کتبوں کے درمیان : تعارف و تبصرہ۔۔شمائلہ حسین

SHOPPING

ڈاکٹر حمیرا اشفاق آج کل اسلامیہ انٹر نیشنل یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبہ اردو کی سربراہ کے طور پر فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ میں انہیں تب سے جانتی ہوں جب ہائی سکول کی کلاس ششم میں میرا داخلہ ہوا اور سالانہ تقریبات کے سلسلے میں تقاریر کے کسی مقابلے میں میں نے بھی حصہ لینے کی ٹھانی ۔ پروگرام انچارج مس شبانہ نیلم تھیں اور انہوں نے کسی اور سٹوڈنٹ کی لکھی ہوئی تقریر مجھے تھما دی کہ میں اس کی مشق کروں اور پھر انہیں سناؤں ۔ میں نے اس تحریر کو رٹا لگا لیا اور جب سنانے کی باری آئی تو ایک سینئر مقرر طالبہ کے حوالے کر کے کہا گیا کہ مجھے سنے اور غلطیاں درست کروادے۔ وہ سینئر طالبہ کوئی اور نہیں یہ پیاری سی ذہین اور چمکدار آنکھوں والی حمیرا ہی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تقریر بھی ان کی لکھی ہوئی تھی۔حمیرا کی خوبی یہ تھی کہ یہ صرف شکلاً ہی خوبصورت نہیں تھیں بلکہ ان کا دھیما اور مدلل انداز گفتگو انہیں دیگرطالبات سے ممتاز کرتاتھا ۔میں ان سے بہت متاثر ہوئی اورایمانداری سے مجھے اقرار کرنے دیں تو کہوں گی کہ میں نے گفتار اور ارادے میں ان جیسا بننے کی خواہش عمر بھر کی ہے اور آج بھی ان کا عورت کارڈ نہ کھیلنا اور میرٹ پر ہر میدان میں کامیاب ہونا میرے لیے مشعل راہ ہے۔

ان کا اور میرا سفر میاں چنوں سے شروع ہوا ،وہاں کے سکول، کالج پھر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اردو سے ایم اے اردو اور ایم فل اردو کرنے تک لا شعوری طور پر کہیے یا اتفاقاً میں ان کے نقش قدم پر رہی ۔ لیکن میں ابھی بھی ان جیسا بن نہیں پائی ۔انہوں نے ڈاکٹریٹ کیا ، پوسٹ ڈاکٹریٹ کیا ، بہت سی کتابیں نقد و تحقیق کیں، ان کے ہاتھوں ترتیب و تالیف اور تصنیف کے مراحل سے گزر کر اردو ادب کی روایت میں اپنا آپ منوا چکی ہیں اب ان کی کتاب ” کتبوں کے درمیان” جو کہ افسانوں کا مجموعہ ہے منظر عام پر آئی ۔ حمیرا نے بہت محبت کے ساتھ مجھے تحفتاً دی اور میں نے انتہائی کاہلی کا ثبوت دیتے ہوئے تقریباً ایک سال بعد اسے تسلی سے پڑھا۔

کتاب میں کل 19 افسانے شامل ہیں ۔ جناب احمد سلیم اور جناب حمید شاہد کے تاثرات پر مبنی تحاریر افسانوں سے قبل کتاب کا اعتبار بڑھاتی ہیں ۔ پھر افسانہ نگار کی ایک تحریر ” میں کہانی کیوں لکھتی ہوں” سے ہمیں ادیبہ کے کہانی لکھنے کی طرف رجحان کے بارے آگاہی دیتی ہے۔وہ کہتی ہیں ” کہانی لکھنے کا جواز ہر تخلیق کار کے پاس نہیں ہوتا ، میرے پاس بھی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے۔لیکن میرے شعور اور لاشعور میں گونجتی آوازوں کو صرف الفاظ کے ذریعے ہی کاغذ پر منتقل کیا جا سکتا تھا۔ٌٗٗٗٗ لہٰذا انہوں نے اپنے مشاہدات اور تجربات کو افسانے کاروپ بخشتے ہوئے تخلیق کار ہونے کی سیڑھی پر قدم رکھ دیا۔حمیرا کے افسانے کی سب سے پہلی خوبی جو قاری کو ان کی کہانی سے باندھے رکھتی ہے وہ ان کا تکنیک کے تجربات میں الجھے بغیر کہانی پن کو زندہ رکھنا ہے ۔آپ ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے ایک لمحے کو بھی یہ محسو س نہیں کرتے کہ افسانہ نگار بہت کوشش اور جان ماری کے بعد کسی واقعے کو کہانی کا روپ دینے میں کامیاب ہوئی ہوں۔جس سہولت ، روانی اور آسانی کے ساتھ وہ اپنے مافی الضمیر کو قاری کے سامنے رکھ دیتی ہیں قاری بھی اسی سہولت اور روانی سے سطروں میں بیان کردہ کیفیات سےگزرتا چلا جاتاہے ۔اسلوب کی سادگی اور پرکاری پر بات کریں تو ابلاغ کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اثر انگیزی کی صلاحیت سے بھرپور ہے۔حمیرا کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ جس طرح وہ گفتگو کرتے وقت دھیمے اور متین لہجے میں گویا ہوتی ہیں ان کے لکھے ہوئے میں بھی وہ ٹھہراؤ  اور سنجیدگی اپنا آپ دکھاتی ہے۔ انہیں بات شروع کرکے جلد ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ۔ اگر یوں کہیں کہ وہ توے سے روٹی کو کچا ہی نہیں اتار لیتیں اچھی طرح پکنے دیتی ہیں اور جلنے کے لمحے سے قبل ہی خوبصورتی کے ساتھ بات کو ختم کرتی ہیں ۔ افسانے کا اختتام وہ ایک ایسے جملے پر کرتی ہیں جو قاری کے لیے بہت سے سوالوں کا جواب ہونے کے ساتھ بہت سے نئے سوالوں کو جنم بھی دیتا ہے۔مثال کے طور پر “گھگھوگھوڑے ” کا اختتام دیکھیں۔” مٹی سے پلاسٹک تک آتے آتے جیسے انسان کی سانس اکھڑ جاتی ہے۔پلک جھپکتے ہی چابی والا گھوڑا گھگو گھوڑوں کی فوج کو پا ؤں تلے روندتا کچے صحن میں دندناتا پھر رہا تھا۔” بھاگ بھری افسانے کے آخری جملے پر غور کریں۔”پر نکل آئیں تو پنچھی کب گھونسلے میں رہتے ہیں ، یہ جھلی ہے بے چاری ۔۔۔اپنے آپ سے باتیں کرتی رہتی ہے۔” اسی طرح جب وہ شادی کے ادارے کے متعلق ایک بظاہر حقیقت پسند شوہر کے زبان سے وہ جملہ کہلواتی ہیں تو قاری بھی اس رشتے کے متعلق سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
” شادی بھی بہرحال ایک مفید رشتہ ہے ۔ دیکھو ناں! تم میری ہر خواہش کا خیال رکھتی ہو اور میں تمہاری ہر ضرورت کا۔”

ان افسانوں کے موضوعات بھی جدید دور کے مسائل اور تیسر ی دنیا کے رہن سہن کا احاطہ کرتے ہیں۔مغربی ممالک میں دوسرے درجے کے شہریوں یعنی پناہ گزینوں کے مسائل پر بھی وہ بخوبی قلم اٹھاتی ہیں ۔ مسٹر چرچل اور ایڈم اورمیں، ترقی یافتہ ممالک میں بسنے والے لوگوں کے معاشی اور معاشرتی مسائل پر بہترین تحاریر میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔حمیرا نے طبقاتی کشمکش کو بھی موضوع بنایا اور تیزی سے صنعتی سماج کی طرف بڑھتے ہوئے دور میں سادہ لوح انسانوں کے جذبات اور پریشانیوں کا ذکر بھی کیا۔گھگھوگھوڑے اور بھاگ بھری ان ہی موضوعات پر مشتمل ہیں۔حمیرا کا تعلق بھی چونکہ دیہات کی ثقافت اور رہن سہن سے ہے تو ان کے ہاں دیہات کی پیش کش بھی بہ احسن کی گئی ہے۔

SHOPPING

ان کے افسانے میں تانیثیت بھی اپنی جھلک دکھاتی ہے ۔ لیکن ہمیشہ کی طرح یہاں بھی وہ خوامخوا ہ نعرے بازی سے دامن بچاتے ہوئے بہت مہارت کے ساتھ اس سماج کی عورت کے اصل مسائل کو اجاگر کرتی ہیں۔گھریلو ،ملازمت پیشہ اور دیہات کی مضبوط عورت کے کردار ان کے افسانوں میں متحرک ہیں ۔وہ بچیوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کے موضوع پر بھی قلم اٹھاتی ہیں اسی طرح وہ ایکسٹرا میریٹل افیئر اور عورت کی دوسری شادی کے نتیجے میں پہلی شادی سے پیدا ہونے والی بیٹی پر قانونی حق نہ ہونے کے متعلق بھی لکھتی ہیں۔یہ جملے اس بے بسی کو بہ خوبی بیان کرتے ہیں۔”زین حسن نے بہت سختی سے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا: ْ تم بیٹی کی خالق تو ہو ، مالک نہیں ۔” جبکہ اس کردار کے بر عکس ایک ان پڑھ خاتون کی کہانی بھی اسی افسانے میں متوازی طور پر پیش کی گئی ہے جس نے اپنے پہلے شوہر سے نہ صرف طلاق لے لی بلکہ مقدمہ لڑ کے اپنی بیٹی کو بھی حاصل کر لیتی ہے۔حمیرا کو ایک باراکادمی ادبیات کی کسی تقریب میں کسی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے سنا ۔اس گفتگو کااختتام انہوں نے جس جملے پر کیا وہ تھا۔” اس سماج میں تین طبقے ہیں ، غریب ، امیر اور عورت ۔۔۔۔” اور سامعین کو سوچنے پر مجبور کر کے چلتی بنیں ۔ آپ بھی سوچئیے اور جب موقع ملے ” کتبوں کے درمیان ” کا مطالعہ ضرور کریں کہ اچھی تخلیق اچھے قاری تک پہنچنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا کہ کوئی اچھی بات صدقہ جاریہ سمجھ کر پہنچائی جاتی ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *