لیڈی ان پنک۔۔۔معاذ بن محمود/افسانہ

“تو یہ سنو۔ لنکن پارک کا نمب۔ ایک تو یہ راک میوزک ہے۔ دکھوں کی فریکوینسی سے میل کھاتا۔ دوسرا مجھے اس گانے میں اپنی کہانی سنائی دیتی ہے”۔

چیسٹر بیننگٹن کو پہلی بار سننا عاصم کے لیے کسی حد تک تکلیف دہ تھا۔ لیکن گانے کے بول واقعتاً ایک ایسی کرب زدہ زندگی کی منظرکشی کر رہے تھے جو عاصم اکثر افشین کے بارے میں سوچتا۔ وہ ٹوپاک کو سننے کا عادی تھا۔ ٹوپاک کو وہ موسیقاروں کا مارٹن لوتھر کنگ کہتا۔ عاصم کی اپنی طبیعت میں امارو شکور کی طرح نظام سے بغاوت تھی۔ وہ اپنے غصے کے اظہار کا ذریعہ ڈھونڈتا اور ٹوپاک اپنی آواز اور الفاظ میں اسے یہ ذریعہ فراہم کرتا۔ لیکن افشین اسے راک میوزک کی جانب دھکیل رہی تھی۔ یہ وہی میوزک تھا جسے عاصم کے والد شیطانی موسیقی سے تشبیہ دیتے تھے۔

‏’Cause everything that you thought I would be
‏Has fallen apart right in front of you

وہ سن رہا تھا۔ سمجھ رہا تھا۔ اور الفاظ کے دلدل میں دھنسا چلا جارہا تھا۔

افشین شہر کے ماڈرن کالج سے فارغ التحصیل تھی۔ اس نے بچپن سے جوانی تک مخلوط سکول و کالج میں وقت گزارا۔ افشین کے والد ایک امریکی فرم میں ملازم تھے۔ وہ نصف ماہ نیو یارک اور نصف ماہ لاہور میں گزارتے۔ افشین کا خاندان چارسدہ کے جانے پہچانے پشتون خاندانوں میں سے ایک تھا۔ افشین کے والد انتہائی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود خاندانی نظام پہ یقین رکھتے تھے۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنے بھتیجے سے افشین کا نکاح اس کے فائنل ائیر میں ہی کر ڈالا تھا۔ اس کا مجازی خدا اس سے دس سال بڑا، تبلیغی اور سعودیہ میں برسر روزگار تھا۔ بیٹی سے شادی کے لیے مرضی نہیں پوچھی گئی صرف اطلاع دی گئی تھی۔ افشین ہر سال تین ماہ چارسدہ گزارتی تھی اور خاندان میں عورت کی حیثیت سے خوب واقف تھی لہذا چون و چراں پہ اپنی زندگی کو فوقیت دیتے اس معاملے میں خود کو بے حس کر چکی تھی۔

افشین کی طبیعت زندگی سے بھرپور تھی۔ اسے اداسی بالکل نہیں پسند تھی۔ اس نے اپنی اداسی کا حل اپنے گھر کی بالائی منزل میں اپنی الگ دنیا بسا کر ڈھونڈ لیا تھا۔ وہ خوش ہوتی تو اپنے ساؤنڈ سسٹم کے ساتھ خوشی شئیر کرتی۔ وہ کسی کو دُکھی پاتی تو بھی موسیقی کا سہارا لیتی۔ اس کا عاصم سے تعارف بھی فورٹ مائنر کے ایک گانے پہ اظہار خیال کے تبادلے سے ہوا۔ جس وقت پہلی بار اس نے عاصم سے بات کی اس دن سے ٹھیک تین ماہ بعد افشین کی رخصتی طے تھی۔ اس نے یہ بات عاصم کو بتا دی تھی۔

“دیکھو، لائن مارنے کا وقت ختم۔ میں اپنے اور تمہارے اس رشتے کو کوئی نام نہیں دے سکتی لیکن اللہ کی قسم یہ رشتہ جب تک رہے گا بہت پاک اور مضبوط رہے گا۔”

عاصم انجینیئر بننے کو تھا۔ اس کے دل میں دنیا اور دنیا کے نظام کے لیے غصہ تھا۔ چند ماہ ہوئے اس کے بچپن کی محبت صرف یہ کہہ کر اس سے تعلق ختم کر گئی تھی کہ وہ اس پر پیسہ خرچ نہیں کرتا تھا۔

“افشین، میں ابا کا پیسہ کسی پہ کیسے لگا سکتا ہوں؟ میں ابھی کماتا نہیں، پھر بھی جیب خرچ موبائل کارڈز میں چلا جاتا تھا جو صرف اور صرف اس سے بات کرنے میں صرف ہوتے۔ پیسہ خرچ نہ کرنے پہ محبت کا گلا گھونٹنے والی عورت کو کیا نام دوں میں؟”

اور افشین ہمیشہ یہی جواب دیتی۔

“چھوڑو اب دفع بھی کرو۔ تم بس ہر گزرتا لمحہ انجوائے کیا کرو۔ اس نے جانا تھا وہ چلی گئی۔”

عاصم جانتا تھا کہ افشین تین ماہ کی مہمان ہے۔ وہ جانتا تھا کہ تین ماہ بعد افشین کا خیال اس کے ذہن پہ نقش ہوجائے گا اور وہ خود سعودیہ میں گم۔

“یار تم لاہور آجاؤ، یہاں پی سی ہوٹل میں ڈیٹ مارتے ہیں۔”

