معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

قصہ ایک کوکین زدہ بادشاہ کا ۔۔۔ معاذ بن محمود

بادشاہ سلامت نے اپنے کمرہ خاص سے باہر نکلتے ملکہ عالیہ کو دیکھا جو گہری نیلی آگ کے گرد بلوچ موسیقی لگائے کوئی چلہ کاٹ رہی تھیں۔ بادشاہ کو اس لمحے وہاں کچھ غیر مرئی مخلوقات کی موجودگی کا شائبہ ہوا جو اس موسیقی پر لڈی ڈال رہی تھی۔ “بلوچ موسیقی پر لڈی؟” بادشاہ سلامت ابھی یہ سوالیہ سوچ ذہن ہی میں لائے تھے کہ ملکہ عالیہ کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔ “تینوں کی؟ میری موسیقی میرے مؤکل میری مرضی”۔ بادشاہ سلامت کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے وقوعہ سے کلٹی ہونا مناسب سمجھا۔ ←  مزید پڑھیے

بیضوی خواب ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس دوران اس کی نظر ساتھ بیٹھی ایک سو پچیس کلو وزنی خاتون پر پڑی۔ جانے کیوں خاتون کی نظریں اس کی شلوار پر جمی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے خاتون کی آنکھوں سے قہر برس رہا ہو۔ اب وہ پریشان ہو رہا تھا۔ جانے کیا بات تھی۔ ←  مزید پڑھیے

صور پھونک ۔۔۔ معاذ بن محمود

“ماما آپ رو کیوں رہی ہیں؟ اور بابا کیوں اداس خاموش بیٹھے ہیں؟ یہ آپ دونوں کی آنکھیں کیوں سوجی ہیں؟” اس نے سوال کیا مگر جواب نہ ملا۔  پچھلے کئی گھنٹوں سے جو کچھ ہو رہا تھا اس کی←  مزید پڑھیے

موبائل فونز ٹیکس، DIRBS سسٹم اور چند گزارشات ۔۔۔ معاذ بن محمود

پہلی اہم بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ یہ ایس او پی جون ۲۰۱۸ میں تخلیق کی گئی (لنک میں پی ڈی ایف دستاویز کی تاریخ لکھی ہوئی ہے)۔ ظاہر ہے اس پر کام اس سے کہیں پہلے سے جاری ہوگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ قدم کئی زاویوں سے بہتر بھی ثابت ہوگا لہذا ہم اس کے مثبت اثرات سے بات شروع کرتے ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

کتب خانہ ۔ ایک خبر ایک افسانہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

سفید پوش شخص کے پاس کھونے کے لیے عزت کے سوا کچھ نہیں ہوا کرتا۔ عزت پر حرف لانے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اس کے بس میں نہ تھا۔ وہ سوچ میں غرق تھا کہ کیا کرے۔ لیکن حل بھلا کہاں ذہن میں آنا تھا کہ تھا ہی نہیں۔ وہیل چئیر بھی ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے اپنا بستر اپنی لائبریری ہی میں لگوا لیا تھا۔ ←  مزید پڑھیے

سائینس اور مذہب: کیا ضد ضروری ہے؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ذاتی حیثیت میں کم سے کم میں سائینس اور مذہب کو ٹکراؤ میں نہیں پاتا۔ سائینس جستجو کا نام ہے۔ مذہب ایمان باالغیب کا۔ جستجو کا حکم مذہب کی طرف سے دیا گیا ہے جبکہ جستجو بذات خود یقین کی جانب سفر کی تحریک ہے۔ آج ہم سائینس کے دائرے میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم علم کامل کے حامل نہیں لیکن اس کے حصول میں لگے رہیں گے تاکہ ہر نئے علم کو بنی نوع انسان کی خدمت میں استعمال کیا جاسکے۔←  مزید پڑھیے

رجوع کے فضائل اور پچیس ایمان افروز مثالیں ۔۔۔ معاذ بن محمود

پاکستانی سیاست میں یوٹرنز کے مؤجد جناب حضرت پیر، کپتان، لیڈر، راہنما، منزل، قائداعظمِ ثانی، مہاتیرِ پاکستان، منڈیلا دوئم، جانشینِ مہاتما، مقابل گدی نشینِ پاک پتن، خاتمِکرپشن، بانیِ ریاستِ مدینہ ثانی، فاتحِ عالمی کپ، مجاہدِ بائیس سالہ جد و جہد، وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران احمد خان نیازی مد ظلہ علیہ کہلائے جاتے ہیں۔ناعاقبت اندیش و خبیث مخالفینِ کا اگرچہ اس روایت پر اجماع ہے البتہ مقلدین و مجاہدین ناموسِ نیازی کے ثقہ راویان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مقلدین کے نزدیک یوٹرن کیاصطلاح مختلف ناموں سے زمانۂ جاہلیت یعنی جولائی ۲۰۱۸ سے پہلے تاریخ کے سیاہ پنوں میں ملتی رہی ہے۔ ←  مزید پڑھیے

کس سے منصفی چاہیں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

غربت کا مارا یہ خاندان اپنی خواہشات کو (پورا کرنے کے بعد) ان گلا گھونٹ کر مار دیا کرتا۔ یہ ایک مشکل دور تھا۔ لیکن قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ←  مزید پڑھیے

مذہب، سائینس اور صوفی ۔۔۔ معاذ بن محمود

گویا مذہب اور سائینس دونوں well defined اور standard set of rules ہیں جو اریٹیریا سے ہانگ کانگ تک، روم سے مکہ تک تمام مقامات پر یکساں رہتے ہیں۔ پانی کا فارمولا ہر جگہ H2O ہے۔ دنیا بھر کے انسانوں میں وائے کروموسوم جنس کا تعین کرتا ہے۔ ←  مزید پڑھیے

نمائیندگانِ لبرلزم اور عدم برداشت ۔۔۔ معاذ بن محمود

ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ حقیقی لبرلزم میں افکار اختیار کرنے کی بھی آزادی ہے۔ ایسے میں ایک آزاد منش فرد اگر مولوی بننے کا فیصلہ کرتا ہے تو مجھے اور آپ کو اس فیصلے کی تعظیم کرنی ہوگی۔←  مزید پڑھیے

یادیں ۔۔۔ معاذ بن محمود

ہر جانب مٹی ہی مٹی، دھول ہی دھول تھی۔ عام حالات میں مجھے دھول سے سخت الجھن ہوا کرتی ہے۔ اس وقت پورا جسم گرد میں اٹا پڑا تھا اور میرا ذہن ایک ہی سوال میں الجھا پڑا تھا: “اس سے برا وقت بھلا کیا ہوسکتا ہے؟”←  مزید پڑھیے

ایک رخصت ہوتے حیف جسٹس کی یاد میں ۔۔۔ معاذ بن محمود

دل پرسکون بے سکون ہے۔ ذہن بے فکر فکر میں گم ہے۔ مملکت خداداد پاکستان کا کیا بنے گا؟ اب ناانصافی انصاف کی رکھوالی کون کیا کرے گا؟ فوج عوام کے حقوق کا محافظ کون بنے گا؟ یقین ہے فوجیوں←  مزید پڑھیے

آسیہ بی بی بیرون ملک روانہ ۔۔۔ مکالمہ خصوصی

توہین رسالت  مقدمے میں رہائی کے بعد آسیہ بی بی کو بیرون ملک روانہ کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی نور خان ائیر بیس سے آسیہ بی بی نیدرلینڈ کے سفیر اور اپنے خاندان سمیت ملک سے باہر←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا کے شرپسند اور حفاظتی تدابیر ۔۔۔ معاذ بن محمود

چونکہ مارک زکربرگ کی ٹیم نے کسی بھی پروفائل کو اپنے عزیز و اقارب کی فہرست میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا ہے لہذا چند “بیسٹ پریکٹسز” یا اصول وضع کیے جانا بہت اہم ہے جن کے تحت کسی کو فرینڈ لسٹ میں شامل کرنے یا نہ کرنے، کسی کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے جس کے تحت میری ٹائم لائن دسمبر 2006 سے آج نومبر 2018 تک سوائے ایک ناخوشگوار واقعے کے پرامن ہے۔ اوپر بیان کیے گئے ایک واقعے کے بعد میں نے اپنے اصولوں کو مزید بہتر کیا اور آخری ورژن وضع کیا جو درج ذیل ہے۔ ←  مزید پڑھیے

آسیہ مسیح کیس پر ردعمل اور چند اعراضات کے جوابات ۔۔۔ معاذ بن محمود

یہاں یہ بات کرنا بھی نہایت اہم ہے کہ عاشقان رسول کے جذبات کا خیال رکھنا بھی بیشک ایک اسلامی جمہوریہ پر فرض ہے اور اس کا پورا اہتمام لازم ہے۔ اس ضمن میں فی الوقت موجود قانون سازی اگر ناکافی ہے تو اس کی تکمیل پر اصرار ہونا چاہیے اور اگر کافی ہے تو اس پر عمل درآمد۔←  مزید پڑھیے

خاکوانی صاحب سے اختلاف کی جسارت ۔۔۔ معاذ بن محمود

اللہ تعالی کن فیکون پر قادر ہے۔ اس “کن” پر کوئی حد بندی نہیں۔ وہ لامتناہی قابلیت کا مالک ہے۔ پھر کہیں کا روڑہ کہیں اٹکانے، کوئی سی دو متضاد باتوں کا جوڑ بنانے اور ناقابل دفاع حقائق کا پورے دل و جان سے دفاع کرنے کی صلاحیت عطا فرمانا، قادر مطلق کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔←  مزید پڑھیے

وزیراعظم کے نام ایک کھلا خط ۔۔۔ معاذ بن محمود

جناب وزیراعظم، بڑی مشکل سے ہم اپنی نوجوان نسل کو افغان جہاد کے نام پر دہشت گردی کی عفریت سے دور کھینچ لائے ہیں۔ آپ محسوس نہیں کرتے کہ عشق رسول کے نام پر مچنے والا یہ غدر مذہبی شدت پسندی کی ایک نئی شکل ہے جس سے ابھی نہ نپٹا گیا تو مستقبل میں ایک بار پھر ہمیں اس کا شکار ہونا پڑے گا۔ ←  مزید پڑھیے

رحم مادر میں خود کلامی ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں پریشان ہوں۔ میں سہما ہوا ہوں۔ نو ماہ کی اس قلیل مقید دنیا کے بعد چند دہائیوں کی ایک آزاد دنیا۔ اور پھر نوید ہے ایک اور عالم کی۔ جس عالم کے بارے میں سعیدیں ہیں، وعیدیں ہیں۔ کیا میں اس جہاں در جہاں سفر میں کامیاب ہو پاؤں گا؟ ←  مزید پڑھیے

“گدھے کا بچہ” ایک جلالی بزرگ کا جلالی کالم ۔۔۔ معاذ بن محمود

اب درویش کی آنکھیں نم ہونے لگتی ہیں۔ محلول کے نایاب ہونے پہ سر ہی نہیں بہت کچھ پھٹا جا رہا ہے۔ بلو ناہنجار رات سے کسی بوائے فرانڈ کے ساتھ غائب ہے۔ فون کرو تو پیغام بھیجتا ہے “ڈانٹ ڈسٹرب پلیز، آئی ایم ان میٹنگ”۔ گاڑی فقیر کو چلانی نہیں آتی۔ کیا کیا جائے؟ ←  مزید پڑھیے

قصے چند فراڈیوں کے ۔۔۔ معاذ بن محمود

دوستوں، ایسا ہے کہ روپیہ، درہم، ڈالر اور پاؤنڈ ان سب سے بڑی کرنسی وقت ہے۔ وقت کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے آنے والے وقت کو جانتے بوجھتے ضائع کرنے والے، پھر اس کے بعد اپنی بیوقوفی کے دفاع میں تاویلیں دینے اور الٹا نقصان پہنچانے والے کی وکالت کرنے والے لوگ کائنات کے احمق ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ ←  مزید پڑھیے