انسانی زندگی پر نیو لبرل ازم کے نفسیاتی مصائب /منصور ندیم

آج نیو لبرل ازم” کی اصطلاح کے مختلف تصورات موجود ہیں، مثلا ایک مکتبہ فکر یہ سمجھتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر اور دوسری طرف امریکی صدر رونالڈ ریگن کے بنائے ہوئے معاشی نظام سے اس کی تعبیر کی جائے جبکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اسے سرمایہ دارانہ نظام کا ہی بنیادی نظام مان کر اسے “مارکیٹ لبرل ازم” کہتے ہیں اور “نیو لبرل ازم” کو ایک سیاسی اور معاشی نظام کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے ذریعے ریاست زندگی کے بیشتر شعبوں میں سرمایہ دارانہ افکار کے نظام کو لاگو کرتی ہے، حتی کہ ریاستوں کے آج کی تمام سماجی بہبود کی خدمات، جیسے کنڈرگارٹن اسکول اولڈ ایج ہاؤسز میں بزرگوں کی دیکھ بھال بھی اسی نظام کے تابع ہوچکے ہیں۔

یہ دوسرے فکر وہ لوگ ہیں جو اس اصطلاح کو دوسری اصطلاح سے جوڑتے ہیں، جو کہ ضروریات کے حصول سے اسے بازار میں غیر ضروری کھپت کا سفر سمجھتے ہیں، جو ضروریات کے بجائے تعیش یا غیر ضروری کو ضروری بنانے کے لئے اشتہارات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور یہ سوچ پیدا کرتے ہیں کہ ہمارے خوف اور خود پر اعتماد کی کمی کا فائدہ کیسے اٹھایا جائے۔ یہ سب ان کا بنیادی مقصد صرف پیسہ کمانے کے لیے ہے، یہ معاشرے پر مختلف ترتیب میں اثر انداز ہوتا ہے، جب ہم خود کو ان سے متاثر ہوکر اپنی شکل، اپنا لائف اسٹائل، رہن سہن، کھانا پینا، برتنا حتی کہ اپنے جسم کی ہیئت و شکل بدلنے کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ تب ہماری ظاہری شکل و صورت اور ہماری ملکیت اس سے جڑ جاتی ہے، ہم اپنے آپ کو بدلنے کی مسلسل کوشش میں رہتے ہیں، کیونکہ ہمارے لئے یہ اہم ہوجاتا ہے کہ ہماری سماجی تصویر اور لوگ ہمیں کس طرح دیکھتے ہیں، تو یہاں بازار کی کھپت اور ہماری شناخت دوںوں مکمل طور پر جڑے ہوئے معاملات بن جاتے ہیں، اور اس طرح ہم نیو لبرل ازم کی اس لہر کی رنگینی میں بہہ جاتے ہیں ۔

ایک اور فکر بھی ہے جو جدید دنیا سے ترقی پزیر دنیا تک مزدور تحریکوں کے ارکان “نیو لبرل ازم” کو دوسری اصطلاحات سے جوڑتے ہیں، جیسے کہ “انسانی وسائل” کی اصطلاح جس نے Personal Department کی جگہ لے لی، یا نئی پبلک ایڈمنسٹریشن کی اصطلاح بھی کہہ سکتے ہیں ( کسی بھی ادارے کا ایک محکمہ جو ملازمین سے متعلق معاملات کو اس کی ملازمت کے وقت، تربیت، تعلقات، اور اس کی حیثیت سے فائدہ اٹھانے کو دیکھتا ہے). اصلا تو یہ ایک داخلی انتظامی شکل ہے جو کسی ادارے کی مجموعی حیثیت کا تعین کرتی ہے، جیسے معاشی و گرافیکل رپورٹس اور درست اشارے کے ذریعے ملازمین اور ان سے حاصل ہونے والے نتائج وغیرہ، مگر یہ ملازموں کو صرف ان کی پیداواری صلاحیت پر روکتی ہے، اس میں انسانی اخلاقیات، جذبات یا احساسات مکمل طور پر مفقود ہوتے ہیں، ٹریڈ یونین کی نظر میں تو “نیو لبرل ازم” ایک بڑے نظام کے سوا کچھ نہیں ہے جو “کام کرنے والی انسانی زندگی اور اس کے فطری رحجانات کو تباہ کر دیتا ہے۔”

ہمارے ہاں تو خیر اس پر بات ہی نہیں ہوتی مگر آج دنیا کی کئی ریاستوں میں بہت سے ماہر نفسیات بھی اس تصور پر بات کررہے ہیں کہ ہمارے دور میں بہت سے مریض یا صارفین نفسیاتی مسائل اور عوارض کا شکار ہیں جو اس وقت ایک عام آدمی کی زندگی کی عام صورتحال بن چکی ہے، آج ہم ایک ایسی زندگی میں رہ رہے ہیں جس میں ان عوارض میں تناؤ، پیتھولوجیکل بے چینی، خود ساختہ احساس اور یہ احساس ہے کہ ہم مطمئن نہیں ہیں یا زندگی میں موجود وسائل ہمارے لئے کافی نہیں ہے۔ ڈپریشن، تنہائی، ناامیدی کا احساس، بے بسی کا احساس۔ یہ نفسیاتی عوارض نہ صرف نوجوانوں میں عام ہیں، بلکہ ہر طبقہ فکر اور عمر کے بہت سے لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں، اصل سوال ہے کہ کیا یہ نفسیاتی مسائل خود مریض کے اندر سے پیدا ہوتے ہیں یا یہ اس معاشرے کا نتیجہ ہیں جس میں مریض رہتا ہے؟

کیا اسی بات کے جواب میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ “نیو لبرل ازم” ہماری زندگی کے ہر عمل سے جڑا ہوا ہے اگر آپ وقت کی کمی یا بلاجواز تناؤ اور اضطراب کا شکار ہیں جو آپ کے اپنے آپ سے عدم اطمینان کے احساس اور آپ کے اس احساس سے پیدا ہوتا ہے کہ آپ اپنے حال میں راضی نہیں ہیں؟ مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ میں اپنے آپ سے اپنے آج سے راضی نہیں ہوں، مگر کیا اس کیفیت میں میں اکیلا ہوں ؟ اپنے روزگار کے معاملات، نوکری کے مسائل، یعنی بلاشبہ آج نوکری بہتیرن ہونے کے باوجود اس کے ختم ہونے کا خدشہ، اپنی زندگی، رہن سہن کے بدلےن کا خدشہ، کام یا معمالات کے پریشرز یہ سب اسی احساسات کا سامنا کرواتے ہیں۔ کیا یہ معاشرہ جو نیولبرل ازم کے نظام کے تابع ہے اس کا ذمہ دار ہے؟

کیا یہ اسی نظام میں موجود نیو لبرل ازم کی لہر ہے جو اخلاقیات کا بھی فقدان پیدا کرتی ہے؟ جب ضروریات زندگی کی تگ و دو، بہتر سے بہتر، ایک موبائیل ڈیوائس سے دوسری بہتر موبائل ڈیوائس کا سفر، موٹر سائیکل سے گاڑی اور گاڑی سے پھر بہتر گاڑی اور پھر بہتر گاڑی سے لگزری گاڑی تک کا سفر، سر چھپانے والی چھت سے لگزری فلیٹ اور بنگلوں تک کا سفر، میک اپ، گھڑی بناؤ سنگھار سے برانڈز کا سفر، یہ سب سرمایہ دارانہ نظام کے کام کو ترویج دینے کا عمل ہے، اس میں ایسا نہیں لگتا کہ یہ ہمیں کچھ انسانی بنیادی فطری تقاضوں سے دور اور اخلاقیات کو بھولنے پر مجبور کررہا ہے جن پر ہم پروان چڑھے تھے، یہ جو کم از کم آئیڈیل معاشرے کا خواب تھا، ہم اس عہد میں صرف ایک مشینی ملازم کی طرف عمل کررہے ہیں، جو صرف اس نظام کے تحت ہمیں ایک قابل ملازم ہونے، مثبت ہونے، تبدیل ہونے اور موافقت کی صلاحیت رکھنے پر توجہ دلاتا ہے۔ لیکن اگر ہم ایسا نہیں چاہتے تو کیا ہوگا؟…

Advertisements
julia rana solicitors london

میرے پاس اس کا کوئی خاص حل نہیں ہے، مگر صرف یہ بتادوں کہ ہم جن لوگوں کو کامیاب مانتے یا جانتے ہیں، جنہوں نے زندگی کو مختلف انداز میں گزارنے کا فیصلہ کیا اور مختلف طریقوں سے زندگی گزار رہے ہیں، ان کے رہن سہن اور طرز زندگی کے بارے میں فیصلے اس دور کے نظریات کے ذریعے مسلط کیے گئے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply