شدید متفق ۔۔۔ معاذ بن محمود

آج بات ہوگی بھٹی صاحب کی پریشانی کی۔ پریشانی یہ ہے کہ بھٹی صاحب آج کل دانشورانِ فیس بکیہ کے یہاں معتوب ٹھہرائے جارہے ہیں۔ عموماً یہ دانشوران یا تو اکابرین عساکر کا کمربند مضبوطی سے تھامے ہوئے ملتے ہیں یا پھر مذہب کی خنس میں کمربند کس کرباندھے پتلون شلوار کے پائنچے گھٹنوں تک چڑھائے ملتے ہیں۔ اب بھٹی صاحب جہاں پھسپھسا سا احتجاج کرنے کی کوشش کریں یہدانشوران کمرے کی کنڈی کھول کر بھٹی صاحب کو فرینڈ لسٹ بدر کیے دیتے ہیں۔ اب تک بھٹی صاحب کپڑے جھاڑتےاسی فیرناں ای سمجھییںپر ہی اکتفا کرتے پائے گئے ہیں۔

اس بے کار مضمون کی تحریک یہی قطب مینار پن ہے جس کے آگے اوّل تو نیچے اگی گھاس نظر نہیں آتی اور اگر آ بھی جائے تووالیانِ قطب مینار لپک کر اس گھاس کو کاٹ ڈالنے میں لحظہ نہیں لگاتے۔ شاید آپ کو محسوس ہو رہا ہو کہ میں بھٹی صاحب کےحق میں دلائل دینے والا ہوں۔ ایسی صورت میں ابھی بھی وقت ہے پلٹ جائیے یہ پیج بند کر کے کوئی اور کام کی بات پڑھیے کیونکہمیں آج دانشورانِ ملتِ فیس بکیہ کے حقِ وکالت کا اپنا فرض ادا کروں گا۔

مرشد جون فرما گئے ہیں

ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوں

آخر میرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

معاشرے میں دانشوروں کا ایک مسلک ایسا بھی ہے جو عوام میں گھل مل کر ان سے مکالمہ کرنے کو برا نہیں سمجھتا۔ یہ گروہ اپنیدانش عوام الناس میں دان کرنے کی کوشش کرتے کرتے دار فانی کوچ کر جاتا ہے لیکن عوام العام کا عقلی معیار پھر بھی اس عامسے معیار پر ٹکا رہتا ہے جہاں سے سفر کا آغاز ہوا تھا۔ میرے اور میرے مؤکلین کا راسخ عقیدہ ہے کہ دانشوروں کا یا جتھا دو نمبردانشور ہے۔ آخر دانش کا ایک مقام ہوتا ہے، ایک مرتبہ ہوتا ہے۔ اصیل اہلیانِِ دانش اس رتبے سے خوب واقف ہوتے ہیں۔اس رتبے تک پہنچتے جانے کتنی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ معاصر سکہ بند دانشوران کے در پر سوا لاکھ سے پون کروڑ بارشدید متفقکیگردان کرنی پڑتی ہے۔ انباکس انباکس خاک چھان کر ایسی لاتعداد باتوں کی تائید کرنی پڑتی ہے دل جن کے خلاف ہوتا ہے۔بھونڈے حلیے بکھرے بالوں والی تصاویر پرشدید محبتظاہر کرتا دل والا ردعمل دینا پڑتا ہے۔ اکثر تو ۵۰ یوم کے اندر اندر ۵۰۰۰فرینڈز بھرتی کر کے فرانڈ لسٹ پوری کرنی پڑتی ہے جس دوران ایک سے بڑھ کر ایک مجاہد کے کمنٹ کا جواب دینا پڑ جاتا ہے۔پھر کہیں جا کر امکان پیدا ہوتا ہے کہ معاصر دانشورانِ فیس بکیہ اب آپ کی وال پر فقط ایک ٹھینگا ٹھونک جایا کریں گے۔

اور اتنے جتن کرنے کے بعد آپ کو لگتا ہے ایک دانشور آپ کا اختلاف بھی برداشت کرے؟ یعنی ایک تو آپ غریب اوپر سےبدتمیز بھی؟

دانش مناسب مینٹینینس مانگتی ہے۔ انگریزی میں اسے کانٹینول امپروومنٹ کہا جاتا ہے۔ آپ کا دو ٹکے کا کمنٹ پڑھنے میں وقتصرف ہوتا ہے۔ کم سے کم اس کمنٹ تک پہنچنے میں ہی تین منٹ ضائع۔ پھر ایک منٹ پڑھنے کو اور چھبیس منٹ اس پر دلجلانے کے الگ۔ کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ میرا فاضل مؤکل آپ کے اختلافی کمنٹ کے جال میں پھنسنے کی بجائے اپنے معاصردانشور کو انباکس چیٹ یا واٹس ایپ کال کر کے کسی تازہ ترین معاملے پر دوسرے دانشوران کی آراء جان لیا کرے تاکہ اپنی رائےپھینکتے ہوئے کسی بارہ سینگھے سے اپنے سینگ نہ پھنس جائیں؟ کانٹینیول امپروومنٹ اسی کو کہتے ہیں یعنی اپنی دانشورانہ رائے کو زیادہسے زیادہ تر دیگر ہم عصر دانشوران کی رائے کے قریب تر استوار کرنا تاکہ بلاوجہ کی پھڈے بازی سے بچا جا سکے۔ اور آپ کو لگتاہے آپ کے اختلافی نوٹ کا جواب دینا ضروری ہے؟

ایک مشہور علامہ صاحب جن کا ناممیں نہیں بتاؤں گا، کے نزدیک یہ نوجوان بلیاں ہیں جو ان کا مذاق اڑاتی ہیں۔ کئی احباب انعلامہ صاحب کو نرگسیت کا مارا سمجھتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہاب یہ تو کسی کتاب میں نہیں لکھا۔ علامہ صاحب اپنے کام پراس قدر ناز کرتے ہیں کہ اپنے عام فقروں کے ٹریڈ مارک پر بھی مصر رہتے ہیں۔ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں ایک قطب مینارہوں، ایک برگد کا گھنا پیڑ جس کے نیچے گھاس اگ آتی ہے، اب گھاس اگتی ہے تو اگے، مجھے کیا۔ لہذا آپ دانشورانِ ملت سےاختلاف کی جسارت کرنے سے پہلے سمجھ لیجیے کہ آپ گوبھیاں بھی نہیں فقط برگد کے ان درختوں کے نیچے اگنے والی گھاس کی طرحہیں۔

آپ کے پاس دانش کے ان چشموں سے فیض یاب ہونے کے لیے بس ایک ہی طریقہ ہے۔ اختلاف بھول جائیے اور ایک ہیکمنٹ کیا کیجیے۔۔۔

شدید متفق۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”شدید متفق ۔۔۔ معاذ بن محمود

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *