• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سکردو نابالغ بچے کے ساتھ زیادتی اور ہماری ذمہ داری۔۔سخاوت حسین

سکردو نابالغ بچے کے ساتھ زیادتی اور ہماری ذمہ داری۔۔سخاوت حسین

دو دن پہلے میری نظروں سے ایک خبر گزری۔

“سکردو میں ایک نابالغ لڑکے “شجاعت” کے ساتھ کئی لڑکوں کی پانچ سے چھ مہینے تک مسلسل زیادتی اور باون کے قریب فحش ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔”

سننے کو یہ ایک خبر ہے۔ کہنے کو یہ ایک واقعہ ہے۔ کانوں کے لیے ایک کہانی ہے۔ منہ کے لیے چند الفاظ ہیں مگر ان میں چھپا جو درد ہے شاید وہ کبھی اس طرح آشکار نہ ہوسکے۔ اس باپ کا درد، لڑکے کا الم، ماں کا نوحہ شاید کوئی سن نہ سکے۔

سننے میں یہ بھی آیا کہ کئی ملزموں میں سے تین ملزموں تجمل، مظفر اور مبارک نامی افراد  کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کررہا تھا۔

لوگوں کے خدشات ایسے تھے۔

“کیا صلح تو نہیں ہوجائے گی؟”

“کیا مظلوم لڑکے کو انصاف اس بار مل پائے گا؟”

“بالاخر ایسے مجرموں کو سخت سے سخت سزا کیوں نہیں دی جاتی؟”

“کیا مجرم اپنا اثر و  رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس واقعے سے خود کو بچا لیں گے؟”

وہ مظلوم لڑکا جو سبزی فروش کے پاس کام کرکے اپنا گزارا کرتا تھا۔ شاید اس کا ذریعہ معاش ہی محنت مزدوری تھی۔ جو گھر کے حالات کی وجہ سے مجبورا والدین کا ہاتھ بٹانے زندگی کے میدان میں  نکلا ہوا تھا جس کے والدین انتہائی غریب معلوم ہورہے تھے وہ کہاں جانتا تھا کہ وہ درندوں کے شہر میں رہ رہا ہے۔ جو انسان کی کھال تک نوچ ڈالتے ہیں۔ سب سے افسوس کی بات یہ تھی کہ بااثر ملزم زیادتی کے بعد اس کی ویڈیوز بھی بناتے رہے یہاں تک کہ سننے میں آیا کہ اس لڑکے کی باون یا اس سے زیادہ  ویڈیوز بنائی گئیں۔

لوگوں کے خدشات کسی حد تک صحیح بھی معلوم ہوتے ہیں۔ اگر پہلے دن سے ہی بچوں ، چھوٹی بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو عبرتناک سزا دی جاتی تو آج صورت حال شاید اتنی بھی خراب نہیں ہوتی۔

عام طور پر ایسے واقعات میں ملزمان صلح کی کوشش سب سے پہلے کرتے ہیں کیوں کہ ایسے واقعات رونما ہونے سے معاشرے میں ان کی شدید قسم کی بدنامی ہوتی ہے لہذا ان کی کوشش ہوتی ہے کہ صلح کرکے اس واقعے کو جھوٹا ثابت کیا جاسکے۔ اس معاملے میں چونکہ والدین غریب معلوم ہوتے ہیں لہذا عوامی خدشہ کسی حد تک درست معلوم ہوتا ہے۔

اگر ایسے مجرموں کو ایک دفعہ قرار واقعی سزا دی جاسکے تو اگلی دفعہ ایسے واقعات کو روکنے میں کافی آسانی ہوگی۔ عام آدمی اس خدشے کا بھی شکار ہوتا ہے کیا مہنگے وکیل ، یا کمزور کیس کہیں پھر سے مجرموں کی رہائی کا باعث نہ بن جائے۔

عام آدمی اس لیے بھی ڈرتا ہے کیوں کہ اثر رسوخ والے انسان کہیں نہ کہیں سے اپنے لیے کوئی گوشہ یا کونا نکال ہی لیتے ہیں۔ لہذا اس دفعہ بھی ایسا ہوا تو اتنی کوششوں کا کیا ہوگا۔

زیادتی کے شکار مظلوم لڑکے کے والد اور والدہ جانے کس کرب سے گزرے ہوں۔ جانے انہوں نے کتنی اذیتیں سہی  ہوں۔ وہ بیچارا لڑکا جس نے ہر خوف دباو کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتے ہوئے اپنا کیس عوامی عدالت میں لڑنے کا فیصلہ کیا، اگر اس لڑکے کو انصاف نہ مل سکا تو اگلی دفعہ عوام کا خدشہ درست ہے کہ کون اپنے لیے انصاف مانگنے نکلے گا؟ کون اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لڑے گا؟ بھلا کون سا باپ اپنے بیٹے کو وحشیوں کے گرد گرفتار دیکھ کر آواز بلند کرنے کی کوشش کرسکے گ ؟۔کون زمانے کی بدنامیاں مول لے کر حق کی آواز بننے کی کوشش کرے گا؟

وہ بچہ جو روز گھر میں چند روپوں کے ساتھ وحشیوں کی وحشت اور درندوں کی درندگی کی داستانیں بھی لے کر آتا ہو۔ جس کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد ویڈیو بھی بنا کر بلیک میل کیا جاتا ہو۔ بھلا اس مظلوم لڑکے کی نفیساتی اور ذہنی کرب کا اندازہ بھلا کوئی عام آدمی لگا سکے گا۔

وقت ہے کہ اس مظلوم لڑکے کو انصاف فراہم کیا جائےاور وقت ہے کہ ایسے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ وقت ہے کہ ابھی سے ان مظلوم بچوں کی توانا آواز بنا جائے اور ان کو انصاف دلانے کی ہرممکن کوشش کی جائے۔

میں اس لڑکے کے ساتھ کھڑے ہونے والے تمام وکیلوں، علما، طالب علم، سول سوسائٹی اور دیگر افراد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس مظلوم لڑکے کو انصاف مل سکے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *