آزادی کے بعد (12)۔۔وہاراامباکر

انقلاب کا مقابلہ کرنے سب سے موثر جواب لاہور اور پشاور سے آیا۔ لاہور میں جان لارنس ایک اچھے منتظم تھے اور پشاور کے جان نکلسن اور ہربرٹ ایڈورڈز سخت گیر فوجی۔ انہوں نے فوری جواب کا منصوبہ بنایا۔ “ہمیں فوری حرکت میں آنا ہو گا۔ اب وقت ان سپاہیوں کے شکوے دور کرنے کا نہیں رہا۔ اب انہیں کچل دینے کا وقت ہے۔ اور جتنا جلد یہ خون بہایا جائے گا، اتنا ہی کم خون بہانا پڑے گا”۔ ایڈورڈز نے یہ پیغام لارنس کو بھیجا۔ چار روز میں جہلم میں یہ عسکری کالم تیار تھا جو سبک رفتاری سے کسی بھی سمت بغاوت کچلنے جا سکتا تھا۔

نکلسن ایک سخت مزاج افسر تھے اور راولپنڈی کے کمشنر کے طور پر انہوں نے اس کا سرِعام مظاہرہ دکھایا بھی تھا۔ ایک بدنام ڈاکو کو جب انہوں نے پکڑا تھا تو اس کا سر اتار کر اپنے میز پر سجایا تھا۔ وہ سخت محنت کرنے میں بھی اور کروانے میں بھی شہرت رکھتے تھے۔ مقامی آبادی میں کچھ لوگوں میں بہت پسند بھی کئے جاتے تھے لیکن خود مقامی لوگوں کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے کہ “دنیا میں ہندوستانیوں سے زیادہ گندی اور ظالم ایک ہی قوم ہے اور وہ افغان ہیں”۔ اٹک پر قبضے میں ان کی شجاعت کی داستانوں کا چرچا تھا۔ وہ کسی کو قیدی بنانے کے قائل نہیں تھے۔
ان کے ارادے زیادہ خون آشام تھے جو انہوں نے دوسرے برطانوی افسروں سے اس وقت شئیر نہیں کئے۔ دہلی کے قتلِ عام کے بعد پشاور کے کمانڈروں نے یہ بل پیش کیا۔ “برٹش خواتین اور بچوں کو دہلی میں مارنے والوں کے لئے پھانسی کی سزا ناکافی ہے۔ ان کو لٹا کر کوڑے مارے جائیں، مصلوب کیا جائے اور جلا دیا جائے۔ لٹکا دینا انصاف نہیں۔ ان پر بدترین تشدد کیا جانا چاہیے تا کہ ہمارے ضمیر سے بوجھ اتر سکے”۔

اسی طبیعت کے ایک اور افسر ولیم ہوڈسن تھے جو انٹیلی جنس کے بے رحم چیف تھے۔ انہوں نے فوری طور پر جاسوسی کے لئے مولوی رجب علی کو دہلی روانہ کیا۔ رجب کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی تھی۔ وہ ہیڈ منشی کا کام کرتے رہے تھے اور سکھ ریاستوں میں پولیٹیکل ایجنٹ بھی رہ چکے تھے اور پنجاب میں ہنری لارنس کے ساتھ کام کرتے تھے۔

مولوی رجب علی جلد دہلی پہنچے اور مخبروں اور جاسوسوں کا بڑا اور موثر نیٹ ورک بنانے میں کامیاب رہے۔ اس نیٹورک میں ہندو بنئے بھی تھے اور مغل اشرافیہ کے لوگ بھی۔ برٹش راج پسند کرنے والے عام شہری بھی اور انقلابیوں کو ناپسند کرنے والے بھی۔ رجب علی کا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ وہ اپنے نیٹ ورک میں اہم ترین انقلابی کمانڈروں کو بھی بھرتی کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ہریانہ ریجیمنٹ کے بریگیڈ میجر غوری شنکر سوکل جن سے برٹش فوج تک حکمت عملی مسلسل پہنچتی رہی اور دوسرے سپاہی جو نہ صرف معلومات پہنچاتے رہے بلکہ وقت ملنے پر انقلابیوں کے پروگرام میں خلل ڈالتے رہے۔ رجب علی جلد ہی ملکہ عالیہ زینت محل سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئے اور بہادر شاہ ظفر کے وزیرِ اعظم حکیم احسن اللہ خان کو ساتھ ملا لیا اور شاہی محل میں پرو برٹش دھڑے کے سربراہ، مرزا فخرو کے سسر اور بہادر شاہ ظفر کے سمدھی مرزا الٰہی بخش کو۔ اس انیٹیلی جنس نیٹ ورک کو قائم کر لینے کی کامیابی جنگ میں بہت اہم رہی۔ ان کے بھیجے گئے نوٹ فقیروں اور سادھووٗں کے بھیس میں ایجنٹ لے کر جاتے تھے اور ان میں سے ہزاروں رقعے ابھی بھی نیشنل آرکائیو آف انڈیا میں محفوظ ہیں۔ یہ بہت چھوٹی لکھائی میں جوتوں یا کپڑوں میں اڑس لئے جاتے تھے۔ ان میں شہر کے حالات، توپوں کی پوزیشن، اسلحے کی صورتحال، سپاہیوں یونٹس کے درمیان اختلافات، اندرونی مسائل بتائے جاتے تھے۔

جاسوسوں سے آنے والی انفارمیشن نہ قابلِ اعتبار ہوتی تھی اور نہ ایکوریٹ۔ اکثر انفارمیشن کے دام ادا کرنے والوں کو وہ بتایا جاتا تھا جو وہ سننا چاہتے تھے۔ لیکن اگلے مہینوں میں اتنی انفارمیشن برٹش تک پہنچتی رہی کہ اس نے اس لڑائی کو طے کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس کے مقابلے میں انقلابیوں کے پاس کوئی طریقہ نہیں تھا کہ انہیں اپنے مخالفین کے بارے میں کچھ بھی پتا لگتا۔

جون کے پہلے ہفتے میں جی ٹی روڈ سے جنرل ہنری برنارڈ کی قیادت میں تین ہزار فوجی جی ٹی روڈ پر دلی کی طرف رواں دواں تھے۔ ان کے ساتھ پچاس توپیں اور فیلڈ گن تھیں۔

ہوڈسن نے پٹھان اور پنجابی رضاکاروں کو کامیابی سے بھرتی کر لیا تھا جو بغاوت کر کے چھوڑ جانے والے ہندوستانی فوجیوں کی جگہ لے چکے تھے۔ نکلسن اور ہوڈسن ملکر پوری قوت سے برٹش غصہ بہادر شاہ کے نئے آزاد ہونے والے دہلی پر اگلنے والے تھے۔ مزید رضاکاروں کی بھرتی جاری تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نئے آزاد ہونے والے دہلی میں حالات اچھے نہ تھے۔ لاء اینڈ آرڈر باقی نہیں رہا تھا۔ لوٹ مار جاری تھی۔ تاوان کے لئے لوگوں کو پکڑا جاتا تھے۔ نئے آنے والے سپاہیوں کی رہائش کی جگہ نہیں تھی۔ بہت سوں نے محل کے دالانوں میں بسیرا جمایا تھا۔ کئی نے لوگوں کی کوٹھیوں میں۔ سپاہیوں اور دہلی والوں کے درمیان چھڑپیں ہوتی تھیں۔ جو کرسچن شہر سے نکلنے سے رہ گئے تھے، اگلے دنوں میں انہیں مارا جاتا رہا۔ دہلی کالج کے پرنسپل فرانسس ٹیلر کی باری بارہ مئی کو آئی تھی۔ لیکن شہر میں کہیں سے متحد نظر نہیں آتا تھا۔ کئی لوگوں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر پرانی لڑائیاں نپٹانا شروع کر دی تھیں۔

محفوظ میوٹنیی پیپرز میں عام شہریوں کی عرضداشتیں نظر آتی ہیں جو بادشاہ سے بچاوٗ کی درخواست دے رہے تھے۔ ان میں خاص طور پر شہر کے عام لوگ تھے جن کے پاس حفاظت کے لئے مسلح گارڈ یا حویلیاں یا اونچی دیواریں نہیں تھیں۔ غریب لوگ، خاص طور پر کشن گنج اور نظام الدین میں ان جرائم سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ پہاڑ گنج اور جے سنگھ پورہ کے لوگ شاہی محل دہائی دینے پہنچے تھے کہ “تلنگے ہماری چارپائیاں، برتن اور آگ جلانے والی لکڑیاں تک اٹھا کر لے گئے ہیں”۔ ایک اور وفد تاجروں کا آیا تھا کہ ان کے سٹاک اٹھا لئے گئے ہیں۔

شہر سے باہر صورتحال زیادہ بری تھی۔ برٹش پولیس سسٹم نے امن قائم کیا تھا، وہ ختم ہو گیا تھا۔ گوجر اور میواتی قبائل کے نیم خانہ بدوش لوگوں کو لوٹنے کے لئے پھر رہے تھے۔ یہاں تک کہ بہادر شاہ ظفر نے الور کے راجا کو مدد طلب کرنے جو ہرکارے بھیجے، وہ گجروں کے ہاتھوں اپنے گھوڑے، پیسے اور کپڑے تک گنوا کر واپس پہنچے تھے۔ بادشاہ کے خط کے پرزے کر کے ان کے ہاتھ میں پکڑا دئے گئے تھے۔

ان گھومتے پھرتے لٹیروں نے دہلی کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ برٹش دہلی کا محاصرہ نہیں کر سکے تھے جبکہ لٹیروں نے عملی طور پر شہر کی سپلائی کاٹ دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہادر شاہ ظفر نے اپنا چاندی کا تخت نکلوا کر قلعی کروا کر دیوانِ خاص میں لگوایا تھا۔ یہ تخت پندرہ سال سے سٹور میں پڑا تھا۔ ہاتھی پر سوار امن و امان قائم کرنے کی اپیل کرنے ہات شہر میں نکلے۔ شہزادہ مرزا مغل خود تمام پولیس سٹیشنوں پر گئے اور حکم جاری کروایا کہ جو کوئی لوٹ مار کرتے پکڑا گیا، اس کے ناک اور کان کاٹ دئے جائیں گے”۔

اس شام کو عام دربار لگایا اور خوبصورت زبان میں فارسی روبکاری جاری کی جس نے سپاہیوں کے تمام صوبیداروں کو کہا گیا کہ وہ اپنے آدمیوں کو کنٹرول کریں۔ افسروں نے احترام سے یہ سنا لیکن ایک گھنٹے کے اندر اندر دربار میں ہنگامہ برپا تھا۔ سپاہی شکایت کر رہے تھے کہ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور دکاندار اپنے دکانیں کھول نہیں رہے۔ بادشاہ ان کے کھانے پینے کا بندوبست کریں۔

جلد ہی یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ بہادر شاہ ظفر جنگ کے لیڈر کے طور پر فٹ نہیں۔ بیاسی سال کی عمر میں ان کے پاس وہ توانائی، ولولہ، جوش و جذبہ نہیں تھا جو انقلاب کے شیر پر سواری کے لئے درکار ہوتا ہے۔

وہ اپنے دیوانِ عام کو سپاہیوں کی رہائش بنانے سے اور انہیں محل کے زنانے میں تاک جھانک کرنے سے بھی نہیں روک سک رہے تھے۔ انہوں نے سپاہیوں کے گھوڑوں کو اپنے پسندیدہ باغوں سے ہٹوانے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیرہ مئی کو ظفر نے شہر میں امن و امان لانے کے لئے پھر کوشش کی۔ شہر میں کئی جگہ لگائی گئی آگ سلگ رہی تھی۔ کوتوال سے دو سے تین سو سقوں کو انہیں بجھانے کا حکم جاری کیا۔ روز دہلی میں تین سے چار سو نئے سپاہی پہنچ رہے تھے۔ یہاں تک کہ ہندوستان بھر سے سات سے آٹھ ہزار سپاہی دہلی میں جمع ہو گئی۔ ظہیر دہلوی لکھتے ہیں،
“سپاہی آسائش میں رہ رہے تھے، بہت سے بھنگ پیتے رہتے، لڈو پیڑے، پوریاں، کچوریاں اور مٹھائیاں کھاتے اور چین کی نیند سوتے۔ دہلی ان کے پاس تھا اور جو چاہے کرتے۔ اندھیر نگری، چوپٹ راج تھا۔ عام لوگ اس سے جلد ہی تنگ آ گئے اور دعا کر رہے تھے کہ خدا اس سے نجات دلوائے اور حکومت واپس بحال ہو۔ باغی سپاہی اور شہر کے بدمعاش روز لوٹ مار کرتے امیر ہو رہے تھے۔ کچھ کے پاس تو لوٹا مال کہیں رکھنے کی جگہ بھی نہیں رہی تھی۔ عام لوگ فاقہ زدگی کا شکار تھے۔ روزگار ختم ہو گیا تھا اور کاروبار بند پڑے تھے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس لاقانونیت اور انارکی کے پسِ منظر میں مغل دربار نے، اپنی تمام تر کمزوریوں کے ساتھ، ایک مرکزی اور سیاسی اہمیت کا کردار سنبھالا۔ 1739 کے بعد سے، جب نادر شاہ نے دہلی کو اجاڑا تھا، پہلی بار روزانہ دربار لگنے لگا۔ بہادر شاہ ظفر کو ظلِ الٰہی، شہنشاہِ عالم، خلفیہ وقت، بادشاہوں کا بادشاہ، سلطانوں کا سلطان کہا جاتا۔ صادق الاخبار کے مطابق، “ہم خدا کے شکرگزار ہیں کہ اس نے ظالموں سے نجات دلوائی اور ظلِ الٰہی کو بحال کروایا”۔

لیکن شاہی خاندان خود منقسم تھا۔

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر 1770 میں دہلی لال قلعے کی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *