آنکھ کے تل میں/شاہین کمال

میں جس سال جنما وہ سال ہی نیستی بھرا تھا۔ پیدا تو مجھے اکتوبر میں ہونا تھا مگر برسات کے سبب آنگن میں کائی اور کائی پہ اماں کی پھسلائی مجھے ساتویں ماہ ہی دنیا میں لے آئی۔ غریب گھر کی عورتیں تو یوں بھی لوٹ پوٹ کر گھریلو ٹونے ٹوٹکوں سے کھڑی ہو جاتی ہیں سو خالہ بتاتی تھیں کہ اماں بھی چوتھا دن لگتے لگتے گھر کے کولھو میں جت گئی۔ اوپر تلے تابڑ توڑ بچے، کسی کے پیر میں جوتی نہیں تو کوئی آدھے دھڑ کے کپڑے کو ترساں۔ جانے حکومت کے سمجھ میں یہ مسئلہ کیوں نہیں آتا کہ جب جیب میں زہر پھانکے کو ڈمری نہ ہو تو، کونڈم یا مانع حمل کی گولیاں نری عیاشیاں ہی ہیں۔ غریب کی لے دے کر یہی ایک تفریح اور وہ بھی فری۔ گھر میں بھلے آٹے کا کنستر رہے خالی پر بچوں کی بوائی جاری۔

سنا اُسی سال ملک بھی ٹوٹا تھا۔ پاکستان کا وہ مشرقی بازو جہاں دہن زیادہ پر دانے کم تھے اور ہر سال آنے والی باڑھ اپنے ساتھ لاکھوں کو بہا لے جاتی پھر بھی وہ مر بھکّے ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ ہی تھے۔ جانے سیاست نے کیسی بساط بچھائی کے گھر کا گھروا ہوا اور وہ خون بہا، وہ خون بہا کہ الاماں الاماں۔ صدیوں سے بہتی بوڑھی گنگا خون سے سرخم سرخ ہوئی۔ ایک ملک دو لخت ہوا، سنا اس فساد میں لاکھوں کھیت رہے اور لاکھوں ہی بے پناہ بھی ہوئے۔ انسان کہ ازلی ڈھیٹ، سو دونوں طرف کے لوگ لوٹ پوٹ کر پھر زندگی کرنے لگے۔ شنید ہے کہ مشرقی پاکستان میں ایک ایسا طبقہ بھی تھا جو ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان میں آباد ہوا تھا، وہ بری طرح تاراج ہوا۔

پکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو
کسی کو بہرِ سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاکِ نشیناں تھا رزق خاک ہوا

جب تک میں پاکستان اسٹڈیز پڑھنے لائق ہوا، ملک کی تقدیر و تاریخ بدلی جا چکی تھی۔ میں صرف اتنا ہی جان پایا کہ اکہتر میں جنگ ہوئی اور ہندوستان کی سازشوں کے بدولت پاکستان جنگ ہار گیا، نتیجے میں بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا۔ باقی رہے ان داتا تو انہیں اس سے کیا کہ کون مرا اور کون جیتا۔ بس ان کی کرسی رہے سلامت۔

بقول اماں میں پیٹ کی کھرچن تھا اور میرے ہوش سنبھالتے سنبھالتے ہم لوگ گولی مار کی کھولی سے الاعظم کے فلیٹ تک آ چکے تھے۔ دونوں بہنیں بیاہی جا چکی تھیں مگر افسوس کہ وہ ہو بہو اماں جیسی زندگی گزار رہی تھیں۔ بھائی بھی اپنی اپنی فیملی کے ساتھ اپنے کنبوں کی افزائش و پرورش میں منہ سر پیر گاڑی کیے ہوئے تھے۔ میرا وقت اچھا چل رہا تھا کہ میں اب معدوم نہیں تھا۔ نہ صرف یہ کہ اپنے ماں باپ کو نظر آ رہا تھا بلکہ ان کی بچی کھچی محبت و شفقت کا بلا شرکتِ غیرے مالک بھی۔ اپنے خاندان میں واحد میں ہی تھا جیسے پڑھنے کا شوق، شوق بھی کیا جنون تھا۔ میٹرک میں میرے پاس بیالوجی تھی اور میں روز رات خوابوں میں اپنے آپ کو سول اسپتال میں ڈیوٹی دیتے دیکھتا۔ یہ خواب میری سوتی جاگتی آنکھوں کا دلآویز خواب تھا۔ مسیں بھیگ رہی تھیں اور رگوں میں خون کوڑیالے سانپوں کی طرح کروٹیں بدلتا۔ یار بیلی سے لڑکیوں کے فسانے سن کر جسم میں پارہ سا دوڑ جاتا۔ میں نے جزبات کے سونامی سے بچنے کے لیے گھبرا کر جم میں پناہ ڈھونڈ لی۔ جم کے بعد میری دوسری جائے پناہ غالب لائبریری تھی۔

میں، جس نے ضیاء ظلمت کے پر تشدد دور میں ہوش سنبھالا۔ تب تک ہمارا قومی مزاج “عدم برداشت” تشکیل پا چکا تھا۔ شدید گھٹن کی فضا اور تفریح کا واحد ذریعہ، کسی یار دوست کے گھر جمع ہو کر کرائے پہ لائے وی سی آر پر بھارتی فلمیں دیکھنا۔ انڈین فلموں نے پاکستانی سنیما کا بھٹہ بیٹھا دیا اور لوگ ندیم اور شاہد کو چھوڑ کر راجیش کھنہ، جیتندر اور نئے ہیرو سلمان خان کے دیوانے ہو رہے تھے۔ میرے گروپ کا پسندیدہ ہیرو بھی سلمان خان ہی تھا اور میری اس نئے نویلے ہیرو سے گہری مشابہت کی بنا پر میرا نام ہی سلمان خان پڑ گیا تھا۔ کم عمری کا تقاضا کہ میں شعوری طور پر اس ہیرو کا ہیر اسٹائل و انداز اپنانے کی بھر پور کوشش بھی کرتا۔

یہ انہیں دنوں کا قصہ ہے جب میں میٹرک کے امتحانات سے فارغ، بور ہو کر لور لور پھر رہا تھا کہ پڑوس کے فلیٹ میں نیا خاندان آکر آباد ہوا۔ جانے کب راتوں رات آ کر بیٹھے کہ کوئی ہٹو بچو، شور شرابا ہی نہیں ہوا۔ عرصے تک تو مجھے ایک بڑے میاں جو قدرے لنگڑا کر چلتے تھے وہی اس گھر سے نکلتے اور واپس آتے نظر آئے۔ ابا سے یقیناً چھوٹے تھے مگر صحت ابا سے ابتر۔ اماں سے پتہ چلا کہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے 1983 میں ہجرت کرکے پاکستان آئے ہیں۔ چھ سال میاں چنوں میں رہے اب ان کے میاں کا یہاں ٹرانسفر ہوگیا ہے سو یہ لوگ کراچی آ گئے ہیں۔ اماں ان لوگوں سے متعلق عجیب دکھی دکھی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔

شاکر علی صاحب چٹاگانگ میں سرکاری صوبائی ملازم تھے۔ خاصے خوش حال و عیال دار مگر اکہتر کے مارچ کی خون آشام بہار میں اپنے دونوں بیٹوں کی شہادت کا داغ سینے پر اور مکتی باہنی کی کلہاڑی کے وار کا گھاؤ پیر پر لے کر ڈھاکہ شفٹ ہوئے۔ پہلے کچھ عرصہ عزیزوں کے گھر نواب گنج میں رہے پھر محمد پور منتقل ہو گئے۔ ٹوٹے دل اور منتشر دماغ کے ساتھ مغربی پاکستان آنے کے جتن میں لگے رہے مگر دونوں بیٹوں کی شہادت نے بیگم شاکر علی کو جسمانی و ذہنی عارضے میں مبتلا کر دیا۔

ان کی حالت کے سنبھلنے کے انتظار تک پاکستان کی ہوا اکھڑ چکی تھی اور سولہ دسمبر کو طلوع ہونے والا سیاہ سورج مشرقی پاکستان میں بسنے والے تمام غیر بنگالیوں کے نصیبوں کو داغ گیا۔ سقوط کے بعد تو نہتے غیر بنگالیوں کی خون کی ندیاں بہا دی گئیں۔ لاکھوں شہید ہوئے، جو خانماں برباد بچے وہ پناہ کی تلاش میں آبلہ پا رہے۔ ایک بیٹی اور حواس کھوتی بیوی کے ساتھ عرصے تک چھپتے چھپاتے شاکر علی بالآخر محمد پور کے جینوا کیمپ میں پناہ گیر ہوئے۔

وقت لوگوں کے درد و غم سے بے نیاز اسپ تازہ پہ سوار ہوا، ہوا۔ اماں نے بتایا تھا کہ پچھلے ہی سال ان کی بڑی بیٹی کی شادی کوٹری میں مقیم ان کے رشتے داروں کے گھر ہوئی ہے۔ بقول اماں، بیگم شاکر علی یعنی بلقیس ابھی بھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں، وہ بیٹھے بیٹھے بکھر جاتی ہیں اور پھر پہروں اپنے دونوں بیٹے اکبر و اظفر کو آوازیں دیتی اور روتی رہتی ہیں۔ ان کی چھوٹی بیٹی چندا جو جینوا کیمپ ہی میں پیدا ہوئی تھی وہی ماں کو سنبھالتی ہے۔ اماں ہی کی زبانی یہ بھی پتہ چلا کہ چندا نویں کا امتحان دے کر نتیجے کی منتظر ہے۔

یہ سب کچھ میرے لیے عجیب درد انگیز انکشاف تھا۔ میں حیران پریشان غالب لائبریری جا پہنچا اور وہاں 1970 کے سارے Time میگزین اور ریڈرز ڈائجسٹ کھنگالنے شروع کیے۔ اس کھوج کے انجام میں حیرتوں کے نئے جہان نے مجھے حیرت سے پتھرا دیا۔ میرے خدا اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ایسی بد سلوکی و بے اعتنائی! بنگلہ دیش کے محب وطن پاکستانیوں کی مظلوم بہاری کمیونٹی، جس نے پاکستان پر اپنی آبرو، جان اور مال سب وار دیا۔ یہ وہ بے بس ہم وطن ہیں جنہیں پاکستان آج تک اپنانے سے انکاری۔

میرا رزلٹ نکلا اور میں شاندار نمبروں سے کامیاب ہوا۔ میرا دل تو ڈی جے کالج کا تھا پر ابا کے کہے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دہلی کالج میں داخلہ لے لیا۔ چندا بھی اچھے نمبروں سے پاس ہوگئی۔

چندا اپنی عمر سے زیادہ سنجیدہ تھی، اتنی زیادہ کہ اس پر کسی بوڑھی روح کا گمان ہوتا۔ میں نے اسے کبھی مسکراتے نہیں دیکھا۔ حالانکہ وہ کبھی کبھار فزکس کا کوئی سوال حل کرانے کے لیے میری مدد کی طلب گار ہوتی تھی۔ اس کی دبیز سنجیدگی کے باعث میں نہ جانے کتنی قسطوں میں اسے مکمل طور پر دیکھ پایا تھا۔ دھان پان سی کامنی چندا۔ نام تو اس کا شہر بانو تھا مگر اس کا ڈاک نام یعنی پکارو نام چندا تھا۔ اس کے دھیمے مزاج میں یقیناً چاند کی ٹھنڈک تھی۔ گندم کی بالی جیسی سنہری رنگت، بوٹا قد، سراپے میں بید کی لچک۔ روشن کھلتا ماتھا اور مونگ پھلی جیسی منی سی ناک جس کے نیچے پنکھڑیوں کو حسد میں مبتلا کرتے نم ہونٹ۔ اس کے کمر تک آتے بال نہ بادل تھے نہ آبشار بلکہ سیاہ بھی نہیں۔ اس کے قدرے بھورے بالوں میں عجیب سی سرخی تھی۔

ویسے بال میں نے کسی کے نہیں دیکھے تھے۔ اس کے بال اور اس کی پتلیوں کا رنگ ایک تھا مگر مجھے جانے کیوں گمان سا ہے کہ اس کی پتلیوں کا رنگ اس کے موڈ کے ساتھ ساتھ رنگ بدلنے پر قادر تھا۔ اس کے سارے سراپے پہ جو چیز سب سے زیادہ جان لیوا تھی وہ اس کے ہونٹ کے نیچے کا چھوٹا سا سیاہ مسہ۔ وہ سیاہ مسہ اس کا نظر بٹو اور اس حسن کے خزانے کا داروغہ بھی۔ وہ مسہ اس قدر پرکشش کہ ساڑھے پانچ فٹ کی سموچی لڑکی کو دل میں قید کروانے پر قادر۔ عجیب بات کہ میں نے کبھی اس کے حسن کی تعریف میں اماں، آپا یا بھابھیوں کو رطب الساں نہیں دیکھا۔ جانے وہ حقیقتاً حسین تھی بھی یا نہیں؟ مگر مجھے تو حسن آرا ہی لگتی تھی۔ شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ حسن، چہرے پر نہیں بلکہ دیکھنے والے کی آنکھوں میں ہوتا ہے۔ اس کے سنجیدہ و محتاط رویے نے مجھے لگام ڈالے رکھا اور سچی بات میں نے بھی اسے بس ایک خوبصورت پڑوسن ہی جانا۔

یہ 1991 کی عید تھی، کوٹری سے چندا کی بڑی بہن مہر بانو، اپنے نو مولود بیٹے کے ساتھ عید منانے میکے آئیں اور ان کے آنے سے احمد چچا کے گھر گویا جان پڑ گئی تھی۔ ان دنوں میں نے سلمان خان کی فلم “میں نے پیار کیا” دیکھی تھی اور اس کے نشے میں سرشار تھا۔ اس فلم کے بعد ہر لڑکا “پریم” بنا اپنی “سمن” کا منتظر تھا۔ اس وقت تک چندا میری سمن نہیں تھی بس ایک پرکشش پڑوسن تھی جیسے میں چوری چوری تاڑتا ضرور تھا۔

مجھے یاد ہے عید کا تیسرا دن تھا اور میں شام کو بڑے میدان سے کرکٹ کھیل کر واپس آ رہا تھا۔ میری ٹیم بری طرح ہاری تھی اور اس ہار کا بار میرے کندھوں پر تھا کہ میں صفر پر آوٹ ہوگیا تھا۔ میں سخت کبیدہ اور اپنے آپ سے نالاں، جیسے ہی چندا کے فلیٹ کے قریب سے گزرا۔ وہ کھڑکی کے قریب اپنے بھانجے کو گود میں اٹھائے اس سے ہنستے ہوئے لاڈ کرتی نظر آئی۔ جانے یہ اس کی ہنسی تھی یا ڈوبتے سورج کی نارنجی شفق میں اس کے انگار رنگے بال یا اس رنگ بدلتی پتلیوں کا کمال۔ کچھ تو تھا جو پل کے پل میں مجھے گھائل کر گیا۔ اس فسوں کار لمحے میں کیوپڈ کا تیر عین میرے دل کے پار ہوا۔ پھر میں کہیں کا نہیں رہا۔ ہر چیز سے دل اچٹ گیا۔ یار دوست تو چھوٹے ہی چھوٹے مگر پڑھائی پر بھی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ میں نے اسے اشاروں کنایوں میں حال دل سنایا، رقعہ پھینکا ہاں اس کے راستے میں کبھی کھڑا نہیں ہوا کہ اس کی عزت مجھے بہت عزیز تھی۔

میری محبت جتنی تیزی سے بڑھ رہی تھی اتنی ہی افزوں چندا کی بے رخی بھی۔ مجھے ان باتوں کا تجربہ نہ تھا اور اپنے تئیں دوستوں سے مشورے کے حق میں یوں نہیں کہ لاکھ رازداری کے باوجود، بات ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھی۔ کبھی ایک فلم میں دیکھا تھا کہ لڑکا اپنے خون سے لو لیٹر لکھتا ہے، میں نے یہ آخری حربہ بھی آزمایا کہ

خونِ دل میں ڈبو لیں ہیں انگلیاں میں نے

اس کا نتیجہ الٹا ہی نکلا، چندا جو ابھی تک مجھے اگنور کرتی تھی، غصے میں آگ بگولا ہوئی۔ اس دوپہر اماں، بڑی آپا کی طرف گئیں تھیں۔ میرے کالج سے لوٹتے ہی اس نے میرا دروازہ دھڑ دھڑا دیا۔

“عاصم! مجھے یہ چھچھور پن بالکل پسند نہیں اور اب میری برداشت بھی ختم۔ اگر ایک بھی رقعے نے اب میری دہلیز پھلانگی تو میں خالو کو سب بتا دوں گی۔ خدارا مجھے سکون سے پڑھنے دو۔ مجھے میرا مقصد حاصل کرنے دو۔ اس عاشقی معشوقی سے میری راہ کھوٹی نہ کرو۔ اس میں کچھ نہیں رکھا۔ میں تم سے تو کیا، زندگی میں کسی سے بھی نہ محبت کر سکتی اور نہ ہی شادی کیوں کہ مجھے اس ظالم دنیا میں معصوم روحیں لانی ہی نہیں”۔

یہ کہا اور میرے خطوط کا پلندہ بستر پر اچھال کر یہ جا وہ جا۔

یہ حقیقت ہے کہ چندا نے کبھی بھی میری محبت کو بڑھاوا نہیں دیا تھا مگر میں نے اسے اس کی شرم و حیا اور فطری گریز ہی جانا۔ کیا کیا جائے کہ محبت کی سب سے مہلک ادا ہی یہی کہ ظالم خوش گمان ہوتی ہے اور ایسے میں وہ آئینہ رو برو کر دیتی ہے جس میں من چاہے منظر چلتے رہتے ہیں۔ جو بیتا بھی نہیں اسے بھی یہ لتری کرشمہ ساز باور کرا دیتی ہے اور انسان کو سحر زدہ کرکے پل کے پل میں صحرا میں نخلستان سجا دیتی ہے۔

بس پھر سب کچھ ختم ہوگیا۔ امتحانات سر پر تھے اور کتاب کے حروف مجھے ڈولتے ڈگمگاتے محسوس ہوتے۔ انٹر کیا ہاتھوں سے نکلا کہ مستقبل کا دیکھا گیا شیش محل بھی چکنا چور ہوا۔ میرا پورا ایک سال ضائع گیا۔ میں کسی بد روح کی طرح کبھی ٹھٹھہ، کبھی بھنبھور تو کبھی مچ یا کچ میں مارا مارا پھرتا رہا مگر درماں کہیں نہ تھا۔

میں منجھلے بھائی کے پاس شارجہ آ گیا اور اپنے ٹوٹے پھوٹے وجود کو سمیٹنے کی سعی کرتا رہا۔ میں پانچ سال بعد اماں کے پہم اصرار پر پاکستان لوٹا۔ چندا کے فلیٹ میں کوئی اور خاندان آباد تھا۔ نہ میں نے کسی سے اس کے متعلق پوچھا اور نہ ہی کسی نے میرے آگے چندا کا ذکر کیا۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت کہ دل ویران ہو تو کراچی جیسا زندہ شہر بھی دشت۔ میرے گروپ کے تین لڑکے ہاؤس جاب کر رہے تھے اور میں پرانے احباب سے ملنے سے گریزاں۔ پھر میں ہر سال کراچی آتا رہا، شارجہ میں میرا کیٹرنگ کا کاروبار تھا اور میں دفتروں میں کھانا سپلائی کرتا تھا۔ میرے چلتا کاروبار اور میں دنیاوی نقطہ نظر سے خوش حال۔

اماں کی جزباتی بلیک میلنگ میں آ کر غلط فیصلہ کر بیٹھا اور گھر بسا لیا۔ میں یہ بھول ہی گیا تھا کہ جب دل نہ بسے تو گھر ویران رہتے ہیں اور ویران گھروں میں آسیب بس جاتے ہیں۔ سال کے اندر اندر بیوی مجھ پر دو حروف بھیج کر واپس کراچی چلی گئی اور یہ باب بھی تمام ہوا۔

میں آج ترپن سال کا ہونے کے باوجود بھی ڈوبتے سورج کی شفق سے نظریں چراتا ہوں۔ اب تو ان انگار رنگ بالوں میں بھی چاندی گھل گئی ہوگی مگر آج بھی اس دل میں وہی ظالم مقیم۔

قسمت کا پھیر دیکھیے کہ آج تینتیس سال بعد چندا سے ملاقات ہوئی بھی تو کہاں اور کن حالات میں؟

میرے برسوں سے لگے لگائے گاہک، عادل صاحب کی نا وقت کال آئی، انہیں ابھی اسی وقت کھانا چاہیے تھا۔ ان کا آڈر لے کر میں خود ہی نکل پڑا کہ میرے تینوں بائیکیا تھکے ہارے اپنی شفٹ نپٹا کر کھانا کھا رہے تھے۔ میں فُجیرہ کی جس عمارت کی چھٹی منزل پر کھانا پہنچانے گیا، مجھے کب خبر تھی کہ وہاں حیرتوں کے سلسلے میرے منتظر ہیں۔

میں جب عادل صاحب کو لنچ پکڑا کر پلٹ رہا تھا تو چندا اچانک صوفے پر سے آٹھ کر میرے سامنے آگئی اور مجھے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا

تم سلمان خان ہو نا؟

میں حیرت سے پتھرا گیا کہ مجھے اس نام سے پکارنے والے، زمانے گزرے وقت کے رتھ پر سوار جانے دنیا کے کن گوشوں میں تھے۔

چندا! میرا مطلب شہر بانو!

میں نے ہکلاتے ہوئے پوچھا

ہاں میں چندا ہوں، تم یہاں کہاں؟

کچھ نہیں بس روٹی روزی کی مشقت۔

اور آپ؟

مجھ سے اپنے جسم کی کپکپاہٹ پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔

اپنا خواب پورا کیا، ڈاکٹر بن گئی۔ انکولوجسٹ ہوں کراچی کے آغا خان ہسپتال میں۔

چندا نے خوشی سے چہکتے ہوئے بتایا۔ وہ آج بھی اتنی ہی بے درد تھی۔ دل میں درد کی شدید ٹیس اٹھی، کوئی کسی کی زندگی تباہ کرکے اس قدر indifferent کیسے رہ سکتا ہے؟

تم نے شادی تو کر لی ہوگی عاصم، کتنے بچے ہیں تمہارے؟

کی تو تھی چندا مگر نہ ہی دل بسا نہ گھر۔ آسیب زدہ گھروں میں بھلا کون رہتا ہے۔ سو وہ بھی چھوڑ کر چلی گئی۔

میں نے آزردگی سے جواب دیا

اور تم؟

میں! میں جیسی الاعظم کے فلیٹ میں تھی ویسی ہی اب بھی ہوں۔

اس کی طمانیت و سکون میں سر مو فرق نہ تھا۔

وجہ؟

میں شدید حیران تھا۔ میرے سامنے ایک کامیاب ترین عورت کھڑی تھی، جس کی دسترس میں جہان بھر کی خوشیاں ہمک سکتی تھیں، پھر یہ تہی دامنی کیوں؟

وجہ وہی جو تمہیں انکار کا سبب تھی۔ اتنی نفرتوں بھری دنیا میں معصوم روحیں نہیں لانی۔

اس کا لہجہ سچا اور بے ریا تھا۔

کمال ہے یہ اتنے سالوں بعد بھی اُسی ضد پر قائم ہے؟

میں صم بکم کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

میں حیران ہوں کہ قدرت نے اتنے برسوں بعد ہمیں آمنے سامنے کیوں کیا؟

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply