دولما باشی پیلس۔۔۔۔سفر نامہ/سلمیٰ اعوان۔۔۔قسط 14

’’اف دولماباشی Dolmabahce محل کیا خوبصورت اور کس قدر شاندار ہے۔‘‘
سیما بستر پر لیٹی اپنی جانب کا ٹیبل لیمپ جلائے بروشرز اور کتابوں میں سے تصویریں دیکھتی اور نہال ہوہو جاتی تھی۔
کب چلنا ہے؟ اگلے دن کوئی پانچ سات بار تو ضرور ہی پُوچھا گیا۔ میرا تو کچھ اتنا دل نہ تھا۔توپ کپی دیکھ لیا تھا۔شاہوں کی شان وشوکت کے پٹارے۔مگر دیکھنا ضروری تھا کہ استنبول کی خاص چیز تھی۔سورات کو اگلے دن کے پروگرام میں دولماباشی کی سیرشامل کی۔
ناشتے میں ٹھونس ٹُھونس کر کھانا اور دو ٹکیاں حلوے اور کبھی بقلاوے کی ٹشو پیپر میں لپیٹ کرپرس میں رکھنا ہمارا معمول تھا۔
ابھی ہم صبح سویرے ہی نکل پڑے تھے۔محل سے پہلے دولما باشی مسجد آئی ۔اُسے توباہر سے ہی سراہا۔راستہ دورویہ چناروں کے درختوں سے سجا ہوا تھا۔محل کی حدود میں داخل ہوئے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے اتنی لمبی لائن ٹکٹ کیلئے نظر آئی تھی کہ میں نے اضطراری کیفیت میں سر پر ہاتھ رکھ لئیے۔
’’لگتا تو یوں ہے جیسے ساری دنیا اِسے ہی دیکھنے آگئی ہے۔سیما پیروز میں تو چلی۔کہیں بیٹھ کر سمندر کا نظارہ کروں گی۔ٹکٹ کیلئے تمہیں ہی لائن میں لگنا ہے۔ مل گیا تو آواز دے لینا۔‘‘
بجری کے  بنے  زمینی ٹکڑوں پر چلتی میں ایک چھوٹے سے درخت تلے بیٹھ گئی۔سنہری دھوپ میں سکون سے بہتے باسفورس کو دیکھنا کتنا خوبصورت کام تھا۔مجھے آج صبح کا پڑھا ہوا یاد آیا تھا کہ یہ علاقہ بنیادی طور پر ابتدائی عثمانیہ دور میں نیوی کی بندرگاہ کے طور پر استعمال ہوا۔سترھویں صدی کے آغاز میں سلطان احمد اول کے محل باڑیوں کے شوق نے اس کی لکڑیوں سے بھرائی کروا کے یہاں بیشکتاشBesiktas محل بنادیا۔مگر کثیر سرمائے سے بنا محل ایک خوفناک قسم کی آگ نے جلا کر خاکستر کردیا۔پھر اکتیسویں سلطان عبدالمجید اول جن کا دور حکومت 1839 سے 1861 تک تھا نے یہیں ایک شاندار محل بنانے کا ارادہ کیا کہ یہ سمندر کے کنارے ہونے کے ساتھ شہر کی مرکزی جگہوں سے بھی قریب ترین تھا۔


سچ تو یہ ہے سلطان کے دل میں کہیں پیرس کے” لوور Louvre “محل جیسی چیز بھی استنبول میں ہونی چاہیے کی امنگ تھی۔لندن کا بکنگھم پیلس بھی ذہن میں تھا۔یقیناًیہی وجہ تھی کہ اِسے زیادہ سے زیادہ یورپی انداز میں بنانے کی کوشش ہوئی۔آرمینیائی ماہر تعمیرات کارابت بلیانKarabet Balyan کو مقرر کیا گیا۔ محل کی وجہ سے یہ آہستہ آہستہ رہائشی کالونی بن گئی۔
دفعتاً مجھے پانی میں تیرتے سنگ مرمر کے زینے نظر آئے۔سامنے پوراگھاٹ تھا۔سیڑھیاں لمبی قطار میں نیچے اُتر رہی تھیں۔
’’اچھا تو اسی گھاٹ سے شاہی بجروں میں شہزادیاں بیٹھ کرکبھی سمندر خوری اور کبھی پارایشیا کے محلوں میں رہنے والے اپنے رشتے داروں کے ہاں جاتی ہونگی۔کیا زندگی تھی اُن کی بھی۔مجھے شہزادی درّشہوار یاد آئی تھی۔آخری سلطان عبدالمجید آفندی کی بیٹی جس کے حُسن کے قصیدوں سے کتابوں کے صفحات کالے ہوئے پڑے ہیں۔جو حیدرآباد دکن کے نواب خاندان کی بہو بنی تھی۔
میں نے اپنے عقب میں دیکھا تھا مجھے اپنے نام کی پکار سنائی دی تھی۔سیما بھاگی چلی آتی تھی۔لتاڑتی ،کوستی اور یہ بتاتی کہ میں ہاتھوں میں ٹکٹ لے کر تمہیں ڈھونڈنے نکلی ہوں۔اندر داخلہ گروپوں کی صورت میں ہوگا۔‘‘


تیز دوڑ لگانی پڑی۔بیر بہوٹی جیسے سرخ،کاسنی اور پیلے پھولوں کے تختوں سے سجے لانوں اور اُن میں دھرے مجسموں پر طائرانہ سی نگاہ ڈالتے ہوئے۔ پتہ چلا کہ لسانی تقسیم پر گروپ بنائے جارہے ہیں۔پردان زبانیں تو وہی انگریزی ،فرانسیسی،جرمن،ترکی اور عربی تھیں۔ہم بیچارے اُردو فارسی والے کِس گنتی شمار میں؟
سچی بات ہے ابھی تو محل کا بیرونی منظر ہی سامنے تھا جو اپنی خوبصورتی ،اپنی دلآویزی،اپنی تعمیراتی ساخت اور آرائش کے اعتبار سے بے مثل تھا۔اس کا کلاک ٹاور، مرکزی دروازے کی تعمیری زیبائش اور سب سے بڑھ کر پتھر کی طرح بے حس و حرکت کھڑا دربان۔ہمیں تو لگا جیسے کوئی مومی مجسمہ نصب ہو۔ مگر معلوم ہوا تھا کہ جیتا جاگتا گوشت پوست کا انسان ہے۔یہ شو آف ،یہ اظہار یہ عین ممکن ہے ماضی کی کِسی تہذیبی روایت کا اعادہ ہوجسے سیاحوں کو دکھانا اور انہیں مرغوب کرنا مقصود ہو۔مگر مجھے تو انتہائی ظالمانہ لگا۔ماسکو میں بھی ریڈ سکوائر میں میں نے ایسا دیکھا اور افسوس کیاتھا۔


تاہم میں نے افسوس اور ملال پر لعنت بھیجی اور دلربائی سے بوجھل ماحول پر نگاہیں جمائیں۔ہرے بھرے سرسبز لان،پھولوں سے بھرے قطعے ،چمکتی دھوپ،نیلا کچور آسمان اور سیاحوں کی قوس و قزح ۔ ہائے کیسا بھریامیلہ ہے۔ہائے ایسے میلے میرے ملک میں کب سجیں گے؟
اندر داخل ہوکر جلد ہی ہم انگریزی دان ٹولے سے الگ ہوگئے۔ایک خوبصورت عمارت کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر ہم نے وہ نقشے کھولے جو دئیے گئے تھے جن کے مطابق محل تین حصّوں پر مشتمل تھا۔سلامیکselamlik یعنی مردانہ انتظامی حصّہ۔درمیان میں گرینڈ یا تقریباتی ہال اور داہیں ہاتھ حرم تھا۔
معلوم ہوا تھا کہ جس عظیم الشان عمارت کے پوڈوں پر بیٹھے ہیں اور سامنے سرسبز لانوں کو دیکھتے اور اُن میں اُگے بوٹوں پر کھلے سرخ اور بسنتی پھولوں کو تکتے ہیں دراصل سلامیک ہی ہے۔ہم نے حرم دیکھنے کو ترجیح دی کہ توپ کپی کا بھی نہیں دیکھ سکے تھے۔
حرم کی عورتوں کے سیر سپاٹوں کیلئے بگھیوں اور گاڑیوں پر ایک نگاہ بے اعتنائی ڈالتے ہم آگے بڑھنے لگے۔مادرملکہ اور شاہی خواتین کے کمروں کی بہتات پاگل کرنے والی تھی۔نیلے،سبز، سرخ کمرے قیمتی فانوسوں سے جگمگاتے، نقش و نگاری سے مزّین چھتیں، منفرد ساخت کے آتش دان،سنگ مرمر کے فرش،بلوریں آبشاریں،چمکیلے کپڑوں کے پردے ،صوفوں اور کرسیوں کے طلائی بازو۔قیمتی اور شاندار دستی قالین جن کے رنگوں کے دلکش امتزاج اور ماہرانہ بنت توجہ کو فوراً کھینچتی تھی۔ میرے پروردگارنمود نمائش کا ایک جہان تھایہاں۔
توبہ ابھی چند کمرے ہی دیکھے تھے کہ تھکنے لگے۔ اُف یہاں تو سینکڑوں کی بات تھی ایک دوسرے میں گُھسے ہوئے اندر ہی اندر پھیلتے چلے جاتے تھے۔
مارو گولی ۔ایک کمپاونڈمیں اترتی سیڑھیوں پر بیٹھ کر پرس سے حلوے کی ٹکیاں نکالیں۔Nuts نکالے۔کھائے۔ تھوڑا آرام کیا اور سکینڈ فلور کو فتح کرنے چلے۔ دولت کی اتنی بے جا اور فضول نمائش سے کوفت کا احساس رگ و پے میں اترتا تھا۔ ہم نے چند مزیدکمرے دیکھے۔ان کی دیواروں کی پینٹنگز نے کہیں رکنے پر مجبور کیا۔کہیں آگے بڑھ جانے کا کہا۔


تا ہم وہاں تو دیر تک رکنا پڑا تھاجہاں سلطان محمد فاتح کے بحری بیڑے باسفورس میں داخل ہوتے تھے۔تاریخی لمحے قید ہوگئے تھے۔خوبصورت رنگوں اورہنرمندوں کے کمال فن کو چھوتے شاہکار۔
ہمارے لئیے سب سے دلچسپ حصّہ وہ تھا اور اُسے ہم نے دیکھا بھی توجہ اور محبت سے۔ اتاترک کمال پاشا نے اپنے آخری ایام اِس محل میں گزارے تھے۔اُن کے ڈاکٹروں نے انہیں یہاں رہنے پر مجبور کیا تھا۔اُن کا سٹڈی روم بلیو ہال سے ملحق تھا ۔یہ سلطانوں کا بھی سٹدی روم ہی تھا۔خاصا کشادہ اور سجاوٹ میں بھی باذوق۔
جس کمرے میں وفات ہوئی وہ سٹڈی روم کے ساتھ تھا۔اس بیڈ پر ابھی بھی وہ ریشمی کور تھاجس پر ترکی جھنڈے کی طلائی و نقری دھاگوں سے کشیدہ کاری کی گئی ہے۔عثمانی دور میں یہ سلطان کی خوابگاہ تھی۔کمرے کی کھڑکیوں سے باسفورس کی نیلاہٹیں اور افقی کناروں سے پرے ایشیا کے ساحلوں پر بستے اسکدار کے مدھم مدھم نقش ماحول کو کتنا حسین بنارہے تھے۔اس سے بالکل جڑا ہوا پنک ہال تھا۔یہی وہ ہال تھاجہاں سلطان کی والدہ اپنے خاص الخاص مہمانوں کو شرف ملاقات بخشتی تھیں۔یہ کمرہ اتاترک کے زیراستعمال بھی رہا۔آرائش و زیبائش تو چھوڑئیے جو اِس کمرے کی تھی کہ وہ تو ہر جگہ آنکھیں پھاڑتی تھی۔یہاں بہت قیمتی چیز جو دیکھنے کو ملی وہ شہزادی درّشہوار کا پوٹریٹ تھا۔آخری عثمانی سلطان عبدالمجید آفندی کی حسین ترین بیٹی۔کتنی دیر وہاں کھڑے اِسے دیکھتے رہے۔فرانسیسی آرٹسٹ کے شاہکار نے توجہ کھینچی اور اُسے بھی دیکھا جس پر چارلس چپلن کے دستخط تھے۔پر دُرّشہوار کا پوٹریٹ واپسی کیلئے بڑھتے قدموں کو روک کر اپنے پاس کھینچ لاتا تھا۔ہائے کیا چیز تھی یہ ۔سب کمرے ساتھ ساتھ جڑے ہوئے تھے۔
اور اب تھک گئے تھے۔
تقریباتی ہال میں گُھسنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔کوئی بیس بائیس کمرے اور ساتھ میں اُتنی ہی لمبی بالکونیاں اور اُن میں رکھے جھمیلے سبھوں نے مارپٹٹرہ کردیا تھا۔مگر خلقت تھی کہ یہاں اُمنڈی پڑرہی تھی۔
ہم نے پہلے تو بیٹھ کر بچا کچھا بقلاوہ کھایا پھر ہال کو سرسری سا دیکھا ۔ گائیڈشینڈلئیرز کے بارے اپنے سامعین کو بتاتا تھا کہ یہ ملکہ وکٹوریہ دوم کی جانب سے بھیجا گیا تحفہ ہے۔اب جو دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ کیا چیز تھی بھئی ۔وہ جو کہتے ہیں ۔تو بھئی بڑا سچ ہے۔ خانان دے خان پر وہنے ۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور یاد نے چٹکی لی ۔بہت پہلے کا پڑھا ہوا ایک بڑا منفرد سا سفرنامہ یادآیا تھا۔شہزادی میمونہ سلطان کا لکھا ہواجنہوں نے اپنی ہونے والی ساس سلطان جہاں بیگم والئی بھوپال کے ساتھ یورپ سے واپسی پر استنبول میں پڑاؤ کیا اور اسی محل کے اسی کمرے میں سلطان عبدالحمید دوم کے ساتھ ان کی ملاقات اور پھر حرم کے انہی کمروں میں بیگم بھوپال کی سلطانہ یعنی سلطان عبدالحمیددوم کی اہلیہ سلطانہ سے ملاقات کا احوال لکھا۔
وہ بھی کیسا منظر ہوگا۔میں نے اپنی یادداشتوں کو ٹٹولا جب برقعے میں ملبوس بیگم بھوپال چہرے کو نقاب سے ڈھانپے ترکی سلطان کے ہمراہ انکی اہلیہ سلطانہ نازیکدہ آفندی سے ملنے جارہی تھیں۔لمبی لمبی گیلریاں جن میں کھڑے خواجہ سراؤں کی قطاروں کو دیکھتے اور پھر زنانہ حصّے میں خاص الخاص خدّام کی معیت میں حرمیلک میں داخل ہونے کا منظر۔
سلطانہ کی آمد اور سلطان کا بیگم بھوپال کا ان کے حوالے کرتے ہوئے رخصت ہونا۔نقاب کا اُلٹنا اور گرمجوشی سے بھرا معانقہ۔بیگم بھوپال کا انگریزی بولنا اور سکریٹریوں کا ترجمانی کے فرائض سرانجام دینا۔ دولما باشی محل کی سیر اور اس کا احوال ۔اسے جس معصومانہ خوبصورتی سے لکھا گیاہے ۔ اُس کا لطف اور مزے کا صرف پڑھنے سے تعلق تھا۔
باہر نکلنے سے قبل ہم نے اس پر بھرپور نگاہ ڈالتے ہوئے سوچا تھا۔یہ برف جیسا سفید چمکتا دمکتا،آنکھوں کو خیرہ کرتا جس کی پور پور میں عثمانیہ روایتی آرٹ، بارون اور مغربی سٹائل گھلا ہوا ہے۔دراصل تو لندن کے بکنگھم پیلس اور فرانس کے Louvre پیلس کی نقل میں بنا۔
’’ہائے پروردگار یونیورسٹیاں نہ بنائیں۔کیمرج اور آکسفورڈ سامنے تو تھیں۔نقل ہی کرنا تھیں تو ان کی کرتے۔بھلا قوم کو اس طرح تعلیم یافتہ نہ بنایا جیسا کہ وقت کا تقاضا تھا۔
تو یہ اکتیسویں سلطان عبدالمجید نے1843 -1856تیرہ سال کے لمبے عرصے میں بے حد کثیر سرمائے سے بنوایا اورآخری سلاطین تک خزانہ خالی تھا۔معاشی حالت ابتر تھی۔ایسے میں مغربی اقوام کے دانت تیز نہ ہوتے تو اور کیا ہوتا۔کمزور کو کون جینے دیتا ہے۔
دکھ اور کرب کی بڑی لمبی آہ میرے اندر سے نکلی تھی۔رعب دوب اور دبدبے والی ایک عظیم سلطنت کیسے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *