میں امی جان کے پیچھے بیٹھا ان کے کندھے دبا رہا تھا جب انہوں نے کہا “پتر سلیم، 80 سال بہت ہوتے ہیں, میں تھک گئی ہوں، جانا چاہتی ہوں، ” میں کھلکھلا کر ہنس دیا اور انہیں بانہوں میں← مزید پڑھیے
گذشتہ برس کی اس نظم نے کئی دوستوں کو رُلا دیا تھا۔ میں تو اسے بھول گیا تھا لیکن کابل سے آنے والی تاذہ ترین خبروں میں عورتوں کے حقوق کی پامالی اب برداشت کی حد سے آگے بڑھ چکی← مزید پڑھیے
کالم کا آغاز کسی اور موضوع سے ہونا تھا۔ اتوار کی صبح اُٹھ کر لیکن اخبارات پر سرسری نگاہ ڈالی تو میرے گھر اسلام آباد میں آئے “نوائے وقت” کے آخری صفحہ پر اپرہاف میں ایک خبر چھپی تھی۔ اخبار← مزید پڑھیے
جب پاکستان کو ترقی کی اشد ضرورت ہے، مذہبی اور نسلی قوم پرستی ملک کو تقسیم کرتی ہے اور ترقی کو روکتی ہے۔ ملک 1971 میں غلط تصور شدہ قوم پرستی کی وجہ سے ٹوٹ گیا، نسلی اور لسانی تعصبات← مزید پڑھیے
ہمیں بہت سا پسینہ آتا ہے۔ دلچسپ چیز یہ ہے کہ عام خیال کے برعکس پسینہ خود میں کوئی بھی بو نہیں رکھتا۔ ایکرائن پسینے کو بیکٹیریا کیمیائی طور سے توڑتے ہیں جس کی بو پیدا ہوتی ہے۔ یہ بو← مزید پڑھیے
یہ تجربہ امریکا کے ایک اولڈ پیپلزہوم میں ہوا اور اس نے پوری دنیا کی نفسیاتی شکل تبدیل کر دی، ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس تجربے اور اس کے نتائج سے واقف نہیں ہیں چناں چہ ہماری زندگی← مزید پڑھیے
رنگ خاکی رہے گا۔۔زین سہل وارثی/دروغ بگردن راوی بچپن میں اکثر ایک مثال سنا کرتے تھے، کہ کسی گاؤں میں ایک کم ذات آدمی کا بیٹا پڑھ لکھ گیا اور گاؤں واپس آیا انہی دنوں گاؤں کے چوہدری کی موت← مزید پڑھیے
نیکرو فیلیا ۔ لاشوں سے جنسی عمل اور لکھاری کی ہوس۔۔تنویر سجیل/آپ لکھاری ہیں اور آپ کسی بھی واقعہ پر طبع آزمائی کو اپنا پیدائشی حق مانتے ہیں اور جیسے ہی کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جو مذہبی شدت پسندی، سیاسی شرانگیزی یا کسی انوکھے جنسی رجحان سے لبریز ہو تو آپ کا زور قلم ایک ہیجانی جست بھرنے کو بےچین ہو جاۓ تو سمجھ لیجئے کہ آپ لکھاری سے زیادہ مداری کا روپ لے چکے ہیں۔← مزید پڑھیے
سڑک بہتر ہو گئی تھی۔ ہم ایک قصبہ پہنچ گئے تھے مگر ہمیں کوئی دو کلو میٹر دور گاؤں پیر بابا بٹئی پہنچنا تھا جو پہنچ گئے۔ اسحاق تو یہ کہہ کے کہ رات کی نماز کے بعد آؤں گا،← مزید پڑھیے
انسانی جسم میں ایک بڑی ہی اہم شے ہے جو ہمارا پسینہ ہے۔ چمپنیزی میں انسان کے مقابلے میں پسینے کے صرف نصف غدود ہیں اور یہ اپنی حرارت اتنی تیزی سے خارج نہیں کر پاتا۔ بہت سے چوپائے خود← مزید پڑھیے
پرانے زمانے میں، (تم ہی بتاؤ) کہاں تھے یہ مشروب دونوں؟ نہ ’’کافی‘‘، نہ چائے۔۔۔ فقط شوربہ، دودھ، یا سُوپ (بد ذایقہ، بکبکا، ترش، کھٹّا) کبھی گھر کے’’ ـلاہن‘‘کا ’’دس نمبری‘‘ تیز ٹھرّا ‘ یہی سب تھیں پینے کی چیزیں← مزید پڑھیے
اکتوبر 1902 کو پیرس میں پولیس کو ایک تفتیش کے لئے بلایا گیا۔ ایک متمول علاقے میں ایک شخص کو قتل کر دیا گیا تھا اور کچھ آرٹ ورک چوری کر لیا گیا تھا۔ قاتل نے سراغ نہیں چھوڑے تھے← مزید پڑھیے
آخری افطاری کی تو دل کیا کہ چاند رات کی وہ چاندنی ہر طرف پھیل جائے جو کبھی آخری روزے کی افطاری کے فوراً بعد جھلملانے لگتی تھی۔ وہ مسرت دل میں بھر جائے جسے یاد کر کے آنکھیں بھر← مزید پڑھیے
ایوو ( Yiwu ) شہر میں جہاں اور بہت پیارے پیارے پاکستانی بھائی تھے وہاں ایک ہمارے میر پور آزاد کشمیر کے شفقت بھائی ، بہت پیاری شخصیت اور بہت عرصے سے ایوو ( Yiwu ) شہر میں مقیم ۔← مزید پڑھیے
پاکستان کے بارے میں اتنا مخالفانہ رویہ اختیار کرنے کے باوجود روس نے ہمیشہ پاکستان سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا کئی بار اظہار کیا۔دراصل وہ بھارت اور پاکستان دونوں کی امریکا سے وابستگی ختم کرنا چاہتا تھا ،اقوام ِمتحدہ میں بھی اس کا یہی کردار رہا۔← مزید پڑھیے
مجھے وہ لکڑی پر لگےتازہ رندے کے بُورے پر پڑتی بارش کی خوشبو آج بھی یاد ہے جو پھر تھوڑے دنوں بعد کرنافلی اور برہم پترا میں بہائے انسانی خون میں بدل گئی تھی۔ یہ 1971 کا زمانہ تھا جب← مزید پڑھیے
سلطان فتح علی 20 نومبر 1750 کو دیوان حویلی، بنگلورو کرناٹک میں پیدا ہوئے۔ سلطان کے والد کا نام حیدر علی اور والدہ کا نام فاطمہ فخر النساء تھا۔ سلطان کے ٹیپو نام کی وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ میسور کے ایک مشہور صوفی بزرگ ٹیپو مستان اولیا گزرے ہیں۔← مزید پڑھیے
برطانوی خیراتی ادارے درخواست دہندگان کو ممکنہ میزبانوں سے ملانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اس معاملے میں تنہا خواتین کو شدید خطرہ درپیش ہے۔ بہت سے مہاجرین اپنے طور پر غیر رسمی فیس بک گروپوں کے ذریعے اپنے لئے رہائش یا پناہ گاہ تلاش کر رہے ہیں← مزید پڑھیے
” ہر سال مئی کے دوسرے اتوار ماں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔امسال بھی 8 مئی 2022 کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماں کا عالمی دن منایا جائے گا ۔اسی مناسبت سے قارئین کے تجسس اور ایک ماں← مزید پڑھیے
اپنے چہرے پر ’مکھوٹا‘ ِسا چڑھانا ایک جھوٹی شخصیت سب کو دکھانا یہ تھا میرا ’’ـچھُپ چھُپاؤ ـ ‘‘ کھیل بچپن کا جسے میں کھیلتا آیا ہوں اپنی عمر ساری (اپنی اصلی شخصیت کی راز داری) پھر ہوا کچھ یوں۔← مزید پڑھیے