افسانہ

بدچلن۔۔حبیب شیخ

وینو، دودھ، وینو۔ یہ تکون پریتی کا سر پھاڑ کے رکھ دے گی۔ ایک وینو روتا ہے کہ وہ دودھ نہیں پیے  گا اور دوسرا دودھ کے لئے ضد کر تاہے۔ یہ کیسا جہاں ہے جہاں ایک کسی چیز کے←  مزید پڑھیے

محافظ۔۔خٹک

وہ اپنے بھاری جسم کو جیسے گھسیٹ رہی تھی۔ چہرے پر دھرے ماسک کے پیچھے اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور اسے سانس لینے میں دقت ہورہی تھی۔ آ ج وہ آفس میں پھر پندرہ منٹ لیٹ تھی، اس←  مزید پڑھیے

الاؤ(دوم،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں بہت سیانا کوا تھا۔ میں اپنے پی۔اے اور ڈرایور کو ہمشہ اپنی مٹھی میں رکھتا تھا۔ ان پر نوازشات کی بارش کر کے ان کی زبان اور ایمان کو اپنے پاس←  مزید پڑھیے

الاؤ(حصّہ اوّل)۔۔شاہین کمال

میری زندگی پر سکون دریا پر ہلکورے لیتی بادبانی کشتی کہ مانند تھی۔ اس کو تند و تیز لہروں کے حوالے میں نے خود کیا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ میں خود ہی سراسر قصوروار ہوں۔جب آپ چیزوں←  مزید پڑھیے

عالیہ پھر مرگئی۔۔سید عدیل رضا عابدی

عالیہ حسن جو اب جاپانی گڑیا بن چکی تھی ساری اسٹاف کالونی میں مشہور تھی تین سال کی عمر میں ہی اسے ماں اور خالاؤں کی طرح چوڑیاں پہننے اور مہندی لگوانے کا شوق تھا۔ ماموؤں اور ان کے دوستوں کے ساتھ کھیلتی گڑیا ایک دن چکرا کر گر پڑی←  مزید پڑھیے

عصمت (افسانہ)۔۔انعام رانا

“میں تم لوگوں سے تنگ آ گیا ہوں اور سب کچھ تیاگ کر پاک پتن جا رہا ہوں، باقی کی عمر بابا فرید کے مزار پہ گزاروں گا۔ اب مجھ سے کوئی رابطہ نہ  رکھا جائے” جمال کا لکھا نوٹ←  مزید پڑھیے

مُنّی نہیں مانتی۔۔شاہین کمال

اللہ کسی کو اولادوں کی قطار میں بیچ کی اولاد نہ بنائے، انہیں نہ تو بڑی اولا جیسا مان سمان ملتا ہے اور نہ ہی چھوٹوں جیسا لاڈ دلار ، بس ذمہ داریوں کی جکڑ بندیاں ہی نصیب ہوتی ہیں۔←  مزید پڑھیے

سنائپر۔۔شاہین کمال

میرا دفتر سنڑل پارک کے پُرفضا مقام پر ہے۔ بیسویں منزل سے یہ بھاگتی دوڑتی دنیا اتنی فتنہ خیز نہیں لگتی اور اتفاق سے میری کیوبکل کی کھڑکی بھی پارک کی سمت کھلتی ہے۔ میں عموماً اپنا کافی کا پہلا←  مزید پڑھیے

دیوی۔۔عارف خٹک

اس کو ہمارے فلیٹ میں آئے ہوئے ایک ماہ ہوگیا ہوگا۔ مجھے بھی لگ بھگ ایک ماہ ہوچکا تھا۔ دبئی کی  ایک پرانی بلڈنگ میں ہم مرد و عورتیں سب مشترکہ طور پر رہتے تھے۔ جہاں ایک کمرے میں عارضی←  مزید پڑھیے

سنگ مزار /گی دَ موپاساں (2،آخری حصّہ)۔۔مترجم : محسن علی خاں

یکدم اُس کے جسم میں جنبش ہوئی جیسے بید کے درخت کو ہوا چیرتی ہے۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ اب رونا شروع کر دے گی۔ پہلے وہ آہستہ سے رونا شروع ہوئی ، پھر اپنی گردن اور شانوں←  مزید پڑھیے

