہ عرش معلی سے لپٹ رہی تھیں اور ان کی ہر گرہ میں سوال بندھے تھے” میں نے تو دیواریں رنگنے کو منہ رنگنے پہ ترجیح دی تھی۔۔میں نے تو جنس کی تکڑی پر سربازار تلنے سے انکار کیا تھا،تو پھر کیوں آج زبردستی مجھے اس ترازو میں بٹھا دیا گیا جہاں ایک پلڑے میں میرے رنگ،برش، کوچی، انسانیت اور میں خود تھا اور دوسرے پلڑے میں جنس، ہوس اور شیطنیت!”؟؟انسانیت کا پلڑا ہلکا کیوں نکلا؟ ” وہ دیر تک پڑا روتا رہا، اپنے زنخے ہونے کو یاد کرتا رہا، باپ کی نفرت، امام صاحب کی نفرت اور ماں کی محبت کو روتا رہا، بنگلے والے صاحب ، چوکیدار اور ڈرائیور کی مردانگی کو سسک سسک کر خراج تحسین پیش کرتا رہا۔
ہیجڑوں کی منڈلی اس کے تصور میں ناچتی رہی ،ان سب کی بانچھیں کانوں تک چری ہوئی تھیں اور آنکھوں سے شوخ رنگ بہہ رہے تھے۔ وہ اسے بلا رہے تھے۔
جانے اس فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے اسے کتنی صدیاں بیت گئیں۔ پھر وہ اٹھا اور لڑکھڑاتے ہوئے گھر کے راستے پر چلنے لگا مگر جانے سے پہلے وہ اپنی مزدوری کے سامان کو ٹھوکروں سے کھلے گٹر میں گرانا نہیں بھولا تھا۔
گھر پہنچا تو نسیم جو پریشانی اور  خوف سے نیم جان ابھی تک اس کے انتظار میں جاگ رہی تھی شکر ادا کرتی اس کی طرف لپکی مگر وہ تیر کی طرح اس فالتو سامان کی کوٹھڑی کی جانب بھاگا جو اس کا بسیرا اور ٹھکانہ تھی۔
نسیم پریشانی اور غصے سے دروازہ بجاتی رہی مگر وہ کھل کر نہ دیا۔ وہ اس سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی تھی مگر وہ باہر نکلتا تب ناں۔
اگلے دن اقبال کے گھر سے نکلنے کے بعد ہی وہ کوٹھڑی سے نکلا اور گھر سے باہر چلا گیا۔
اس نے نسیم کی جانب دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا جو سلطان کے چہرے پر لگی کھرونچوں اور نشانوں کو دل پہ ہاتھ رکھے دیکھ رہی تھی۔
وہ دن سلطان نے کہاں گزارا ،کسی کو خبر نہ تھی۔
وہ شام کو لوٹا اور بغیر کچھ کھائے پئیے سیدھا اپنی پناہ گاہ میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا۔ نسیم کا دماغ اب پھوڑے کی طرح دکھنے لگا تھا مگر نہ تو اسے سلطان کے اس روئیے کی سمجھ آ رہی تھی اور نہ ہی وہ اس کی کسی بات کا جواب دینے کو آمادہ تھا۔وہ دل ہی دل میں خیر کی دعا مانگتی اپنے معمولات نمٹانے لگی۔
اگلی صبح جب سورج کچھ اوپر آ چکا اور اقبال ناشتے سے فراغت پا کر کام پہ جا چکا تو سلطان کی کوٹھڑی کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ نسیم باورچی خانے میں بیٹے اور بیٹی کے لیے تازہ روٹیاں بنا رہی تھی۔ وہ دروازے کی آواز سن کر باورچی خانے کے دروازے پر آئی تو اس پر ہفت آسمان ایک ساتھ ٹوٹ پڑے، ہاتھ میں پکڑا آٹے کا پیڑا زمین پر گر گیا اور چیخ دبانے کے لیے  اس نے اپنا ہاتھ منہ پر دبا لیا۔ “سلطان”!! اس کے سفید مردہ ہونٹوں سے بمشکل یہ لفظ ادا ہو سکا” سلطان نہیں!! میرا نام”بےبی “ہے۔۔ وہ ایک ادا سے بولا۔تیز گلابی ریشمی قمیض تلے سیاہ مصنوعی ابھاروں والا زیر جامہ پہنے، نقلی بالوں کی چٹیا کو سینے پر ڈالے سلطان کی آنکھوں، ہونٹوں اور گالوں پر بدنمائی سے رنگ ملے ہوئے تھے ۔ پیروں میں دوپٹی کی چپل پہنے وہ گول گول گھوم رہا تھا۔ ۔
“میں سلطان نہیں تھا اماں!! وہ تو تم نے زبردستی بنا رکھا تھا مجھے۔۔! مرد بنانا چاہتی تھیں، تبھی تو روزگار کا بوجھ میرے کندھوں پہ لاد دیا تم نے!! اور میں نسوانیت کو پیٹھ سے لگائے مردانگی کو سینے پر پھیلائے رنگوں کی کوچیوں سے مقدر کی سیاہی چھپانے کی کوشش۔۔۔ناکام کوشش کرتا رہا۔ وہ گھومتے ہوئے اب بول رہا تھا۔”بھلا ہو صاحب کا! اس نے مجھے سمجھا دیا کہ میں زنخا ہوں، ہیجڑا ہوں اور زنخے ہیجڑے یہ رنگ برش کی مشقت نہیں کرتے ۔۔ وہ تو بس چپ چاپ شلوار اتار کر دیوار کی جانب منہ کر کے کھڑے ہونے کے لیے  بنے ہیں۔۔۔ “ایسے مت دیکھو اماں!! میں نے اپنی جنس کے حساب سے روزگار ڈھونڈ لیا ہے۔۔ بہت فائدہ مند کام ہے، یہ لو۔۔یہ رکھو!!” اس نے گریبان میں ہاتھ ڈال کر دو سرخ نوٹ نکالے اور بت بنی نسیم کے قدموں میں پھینک کر مستانی چال چلتے ہوئے گھر سے نکل گیا۔۔
خالی آنگن میں نسیم تنہا کھڑی رہ گئی ۔ کھلے دروازے کی زنجیر ہوا سے ہلتی رہی۔۔۔۔۔۔۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *