معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

ارماڑہ کی وہ رات۔۔۔ معاذ بن محمود

  یہ قصہ  اس ایک رات کا ہے جس کا احساس میں آج بھی لفاظی کا سہارہ لے کر سہی معنوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ کوشش کرنے میں بہرحال کوئی مضائقہ نہیں۔ ۲۰۱۳ جنوری میں ان دنوں ارماڑہ نیول←  مزید پڑھیے

آداب، اخلاقیات اور شمیم آراء ۔۔۔ معاذ بن محمود

  دو عدد مثالوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ پہلی مثال: “آپ اخلاقیات کے معاملے میں شمیم آراء والی سسکیوں کے عادی ہیں”۔ دوسری مثال: “آپ کا یہ کمنٹ ہمیں برا لگا، وجہ بتانے کا میرے پاس وقت نہیں، یہ←  مزید پڑھیے

معرفت، ادراک، اولیاء اور پیرِ کامل ۔۔۔ معاذ بن محمود

جاتی عمرہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق ولی کو بھی جوانی تک ولایت کا علم نہ تھا۔ تب مذکورہ سابق ولی گاڑیوں کے ساتھ شاہدرہ کی پہاڑیوں پر تصویریں کھنچوایا کرتا۔ پھر اس نے بحالت مجبوری ایک ڈنڈا پیر کے ہاتھ پر بیعت کا اعلان کیا۔ یہاں سے اس پر ادراک کے کشف منکشف ہوئے اور وہ صوبائی ولایت سے ہوتا ہوا وفاقی ولایت تک تین بار کامیابی سے پہنچا۔ یہ شخص ولایت کے درجے پر کئی دہائیوں تک فائز رہا۔ پھر ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اسے تفویض کردہ ولایت تو محض نام کی ہے، اصل اختیار تو آج بھی پیرِ کامل کے پاس ہے۔ معاملہ اختیار تک ہوتا تو بات قابلِ فہم بھی رہتی، پیرِ کامل دراصل ولایت کے مالیات یعنی چندے کے ڈبے تک پر سانپ بن کے براجمان رہتے ہیں۔ جس دن سابق ولی کو یہ معاملہ سمجھ آیا، اس نے نے اختیار و مالیاتِ اعلی کے لیے جدوجہد شروع کر دی جو پیرِ کامل کو ہرگز پسند نہ آئی۔←  مزید پڑھیے

حقوقِ نسواں،مذاہب اور رویے ۔۔۔ معاذ بن محمود

میری ناقص رائے میں یہود بھی اپنی الہامی کتب کے حوالے سے عورت کے معاملے میں کنزرویٹو ہیں اور عیسائی بھی۔ اس کے باوجود اسلام سے پہلے کی روایات اور معاشرہ کچھ ایسا تھا کہ سیدہ خدیجہ رض نے نبی کریم ص کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ کہیں اسے برا سمجھنے کی روایت نہیں ملتی۔ آج کے اسلامی معاشرے کی عام عورت ایسا کرے تو اکثر اسے کم سے کم بھی عجیب ضرور کہیں گے۔ مطلب تب بیشک معاشرتی روایات مذہبی احکامات سے نہ ٹکراتی ہوں مگر اب ایسا ہوتا ہے۔←  مزید پڑھیے

پولی پولی ڈھولکی؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

مجھے آپ سب قارئین کی معصومیت پر پورا بھروسہ ہے۔ پھر بھی ڈھٹائی کہہ لیجیے یا چند معصومین کے وجود پر ایمان، یہ چھوٹا سا لطیفہ پھر سے سنائے دیتا ہوں۔ اس کے بعد باقی کی بات کرتے ہیں۔ ایک←  مزید پڑھیے

زرتاج گل کی ڈائری سے ایک اقتباس ۔۔۔ معاذ بن محمود

قائد کے ایک جانب ڈبو اور دوسری جانب فواد چوہدری دو زانو بیٹھے تھے۔ مجھے فواد چوہدری سے خوف محسوس ہوا۔ قائد جہاں دیدہ گھاگ ہیں۔ بھانپ گئے۔ ڈبو کی جانب گھور کر بولے فواد اٹھو اور وہاں بیٹھ جاؤ بزدار کے ساتھ، جوتیوں کے پاس۔ فواد اٹھے اور اسد عمر کے پاس بیٹھ گئے۔ قائد بولے جوتیوں کے پاس کہا ہے۔ جیم سے جوتیاں۔ چ نہیں۔ فواد معذرت خواہانہ انداز میں اٹھے اور بزدار بھائی کے پاس بیٹھ گئے۔ واپس میری طرف مڑ کر پوچھنے لگے ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں تم؟ میں نے اپنا سوال دوہرایا۔ آپ کہتے تھے قومیں میٹرو سے ترقی نہیں کرتیں۔ پھر پشاور میٹرو کیوں؟ قائد مسکرائے۔ اسد عمر کی طرف دیکھا۔ پوچھے ہے کوئی جواب؟ اسد صاحب ٹھیک سے سن نہ پائے۔ سمجھے ڈالر کا ریٹ پوچھا سو بتا دیا۔←  مزید پڑھیے

موٹاپا، ذیابیطس، کولیسٹرول اور ذاتی مشاہدات ۔۔۔ معاذ بن محمود

  متحدہ عرب امارات شفٹ ہونے کے بعد قریب ایک سال ڈرائیونگ لائسنس لینے میں لگ گیا۔ اس دوران گھر سے میٹرو، میٹرو سے آفس اور پھر واپسی کے اسی سفر کے بعد رات کے کھانے اور چائے کے بہانے←  مزید پڑھیے

موجودہ حکومت اور سکیری مووی ۔۔۔ معاذ بن محمود

انگریزی مزاحیہ فلم سیریز سکیری مووی (Scary Movie) پانچ فلموں کا مجموعہ ہے جن میں اپنے دور کی مشہور خوفناک (ہارر) فلموں کی کہانی کو لے کر طنز و مزاح کیا گیا ہے۔ یہ فلم ہر کسی کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی بالکل ویسے ہی جیسے موجودہ دور حکومت کسی کے لیے خوفناک تو کسی کے لیے ایک مزاحیہ فلم کی طرح ہے۔ جس کا شمار موجودہ حکومت کے نابینا مداحوں میں ہوتا ہے اس کے لیے یہاں تک کا سفر ہی ناقابل برداشت ہوچکا ہوگا۔ ایسی صورت میں کمنٹ باکس گالیوں کے لیے حاضر ہے۔ البتہ جس کی حس مزاح جذباتیت اور سیاسی وابستگی سے مبرا ہے اس کے لیے سکیری مووی کے کچھ مناظر پیش ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

متنازعہ موضوعات سے متعلق مکالمہ پالیسی پر ایک جائزہ

زیر قلم اس مضمون کی ضرورت تب پیش آئی جب مکالمہ کے چند قارئین نے عورت مارچ پر رائٹ ونگ کی جانب سے شائع شدہ مضامین پر اعتراض اٹھایا کہ یہ “غلط افکار” معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایسے خیالات کے حامل قارئین پر میں اس مضمون کے توسط سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مکالمہ حق اور باطل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ اختیار ہم قاری پر چھوڑتے ہیں اور اسے اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ کمنٹس میں اپنی جھنجھلاہٹ نکالنے کی بجائے ہمارے ایڈیٹرز کو اپنا جوابی مضمون بھیجیں تاکہ ہم اسے جواب یا جواب الجواب کے طور پر مکالمہ ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر شائع کر سکیں۔ میں مکالمہ کے قارئین کو اس حقیقت کی یاددہانی کروانا چاہتا ہوں کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین اختلافات کا وجود عین قدرتی ہے تاہم انہیں ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش سے انکار معاشرتی سطح پر ایک جرم کی طرح ہے۔←  مزید پڑھیے

سانحۂ کرائسٹ چرچ اور منہ کے مجاہد ۔۔۔ معاذ بن محمود

تیسرا ردعمل ان لوگوں کا سامنے آیا جو افواج پاکستان کی غلطیوں اور نامناسب پالیسیوں پر نالاں رہتے ہوئے افریقہ کے جنگلات میں مارے جانے والے مچھر کا تعلق بھی کسی نہ کسی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے جوڑ لیتے ہیں۔ اس طبقے نے اس سانحے پر سیدھی اور کھلی مذمت کی بجائے یہاں بھی کسی نہ کسی طرح بلوچستان اور گمشدہ افراد کا ذکر کر ڈالا۔ یہ راز رمز ہی رہے گا کہ یہ تعلق کیونکر اور کس طرح قائم کیا گیا تاہم حقیقت یہی کے کہ ایسے لوگ موجود ہیں اور بدقسمتی سے کئی سنجیدہ اور تعلیم یافتہ دوستوں کو ایسی باتیں کرتے دیکھا۔ ←  مزید پڑھیے

عورت مارچ اور جگت باز معاشرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

مورخہ ۸ مارچ خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ ویسے تو یہ عالمی دن پورے عالم میں منایا جاتا ہے تاہم اب کے برس پاکستانی عوام میں اس موقع پر خصوصی جوش و خروش دیکھا گیا۔ وہ←  مزید پڑھیے

رانی ۔۔۔ معاذ بن محمود

رانی کی نظر کونے میں لیٹی بیٹی شہزادی پر پڑی جس کی آنکھیں باپ کے خوف سے بند ہونے کے باوجود نم تھیں۔ اگلے کئی لمحات بشیرے کی جانب سے رانی کے بدن کو فتح کرنے کے سراب میں اپنی شکست سے آنکھیں پھیرنے میں صرف ہوئے۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اب تک اس تمام عمل کی عادی نہ ہوپائی تھی۔ جس رات بشیرے کا نشہ زیادہ ہوتا یہ جنگ جیسے لامتناہی مدت پا جاتی۔ آج بھی یہی معاملہ تھا۔ ←  مزید پڑھیے

بغض اور غداری ۔۔۔ معاذ بن محمود

بغض ایک لاعلاج مرض ہے۔ یہ مریض کو اندر ہی اندر کھاتا رہتا ہے۔ بغض کے مارے افراد حقیقت، اصول پسندی اور دلیل کا استعمال کر کے مثبت طریقے سے نتائج حاصل کرنے کی بجائے اپنی نفرت کے زیراثر ریورس←  مزید پڑھیے

وڑجیکل سٹرائیک ۔۔۔ معاذ بن محمود

بھایا۔۔ کا کر رے ہیں؟ کچھ نہیں بس خالص بھری ہاتھ لگی تھی، سوچا دو دو ہاتھ کر لیں۔ آپ سُنائیے؟ ارے کچھ نہیں بھایا۔ اوپر سے حکم آیا ہے۔ ہم کا واک پہ جانا ہوگا۔  ناہی کیجیے۔ رات کے←  مزید پڑھیے

ول یو بی مائی ویلینٹائن؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

میرے ہونے والے نئے جانو۔۔۔ بعد سلام، جو میں نے کیا ہی نہیں، اور کروں بھی کیوں کہ میری ادائیں اور میرے نخرے مجھے روکتے ہیں، عرض ہے، بلکہ حکم سمجھو کہ میں اپنے موجودہ بوائے فرانڈ سے اکتا چکا←  مزید پڑھیے

باغی کون؟ آپ یا ہم گوبھیاں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

حضور والا، راؤ انوار نے کون سا کشتہ یا کون سی سلاجیت کھائی ہے کہ اس کے پاس اس قدر طاقت آگئی کہ چار سو قتل کر کے بھی وہ اپنے گھر میں عیاشی کر رہا ہے؟ سرکار، آپ لوگ بندوق والوں کی جی حضوری کرتے ہوئے کہتے ہیں انہوں نے بالکل خواتین کی بے حرمتی نہیں کی۔ ہم آپ سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ خواتین سے دراندازی کا امکان ہم کم از کم پاک فوج کی جانب سے مکمل رد کرتے ہیں۔ ہمارے جوان اس نہج پر ہرگز نہیں جا سکتے۔ لیکن حضور، آپ کے کئی حوالدار یہ بات برملا مانتے ہیں کہ آپ ہی کے لوگوں نے خیسور کے حیات خان کے گناہوں کے بدلے اس کے باپ اور بھائی کو اٹھایا ہوا ہے۔ اور پھر آپ کہتے ہیں نامعلوم افراد بندے غائب نہیں کرتے؟ جناب عالی، سانحہ ساہیوال بیج بونے والی ریکی کس نے کی؟ آپ نمبر ون ہیں، جہاں تک ہمیں آپ کے حوالدار بتاتے ہیں۔ کیا یہ سوال اٹھانا ناجائز ہے کہ ایسے کتنے اور واقعات پیش آئے جہاں معصوم افراد کو دہشتگرد بنا کر ان کے اہل خانہ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے؟ حضور، کیا ہم نہیں جانتے کہ نقیب اللہ جیسے جوان سمیت چار سو افراد کو قتل کرنے والا راؤ انوار ذاتی حیثیت میں ہرگز اس قدر طاقتور نہیں ہو سکتا کہ اسے چھوا بھی نہ جا سکے؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ ریاست پاکستان میں وہ کون سی واحد طاقت ہے جس کے آگے تمام ادارے تمام قانون اور ضابطے بے بس پڑ جاتے ہیں؟ سرکار، کیا یہ حقیقت نہیں کہ راؤ انوار نے یہ سینکڑوں قتل اس دور میں کیے جب رینجرز کو سندھ میں کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی؟ ←  مزید پڑھیے

ہو جس سے اختلاف اسے مار دیجیے ۔۔۔ معاذ بن محمود

آج اگر ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ پولیس کے زیر حراست قتل ناجائز ہے تو پہلے اس ناجائز کو منطقی انجام تک پہنچائیے۔ جب خود کش دھماکے ہو رہے تھے تو ہمیں بیک آواز ان کی مذمت کرنی تھی پھر چاہے خود کش کے ذہن میں ستر حوریں چل رہی ہوں یا پھر ان کی برین واشنگ ہوئی ہو۔ جو سوالات ایک کھلے قتل کو سازش ثابت کرنے کے لیے آپ اٹھا رہے ہیں وہ ذیلی ہیں۔ اصل اور اہم ترین مدعا یہ ہے کہ یہ قتل ہوا ہی کیوں۔ احتجاج کرنے والے کو پولیس اٹھا کر کیوں لے کر گئی۔ کیا دھاندلی کے خلاف کنٹینر پر احتجاج کرنے والا، یا عدلیہ بحالی لے لیے لانگ مارچ کرنے والا کسی پشتون کے احتجاج کی نسبت زیادہ حق رکھتا ہے؟ اگر نہیں تو جو حق انہیں تھا آج اپنا پرامن احتجاج کرنے والوں کو کیوں نہیں؟←  مزید پڑھیے

مردِ آہن ۔۔۔ معاذ بن محمود

یہ ایک وسیع ہال تھا جسے انگریز کے زمانے میں کوئلہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں دیواروں پر رنگ کی تہہ در تہہ جمی پڑی تھی جسے ذرا سا کھرچنے پر کوئلے کی کالک حال کو←  مزید پڑھیے

ٹنڈو بہاول سے ساہیوال تک ۔۔۔ معاذ بن محمود

وہ دونوں اپنے ہنستے بستے گھرانے کی تباہی کے بدلے انصاف مانگنے سربازار کھڑی ہیں۔ زندگی کا بوجھ اٹھائے وہ حاکم وقت سے انصاف کی بھیک مانگ مانگ کر تھک چکی ہیں۔ رات ماں سے لپٹ کر دونوں جس قدر ممکن ہوا جی بھر کر رو چکی ہیں۔ آنسو ہیں کہ خشک ہیں۔ زندگی اب ویسے بھی بے معنی ہے کہ ان کے محافظ منوں مٹی تلے دفنائے جا چکے ہیں۔ ماں کی پتھرائی آنکھیں اور معاشرے کی بے حسی اب انہیں احساس سے ماورا اقدام کی چٹان پر کھڑا کر چکے ہیں۔ ان کا احتجاج اب ایک تماشے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ شاید فیصلہ ہوچکا ہے تبھی تاخیری حربے آزمائے جارہے ہیں۔ مگر فیصلہ ان دونوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ شاید کوئی اور ہوتا تو رو دھو کر خاموش ہوجاتا لیکن ہر کوئی کہاں ان دونوں کی طرح ضدی ہوا کرتا ہے؟←  مزید پڑھیے

حاجی صاحب کا اسلامی ائیر لائن میں پہلا سفر ۔۔۔ معاذ بن محمود

دورانِ سفر قصیدہ بردہ شریف کے پر کیف الفاظ ہمیں ریاست مدینہ اوّل میں لے گئے تھے۔ اس پر مزید بہتری یوں ہوئی کہ سفر کے دوران کھانے میں دو عجوہ کھجوریں اور نصف کپ اونٹنی کا دودھ ملا۔ واللہ سفر کا مزہ دوبالا ہوا۔ مزید بھوک محسوس ہوئی تو ہم نے جیب سے کے ایف سی کا بچا ہوا زنگر نکال کر پیٹ کے تین حصے بھرے۔ ایک حصہ خالی چھوڑنا ضروری تھا لہذا جہاز کے استنجا خانے میں جا کر مارلبرو کی بیڑی پھونکی کہ خالی حصے میں کچھ ہوا بھر جائے تاکہ تین حصے کھانا اس حصے پر قابض ہونے سے باز رہے۔ بخدا بندے کی نیت صاف ہو تو اللہ تبارک و تعالی دماغ میں کوئی نہ کوئی راستہ سجھا ہی دیتا ہے۔ ←  مزید پڑھیے