افسانہ

یاداشت۔۔شاہین کمال

کم عمری کا اپنا ہی ہڑونگا پن ہے۔ اس وقت ماں باپ کی قربانیوں اور ان کی جد وجہد کا شعور نہیں ہوتا۔ اولاد بجائے احسان مند ہونے کے ان آسائشوں کو ان کی محبت نہیں بلکہ اپنا حق گردانتی←  مزید پڑھیے

شعوری جنسیت(Transsexuality)۔۔سیّد محمد زاہد

ناچ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ پوہ کی بھیگی رات دم آخریں پر پہنچ چکی تھی۔ ستاروں کے قافلے چلتے چلتے تھک گئے تھے اور ڈوبنے سے پہلے بادلوں کی ردا اوڑھ کر مدھم ہو رہے تھے۔ جوانی کا الاؤ←  مزید پڑھیے

پونم پریت/قسط نمبر 3۔۔نعیم اشرف

ملک الطاف حسین میرا انٹرمیڈیٹ کے وقت کا دوست تھا۔انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد یونیورسٹی آف سرگودھا میں  انگریزی کا پروفیسر تھا۔ ہم لوگ دس سال بعد ملے تھے۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ میں کہیں نصف رات←  مزید پڑھیے

حواس سے ماوراء۔۔ادریس آزاد

’’چلتی چلی جاتی ہے۔ رُکتی نہیں۔ ایک تسلسل، ایک بہاؤ، ایک روانی، ایک تواتر ہے کہ ’’مستقل‘‘ دکھائی دیتاہے۔ پھر بھی جتنا کچھ نظرآتاہے، یہ سب کا سب بہت تھوڑا ہے، اُس کے مقابلے میں جو نظر نہیں آتا۔ جسے←  مزید پڑھیے

پونم پریت/قسط نمبر 2۔۔نعیم اشرف

جس دن میں لڑکی سے عورت بنی اس دن میری بائیسویں سالگرہ تھی۔ مجھے اس دن احساس ہوا کہ ذہنی ہم آہنگی، شدید چاہت اور جذباتی وابستگی رکھنے والے دو افراد جب جسمانی اتصال کرتے ہیں تو لطف و حظ←  مزید پڑھیے

ستمگر ستمبر(2,آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

کی بہار میں ہماری شادی ہوئی تھی پھر اس بندھن کو مزید مضبوطی عطا کرنے کے لیے پہلے آمنہ اور اس کے بعد فاطمہ آ گئی۔ سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا کہ اچانک امی مختصر سی علالت کے←  مزید پڑھیے

ستمگر ستمبر۔۔شاہین کمال

اس سال سردی جلدی آ گئی ہے مگر ابھی ٹھنڈی ہوا جسم کو اتنی ناگوار نہیں ہے بس ایک جیکٹ سے کام چل جاتا ہے۔ میں نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے پسنجر سیٹ کے پائیدان سے کافی کا تھرماس←  مزید پڑھیے

پونم پریت/قسط نمبر1۔۔نعیم اشرف

آج لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے موسم خوشگوار تھا۔ موسم بہار رخصت ہو رہا تھا ۔ مگر دھوپ میں ابھی تمازت نہیں آئی تھی۔ یہ دوپہر کا سماں ہوگا۔ میں اپنی ہنڈا جیپ میں تنہا سفر کر رہا تھا۔←  مزید پڑھیے

سوت پر سوت اور جلاپا۔۔سیّد محمد زاہد

میں جانتا تھا کہ اس نے جو پوسٹ لگائی اس کا مخاطب میں ہوں۔ وہ میری دیوانی تھی اور مجھ سے منسوب بھی لیکن کئی سال کی ہمرکابی کے باوجود میں اس کے دل میں مستور راز جاننے میں ناکام←  مزید پڑھیے

آشفتہ سر۔۔شاہین کمال

وہ مجھے کچہری میں اکثر و بیشتر نظر آتا تھا۔ گو اس کا لباس صاف ستھرا ہوتا مگر ان کی خستگی و بوسیدگی چھپائے نہ چھپتی۔ عموماً وہ خاکی پینٹ پر سبز دھاری یا نیلی چیک کی قمیص پہنا کرتا←  مزید پڑھیے

حِرص/افسانچہ۔۔نادیہ عنبر لودھی

اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کے ٹکڑے کو مٹھی میں سختی سے دبایا اور اسے چھپانے کے لیے کوئی جگہ تلاش کرنے لگی ۔ برسوں کی دبی ہوئی چنگاری کو ہوا دینے کا اب کیا فائدہ، اس خط کو←  مزید پڑھیے

کمبخت عشق(2,آخری حصّہ)۔۔پروفیسر عامرزرین

جب اِمداَد اپنی لاکھ کوششوں کے باوجود صنم کی قربت سے محروم رہا تو بالاخر اُس نے روائیتی معاشرتی طریقہ کا سہارا لینے کا سوچا اور صنم کا ہاتھ مانگنے کے لئے اپنے بھائیوں اور علا قے کے چند معتبر←  مزید پڑھیے

کمبخت عشق(1)۔۔پروفیسر عامر زرین

یہ اسّی کی دہائی کا قصبہ تھا ، جو کہ شہر سے زیادہ دُور نہیں تھا۔آبادی بھی زیادہ نہیں تھی۔ سادہ لوح اور محنت کش لوگ اس قصبہ میں آباد تھے۔ اکثریت ملحقہ کھیتوں میں مزارعوں کی حیثیت سے کام←  مزید پڑھیے

رشنو دیوی۔۔سیّد محمد زاہد

رشنو یمنا کنارے شُکری کے مقام پر پیدا ہوئی۔ اس کا پِتا دیوتاؤں کی دھرتی کا سب سے بڑا راجہ تھا۔ اس کی رحم دلی، انسان دوستی اور عدل کی کہا نیاں دوردور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ دیوتاؤں کی دھرتی←  مزید پڑھیے

میرے کھلونے ۔۔حبیب شیخ

آج میں گھنٹوں اپنے کھلونوں کے ساتھ باہر کھیلتی رہی۔ آج بھی سکول بند تھا، میرا چھوٹا سا سکول، میرا پیارا سکول۔ یہ تو اب تقریباً بند ہی رہتا ہے، بس کبھی کبھی کھلتا ہے کچھ دنوں کے لئے اور←  مزید پڑھیے

کُتے کا گوشت۔۔یوحنا جان  

شدید گرمی کا موسم اور گرم ہوا چل رہی تھی۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں کی طرف گامزن تھے۔ سڑکوں پر چلتے رکشے اور گاڑیاں اپنے دھویں سے فضا کو آلودہ کر رہے تھے ۔ ان سب کو کوئی پوچھنے←  مزید پڑھیے

حامد یزدانی کے “خاکی تھیلے” میں چھپے راز…..ڈاکٹر خالد سہیل/حامد یزدانی

افسانے پر تبصرہ۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل اصحاب کہف گہری نیند سے جاگے اور کچھ خریدنے بازار گئے تو انہیں شہر کے لوگوں نے بتایا کہ ان کے سکے پرانے اور متروک ہو چکے ہیں۔یہ بات سن کر اصحاب کہف کو اندازہ←  مزید پڑھیے

ہم رہے نہ ہم۔۔شاہین کمال

بلال بلال جلدی اٹھو! میں نے پریشانی میں، بخار میں بے سدھ سوتے بلال کو بے اختیار جھنجوڑ دیا۔ بلال ہڑبڑا کر اٹھ تو گیا مگر کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ میں نے اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے←  مزید پڑھیے

لہراتے ہوئے پردے ۔۔حبیب شیخ

اعلان ہوا کہ شہر کو آزاد کرا لیا گیا ہے، دشمن کو مار بھگا دیا گیا ہے، بارودی سرنگیں شہر کا ہر کونہ ہر عمارت چھان چھان کر نکال دی گئیں ہیں۔ سخت جان مگر نرم چہرے کی حامل چالیس←  مزید پڑھیے

پھر سے(دوم،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

کیوپڈ کے ساتھ ساتھ قسمت کی دیوی بھی مہربان تھی سو یہ سنجوگ ہو کر رہا۔ ممی میری فطرت سے واقف تھیں، انہیں علم تھا کہ مجھے دیوار سے لگانے کا انجام کورٹ میرج کی صورت میں سامنے آئے گا←  مزید پڑھیے