کتاب کے پس منظر میں پہلے مصنف ہوتا ہے ۔ لہذا کتاب پر تبصرہ اور تعارف سے پہلے مصنف کا تعارف ضروری ہے اور اس کا حق ۔ مصنف رشی خان خود ہی صفحہ 15 پر اپنا تعارف کراتے ہوئے← مزید پڑھیے
انتظار حسین کا نام اور کام دونوں قابلِ قدر اور قابلِ تعریف ہیں۔نام میں انتظار ہے،انتظار جو اذیتوں اور مصائب کی انتہا کا نام ہے جبکہ حُسین وقت کے یزیدوں کے سامنے سینہ سپر ہونے اور حق کا عَلم بلند← مزید پڑھیے
جذبات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کا بہترین ذریعہ قلمی اظہار ہے۔ جس کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب انسان کسی بات کا دل کی خوردبین سے مشاہدہ کرتا ہے ۔ شعر و سخن سے شغف رکھنے← مزید پڑھیے
اٹلی میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے ۔ آزاد– زبردستی کی شادی کو نہ ۔۔ جو ایک اطالوی صحافی مارتینا کاستیلیانی نے لکھی ہے ۔ویسے تو یہ کتاب اٹلی میں موجود ان غیر ملکی بچیوں پر← مزید پڑھیے
شاعری ایک تخفیفی (Reductionist) عمل ہے کہ اس میں ہر لفظ ایک نشان (sign) کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور کم سے کم الفاظ میں پوری بات کہنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کسی شعر میں موجود ہر← مزید پڑھیے
جب ثمینہ تبسم نے مجھے اپنی کتاب”پرچم تلے”پڑھنے کو دی تو اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں اسے ایک ماہرِ نفسیات کے طور پر پڑھوں اور اس کے بارے میں اپنی رائے لکھوں۔ کتاب پڑھ کر میں نے یہ← مزید پڑھیے
بڑے دن کی شام سے ایک رات پہلے اپنے بستر پر نیم دراز صوفیہ لورین کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔برسوں پرانی نسل در نسل خدمتگار نے کافی کی پیالی میز پر رکھتے ہوۓ مادام صوفیہ کو شب بخیر← مزید پڑھیے
میرے ادراک میں شعروسخن اذہان و قلوب کو سیراب کرنے والی وہ مشق ہے جسے جتنا زیادہ دل جمعی ،محسوسات اور جذبات کی قوّت سے معمور ہو کر بیان کِیا جائے اِس کا وصف و وزن اُسی قدر بڑھتا چلا← مزید پڑھیے
اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ایک پرتشدد مخلوق ہے۔ گھریلو تشدد سے لے کر بڑے پیمانے پر عالمی جنگیں، یوں لگتا ہے جیسے جارحیت ایک بنیادی انسانی رویہ ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پرتشدد رویہ ہماری جبلت← مزید پڑھیے
سکول کی ابتدائی جماعتوں میں ایک روپیہ پاکٹ منی ملتی تھی۔ خوب صورت نوٹ تھا۔ پِنک کلر کی کشمیری چاۓ سے ملتا جلتا۔ اپنی خاکی نیکر یا پینٹ جو بھی موسم کی مناسبت سے پہنی ہوتی اس کی دائیں طرف← مزید پڑھیے
ابن الحسن عباسی صاحب کے نام سے کون واقف نہیں۔ شباب کی سرمستیوں سے لے کر زندگی کی آخری گھڑی تک قرطاس و قلم سے محبت وعشق کا سلسلہ جاری رکھا۔ علم و دانش کے جویا,زبان و ادب کے رسیا، مطالعہ← مزید پڑھیے
سیالکوٹ شہر کی تاریخ پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ اس شہر کی بنیاد راجہ سل نے دریائے راوی اور چناب کے درمیانی علاقے میں رکھی تھی تاکہ اس علاقے کا نظم و نسق بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے۔← مزید پڑھیے
افسانوں پر بات ہو،ناول زیر بحث ہو،تنقید جیسی مشکل اور خشک صنف ہو، شاعری میں کلاسیکل شاعر کی چنیدہ شاعری کا انتخاب ہو،غیر ملکی ادب پر اظہار خیال کرنا ہو۔ حمید شاہد نے ہر صنف میں اپنی انفرادیت ہی پیدا← مزید پڑھیے
رئیس امروہوی صاحب کی کتاب کا مطالعہ کررہا تھا۔ آج کل ٹریفک حادثہ کی وجہ سے صاحبِ فراش ہوں ۔ مطالعہ میں وقت گزر رہا ہے۔ رئیس امروہوی صاحب نے اپنے پاس آنے والے خطوط کو کاتب کا نام چھپا← مزید پڑھیے
ہندو مذہب کی کتاب بھگود گیتا (Bhagavad Gita) میں ایک سین ہے جس میں مہابھارت (Mahabharata) کے میدان میں شہزادہ ارجن (Arjuna) اپنے سپاہیوں کے ہمراہ کھڑا ہے، سامنے موجود مخالف گروپ پر نظر ڈالتا ہے تو اپنے خونی رشتوں،← مزید پڑھیے
سہیل ساجدؔ سٹونز آبادی ، ایک صاحبِ فکر ، پُر تنوع اور فعال تخلیقی شخصیت ہیں۔ انہیں خُدائے بزرگ و برتر نے فہم و دانش اور ادرا ک جیسی نعمتیں اورشعری سُخن کا ہنر مرحمت فرمایا ہے۔ وہ ایک صاحبِ← مزید پڑھیے
میشیل فوکو Michel Foucault کی کتاب “جنسیت کی تاریخ The History of Sexuality” کا موضوع مغربی معاشرت میں جنسیت کی تشکیل دینے کے طریقوں کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ یہ کتاب فوکو کی مشہور تین جلدوں کے سلسلے پر مبنی← مزید پڑھیے
“بازار کی زینت ہوتے ہیں وہ رنگین و منقش برتن جو اطراف میں بکھری مٹی سے کمہار بنایا کرتے ہیں ہاں یونہی وہ اشعار جنہیں سُن سُن کے زمانہ جھوم اُٹھے ہر لب پہ مچلتے لفظوں سے فنکار تراشا کرتے← مزید پڑھیے
زیر نظر کتاب” اگر مجھے ریٹائر کر دیا گیا “ جسٹس بابا رحمت کی خود نوشت رودادِ حیات، عدالتی زندگی کی گواہ اور ان کے رشحاتِ فکر کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ جج صاحب کو ظاہری طور پرریٹائر ہوۓ چار سال← مزید پڑھیے
زلفِ ’’نیم دراز‘‘ اور بالوں میں کبھی کبھی چھوٹی سی چوٹی کے باوجود جاوید دانش صاحب کے بارے میں بعض اوقات خواتین بدگمانی کے سے انداز میں پوچھتی ہیں کہ ’’جاوید دانش مجھے ’جگر‘ کیوں لکھتے ہیں‘‘ تو قہقہہ لگانے← مزید پڑھیے