افسانہ

بھوک۔۔شاہین کمال

ایمپریس مارکیٹ سے چرچ کی طرف جاتی کو رائٹ ہینڈ کو اوزار والا گلی میں مڑنا مانگتا اور پھر فوراً ہی کھبے ہاتھ کو مڑنے کا۔ یہاں ایک لین میں دس بارہ چھوٹے چھوٹے کواٹر ہوتے اور ان میں جو←  مزید پڑھیے

چندر مکھی۔۔شاہین کمال

اب تو خیر وہ کیا ہی جیتی ہو گی اور جو بد قسمتی سے جیتی بھی ہوئی تو کوئی ہزار بار مر کر بھی نہ مانے گا کہ یہ پھونس بڑھیا کبھی اپسرا دیکھتی تھی۔ نہیں !! اب تو کمپیوٹر←  مزید پڑھیے

نیکی کر دریا میں ڈال۔۔قمر رحیم خان

نیکی کر دریا میں ڈال’۔ پہلی بار جب پتن پر دریا دیکھا تو خیال آیا، نیکی کرنے کے لیے کتنا دور آنا پڑتا ہے۔ خیر یہ تو بڑوں کاکام ہے ۔ چلو پہلی بار نیکی دیکھنے کا موقع تو ملے گا۔ میرا خیال تھا لوگ اپنی اپنی جیبوں سے نیکیاں نکال نکال دریا میں پھینکیں گے←  مزید پڑھیے

کسان اور زمین ۔۔خیام بدخشانی

کسان کی باتیں سن کر زمین بے تاب سی ہو گئی۔ کسان کو بھی اس کا اندازہ ہو گیا، چنانچہ اس نے ہل چلانا شروع کردیا، زمین کو نرم کرنے لگا۔ وہ ہل چلاتا رہا، زمین کو تیار کرتا رہا۔ اسے ایک خاص لمحے کا انتظار تھا۔ اس خاص لمحے کے انتظار میں وہ پسینے میں شرابور ہو چکا تھا۔ کبھی وہ اپنی رفتار سست کردیتا، کبھی پھر تیز کردیتا۔ لیکن ہل چلانا اس نے ایک لمحے کے لیے بھی روکا نہیں۔←  مزید پڑھیے

دس کا ایک۔۔ربیعہ سلیم مرزا

کتنی عجیب بات ہے ۔ جس رات مجھے نیند نہ آئے ,اس رات میں سمجھ بھی نہیں پاتی کہ” جاگ کیوں رہی ہوں ۔”؟ بستر سے اٹھ کر صحن میں آجاتی ہوں ۔موبائل چارجر پہ چھوڑ دیتی ہوں ۔ ارشد←  مزید پڑھیے

جنگلی۔۔سیّد ایم زاہد

جنگلی۔۔سیّد ایم زاہد/وہ شادی کے لیے تیار تھی لیکن ساتھ یہ شرط رکھ دی۔ پہلے پہل تو حشمت کو بہت دکھ ہوا کہ وہ  اس کی محبت کو اتنی چھوٹی سی بات سے آزما رہی ہے۔ گرچہ یہ اس کی پسند کے خلاف تھا لیکن زمرہ نے واضح الفاظ میں کہہ دیا۔  ←  مزید پڑھیے

میلا حُسن۔۔افتخار بلوچ

میلا حُسن۔۔افتخار بلوچ/غازی عباس کے اندر بلوچانہ خصوصیات کے تمام دھارے اپنے حسن کے ساتھ موجود تھے۔ علاقے کے شوق و روایت کے عین مطابق اس نے تعلیم کو بڑی جلدی خیر باد کہہ دیا تھا←  مزید پڑھیے

سوئزرلینڈ کی عورت۔۔عاطف ملک

سوئزرلینڈ کی عورت۔۔عاطف ملک/وہ ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا، ادھیڑ عمر اور شرارتی، کلین شیو، سر سے گنجا، بھاری جسم اور مسکراتا چہرہ۔۔جیسے ہی اُس نے بات شروع کی، مجھے علم ہوگیا تھا کہ وہ ایک شرارتی آدمی ہے۔←  مزید پڑھیے

سیٹو اور سنی(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

ہمارے ڈائنگ ہال میں ایک مختصر قد و قامت اور جھلسی رنگت کا حامل عیسائی ہندوستانی بھی رہائشی تھا۔ وہ بنگال کے سحر آفریں شہر یعنی دارجلنگ کا باسی تھا اور عموماً وسیع ڈائنگ ہال کے پچھلی جانب، آتش دان←  مزید پڑھیے

سیٹو اور سنی(1 )۔۔شاہین کمال

کبھی کبھی کوئی یاد بجلی کی طرح کوندتی ہے۔ ایسے ہی آج بیٹھے بٹھائے ” سیٹو ” یاد آگئی۔ جاپانیوں کی اصلی عمر جاننا بھی کار دشوار ہے کہ یہ نہایت عمر چور ہوتے ہیں۔ ایسی ہی فنکار سیٹو بھی←  مزید پڑھیے

آزمائش (افسانہ)۔۔پروفیسر عامرزرین

آزمائش (افسانہ)۔۔پروفیسر عامرزرین/  روزینہ کے لئے یہ ماحول ناقابلِ برداشت تھا۔لیکن اس حا لتِ مجبوری اور بے بسی میں وہ کیا کرسکتی تھی۔یہ فلاحی سینٹر کسی قید خانہ سے کم نہیں تھا۔ لیکن ایک عورت اور وہ بھی بے گھر ہوتے ہوئے ،لیکن یہاں اُسے کسی حد تک تحفظ تھا←  مزید پڑھیے

ملال دروں۔۔شاہین کمال

آنکھیں کھلیں اور ہاتھ میکانیکی انداز میں بیڈ سائیڈ پر پڑے سل فون کی طرف بڑھا۔ تازہ خبروں کی شہ سرخیاں پڑھتے ہی مجھے گویا چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ متوقع تو تھا مگر پھر بھی مجھے←  مزید پڑھیے

روشن خیالی۔۔سید محسن علی

وہ اپنے یار دوستوں کے ساتھ گالم گلوچ کرتا، بازاروں میں خواتین کو تاڑنے اور آوارہ گردی کرنے کے بعد گھر میں داخل ہوا تویک دم سنجیدگی اور بردباری اس کے مزاج میں سرائیت کرچکی تھی۔ اس کی ماں نے←  مزید پڑھیے

شادھینتی۔۔شاہین کمال

آدمیوں سے بھرے میدان میں ایسا گمبھیر سکوت کہ سوئی بھی گرے تو دھماکہ۔ وسط میدان میں لکڑی کی ایک سبز پوش میز اور اس پر قرینے سے دھرے قلم دان۔ اس میز کے ساتھ ہی ایستادہ دو سادی سی←  مزید پڑھیے

ان کہی بات۔۔سیّد محمد زاہد

اس لاش کو دفنانا آسان کام نہیں تھا۔ رعنائی سے ہم آغوش پرسکون موت سامنے لیٹی تھی۔ جہد مسلسل اپنی معراج کو پہنچ چکی تھی۔ دل کے نقائص اور تقدیر میں لکھے مصائب سے لطف اندوز ہوئی  کبھی بھی اس←  مزید پڑھیے

افسانے ہی رہ گئے ہیں سنانے کو۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

اس کی بیوی سامنے ہی فرش پر بچھے گدے پر لیٹی لحاف کے اندر کسمسا رہی تھی اور وہ کچھ دور پلنگ پر ٹیک لگائے ، ٹیبل لیمپ کی روشنی میں ادق سی کتاب پڑھتے، باوجود اس کی قربت پانے←  مزید پڑھیے

نظام مملکت اور موکلین۔۔سیّد محمد زاہد

”میرے شہنشاہ! میں نے کہا تھا، جب تک یہ کنیز آپ کے چرنوں میں رہے گی آپ کے سرِ پُرغرور پر سایہ بال ہما موجود رہے گا۔“ ”ہاں! سچ کہا تھا، آپ نے۔“ ”یہ خاتم سلیمانی جو نسل در نسل←  مزید پڑھیے

میری منگیتر۔۔سیّد محمد زاہد

(محترمہ راحیلہ خان ادیبہ کا افسانہ ‘حادثہ’ پڑھا۔ ‘منگیتر اور خاوند’ ایک ہی شخص کے دو روپ دیکھے۔ پڑھ کردل چاہتا ہے کہ بندہ ساری عمر منگیترہی رہے۔ شادی والا حادثہ کبھی وقوع پذیر نہ ہو۔ ایک افسانہ پیش خدمت←  مزید پڑھیے

ہائی وے ۸۰۔۔شاہین کمال

میرے پیارے سلام محبت۔ اس ہفتے کا یہ دوسرا خط کہ تمہیں خوشخبری بھی تو سنانی ہے۔ ابوالقاسم تمہیں اپنا پہلا پوتا بہت بہت مبارک ہو ۔ تمہارا پوتا بالکل تمہاری تصویر ہے۔ ملتے تو تم پاب بیٹا بھی ہو←  مزید پڑھیے

گونگا( دوم،آخری حصّہ)۔۔افتخار بلوچ

گونگا( دوم،آخری حصّہ)۔۔افتخار بلوچ/“زندگی کی رعنائیاں تو کبھی ختم نہیں ہوتیں! اگر باہر کچھ نہیں ہے تو جناب یہاں کیا ہے۔ یہ تیل،  پانی کے بد نما دھبے اور مسلسل گُھر گُھر! اس خرابے میں تو زندگی کا حُسن ڈھونڈنے←  مزید پڑھیے