افسانہ

کار لاحاصل/عامر حسینی

نوٹ: ہمیں گھر، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، بازار ، مسجد ، کلیسا ، مندر میں ہی نہیں بلکہ ہر ایک آموزش میں یہی تبلیغ کی جاتی ہے کہ ترقی کے ٹاپ پر پہنچنے کا ایک ہی راستہ  ہے←  مزید پڑھیے

سر برہنہ لاشے کا ماتم/سیّد محمد زاہد

اشاروں کنائیوں کی زبان وہ بہت اچھی طرح سمجھتی تھی کیونکہ وہ طوائف تھی اور گاہک کی رگ رگ سے واقف۔ طوائفوں سے عشق نہیں ،سودا ہوتا ہے۔ لوگ کھلونوں سے دل بہلانے آتے ہیں اور وہ ان کی جیبوں←  مزید پڑھیے

آرزو کا فریب/شاہین کمال

عمر کے اس آخری پڑاؤ میں اپنے شجر سائیہ دار تلے سانس لینا یقیناً نعمت خداوندی کہ بے شک اولاد اللہ تعالیٰ کا بیش بہا تحفہ اور اولاد سعادت مند ہو تو کیا ہی کہنے . زندگی کسی کی آسان←  مزید پڑھیے

کایا کلپ/یحییٰ تاثیر

اگرچہ اس کا بچپن انسانوں کے بیچ گزرا، لیکن زندگی کا شعوری حصہ اس نے جنگلوں میں گزارا۔جنگل کی صاف فضا، محبت سے بھرے ماحول اور آزادی سے بھرپور زندگی سے آئے ہوئے شہر میں اس کا پہلا دن تھا۔بازار←  مزید پڑھیے

دل/شاہین کمال(2-آخری حصّہ)

مجھے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ میرا مزاج جانتے ہوئے بھی میرے ماں باپ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ مجھ سے کم صورت چیزیں برداشت ہی نہیں ہوتی تھیں۔ میں صرف حسین ہی نہیں تھی حسن پرست←  مزید پڑھیے

دل/شاہین کمال(1)

بھئی میرے گھر کا باو  آدم ہی نرالا ہے۔ گھر کم ہے سرائے زیادہ۔ سب اپنے آپ میں مگن اور اماں ابا ایک دوسرے میں گم۔ اولاد شمال ہے کہ جنوب وہ اس سے قطعی لاعلم ۔ چھ بھائی بہن←  مزید پڑھیے

یومِ الست کے دو چونٹے/مسلم انصاری

اس نے کیفے کی چار نشستوں میں سے ایک پر اپنا وجود رکھا، باقی تین کرسیاں لوگ اپنے لئے منتخب کر کے لے گئے، دفعتاً ایک نوجوان کرسی تھامے اس کے قریب آیا اور اس سے کہا : میں تمہیں←  مزید پڑھیے

سوز دیگراں/شاہین کمال

دس برس بعد اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کی غرض سے لینڈ آف پیور واپس آیا ہوں۔ میری فیملی شادی سے تین دن پہلے کراچی پہنچے گی۔ میں مغرب کی مشینی زندگی سے تھک گیا تھا اس لیے مہینے←  مزید پڑھیے

جسم کا ڈھیر/یحییٰ تاثیر

یہ سردی کی ایک ٹھٹھرتی شام تھی۔ایک طرف آوارگی تو دوسری طرف نیند کا بوجھ انتہا پر تھا۔ آوارگی اس لیے کیوں کہ میں سوچ کے حصار میں گم نہ جانے گلیوں کے پیچ و خم سے ہوتا ہوا کدھر←  مزید پڑھیے

ایک ہاتھ کی دوری پر/ڈاکٹر مریم زہرہ

اتوار کی صبح، جب وہ اپنے جڑواں بھائی کو سوتے ہوئے چھوڑ کر باورچی خانے کی جانب بڑھا، تب اس کی ماں ناشتے کے لیے آٹا گوندھ رہی تھی۔ گاؤں کے ہر بچے کی طرح وہ دونوں بھی اس دن←  مزید پڑھیے

بنجر بھٹ/عارف خٹک

وہ انتہائی تیزی سے میرے کمرے میں داخل ہوا۔ میں حیران کہ میرا سیکرٹری مجھے بتائے بغیر کسی ملاقاتی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ میں غور سے اس مفلوک الحال بندے کو دیکھ رہا تھا۔ جس کے←  مزید پڑھیے

بیوگی کا ٹیگ/سلمیٰ کشم

کپڑے کی دکان پہ بیٹیوں کو کپڑے دلواتے ہوئے عبیرا کو کھلتے آتشی رنگ کا ایک سوٹ بہت دلکش لگا۔ سٹف بہت اچھا تھا پرنٹ بھی دل کو بھا گیا ، یہ رنگ اسے ہمیشہ سے پسند تھا اس کی←  مزید پڑھیے

کتابی محبت/حمیرا علیم

” یہ دیکھو دوبئی سے فہد یہ سیٹ لائے ہیں میرے لیے۔” نمرہ کی سہیلی رابی نے اسے واٹس ایپ پر ڈائمنڈ کا نازک سا سیٹ دکھاتے ہوئے اطلاع دی تو اس کا دل بجھ سا گیا مگر رابی کی←  مزید پڑھیے

غرور/عارف خٹک

اس کے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ وہ گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔ چہرے پر پسینے کی بوندیں ایک دوسرے کے ساتھ باہم پیوست ہوکر چھوٹی چھوٹی باریک لکیروں میں ڈھل کر گردن کی طرف لپک رہی تھیں۔←  مزید پڑھیے

ایسی ویسی لڑکی/مسلم انصاری

“ہمارے” بیشتر دوستوں کو ایسی عورتوں سے پیار ہوا جو پہلے سے شادی شدہ تھیں، جو مطلقہ یا بیوہ تھیں، جن کے شوہر پردیس میں روز روز ڈوب رہے تھے یا جو اغوا کر لئے گئے تھے اور پھر کبھی←  مزید پڑھیے

ورغلایاہواآدمی /ناصر عباس نیّر

اوائل سردیوں کی شام کی ایک چھینک ، رات تک بدترین زکام میں بدل سکتی ہے،اور زکام آدمی کو کئی دنوں کے لیے نکما اور قابل رحم بناسکتا ہے۔ یہ زندگی کی عام سچائی ہے اور اسی لیے مسلسل نظر←  مزید پڑھیے

ماں کو حنوط کرنا/سیّد محمد زاہد

کوئی رات اس پر اتنی بھاری نہیں تھی۔ کسی رات کا سکوت اتنا گہرا نہیں تھا۔ آج تو دنیا کی ہر چیز، ہر ذرہ اس خاموشی سے چھو کر ایک سکتے میں بدل گیا تھا جیسے بن چاند کی رات←  مزید پڑھیے

سفید گلاب (افسانہ)-احمد شہزاد

شہر کی سب سے خوبصورت سڑک کو دونوں جانب سے بڑے بڑے گھنے سرسبز درختوں نے ڈھانپ رکھا تھا اس دو رویہ سڑک کی خوبصورتی کو جو چیز بڑھا رہی تھی وہ درمیان میں بہتی ہوئی نہر تھی ۔ نہر←  مزید پڑھیے

نئی نسل کا امریکی ہیرو/حبیب شیخ

راجر فلنٹ! ایک خوبرو نوجوان،ایک دولت مند گھرانے کا لڑکا۔ ما ں باپ، اور لڑکے کا ایک ہی نصب ا لعین تھا کہ آئی لیگ ivy league کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ ملے۔ جہاں صرف سالانہ ٹیوشن فیس پچاس ہزار←  مزید پڑھیے

آنکھ کے تل میں/شاہین کمال

میں جس سال جنما وہ سال ہی نیستی بھرا تھا۔ پیدا تو مجھے اکتوبر میں ہونا تھا مگر برسات کے سبب آنگن میں کائی اور کائی پہ اماں کی پھسلائی مجھے ساتویں ماہ ہی دنیا میں لے آئی۔ غریب گھر←  مزید پڑھیے