انقلاب کا مقابلہ کرنے سب سے موثر جواب لاہور اور پشاور سے آیا۔ لاہور میں جان لارنس ایک اچھے منتظم تھے اور پشاور کے جان نکلسن اور ہربرٹ ایڈورڈز سخت گیر فوجی۔ انہوں نے فوری جواب کا منصوبہ بنایا۔ “ہمیں← مزید پڑھیے
ایک اہم شعر جس کی اہمیت پر کسی بھی شار ح نے غور نہیں کیا۔ یہ خیا ل کہ غالب کو دیگر مذاہب میں دلچسپی نہیں تھی یا اس کو ہندوستان کے بین المذہبی ماضی کا علم نہیں تھا، غلط← مزید پڑھیے
عظیم ہمالیہ کے حضور! جاویدخان کی اولین تصنیف ہے۔جاویدپیشہ کے لحاظ سے استاد ہیں۔ زمانہ طالب علمی سے ہی فعال نظریاتی کارکن رہے ہیں۔ ہمارے اُن چنیدہ شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔جنھیں قدرت نے پڑھنے لکھنے کاذوق اور ابلاغ کافن← مزید پڑھیے
گزشتہ کالموں میں بات بیٹنگ کی بابت جاری رہی، آج ذکر ہو جائے ہماری بالنگ کا۔ بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان میں بالنگ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اس ملک نے ہمیشہ ہی عظیم بالرز پیدا← مزید پڑھیے
پچھلے کچھ عرصے میں درجنوں تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات میڈیا کی زنیت بنے جس میں یا تو قابل اساتذہ کی طرف سے طالبات کو جنسی ہراسمنٹ کا سامنا رہا یا پھر دوسرا پہلو بھی سامنے آیا جس میں طالبات← مزید پڑھیے
گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے اداروں سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے دیکھا کہ یو ٹیوب پر کیا ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا پر کسی کو بخشا نہیں جا رہا۔ انکی ذاتی زندگیوں← مزید پڑھیے
سیّد جمال الدین افغانیؒ سے لے کر حضرت اقبالؒ تک، اور صوفی ابو انیس برکتؒ سے لے کر حضرتِ واصف علی واصفؒ تک مشاہیرِ اْمت وحدتِ اُمت کا خواب دیکھتے چلے آئے ہیں۔ کس خواب نے کس قرن اور کس← مزید پڑھیے
وہ سرُخ عرُوسی لباس پہنے بیٹھی تھی۔ قیمتی طلائی زیورات بھی اُس کے بدن کی زینت بنے ہوئے تھے۔ خوبصورت ہیروں کا بریسلٹ کلائی کا حُسن بڑھا رہا تھا۔ نفاست اور عمدگی سے کئے گئے میک اَپ نے چہرے کو← مزید پڑھیے
تصوف، صوفی ، اہل صوف یا انگریزی میں صوفی ازم کی اصطلاح اسلامی سلسلہ روحانیت کے لئے مستعمل ہے لیکن اس بات کا ادراک ضروری ہے کہ اس کے پیچھے روحانیت کا جو عظیم تجربہ ہے اس کا تعلق صرف← مزید پڑھیے
دہلی سے شمال میں کیپٹن رابرٹ ٹٹلر اس سے بے خبر اپنے 200 سپاہیوں کو کمانڈ کر رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ فوج میں کچھ گڑبڑ تو چل رہی ہے لیکن کس حد تک؟ اس کا علم نہیں تھا۔← مزید پڑھیے
ابن الحکم نے کہا،مسافر سن، میں نے شہر میں دیکھا ہر شخص نے نقاب پہنا ہوا ہے۔ اور وہ دن میں کئی بار یہ نقاب بدلتا ہے۔میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ بھائی تم نے یہ نقاب کیوں پہنا← مزید پڑھیے
خدا کے نام پہ سجدے میں سر جھکنا عبادت ہے۔ وہ دل اللہ کا گھر ہے کہ جس دل میں محبت ہے۔ میرا جینا عبادت ہے، میرا مرنا محبت ہے۔ محبت ہے خدا جیسی، خدا ہی تو محبت ہے۔ اللہ← مزید پڑھیے
ڈاکٹر حمیرا اشفاق آج کل اسلامیہ انٹر نیشنل یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ اردو کی سربراہ کے طور پر فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ میں انہیں تب سے جانتی ہوں جب ہائی سکول کی کلاس ششم میں میرا← مزید پڑھیے
سوموار کا دن تھا۔ عیسوی کیلنڈر میں 11 مئی 1857 جبکہ ہجری کیلنڈر میں سولہ رمضان۔ دہلی میں رمضان میں شہر کی زندگی بدل جایا کرتی تھی۔ دہلی کی بدترین گرمی کا دن تھا۔ دہلی کے مسلمان خاندان سحری سویوں← مزید پڑھیے
چیز کا نام لوگ خود رکھتے ہیں چنانچہ ایک ہی چیز کا نام کہیں کچھ ہوتا ہے کہیں کچھ۔ ایک ہی چیز اور ایک ہی خیال کو مختلف زبانیں بولنے والے لوگ اپنی اپنی زبان و بولی میں الگ الگ← مزید پڑھیے
قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان ِ گلشن کو ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند جو اک تصویر سی بنتی ہے، قبلہ، وہ فقط یہ ہے ۱) کہ مجبوری کا← مزید پڑھیے
دو دن پہلے میری نظروں سے ایک خبر گزری۔ “سکردو میں ایک نابالغ لڑکے “شجاعت” کے ساتھ کئی لڑکوں کی پانچ سے چھ مہینے تک مسلسل زیادتی اور باون کے قریب فحش ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔” سننے کو یہ ایک← مزید پڑھیے
دہلی کی جامعہ مسجد کے دروازے پر 18 مارچ 1857 کو ایک پوسٹر چسپاں تھا۔ ایک ننگی تلوار اور ڈھال بنی تھی، جس کے ساتھ لکھا تھا کہ یہ شاہِ ایران کی طرف سے آنے والا پیغام ہے۔ فارس میں← مزید پڑھیے
آمد ِ سیلاب ِ طوفان ِ ِ صدائے آب ہے نقش ِ ِ پا جو کان میں رکھتا ہےانگلی جادہ ہے ستیہ پال آنند بندہ پرور، یہ کرم فرمائیں اس ناچیز پر عندیہ اس شعر کاکیا ہے ، کوئی لب← مزید پڑھیے
نور نے اپنی ماں کو ایک خط لکھا پھر اسے پھاڑ دیا۔ اگلی رات اپنی ماں کو دوسرا خط لکھا پھر اسے بھی پھاڑ دیا۔ نور نے تیسری رات اپنی ماں کو پھر ایک خط لکھا اور اسے بھی پرزے← مزید پڑھیے