گدھوں خچروں کا معرکہ اور لنگور کا فیصلہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

گدھوں اور خچروں کے جتھوں کے درمیان اختلاف عروج پر تھا۔ دونوں ایک دوسرے کا خون پینے کے درپے تھے۔

چند دن پہلے ہی دونوں گروہوں نے باجماعت ایک دوسرے کو سرعام دولتیاں مار کر اپنے یکساں خمیر کے باوجود باہمی نفرت کااعلان کیا تھا۔ اس دن خچر ہجوم کی شکل میں اعلانیہ گدھوں پر حملہ آور ہونے کی کوشش میں تھے۔ تاہم معاملات اس وقت خرابہوگئے جب گدھوں نے انہیں گھیرے میں لے کر انہیں اتنی دولتیاں ماریں کہ وہ کئی ہفتوں گھاس چبانے کے قابل بھی نہ رہے۔جنگل کے باقی جانور اس دن یہ لڑائی دیکھتے سارا دن چسکے لیتے یہ ثابت کرتے رہے کہ تمام چوپائوں کا ڈی این اے بہرحال کہیں نہکہیں گدھوں اور خچروں جیسا ہی ہے۔ گدھوں اور خچروں کی اس لڑائی کے دوران کئی معصوم زندگیاں بھی ضائع ہوئیں۔

اس کے بعد ہر گروہ دوسرے کو نیچا دکھانے کے درپے ہوگیا۔ جنگل کے سوشل میڈیا پر گھمسان کا رن جاری تھا۔ گدھے خچروں کواپنی اولاد میں سے ہونے پر پھبتیاں کسے جارہے تھے۔ خچر تھے کہ گدھوں کو اپنی جسمانی فضیلت پر نیچا دکھانے پر تلے ہوئے تھے۔ یہطوفان بدتمیزی زور و شور سے جاری تھا کہ سرکار نے ان دونوں کے درمیان تصفیہ حل طلبی کے لیے لنگور کی عدالت میں بھیجدیا۔

لنگور جہاں دیدہ گھاگ تھا۔ اس کا انصاف اہل خر میں مشہور تھا۔ اس سے پہلے وہ مارخور بمقابلہ شیر کے مقدمے میں شیر کو نااہلقرار دے چکا تھا۔ تب سے شیر ناصرف جنگل کے راج سے ہاتھ دھو بیٹھا بلکہ کئی ماہ مقید رہنے کے بعد جنگل سے باہر بھاگنے پربھی مجبور ہوا۔ لنگور سے اہل خر کو خوب امیدیں وابستہ تھیں۔ تاہم لنگور جانتا تھا کہ اس کا اپنا مفاد دونوں فریقین سے یکساںوابستہ ہیں۔ لنگور خچر کو سواری کے لیے استعمال کیا کرتا اور گدھوں کو وزن ڈھونے واسطے۔ وہ کسی ایک فریق کو ناراض کرنے کیپوزیشن میں نہیں تھا۔ تاہم یہ معاملہ بھی نہایت اہم اور حل طلب تھا جسے نظرانداز کیا جانا ناممکن تھا۔

بادل نخواستہ لنگور نے مقدمے کا آغاز کیا۔ پہلے خچروں کے بڑے کو دلائل دینے کی دعوت دی گئی۔ ہیڈ خچر نے اپنے دلائل کا آغازکیا۔

می لام، مورخہ نامعلوم کون سی دسمبر ۲۰۱۹ کو ہمارے سینیر خچروں میں سے ایک اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گدھوں کے پاس انکے دفتر پہنچا۔ یہاں باقی جانور بھی گدھوں سے بوجھ اٹھوانے کے منتظر تھے۔ گدھے چونکہ ہماری ہی طرح اہل خر ہیں لہذا کسی حدتک ہم ایک سی ذہانت رکھتے ہیں۔ اسی لیے گدھوں نے قطار کا انتظام کر رکھا تھا۔ ہر جانور اس قطار کے ذریعے اپنے نمبر پر پہنچتااور اپنا سامان دے دیا کرتا۔ اس سامان میں ان کے ضعیف گھر والے بھی ہوتے اور معصوم بچے بھی۔ یہاں تک سب ٹھیکتھا۔ مسئلہ تب ہوا جب ہمارا سینیر خچر اپنا سامان اٹھوانے قطار میں کھڑا ہوا۔ ہم خچر چونکہ گدھوں سے قد کاٹھ جسامت و صحتمیں افضل ہیں لہذا سینیر خچر نے مطالبہ کیا کہ یہ قطار کی جھنجھٹ میں نہیں پڑنا، اب سے ہمیں ترجیح دی جائے۔ می لام! ہیڈ گدھےنے ہمارا جائز مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔ ہمارا سینیر خچر چونکہ طاقتور تھا لہذا اس نے شور شرابہ کر کے زبردستی اپنی بات منوانیچاہی جس پر انہوں نے ہمیں باہر نکال دیا۔

خچر نے اپنے دلائل جاری رکھے۔

می لام۔۔۔ انہوں نے ہمیں باہر نکال دیا۔ اس کے بعد اگلے دن ہم نے اتحاد بین الخچرین کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں سبقسکھانے کا فیصلہ کیا اور ان پر ہلہ بول دیا۔ مگر می لام، یہ ہمارے ارادوں سے آگاہ تھے۔ می لام! بہت کوٹا۔ اتنا کوٹا اتنا پیٹا کہ مارمار کر ہمیں تقریباً گدھا بنا دیا۔ اب ہمیں انصاف چاہیے۔

لنگور نے تمام دلائل بغور سنے اور پھر گدھوں کے قائد کو حکم دیا کہ وہ اپنا نقطہ نظر سنائے۔ گدھوں کے قائد نے قبیلِ ڈھینچوں کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا۔

می گاف! یہ حقیقت ہے کہ ہم پچھلے پانچ سال سے کٹائی دھنائی کے معاملے میں مشہور ہیں۔ می گاف پچھلے پانچ سال سے ہر نیامارخور ہم گدھوں کو اصلاحات کے نام پر مزید گدھا بنا کر چلا جاتا ہے اور ہم پھر دُکھی حیوانیت کی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ کئی بارہماری ہڑتالوں سے کئی معصوم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر می گاف، ہم پر کوئی خچروں کا جتھا حملہ کرے گا تو ہم دولتیاں توماریں گے ہی۔ یہ تو ہوگا می گاف۔ یہ تو ہوگا۔ می گاف! ہم نے انہیں خوب دھویا۔ مگر ہم غلطی پر نہیں۔ غلطی ان خچروں ہی کیہے می گاف!”

دلائل ختم ہوئے۔ اب لنگور نے فیصلہ کرنا تھا، ناصرف دونوں جانب سے زخمی گدھوں اور خچروں کا بلکہ ان معصوموں کے خونکا بھی جو ناحق ان گدھوں اور خچروں کے معرکے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جنگل کا ناجائز بادشاہ مارخور عدالت کے ایک کونےمیں بیٹھا لنگور کو لگاتار گھورے جا رہا تھا۔ لنگور کو اس کی نظروں کی ٹھنڈک سے خوف محسوس ہورہا تھا۔

اسی خوف کے مارے لنگور وقفہ لے کر اپنے ذاتی کمرے میں پہنچا۔ یہاں سات لکیریں کھینچ کر، چرس کے پانچ سوٹے مار کر وہ وجدان کی کیفیت میں جاپہنچا۔ تب ہی اسے غیب سے ایک زنانی آواز اپنے کانوں کے پردوں سے ٹکراتی محسوس ہوئی۔

ساہیوال یاد ہے تجھے؟ راؤ انوار یاد ہے؟ یاد ہے ان واقعات میں مقتولین کو درگور کرنے کے بعد قاتلوں کے بارے میں خاموشینافذ کر دی گئی؟ اے لنگور۔۔۔ یہ مقتول ان گدھوں اور خچروں سے کمتر تھے۔۔ ختم ہوگئے۔۔ خس کم اے لنگور و جہاںپاک۔۔۔ تو وہی فیصلہ کرے گا جو مؤکل کہیں گے۔۔ اور مؤکل کہتے ہیںجو چلا گیا اسے بھول جا۔ جا اور تو بھی مثالی فیصلہسنا دے۔

لنگور واپس اپنی کرسی پر پہنچا۔ ہتھوڑا اٹھایا اور زور سے مارتے ہوئے فیصلہ سنایا۔

خچر گدھوں سے گلے مل کر معاملہ ختم کریں۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *