ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 173 )

ویلنٹائن ڈے سپیشل۔۔کلّو آپا۔۔۔۔۔۔۔اختر عمر

13 ﻓﺮﻭﺭﯼ 2014 صبح گیارہ ﺑﺠﮯ امارات ﺍﯾﺌﺮ ﻻﺋﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﺮواز ﺍﯼ ﮐﮯ 800 ﮐﺮﺍﭼﯽ اﯾﺌﺮﭘﻮرٹ ﭘﺮ ﻟﯿﻨﮉ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺳﯿﭧ ﺑﯿﻠﭧ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ جاچکے ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ←  مزید پڑھیے

کوئٹے تک۔۔۔۔طاہر حسین

ریل گاڑی پر طویل سفر کا ایک اپنا ہی لطف ہے۔ میں چلتی گاڑی کی کھڑکی سے باہر جھانکتا رہتا ہوں اور جہاں باہر کے مناظر مجھے لبھاتے ہیں وہیں میں نظر آنے والے ہر کردار کے متعلق ایک کہانی←  مزید پڑھیے

غزل۔۔۔مظہر حسین سید

  خطِ شکستہ میں کچھ ریت پر لکھا ہوا تھا جو میں نے غور سے دیکھا تو گھر لکھا ہوا تھا کتابِ زیست میں لکھا نہیں گیا مرا نام مٹا دیا ہے کسی نے اگر لکھا ہوا تھا خبیث بھیڑیے←  مزید پڑھیے

ایک ادھوری کہانی ۔۔۔۔طاہر حسین

یہ وردی مجھ پر بہت سجتی ہے بالکل کوئی فلمی ہیرو  نظر آتا  ہوں۔ میرے بوٹ کی چمچماہٹ ایسی ہے کہ جیسے آئینہ ہو۔ کتنا اچھا لگتا ہے جب سارے گاؤں کے بچے صرف مجھ سے ہاتھ ملانے کو دوڑتے←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 20۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

میں تو حیران   آپ لوگوں پر ہو رہا ہوں جو اینکروں کو کوئی پڑھا لکھا کوئی ادبی کوئی شعوری کوئی سمجھدار کوئی سیانا کوئی تخلیقی بندہ سمجھتے ہیں۔ جیسے اب بھی آپ کسی صوبے کے اندرون میں چلے جائیں،←  مزید پڑھیے

جدید پنجابی شاعری کے دو سب سے بڑے شاعر۔اوتار سنگھ پاش اور شو کمار بٹالوی/زاہد علی بھٹی ۔۔۔حصہ اول

انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائیاں دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں کی دہائیاں تھیں عالمی جنگوں کے اختتام اور دنیا کے نئی جغرافیائی حدود کی شکل میں سامنے آنے کے بعد اب لوگوں میں سیاسی و سماجی شعور اور←  مزید پڑھیے

وُہی بات کُھلتی۔۔۔۔ رفیق سندیلوی

کبھی تجھ پہ مجھ پہ ازل کی مقفّل وُہی بات کُھلتی اوراک ساتھ کُھلتی کسی رات کُھلتی کنول جیسی کھڑکی تو مَیں دیکھتا خود کو تجھ کو حصارِ تجلّی میں دو زانو بیٹھے ہُوئے چاند کی ننھّی کشتی میں اِک←  مزید پڑھیے

حدِّ بیابانی میں۔۔۔۔۔ رفیق سندیلوی

میرے اسلوبِ تمّوج پہ نظر ڈال مری لہر کے پیرائے کو دیکھ لمس کی دُھوپ کو دیکھ اور مرے سایے کو دیکھ دیکھ اب میرے خدوخال میں تبدیلی ہے دل کی روندی ہُوئی مٹّی جو بہت ماند تھی اب عکسِ←  مزید پڑھیے

ترینے چلی گئی۔۔۔۔۔ فیصل نواز چوہدری

آج صبح ہانسن کا فون آیا کہ ” ترینے” اپنے اللہ کے پاس چلی گئی اور اتوار کو اس کا جنازہ اوسلو کتھولک چرچ میں تین بجے ھو گا۔۔۔۔ میری سوچ  مجھے آج سے کئی سال پیچھے “پوسٹ بنک” کی←  مزید پڑھیے

استنبول کا سفر نامہ۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط15

شہزادوں کے جزیرے خدائی عنایت اور انسانی ہاتھوں کے خوبصورت شاہکار ہیں۔ ہوٹل کے ریسپشن پر بولتی آنکھوں اور مسکراتے چہرے والی دلربا سی لڑکی گذشتہ کئی روز سے شام ڈھلے ہمارے اندر داخل ہونے پر اپنے گداز ہونٹوں کو←  مزید پڑھیے

خالد سہیل اور رابعہ الربا کے خطوط پر مشتمل کتاب “درویشوں کا ڈیرہ “پر تبصرہ۔۔۔۔۔ ثمر زیدی

اس ماڈرن دنیا میں انسان ایمیل واٹس ایپ اسٹا فون جیسی سستی اور تیز ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں ہے۔۔ اس لیے خط لکھنے کا خیال ہی ایک عجیب سی بات ہے لہذا جب خالد سہیل←  مزید پڑھیے

ٹیٹوال کا کتا۔۔۔۔سعادت حسن منٹو

کئی دن سے طرفین اپنے اپنے مورچے بر جمے ہوئے تھے۔ دن میں ادھر اور ادھر سے دس بارہ فائر کیے جاتے جن کی آواز کے ساتھ کوئی انسانی چیخ بلند نہیں ہوتی تھی۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہوا خود←  مزید پڑھیے

ک سے کشمیر۔۔۔۔روما رضوی

میں ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑوں کے درمیان عرصے دراز سے کھڑا ہوں۔ میری گود میں پونچھ، جموں، لداخ مظفر آباد جیسے شہروں نے پرورش پائی ہے۔ اس وادی میں اوپر تلے اگے ننھے منے درختوں کے سائے بھی←  مزید پڑھیے

تمہیں یاد ہی ہوگا۔۔۔۔اختر عمر

شام کی سرد ہوتی ہوئی سرخی مائل دھوپ پہاڑیوں پر بھیلی ہوئی تھی ۔ ہر طرف ایک پراسرار سناٹا سا چھایا ہوا تھا ۔ ایسا سناٹا جو پتھریلی زمین پر خچروں کی ٹاپوں کی آواز کے باوجود برقرار تھا۔ کبھی←  مزید پڑھیے

ہنگامہ ہائے شوق ۔۔۔مونا شہزاد

وہ بہت مشہور گدی نشین تھا،اس کی شعلہ بیانی اس کا خاصہ تھی ۔جس محفل میں جاتا لوگ وجد میں آجاتے۔قران پاک اور حدیثوں کے ایسے ایسے حوالے دیتا کہ لوگ اش اش کر اٹھتے۔دادوتحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے۔لوگ اس←  مزید پڑھیے

سردی ،بارش اور ژالہ باری میں مطالعہ۔بک ریویو۔۔۔آمنہ مفتی

زاہد حسن کی کتاب ’’ہجر تیرا جے پانی منگے‘‘ موصول ہوئی۔ سخت سردی کا موسم تھا۔ بارش اور ژالہ باری کے دن تھے۔ مری مری سی دھوپ نکلتی تھی اور دیواروں پہ سے ہی رخصت ہو جاتی تھی۔ ایسے سرد←  مزید پڑھیے

روحی بانو پر افسانہ “کتوں کی دنیا”۔۔۔۔۔ نیلم احمد بشیر

حقیقت کیا ہے؟ وہ جو آنکھ دیکھتی ہے، دماغ سوچتا ہے یا پھر وہ منظر جو ٹی وی سکرین پر دکھائی دیتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔ کسی کو کیا معلوم کہ کونسا درد ایسا ہے جو دِکھتا تو←  مزید پڑھیے

دولما باشی پیلس۔۔۔۔سفر نامہ/سلمیٰ اعوان۔۔۔قسط 14

’’اف دولماباشی Dolmabahce محل کیا خوبصورت اور کس قدر شاندار ہے۔‘‘ سیما بستر پر لیٹی اپنی جانب کا ٹیبل لیمپ جلائے بروشرز اور کتابوں میں سے تصویریں دیکھتی اور نہال ہوہو جاتی تھی۔ کب چلنا ہے؟ اگلے دن کوئی پانچ←  مزید پڑھیے

موت کی چہل قدمی۔۔۔۔ سرور غزالی

27 جنوری 1945 کو آوش وٹز کا کنسنٹریشن کیمپ آزاد کرایا گیا۔ مگر چند دن قبل ہی ایس ایس فوج نے بیشتر قیدیوں کو موت کی چہل قدمی کے لیے مغرب کی جانب روانہ کر دیا تھا۔ وینر باب جو←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 19۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

انوار ایک سیدھا سادا سا لڑکا ہے. اس سے میری پہلی ملاقات ایک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہوئی تھی۔ ہم تقریباًًً  دو ماہ گفتگو کرتے رہے. تصاویر بھی شیئر ہوئیں. باتیں بھی کیں. شاعری پر بھی گفتگو ہوئی.←  مزید پڑھیے