خودداری ، دیانت، بصیرت اور علمیت سب کے لحاظ سے مولانا وحیدالدین خان موجودہ علمی تاریخ میں وحید و فقید تھے۔ پیرو مرشد شازار جیلانی جب بھی مقامی قبائلی تاریخ پر گفتگو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یوسفزئی قبیلہ پشتونوں← مزید پڑھیے
آئی۔سی۔ایس افسر کے گھر پیدا ہونے والی سلمیٰ احمد نے نگر نگر کی خاک بھی چھانی مگر طرفہ تماشا یہ کہ ہر قدم کے بعد گھر کا راستہ بھولنے میں بھی ماہر تھیں۔ مری کانونٹ سے تعلیم حاصل کرنے والی← مزید پڑھیے
ڈپریشن ڈائری بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مصنف اور پبلشر عابد میر کی ڈپریشن کے دوران لکھے گئے احساسات پر مشتمل تحاریر ہیں۔ ایسی تحاریر جنہیں عام انسان شاید اپنی پرسنل ڈائری میں بھی احاطہ تحریر میں لانے سے گھبراتا← مزید پڑھیے
اس غیرمعمولی کتاب کا مجھے انتظار تھا۔ جب بیگم صاحبہ نے کمرے میں داخل ہو کر بہترین پیکنگ میں ایک پیکٹ میری طرف بڑھایا تو بولی کتاب ہی ہوگی۔ اب اتنے برسوں بعد اسے پتہ ہے کہ میرے نام پر← مزید پڑھیے
اگر ہاشم خان کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ انگریزی کے لفظ آؤٹ کاسٹ سے بہتر کوئی لفظ نہیں ۔وہ خود سر ،خود رائے ،منہ پھٹ ،غصیل اور نہ جانے کیا کیا مشہور ہیں← مزید پڑھیے
ایک پاکستانی فلم پر ملاؤں نے بہت شور مچایا ہوا تھا۔ اگلے جمعہ مولانا صاحب خطاب میں فرما رہے تھے کہ حکومت نے اس کو بین کردیا ہے اور یہ ایک احسن اقدام ہے۔لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں پر فحاشی← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا کی نئی دنیا میں جن چند لکھاریوں نے اپنا نام بنایا یا کہہ لیں خود کو برانڈ بنایا ان میں انعام رانا کا نام شامل ہے۔ رانا کی تحریریں پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا اس سیلف میڈ انسان← مزید پڑھیے
(عرضِ مترجم: یہ مضمون معروف شیعہ متکلم اور مرجع آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی (متوفیٰ 2022ء) کی کتاب”لمحاتٌ فی الکتاب والحدیث والمذہب“ سے لیا گیا ہے۔) فلسفہ کا فتنہ مامون عباسی (متوفیٰ 833ء) کے زمانے سے یونانیوں کا فلسفہ مسلمانوں← مزید پڑھیے
ابھی ہمارے بھتیجے کی جرمن شیفرڈ ‘‘سُوزی’’ کو فیس بک یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیے چند ہی ماہ گزرے تھے کہ ہمارا بلّا ‘‘چارلس’’بھی ایک دن ہمیں ‘‘چلَٹ ’’ کے پاس سکّہ بند دانشور کے حلیے میں خود کلامی← مزید پڑھیے
قمر جمیل واقعی ادب کا قمر تھے۔ ان کی شاعری، تنقید اور فلسفے کو سمجھنے میں کچھ اور دیر لگے گی۔ وہ اپنے عہد میں رہ کر اگلے کسی عہد کی نمائندگی کررہے تھے۔ وہ اردو ادب میں جینے والے← مزید پڑھیے
کشمیر کوہم نے سات رنگوں والی آنکھوں سے بھی دیکھا لیکن اس کے رنگ شمار نہ کرسکے۔اس کے جھرنوں کے موتیوں کو کوئی مصور بنا سکا نہ کسی کیمرے کی آنکھ انہیں دیکھ سکی۔اس کے آنسوؤں کی جھیلوں میں لوگ← مزید پڑھیے
یہ کتاب خود سے خدا تک محمد ناصر افتخار نے گزشتہ سال لکھی جسے بک کارنر جہلم نے شائع کیا ـ یہ 36 مضامین پر مشتمل ہے ـ کتاب کے آخر میں قرآن مجید سے چند منتخب آیات بھی فراہم← مزید پڑھیے
ادب کی تاریخ میں خط کو براہ راست ملاقات کا درجہ حاصل ہے اور اس اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا- اردو خطوط نویسی میں رجب علی سرور اور مرزا غالب ادبی اور لسانی لحاظ سے نیک ثابت ہوئے← مزید پڑھیے
ناصر کاظمی نے کہا تھا ؎شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد تیری گلیوں ی ہَوا کھینچ کے لائی مجھ کو کسی اور کا جملہ ہے ؎دنیا دی گل ہور اے ، لاہور فیر وی لاہور اے یوں تو ہر مشہور← مزید پڑھیے
میں ناول پہ بات شروع کرنے سے پہلے ایک بات واضح کردوں کہ میں ادب کا ایک ایسا قاری ہوں جو ادب کو ایک تو حظ اٹھانے کے پڑھتا ہے اور دوسرا اس میں سماجی حقیقت نگاری کو ترجیح دیتا← مزید پڑھیے
قرونِ وسطی میں کتاب کو مقدس مانا جاتا تھا کہ اسے ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ بعض اوقات کسی ایک کتاب کی تکمیل میں پوری زندگی صَرف ہو جایا کرتی تھی، گویا کہ کتاب کےاوراق پر سیاہی نہیں بلکہ زندگی← مزید پڑھیے
اقبال اکادمی کا قیام عمل میں آیا’آغاز سے 1960ء تک اس کا صدر دفتر کراچی میں وفاقی وزارتِ تعلیم کی زیر نگرانی رہا’11اگست 1960ء کو اس کا مرکزی دفتر دار الحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا← مزید پڑھیے
ہم ایک ایسے ماحول میں سانس لینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں جس کا کبھی ہم نے سوچا بھی نہیں تھا’ہمیں ایسی بنجر تہذیب کا عادی بنا دیا گیا ہے جس کا ہمارے خواب سے کوئی سروکار نہیں۔ہم اس← مزید پڑھیے
صادقہ نصیر کے افسانے پڑھتا گیا مجھ پر یہ منکشف ہوتا گیا کہ صادقہ نصیر ایک افسانہ نگار ہی نہیں ایک ماہر نفسیات بھی ہیں جو بچوں اور عورتوں کے مسائل کے بارے میں ہمدرد دل اور حساس ذہن رکھتی ہیں۔← مزید پڑھیے
بینا نے زندگی کی جمالیاتی قدروں کو بھی سمجھا ہے اور ثقافتی شناخت کے بیانیے کو بھی سمجھا اوراس پر لکھا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری دوست بینا گوئندی نے شرق و غرب کی تہذیبی و ثقافتی شکست و ریخت کو جس انداز میں سمجھا ہے← مزید پڑھیے