سنگ مزار /گی دَ موپاساں (1)۔۔مترجم : محسن علی خاں

درمیانی عمر کے پانچ دوستوں نے اکھٹے رات کا کھانا کھایا۔ اپنی دنیا میں مگن یہ پانچ دولت مند دوست جن میں سے تین شادی شدہ اور دو کنوارے تھے۔ یہ ہر ماہ رات کے کھانے پر اپنی جوانی کی←  مزید پڑھیے

کلیڈو سکوپ(2،آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

راگنی دو دن سے مختارے سلام کو نہیں آیا, کدھر ہے وہ؟ جرنیلی نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا؟ میں خبر لیتی ہوں میڈیم، کہیں دو دن کی لگاتار بارش میں بھیگ کر بیمار نہ ہو گیا←  مزید پڑھیے

کلیڈو سکوپ(1)۔۔شاہین کمال

آدم اپنی کامیابی کی میٹھائی لینے چورنگی تک گیا ہے اور میں آدم کا رزلٹ ہاتھوں میں تھامے ساکت بیٹھا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ مجھے اپنے آپ سے کیا گیا وعدہ بھی تو نبھانا←  مزید پڑھیے

خونی لہریں،محبت اور طالبان۔۔سیّد محمد زاہد

خونی لہریں،محبت اور طالبان۔۔سیّد محمد زاہد/رات کی دیوی زلفیں کھولے بے حس پتھروں اور تاحدِنظر بکھرے سنگریزوں کو گود میں سمیٹے سو رہی تھی۔ دور کی پہاڑی چوٹیاں دھندلی دھندلی دکھائی دیتی تھیں۔ دیوی پُرسکون تھی۔ دیوی کا سکون مطلق ہر چیز سے چھو کر پوری کائنات پر سکتہ طاری کیے ہوئے تھا۔←  مزید پڑھیے

رکشہ ڈرائیور۔۔افتخار بلوچ

رکشہ ڈرائیور۔۔افتخار بلوچ/اُسے اپنے کپڑوں پر ایک خاص قسم کا فخر محسوس ہورہا تھا۔ تھری پیس سوٹ کی گواہی تو آج اس کا کوئی دشمن بھی دے دیتا۔ رنگوں کے تناسب نے سر چڑھ کر اس کی صلاحیت کو داد دی تھی۔ اُسے اپنے دفتر کے دروازے پر لگی ہوئی تختی نے خاص طور پر متوجہ کیا تھا۔←  مزید پڑھیے

ہرکارہ۔۔دیپک بدکی

تپتی ہوئی سرمئی سڑک پر وہ اپنی سائیکل گھسیٹے جا رہا تھا مگر ٹانگیں ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔ سارا بدن جلتا ہوا سا محسوس ہو رہا تھا۔ سانس بھی پھول چکی تھی۔ پھر بھی وہ منزل تک پہنچنے کی←  مزید پڑھیے

لہو کے گرداب۔۔دیپک بدکی

کئی گھنٹوں سے وہ اپنے ہم سفر کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ واپس آیا نہ کہیں دکھائی دیا۔ ہر لمحہ اس کے لیے امتحان بنتا جا رہا تھا۔ وہ سوچنے لگی۔ ’’ یہ ریل گاڑی جب منزل مقصود←  مزید پڑھیے

اندھیر نگری۔۔دیپک بدکی

ایک زمانہ تھا کہ مطبوعہ تحریر کو اکثر مستند مانا جاتا تھا۔ جہاں کہیں کسی اخبار، رسالے یا کتاب میں کوئی بات چَھپ جاتی اس پر فوراً یقین کیا جاتا۔ تشکیک کی بہت کم گنجائش ہوتی تھی۔ جہالت اور ضعیف←  مزید پڑھیے

ڈاک بابو۔۔۔دیپک بدکی

انگریزوں کے قاعدے قانون آج بھی ہمارے ملک میں رائج ہیں۔ دیوانی قانون، فوجداری قانون،  تعزیراتِ ہند۔! ہندستان ہی کیا پورے برِصغیر کی یہی حالت ہے۔ انگریزوں نے ہمارے نظام کو اتنا مسخ کر دیا کہ اب یوں لگتا ہے←  مزید پڑھیے

گونگے سنّاٹے۔۔دیپک بدکی

یہ ایک سچّی کہانی ہے مگر میری گزارش ہے کہ ان کرداروں کو آپ ڈھونڈنے نہیں نکلنا کیونکہ اب وہ وہاں پر نہیں رہتے ہیں۔ نہ جانے ٹرانسفر ہو کر کہاں چلے گئے۔ منوہر کھرے کام تو کسی اور سنٹرل←  مزید پڑھیے