افشین نے ہنستے ہوئے بم پھینکا۔ “پر ڈیٹ کیا ہوتی ہے؟” اس نے پوچھا۔

“ارے احمق، چارسدہ کی لڑکی اور پشاور کے لڑکے کے درمیان بھلا کیسی ڈیٹ؟ ملتے ہیں بس اور اپنے اپنے گھروں کو واپس۔”

“ہاں ٹھیک ہے۔ کیوں نہیں۔” اور یوں پہلی ملاقات کا فیصلہ ہوا۔

عاصم ڈائیوو ٹرمینل لاہور پہ اتر رہا تھا۔ موبائل پہ ٹیکسٹ میسج کرتے ہوئے انتظار گاہ پہ ایک طائرانہ نگاہ ڈالی۔ “وئیر آر یو؟”

اس نے افشین کو آج تک نہیں دیکھا تھا۔ دل میں خوف تھا کہ کہیں ایسیٹ، لائی ایبلٹی ہی نہ بن جائے آج۔ ہمت کر کے پھر انتظارگاہ میں ڈھونڈنے لگا کہ شاید کوئی ہم عمر دکھائی دے۔

“دی لیڈی ان بلیو از می”۔ موبائل پہ جواب موصول ہوا۔

عاصم نے نگاہیں دوڑائیں۔ نیلے رنگ میں ملبوس واحد خاتون کم سے کم ایک سو تیس کلو اور چار بچوں پہ محیط تھی۔ عاصم کے قدم وہیں رک گئے۔ ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ گلابی کپڑے پہنے  ایک لڑکی نے قہقہ لگاتے اس کی جانب ہاتھ بڑھا دیا۔

“کیا ہوا؟ ڈر گئے؟ میں افشین ہوں۔”

اس کے بعد چائے پیتے اور کھانا کھاتے وقت کیسے گزرا پتہ نہ چلا۔

پھر ہر ماہ ایک ملاقات ہوئی۔ یوں ہی باہر کسی ریستوران میں یا کسی پارک میں۔ آخری ملاقات میں عاصم افشین کو بہت کچھ کہنا چاہتا تھا۔ وہ اسے آنے والی اذیت سے نجات دلانا چاہتا تھا۔ عاصم کو کوئی دنیاوی لالچ نہ تھی مگر افشین کے مستقبل کا سوچ کر عاصم کی روح کانپ اٹھتی تھی۔ افشین اس کی سوچ بھانپ چکی تھی۔

“عاصم بات دراصل یہ ہے کہ سماج سے بغاوت مشکل ہے ناممکن نہیں، لیکن بغاوت کے بعد، بابا کی روح کے قتل کے بعد افشین کا افشین رہنا ناممکن ہے۔ زندگی اوپر والے نے جس باپ کے توسط سے دی تھی، میں چاہتی ہوں موت بھی اسی کے وسیلے سے ملے۔”

عاصم کو الوداع کہتے ہوئے اس نے آخری بار ہاتھ ملایا اور پلٹ گئی۔

اور پھر افشین کی شادی کا دن آن پہنچا۔

یہ تین ماہ میں پہلی بار تھا کہ عاصم افشین کی آواز سے کئی دن محروم رہا۔ وہ کرب میں تھا۔ صبح ہونےکو تھی۔ اس کا ذہن ماؤف تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے۔

اچانک اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجتی ہے۔

دوسری جانب افشین ہے۔ وہ رو رہی ہے۔ اس کی آواز میں صرف سسکیاں ہیں۔

“عاصم۔۔ اس نے۔۔ میرا ایم پی تھری توڑ دیا۔ وہ کہتا ہے۔۔۔ موسیقی حرام ہے۔ وہ مجھ سے بہت بڑا ہے۔۔۔ اس نے پہلی ملاقات میں۔۔۔ میرے نئے کپڑے۔۔۔ شادی کے کپڑے۔۔۔ پھاڑ دیے۔ وہ جانور بنا رہا۔۔۔ میں کیسے رہوں گی اس کے ساتھ؟ عاصم مجھے لے چلو یہاں سے خدا کے لیے۔ پلیز۔ عاصم تم۔۔۔ خاموش کیوں ہو؟ بولو۔ کچھ تو بولو۔”

“میں۔۔۔ کیا بولوں؟” عاصم سوچتا رہا۔

کال جانے کب بند ہوگئی۔ عاصم نے اپنے بائیک کو کِک لگائی اور ہائی وے پہ نکل پڑا۔

اس کے ذہن میں چیسٹر بیننگٹن کا گانا چل رہا ہے۔

‏And I know I may end up failing too
‏But I know you were just like me with someone disappointed in you

چشم زدن میں عاصم کے سامنے فلم چل رہی تھی۔ افشین رو رہی ہے۔ اس کا شوہر اس کا ایم پی تھری پلئیر اس کے سامنے پیروں تلے کچل دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ افشین کی جانب پلٹتا ہے۔ اس کا دوپٹہ اتارتا ہے۔ افشین کا عروسی لباس تار تار کرتا ہے اور۔۔۔۔

اگلی صبح اخبار میں دو یک سطری تراشے تھے جو شاید ہی کسی نے پڑھے ہوں۔

“لاہور: نوبیاہتی دلہن نے پہلی رات زہر کھا کر خود کشی کر لی۔”
“پشاور: انجینئرنگ یونیورسٹی کا جواں سال طالب علم تیز رفتار ٹرک تلے ہلاک۔”

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”لیڈی ان پنک۔۔۔معاذ بن محمود/افسانہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *