روحی بانو پر افسانہ “کتوں کی دنیا”۔۔۔۔۔ نیلم احمد بشیر

حقیقت کیا ہے؟ وہ جو آنکھ دیکھتی ہے، دماغ سوچتا ہے یا پھر وہ منظر جو ٹی وی سکرین پر دکھائی دیتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔ کسی کو کیا معلوم کہ کونسا درد ایسا ہے جو دِکھتا تو بند ہے مگر درحقیقت کھلا ہوا ہوتا ہے۔ کہاں جا کر شعور کی حد ختم ہوتی ہے اور خواہش کی شروع؟ ہمیں کیا خبر جب قدرت سفاک ہونے پر پہ آتی ہے تو وہ ہمیں پتہ بھی نہیں چلنے دیتی کہ دراصل وہ ہمارے ساتھ رحم دلی کررہی ہوتی ہے۔ ہم کچھ نہیں جانتے۔
ماضی کی مشہور پرانی منجھی، ہوئی ٹی وی اسٹار “بانو” کی کسی ٹی وی پروگرام میں ایک خوبصورت سجے سجائے سیٹ کے صوفے پر بیٹھی میزبان خاتون کے ساتھ زور زور ٹھٹھے لگا رہی تھی، ہنس اور گا رہی تھی، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں حالانکہ ابھی چند ہفتے پہلے ہی اس کی زندگی میں بہت کچھ ہوا تھا۔ اس کی مکمل کائنات ریزہ ریزہ ہوکر فضا میں تحلیل ہوچکی تھی، جس کے بعد لگتا تھا کہ وہ خود بھی فنا ہوجائے گی مگر وہ تو بڑے آرام سے بیٹھی اپنے گزشتہ ایکٹنگ کیریئر اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں گفتگو کررہی تھی جیسے اسے کچھ یاد ہی نہ تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوچکا ہے۔
“ہائے آپی، اس کو دیکھو…… کیسے مزے سے باتیں کیے جارہی ہے۔ شاید اسے پتہ ہی نہ چل سکا کہ قدرت نے اس کے ساتھ کتنا بڑا ہاتھ کیا ہے۔ “میری چھوٹی بہن نے سکرین پہ نظریں جمائے ہوئے حیرت سے کہا۔
“ہاں۔ لگتا تو یہی ہے کہ اس نے خوفناک حادثے کو ذہنی طور پر قبول ہی نہیں کیا بلکہ رد کردیا ہے۔ بعض اوقات انسان کا دماغ یوں بھی کام کرتا ہے کہ آپ کو زندگی میں رونما ہونے والے واقعات اور تلخیوں کو قبول ہی نہیں کرنے دیتا۔ اچھا ہے کہ اس نے بھلا دیا ہے۔”
میں نے ٹھنڈی سانس بھری۔
میں اور میری چھوٹی تو جانتے تھے کہ ابھی چند دن ہفتے پہلے بانو کی آنکھوں کی روشنی، اسکا لاڈلا، اکلوتا بیٹا علی رضا قتل ہوچکا تھا۔ اس کی لاش ان کے اپنے گلی کی جھاڑیوں میں پڑی ملی تھی، مگر اج بانو کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے کہ وہ اس حقیقت سے بے پرواہ اور بے خبر تھی کہ وہ اب اس پوری دنیا میں مکمل طور پر تنہا ہوچکی ہے اور اس کوئی پرسان حال یا جینے کا سہارا نہیں بچا۔
لگتا تھا سسی بے خبر کو شعور ہی نہیں تھا کہ اس کا شہر بھنبھور لوٹا جا چکا ہے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے۔ ایسی حالت میں تو اسے کپڑے پھاڑ، سر میں خاک ڈال کر روتے پیٹتے گلیوں میں بین کرتے نکل جانا چاہیئے تھا مگر اسے یہ سب کرنے کی ضرورت نہ پڑی تھی کیونکہ وہ تو بہت پہلے ہوش وخرد کی دنیا سے بہت دور رہتی تھی۔ اسے حقیقت اور خواب کی دنیا کے بیچ کے پردے کا ادراک ہی نہ رہا تھا کہ شیزو فرینیا کے مریض اپنی ہی تصوراتی دنیا میں جیتے ہیں ان کی اپنی حقیقتیں، خیالی خاندان، دوست اور دشمن ہوتے ہیں اور انہی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
ٹی وی پر انٹریو لینے والی خاتون کہہ رہی تھی “دیکھیے بانو کو…… ہنستی مسکراتی، زندگی کی طرف لوٹتی بانو……، میرے کانوں میں بائیوسکوپ والے کی گھنٹی کی آواز سنائی دینے لگی “بارہ من کی دھوبن دیکھو، اگرہ کا تاج محل دیکھو، بلی کی دھڑ والی لڑکی دیکھو۔” میرا جی چاہا دوڑ کر گلی میں جاؤں اور رنگ برنگے شیشوں والے بائیسکوپ پہ اپنی نظریں گھاڑ دوں…… مگر یہ بائیسکوپ کا تماشا میرے سامنے ہورہا تھا، کچھ کم دلچسپ تو نہ تھا۔ اب بانو کے پرانی ٹی وی ڈراموں کی جھلکیاں دکھائی جارہی تھیں، جن میں بانو دبلی پتلی، صحت مند، جوان، خوبصورت، ترو تازہ، فنکارانہ صلاحیتوں سے مالا مال دکھائی دے رہی تھی اب بانو کیا ہوگئی تھی۔ خاک؟ ملیا میٹ چپکلی کی سی رنگت والی، ایک بجھی ہوئی عورت۔ اپنے دامن میں مہکنے والے واحد پھول کی خوشبو سے ہمیشہ کے لئے جدا، تنہا ،دیوانی بے آسرا؟
میری بہن آسما جسے ہم سب پیار سے چھوٹی کہتے ہیں۔ اکثر بانو کی خبر گیری کے لیے اس کے پاس جاتی اور آکر مجھے اور ہمارے سب گھر والوں کو بتاتی رہتی کہ مایہ ناز اداکادہ آج کس حال میں ہے۔ چھوٹی کو ہمیشہ سے ہی اکیلی، دکھیاری عورتوں کو گود لینے کا شوق رہا ہے۔
وہ اکثر بانو کو گھر لاتی، نہلاتی دھلاتی، کھلاتی پھلاتی، پھر کپڑے لتے سمیت اسے اسکے گھر چھوڑ اتی، کیونکہ بانو کو وہاں سکون ملتا تھا۔ وہ اپنے گھر سے جنون کی حد تک محبت کرتی تھی جہاں صرف وہ اور اس کا کتا رہتے تھے۔ یہ کتا بھی اس کے بیٹے رضا کی نشانی تھا کیونکہ رضا ہی اسے گلی سے اٹھا کر گھر لایا تھا جہاں وہ اسے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے خوراک ڈھونڈتا چیاؤں چیاؤں کرتا ملا تھا۔ رضا اسے کھلاتا پلاتا، باہر لے کر جاتا اور ماں کے پاس اسے اس وقت چھوڑ کر جاتا جب وہ اکیلی ہوتی۔ کتا دونوں ماں بیٹے سے بہت مانوس تھا اور انہی کے ساتھ بستر میں گھس کر سو بھی جایا کرتا تھا۔ ہم دونوں بہنیں سوچنے لگیں” اب کتے کا خیال کون رکھتا ہوگا، بانو کو تو اپنی ہی ہوش نہ تھی۔ کتے کی بھوک کا کیا بنتا ہوگا؟”
چھوٹی تو اب بانو کی مدر ٹریسا بنی تھی مگر میں بانو کو تب سے جانتی تھی جب وہ نئی نئی ڈراموں میں آنا شروع ہوئی تھی۔ ٹی وی کے ابتدائی دن تھے۔ سبھی لوگ ہر شام ڈرامہ دیکھنے کے لیے باقاعدگی سے ٹی وی کے آگے بیٹھا کرتے تھے۔ بانو کے ڈرامے ہم سب کو بہت بھاتے تھے۔ پھر ایک روز میرے کالج کے انگن کے بیچوں بیچ پرانے برگد کے بیچھے کھڑی ایک معصوم لڑکی کو دیکھ کر کسی نے کہا:
ارے یہ وہ لڑکی نہیں جو ڈراموں میں آتی ہے۔” ہم سب سہیلیاں اس کی طرف لپکیں اور اسے حیرت اور و استجاب سے دیکھنے لگیں یوں جیسے کہ وہ کوئی عجوبہ ہو۔ ایک شرملی سادہ کپڑوں میں ملبوس، ہرنی جیسی حیران انکھوں والی معصوم صورت لڑکی، ہاتھ میں دو کتابیں لیے خاموشی سے اکیلے کھڑی تھی۔
آپ بانو ہیں نا؟ حیرت کدہ والی؟ میں نے اسے اشتیاق سے دیکھے ہوئے پوچھا۔
اس نے بغیر مسکرائے سر ہلا دیا اور پھر آگے کو چل دی۔ مجھے لگا یہ لڑکی جیسے کسی اور سیارے کی مخلوق ہے۔ اس دھرتی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ شاید بھولی بھٹکی پرانی روح جو کسی کی متلاشی ہے مگر کس کی، یہ خود اسے خبر نہیں۔
میری اس سے دوستی ہوگئی مگر وہ زیادہ بات چیت نہ کرتی تھی۔ ذہین بہت تھی، کلاس میں پوچھے گئے ہر سوال کا جواب سے اتا تھا۔ میں چونکہ خود بہت لائق تھی۔ لہذا وہ مجھے اچھی لگنے لگی کہ ذہین لوگ ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں۔ ایک دفعہ وہ کئی روز کالج نہیں آئی تو میں نے اس سے پوچھا:
کہاں غائب تھیں بانو پری۔” میں اسے پیار سے بانو پری کہا کرتی تھی۔
“بیمار تھی۔ بخار ہوگیا تھا۔” اس نے ہلکی مسکراہٹ سے جواب دیا۔
“کیوں کیا ہوا؟”
“رات بارش میں بھیگی رہی نا تو بس صبح بخار ہوگیا تھا۔” اس نے نیچھی نظریں اوپر نہ اٹھائیں”
“رات بھر کیوں! باہر تھی کیا؟
“ہاں۔ وہ شوٹنگ سے آئی تھی نا تو بارش ہورہی تھی۔
امی نے اندر سے ہی پوچھا۔ چیک لائی ہو۔ میں نے کہا نہیں، وہ پروڈیوسر نے کہا اگلے ہفتے۔ میں نے بہت مانگا پر وہ نہ مانا۔ امی کو غصہ اگیا۔ پھر انہوں نے دروازہ ہی نہ کھولا۔”
میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی چلی گئی۔
“تم نے کہا نہیں کہ کھولیں امی؟ میں نے جلدی سے پوچھا۔
“بہت کہا۔ گڑگڑائی، رات بھر سردی میں بارش میں بھیگتی رہی۔ مگر انہوں نے صبح ہونے پر ہی دروازہ کھولا تو اندر گئی۔ بس پھر بخار چڑھ گیا۔”
وہ آرام سے یوں بولے جارہی تھی جسے کوئی ڈرامے کا سین سنا رہی ہو اور اس سین سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ میری آنکھوں میں آنسوؤں ڈبڈبانے لگے مگر وہ کتابیں اٹھا کر کلاس روم کی طرف جا چکی تھی۔
پھر کالج لائف ختم ہوگئی اور ہمارا آپس میں رابطہ بھی۔ ہم دونوں اپنی اپنی ڈگر پر چل نکلیں۔ میں سنتی رہی کہ بانو کامیابیوں کی منازل طے کرتے ہوئے بڑی ادکارہ بن چکی ہے۔ اس کی دو شادیاں ناکام بھی ہوچکی تھیں۔ مگر اس کی ماں نے بیٹے علی رضا کی پیدائش کے بعد اس کے باپ سے بانو اور رضا کے لیے گھر ضرور لکھوایا جس کے بعد سے وہ لوگ ہمیشہ اس میں ہی رہتے چلے آرہے تھے۔
بانو کو اب اسی گھر میں رہتے ہوئے قریباً تیس سال ہوچکے تھے۔ گلبرک کے اس گھر میں بانو کی جان تھی۔ ذہنی مریضہ بن جانے کے باوجود وہ اپنے گھر کو ہی جانے اپنی جائے آماں سمجھنی تھی اور کسی صورت کہیں اور رہنے کو تیار نہیں ہوتی۔ پے درپے محرومیوں اور مشکلات نے اس کا ذہن الٹ کردیا اور وہ ہوش اور خرد کی دنیا سے بہت دور چلی گئی تھی۔ پھر چھوٹی نے یکدم اس کے ساتھ پیار محبت، دوستی کا تعلق پیدا کرلیا اور باقاعدگی سے اس کی خیر خبر لینے جانے لگی۔ بانو کو کئی بار ذہنی امراض کے ادارے والے اکر لے بھی جاتے رہے۔ اسے داخل بھی کیا جاتا رہا مگر وہ ہر بار وہاں سے رسیاں تڑوا کر بھاگ آتی اور اپنے وحشت کدے میں ہی قرار پاتی۔
آہستہ آہستہ ہم سب گھر والے اس کی ذات، اس کے دکھ، اس کے مسائل میں انوالو ہوتے جارہے تھے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے دیکھ بال میں دلچسپی لیتے اور پھر گھبرا کر رہ جاتے کہ یہ اکیلی زات زندگی کو کیسے برتے گی، کیسے زندہ رہ سکے گی۔ کیا ہوگا اسکا؟ میں ذرا دانستہ طور پر اس کی زندگی سے دور رہتی کیونکہ مجھے ڈر لگتا تھا کہ کوئی بھی انسان اس جیسے انجام کو پہنچ سکتا ہے۔ وہ مجھے اپنا آئینہ لگتی اور میں اس ائینے میں اپنا چہرہ دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
اتنی بڑی اور مانی ہوئی مشہور اداکارہ زمانے کے سانٹے کھا کر معدوم ہوسکتی ہے تو میں کیا چیز تھی؟ ایک ذرہ……! ایک ہی ٹوکر سے ریزہ ریزہ ہونے والی کمتر زات…… ویسے بانو مکمل طور پر اکیلی بھی نہ تھی، اس کی ماں اگ میں جل کر ختم ہوچکی تھی مگر ایک بہن ضرور تھی جو نعت خوانی اور مجالس میں مذہبی کلام پڑھ کر اچھے پیسے کما لیتی تھی مگر اپنے شوہر، بچوں میں اتنی مصروف تھی کہ اسے ذہنی مریضہ بہن کا خیال رکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا۔
جب چھوٹی نے بانو کے بیٹے کے قتل کا بتایا تو میرا دل پارہ پارہ ہوگیا۔ سوچا دو دن سے مردار گھر میں بند پڑی ہوگی۔ کچھ کھانے کو نہ ہوگا۔ کیوں نہ اس سے افسوس کروں اور کچھ کھانے کو دے آؤں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے گاڑی اس کے گلی میں موڑ دی۔ گلبرک کے اس پوش علاقے میں اب رونقیں ہی رونقیں لگی ہوتی ہیں۔ گلی کے آغاز پر ایک جدید کافی شاپ کھل جانے کی وجہ سے آمراء کی لڑکے لڑکیاں وہاں باقاعدگی سے آتے جاتے ہیں اور آپس میں میل ملاقات کرتے ہیں۔ ایک ہزار کی کافی کا کپ ان کی جیب پر گراں نہیں گزرتا کیونکہ ان میں سے اکثر کے باپوں نے پاکستان کی لوٹ کھسوٹ اور کرپشن میں خوب مال بنایا ہوا ہے جسے ان کے بچے سہولت اقر بے دردی سے خرچتے ہیں تو ان کے باپوں کو تکلیف نہیں بلکہ عین راحت نصیب ہوتی ہے۔
بانو کی بھوک کا آتے ہی میں نے بھی گاڑی کافی شاپ کے باہر روک دی اور اندر جاکر تازہ مزیدار سینڈوچز، کیک اور کافی پیک کروا کر بیگ بھر لیا۔ میں کچھ ہی دیر میں بانو کے گھر پہنچ چکی تھی۔ میں نے گاڑی پارک کردی اور پھر متعدد بار بیل بجائی مگر کوئی کھولنے نہیں آیا۔ ساتھ والے گھر کا ملازم لڑکا باہر نکلا اور بڑے آرام سے بولا “بی بی اوپر کے منزل پر ہوگی، مجھے ابھی نظر آئی تھی۔”
“ہائے اس کا کیا حال ہے؟” میں ملازم سے پوچھنے لگی۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اس دکھیاری ماں کی کسی طرح مدد کروں۔ کچھ کروں اس کے لیے۔
“پتہ نہیں باجی۔ ہم تو انہیں نہیں پوچھتے۔ بیل بجاؤ تو وہ ڈنڈا یا جھاڑو لے کر مارنے آجاتی ہیں اور کپڑے بھی نہیں پہنتے ہوتے۔” ملازم زیر لب مسکرایا۔ مجھے تھوڑا سا غصہ ایا مگر میں برداشت کرگئی۔ میں نے بیل بجائی تو اوپر چھت سے ایک سفید والوں والا سر نمودار ہوا۔
“کون ہے؟” بانو نے نحیف آواز میں پکارا اور نیچھے جھانکا۔
“بانو میں آئی ہوں۔ چھوٹی کی آپا…… کچھ کھانے کو لائی ہوں تمہارے لیے۔ “میں نے اسے بتایا تو وہ نیچھے آنے کے لیے سیڑھیاں اترتے دکھائی دی۔ چند لمحوں کی تاخیر کے بعد دروازہ کھل گیا۔ بانو میرے سامنے کھڑی تھی۔ میلے بے ترتیب کپڑے، الجھے ہوئے بے رنگ بال، ہونق چہرہ، ویران آنکھیں۔ اسے دیکھتے ہی میرے اندر جذبات کا ایک شدید طوفان اٹھا اور میں نے بے اختیار بانو کو گلے لگانا چاہا۔ مجھے اپنی طرف اگے بڑھتے دیکھ کر وہ چیغی، “کیا کررہی ہے آپ؟ میرے اوپر چڑھتی چلی جارہی ہیں۔ پیچھے ہٹ کے کھڑی ہوں۔”
میں پل بھر کو چونکی اور سبکی کی وجہ سے پیچھے ہوگئی۔ پھر سوچا یہ پگلی تو جانتی ہی نہیں ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوچکا ہے۔ اس کے کسی بھی بات کا کیا برا منانا۔ سو پھر اسے مخاطب کیا۔
“بانو…… رضا کے حادثے کے بعد تم دو دن سے گھر میں بند ہو۔ بھوک تو لگی ہوگی۔ میں تمہارے لیے یہ کھانا لائی ہوں۔” میں نے پلاسٹک کے بیگ میں نفاست سے
پیک شدہ فائیو سٹار ہوٹلوں جیسا کھانے کا سامان اس کے آگے لہرایا ہی تھا کہ یکدم نہ جانے کہاں سے وہ لمبا چوڑا ہانپتا کانپتا، رالیں ٹپکاتا ہوا کتا آیا’ بیگ مجھ سے چھینا اور بھاگ گیا۔ میں حیران پریشان رہ گئی۔
بانو…… یہ کھانا تو میں خاص اپ کے لیے لائی تھی۔” میں نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔
“یہ دنیا کتوں کی دنیا ہے اور کتوں کو زیادہ بھوک لگتی ہے۔ یہ رضا کا دوست ہے…… اس سے بچھڑ کر بہت بھوکا ہوگا…… رضا ہی تو اسے کھانا پلاتا تھا۔” وہ میکانکی انداز میں بولتی چلی گئی۔ اسے اپنے پھر سے بھوکے رہ جانے کا قطعا احساس ہوتا نظر نہ آتا تھا۔
یکدم ایک گاڑی گیٹ پر اکر رکی اور اس میں سے ایک خوش لباس، صحت مند خاتون باہر نکلی جس کے ہاتھ میں تھاما موبائل فون، اس کی انگلیوں میں سجے ہیرے کی انگوٹیوں کے رنگ سے میچ کررہا تھا۔
“بانو یہاں کیوں کھڑی ہے چل اندر اس نے آتے ہی بانو کو غصے سے ڈانٹا۔
“آپ کون ہیں؟ میں پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔
“اسکی بہن ہوں نجیبہ۔ دیکھنے آئی ہوں کہ گھر میں بھی ہے یا سڑکوں پر ماری پھر رہی ہے۔” اس نے بڑی بے زاری سے کہا۔
بہن…… میں نے دل میں سوچا۔ کیسی بہن ہے؟ جس کی پگلی بہن کی آنکھوں کا نور، اس کے جینے کا واحد سہارا اس سے چھین لیا گیا ہو۔ اس کے لیے اتنا سخت لہجہ اور کٹور پن؟ کم از کم اس کے کھانے کے لیے کچھ لے آتی۔ کوئی روٹی سالن، چائے کا سامان، پانی کی بوتل، مگر وہ تو خالی ہاتھ آئی تھی اور بانو کو ڈانٹ ڈپٹ کررہی تھی۔ عجیب بہن ہے۔ میں نے یہ بھی سنا تھا کہ بانو کا ایک بھائی انڈیا کا بہت بڑا طبلہ نواز ہے’ لیکن بانو اب کسی گنتی یا کھاتے میں ہی نہیں رہی تھی۔ اسے کون جانتا ہے۔
“یہ بھوکی ہوگی۔” میں کہے بغیر نہ رہ سکی اور اس کی بہن کی طرف بغور دیکھا۔
“ہم کیا کریں۔ بڑا تنگ کیا ہوا ہے اس نے۔ ابھی میں نے اور میاں نے تھانے سے رضا کی لاش چھڑانی ہے۔ اسے قبر میں اتارنا ہے۔ سو کام ہیں، کھپ گئے ہم تو اس کے بکھیڑوں میں۔”
“وہ میری چھوٹی بہن نے بتایا کہ اس گھر میں گیس چھوٹی ہوئی ہے شاید پائپ لیک کررہا ہے۔ یہ کسی دن گیس سے……” میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
“میں کیا کرسکتی ہوں۔ فاونٹین ھاوس داخل کرواؤ تو بھاگ آتی ہے۔ میرے اپنے بچے ہیں۔ میرا کام ہے۔ میں اس کا خیال کیسے رکھ سکتی ہوں کسی کی سنتی تو ہے نہیں۔” بہن جنھجلا کر بولی۔ “یہ لو کاغز سائن کر۔ تھانے والے تیرے سائن کے بغیر لاش نہیں دیں گے۔” اس نے ایک چھپا ہوا کاغز اگے بڑھایا اور پین سے بانو نے دستخط کروالیے۔
بانو بالکل چپ کھڑی اس کا حکم بجا لاتی رہی۔ یوں جیسے وہ انسان یا ماں نہیں کوئی بے جان کاٹھ کا پتلا ہو جس میں نہ جذبات ہوتے ہیں نہ احساسات۔ جو بس آگ میں جل کر خاک ہونا جانتا ہو اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
میں بانو کے پیچھے پیچھے اس گھر میں داخل ہوگئی۔ کتا لان کے ایک کونے میں سینڈوچ اور کیک اڑا رہا تھا۔ اپنی بدنصیب مالکن کے پیٹ اور دل کے خالی رہ جانے کا اسے کوئی احساس نہ تھا۔
بانو حیرت کدہ ڈراموں میں کام کرتی رہی تھی مگر میں جس گھر میں قدم رکھ رہی تھی، وہی اصل حیرت کدہ تھا۔ چاروں طرف کسی آسیب کا سایہ چھایا محسوس ہوتا تھا۔ یکدم مجھے احساس ہوا جب کسی جگہ سے سب لوگ چلے جاتے ہیں تو لو دینے والے دیئے بھی بجھ جاتے ہیں۔ سورج سر نیہوھڑانے سوچتا ہے…… کیا اب پنچھی بھی اڑ جائیں گے اور پنچی تو اڑ ہی جاتے ہیں۔
اس گھر میں شاید دن کبھی نکلتا ہی نہ تھا۔ اندھیرے تھے اور گیس کی بدبو…… میں نے حیران ہوکر سوچا۔ یہ عورت کتنی ڈھٹائی سے زندگی بسر کیے جارہی ہے۔ ٹوٹتی ہی نہیں۔ زندگی اس کے ساتھ دشمنی کیے چلی جارہی ہے۔ اور یہ کہ ہتھیار پھینکنے کو تیار ہی نہیں۔ جیئے چلے جارہی ہے۔
“بانو…… میں گیس کا وال بند کردوں؟ میں نے ڈرتے ڈرتے گیس کی پائپ کی طرف قدم تو وہ چھیل کی طرح مجھ پر چھپٹی “خبردار جو میرے کسی چیز کو ہاتھ لگایا۔” وہ یوں چیغی جیسے میں نے اس کے راج محل کے کسی دیوار سے سونے کی اینٹ کھسکانے کا ارادہ کیا ہو۔ میں خاموشی سے پیچھے ہوگئی اور اس کے وحشت زدہ گھر کے دیواروں کا جائزہ لینے لگی۔
سارا گھر ٹوٹے پھوٹے سامان، لکڑی کے ٹکڑوں، پرانے کپڑوں، پھٹے ہوئے گدوں اور گند بلا سے اٹا ہوا تھا۔ کتے کی غلاظت، کاکروچوں، چوہوں کے مردہ جسموں کے ڈھانچے، فرش سے چپک کر اسی کا حصہ بنتے بن چکے تھے۔ ایک کمرت کا دروازہ جل کر سیاہ ہوگیا تھا۔
“بانو یہ کیا ہوا۔ میں نے اس کی طرف اشارہ کرکے پوچھا۔
“آگ لگ گئی تھی۔” اس نے بڑے سکون سے جواب دیا اور بیٹے رضا کی بڑی سی فریم شدہ تصویر گود میں لے کر ہولے ہولے گانے لگی۔
“جانا تھا ہم سے دور بہانے بنا لیے…… کیوں اتنی دور ٹھکانے بنا لیے……”
کس قدر سریلی آواز تھی۔ میں سن کر کانپ گئی اور میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے مگر بانو بے خبری سے گاتی چل گئی۔ پھر اپنے سوراخوں والے میلے، بدبودار بستر پر دراز ہوکر اس نے دوسرا گانا شروع کردیا۔
زندگی تماشہ بنی…… دنیا دا ہاسا بنی…… کدی وی پیار نہ ملیا……”
کون کہتا ہے یہ عورت پاگل ہے۔ اسے حقیقتوں کی سمجھ نہیں۔ میرا دل روئے چلا جارہا تھا۔ بانو کا دل اتنا چھلا ہوا تھا…… میں اسے پیار کرکے تھپکانا چاہتی تھی مگر وہ تو اس وقت اپنے بیٹے رضا کے ساتھ تھی، میں نے اس کے اور اس کے بیٹے کے تعلق کے بیچ مخل ہونا مناسب نہ سمجھا اور اٹھ کر اس حیرت کدے کے دوسرے کمروں کا جائزہ لینے لگی۔ سیلاب بھلا کس کے گھر آپہنچا تھا۔ آج معلوم ہوگیا۔
بیٹھک کی دیوار پر لگے پرانے سے بد وضع آئینے پہ کسی بجھتی ہوئی شمع کی لو سے لکھا “نسخہ ہائے وفا” میرا منہ چڑا رہا تھا۔ ایک پلنگ الٹا کھڑا تھا اس کے ارد گرد ردی، وی سی ار کی ٹیپوں کے کالے کالے فیتے یوں لپٹے ہوئے تھے جیسے انہوں نے اس پلنگ پہ لیٹے کسی خیالی پیکر کو جگڑ رکھا ہو۔
“بانو یہ ٹیپیں”؟ میں نے ڈرتے ہوئے پوچھ لیا۔
“میرے ڈراموں کے ہیں۔ دیکھیں تو سہی میں نے کتنے زیادہ ڈرامے کیے ہیں۔ اس طرح سے میرا کام میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔” وہ ہنس ہنس کر فخریہ انداز میں بولتی چلی گئی۔ نہ جانے ایسا کیوں ہوتا ہے مگر ہوتا ہے۔ تخلیقی زہن رکھنے والے اکثر ذہنی خلفشار کا شکار ہوجاتے ہیں۔
مجھے ماضی کی مشہور اور کامیاب ہندوستانی ادکارہ پروین بابی یاد آنے لگی کو شیزوفینیا جیسے الجھاو دینے والے مرض کا شکار ہوکر گوشہ نشین ہوگئی تھی۔ اس نے بھی اپنے آپ کو فلیٹ میں تنہا مقید کردیا تھا اور دنیا سے کوئی واسطہ نہیں رکھتی تھی۔
پھر امریکی ادکارہ مارلن منرو کے عروج اور زوال کی کہانی کون واقف نہیں۔ مارلن کو ایک بار ذہنی امراض کے اسپتال میں بھی داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ نورما جینز (Norma Jeans) (جو کہ اصلی نام تھا) بن کر وقت گزارتی رہی۔ اس کا بھی اپنے ماں باپ سے کوئی نفسیاتی مسلہ تھا جس نے اسے ذہنی طور پر کمزور اور ہمہ وقت بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ایسی خواتین اکثر محبت میں ناکام رہتی ہیں اور کئی ناخوشگوار تجربے کرتی چلی جاتی ہیں۔
ایک دن چھوٹی کو کسی چینل والوں کو فون آیا۔ وہ بانو کو اپنے گرینڈ ایوارڈ فنکشن میں بلانا چایتے تھے مگر انہیں پتہ تھا کہ وہ اکیلی آنے کے قابل نہیں ہے، لہذا انہوں نے مجھے بھی مدعو کیا جس کے لیے وہ لاہور سے کراچی کا ہوائی ٹکٹ دینے کو بھی تیار تھے۔
میں شش وپنج میں پڑ گئی۔ بانو گو مجھ سے مانوس تھی مگر ذہنی طور پر ہرگز اس قابل نہ تھی کہ اسے دوارے شہر کا سفر کروایا جاتا۔ ٹی وی چینل والوں کو ریٹنگ درکار تھیں۔ لہذا ان کے فون پر فون آنے لگے۔ بانو سن کر مچل اٹھی کہ اسے کراچی بلایا جارہا ہے تو اس کا اشتیاق دیکھ کر میں بھی سوچ میں پڑ گئی۔
“میں ضرور جاؤں گی۔ کراچی میری امی کا شہر ہے۔ ہمارا وہاں فلیٹ بھی ہوا کرتا تھا۔ اسی میں امی جل کر مر گئی تھیں۔ پھر وہ فلیٹ نجیبہ نے لے لیا۔” بانو اپنی رو میں خاندانی رازوں سے پردہ اٹھاتی چلی جارہی تھی۔ اس دم مجھے وہ مکمل طور پر ٹھیک اور سمجھ دار لگی۔ یوں جیسے اس نے جہان دیوانگی میں قدم نہ رکھا ہو۔ کیا دیوانگی اور فزانگی کی سرحدیں اتنی قریب قریب ہوتی ہیں۔ یہ دیکھ کر حیرت ہورہی تھی۔ میرا دل بھی پسیج گیا۔ سوچا بے چاری جھلی اگر چند لمحوں کے لیے اگر بہل جائے، خوش ہوجائے تو میرا کیا جائے گا۔ میں نے اس کے ساتھ کراچی جانے کی حامی بھرلی۔
فنکشن میں شامل ہونے کے لیے بانو کے پاس نہ ڈھنگ کے کپڑے تھے، نہ سوٹ کیس۔ وہ میلے کچیلے، پھٹے پرانے چند جوڑے ایک ٹوٹے ہوئے بکسے میں ڈال کر ائیر پورٹ جانے کے لیے تیار بیٹھی تھی۔ ہفتوں یا شاید مہینوں سے نہ نہائی ماضی کی عظیم ادکارہ اپنے مردہ چپکلی کے رنگ والے سرخ چہرے پر لپ سٹک لگا کر شان بے نیازی سے ایک کالا بیوٹی بکس ہاتھ میں تھامے بُت بنی خلاؤں میں نہ جانے کیا دیکھے جارہی ہے۔
مجھے گلزار کی فلم Sunset Boulevard یاد آگئی جس میں اس نے ماضی کی عظیم اداکارہ نادرہ کی کہانی دکھائی تھی جو ایام گزشتہ کے ختم ہوجانے کے بعد خود کو حسین، جوان، مقبول اداکارہ سجھنے پر اصرار کرتی تھی مگر حقیقتیں اسے سانپ کی طرح ڈستی رہتی تھیں۔
اف یہ پرانی اداکارائیں…… میرا دل تلخی کے ایام کی بے درد کھٹنائیوں کے احساس سے بھر آیا۔ کامیابی کتنی بڑی عذاب ہوتی ہے۔
اپنے پاس سے کچھ کپڑے اور ایک بہتر سوٹ کیس دے کر اسے ائیرپورٹ روانہ ہوگئی۔
جہاز میں اس نے وہ بدنما پرانا بیوٹی بکس اپنے قریب رکھ لیا اور پھر فلائیٹ شروع ہوتے ہی اسے کھول لیا۔ اس میں ٹوٹے پھوٹے آئینوں اور میک اپ کا سامان کے علاوہ کسی سیپارے کے بوسیدہ پھٹے ہوئے اوراق بھی تھے جسے اس نے ہاتھ میں تھام کر اونچی اونچی آواز میں پڑھنا شروع کردیا۔ مسافر اسے پہچان کر آپس میں چہ مگوئیاں کرنے لگے۔ تلاوت کے یکدم بعد اس نے گرد آلود کالے بیوٹی بکس کو اٹھایا اور زور زور سے جھاڑنا شروع کردیا تو جہاز میں دھول پھیلنے لگی۔ میں نے گھبرا کر اسے روکنا چاہا مگر وہ اس وقت کسی اور دنیا میں پہنچی ہوئی تھی۔ “کالی کتی” کہہ کر اس نے باکس کو پاؤں میں پھینک کر کچلنا اور ٹوکریں مارنا شروع کردیا۔
جہاز کے سفر کے دوران وہ گندی فحش گالیاں بکتی رہی۔ نہ جانے اس کے سامنے کون تھا جو اسے اتنا ستا رہا تھا۔ رات ہوتے ہی اس نے کھڑکی پر سے شٹر اٹھا دیا۔ باہر آسمان پر چاند چمک رہا تھا۔ بانو نے اپنے بیٹے رضا کی تصویر کھانے والی میز پر سجا لی اور چاند سے یوں باتیں کرنے لگی جیسے وہ رضا ہو۔ اس کا پاگل منوا اور دیوانہ زہن نہ جانے اس کے ساتھ ساتھ کیا کیا کھلواڑ کرتے جارہے تھے۔ بار بار ائیر ہوسٹس سے بدتمیزی کرکے، وہ اسے آرڈر پہ آرڈر دیئے جارہی تھی۔
ایوارڈ کے فنکشن میں اتنا مجمع دیکھ کر بانو جھوم اٹھی اور بیچ میدان اٹھ کر ناچنے لگی۔ بار بار کہتی……… “چینل والوں نے میرے بیٹے کو کتنا اچھا خراج پیش کیا ہے۔ میرا بیٹا اسی کا مستحق تھا۔”
ہم دونوں بہنیں اکثر اسے گلبرک کی سڑکوں پر اکیلی بھٹکتے، اپنے بیٹے کے کپڑے پہنے چلتے پھرتے دیکھتیں تو ہمارا دل پارہ پارہ ہوجاتا۔ بانو نے چھوٹی کو ایک دفعہ یہ بھی بتایا کہ کئی مطلب پرست دو وقت کی روٹی کا لالچ دے کر کبھی کھبار اسے ساتھ بھی لے جاتے ہیں یا پھر کھانا لے کر اسی کے ہی گھر چلے اجاتے ہیں۔ یہ سن کر چھوٹی بانو پر ناراض ہوئی۔ اسے ڈانٹا سمجھایا، مگر اسے کچھ سمجھ نہ آتی تھی۔ کھانا کھانے کی خواہش کا اظہار کرتی رہتی یا پھر رضا کی باتیں سنانے بیٹھ جاتی۔ اب وہ بہت دبلی ہوچکی تھی یوں جیسے کوئی کم عمر لڑکی ہو۔ بھوک اور تنہائی کا مہیب دیو اسے دھیرے دھیرے نکلتا جارہا تھا۔
“آپی اس کا کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ میں تو حیران ہوں کہ یہ زندہ کیسے رہ لیتی ہے؟” ایک روز چھوٹی آنکھوں میں آنسو بھر کے بولی “اسے سردیوں میں سردی اور گرمیوں میں گرمی تو لگتی ہوگی۔ لوڈ شیڈنگ کے وقت اندھیرے سے بھی خوف کھاتی ہوگی۔ ڈینگی کا مچھر کاٹ سکتا ہے۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔” چھوٹی فکر مندی سے بولی۔
“کتنا اچھا ہو یہ مر ہی جائے کاش۔ اسے ڈینگی کا مچھر ہی کاٹ لے۔” میں نے دھیرے سے کہا۔ قدرت جب سفاک ہوتی ہے تو دراصل کا مظاہرہ کررہی ہوتی ہے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ یاد آیا پروین بابی بھی تو ایک روز اکیلی فلیٹ میں دم توڑ گئی تھی۔ کئی دن تک اس کی موت کا کسی کو علم تک ہی نہ ہوسکا تھا۔
“آپی یہ مرگئی تو کئی روز تک تو کسی کو اس کا پتہ ہی نہیں چلے گا۔” چھوٹی ترپ کر بولی۔ ہم دونوں خاموش ہوگئیں۔
“اور اس کے کتے کا کیا ہوگا! اسے کھانا کون دے گا؟” چھوٹی نے سوال کرکے مجھے لاجواب کردیا۔
شاعر افتخار نسیم کی ایک نظم یاد آنے لگی جس کے آغاز میں اس نے اپنی پالتو بلیوں سے محبت کے بارے میں بتایا تھا اور کہا تھا کہ اسے فکر رہتی ہے کہ اس کی موت کے بعد انہیں کھانا کون دے گا۔
بانو بھوکی پیاسی کب تک زندہ رہ سکے گی؟ “ہم دونوں سر جوڑے سوچتی رہتیں۔
“مگر آپی مجھے تو بانو سے زیادہ اس کتے کا خیال آتا ہے بلکہ سوچ کر ڈر لگتا ہے۔” چھوٹی سہم کر بولی۔” اگر بانو کا کھانا نہ ملا تو وہ مر بھی سکتی ہے۔”
افتخار نسیم نے اپنی نظم کے آخر میں لکھا تھا کہ اسے پھر بھی تسلی ہے اگر وہ اپنے فلیٹ میں تنہا مرگیا تو اس کی بلیوں کے لیے کوئی انتظام تو ہوجائے گا۔ وہ اس کے رستے ہوئے نلکے سے پیاس بجھا لیں گی اور اپنے مالک کے مردہ جسم سے خوراک حاصل کرلیں گی۔ میں نظم میں کھوئی ہوئی تھی کہ یکدم چھوٹی کی آواز سے چونک گئی۔
“آپی اگر ایک دن کتے کو شدید بھوک لگی اور باہر سے کچھ کھانے کو نہ ملا تو؟ ”
“اور یہ صوفے پر لیٹی ہوئی نیم جان چپکلی؟ “میری بات نے میرے لبوں پر دم توڑ دیا…… میں اپنی بات کو مکمل کرنے کی خود میں سکت نہ پا رہی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”روحی بانو پر افسانہ “کتوں کی دنیا”۔۔۔۔۔ نیلم احمد بشیر

  1. کتوں کو بھوک بہت لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔ کتوں کی دنیا ہے یہ ۔۔ واہ ۔۔
    نیلم احمد بشیر نے روحی بانو پر ہی نہیں ہر اس دل کی تصویر کشی کر دی ہے جو درد دبائے نہ جانے کیسے کیسے جینے کا ڈھنگ کرتا رہتا ہے ۔

  2. مجھے یہ سب پڑھ کر نہ جانے کیوں اچنبھا نہیں ہوا. روحی بانو کے بارے جو تھوڑی بہت معلومات تھیں اس کے مطابق ہی اس کی زندگی گزری. صرف ایک بات حیرت والی تھی. کہ وہ عورت کتنی ضدی طبیعت کی مالک تھی.. کہ اتنا عرصہ زبردستی جیتی رہی. زبردستی 😭

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *