نیٹ فلیکس کی ویب سیریز “بارڈ آف بلڈ” پر مختلف قسم کے تبصرے دیکھنے کو مل رہے ہیں ـ سیریز پر نکتہ چینی کرنے والے افراد عمومی طور پر دو قسم کے ہیں ـ ایک قسم پاکستانی قوم پرستوں کی← مزید پڑھیے
خواب دیکھنے پر کوئی بھی پابندی نہیں لگا سکتا مگر کچھ خواب جب حقیقت کا روپ دھارتے ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے ۔ ہم نے بھی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ایک خواب دیکھا تھا، کہ اپنے نئے کلاس← مزید پڑھیے
برطانیہ میں گاڑی کی رویژن کرانا ہر سال لازمی ہوتی ہے ۔ جس میں مکینک آپ کی موٹر گاڑی کا مکمل چیک اپ کرتا ہے اور اس کے بعد ایک سرٹیفیکیٹ جاری کرتا ہے کہ آپ وہ گاڑی روڈ پر← مزید پڑھیے
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے، اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور معافی پر دیا گیا ہے اور یہ بار بار قرآن پاک میں فرمایا کہ اللہ پاک معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، نبی کریم ؑکا ارشاد← مزید پڑھیے
مولانا فضل الرحمن کے اعلان کردہ مارچ یا دھرنے کے اہداف اور طریقہ کار کے خلاف بے تحاشہ دلائل سوچے جاسکتے ہیں۔ان کی اکثریت بہت معقول بھی سنائی دے گی۔ خدا کا واسط دیتے ہوئے مگر التجا کروں گا کہ← مزید پڑھیے
آج آپ کو سنانی تو اک بھولی بسری بہت پرانی نظم ہے لیکن کہانی لمبی ہو جائے گی کیونکہ اس نظم کا شاعر بیک وقت بہت مشہور بھی ہے اور بہت گمنام بھی، نام تھا اس کا بابا عالم سیاہ← مزید پڑھیے
1931 میں شروع ہونے والی شورش شخصی حکومت کے خلاف عوامی ابھار کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ کشمیریوں کو ماسٹر عبداللہ سے شیر کشمیر مل گیا۔ اس عوامی ابھار کے نتیجے میں پہلی سیاسی جماعت بن گئی۔ اسمبلی اور← مزید پڑھیے
وہ میری آنکھ سے پھول دیکھتی رہی میں پھو ل جس کو پہنا نہ سکا وہ بیچتا اک مالی کسی بازار میں وہ کسی چوک میں وہ کسی دربار میں کسی قبرستان کے باہر وہ بیچتا گجرے اور ہار کفن← مزید پڑھیے
یہ کہانی ہےکراچی میں رہنے والے دو بھائیوں کی،جن کا تعلق نچلے درجے کے ایک متوسط گھرانے سے تھا،لیکن انہوں نے محنت کر کے نہ صرف یہ کہ اپنا ذاتی کاروبار کھڑا کیا،بلکہ کئی لوگوں بشمول خواتین کو روزگار بھی← مزید پڑھیے
(1) ختم ہونا شام کا اک مرحلہ ہے رات کی اندھی چڑیلیں چیختی ہیں آسماں کی گیلی رسّی سےبندھے بے بس اندھیرے کالی قربانی کے بکروں کی طرح گردن بریدہ نزع کے عالم میں گرتے، ہانپتے ہیں ختم ہونا آج← مزید پڑھیے
ہو فکر اگر خام، تو آزادئ اظہار انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ۔۔۔۔ غالباً اقبال کا یہ شعر ہمارے یونیورسٹی کے ایف۔ ایم 104 (ٹھیک سے یاد نہیں) کے داخلی دروازے پہ ایک سٹکر نوٹ کے طور پر چسپاں تھا۔← مزید پڑھیے
ملکی معیشت اب تباہی کے اس دہانے پر آپہنچی ہے کہ ملکی تاریخ میں شاید پہلی بارپاکستان کے کلیدی بزنس لیڈرز کو سپہ سالار سے ملاقات کرکے شکوہ کرنے کی ضرورت پیش آگئی،بدھ 2اکتوبر کی شام ہونے والی ملاقات← مزید پڑھیے
میرا نام متالے ہے یہ افریقی زبان کا نام ہے اور میں اپنی ذہانت ،حاضر دماغی اور مردانہ وجاہت کے بل بوتے پر اپنے ملک کے وزیراعظم کا ملٹری سیکرٹری ہوں، میری تعلیم تو زیادہ نہیں، لیکن میری بہترین تربیت← مزید پڑھیے
تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے راہنماؤں میں ایک عجیب سوچ سرائیت کر چکی ہے کہ بچیوں اور عورتوں کو شٹل کاک برقعوں میں ہی قید رکھیں گے تو وہ محفوظ رہیں گی۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ گزشتہ سال← مزید پڑھیے
یہ جولائی 1975ء کا قصہ ہے جب سوئٹزر لینڈ کے دارالحکومت برن میں مجھے اطلاع ملی کہ میرا خالہ زاد بھائی والدین کی اکلوتی اولاد کیپٹن پائلٹ ساجد نذیر کوئٹہ میں اپنے جہاز کے حادثے میں شہید ہو گیا ہے۔← مزید پڑھیے
یہ اُس زمانے کی بات ہے جب ’’بابا جی‘‘ ہم ایسے گناہ گاروں کو بھی شرف ملاقات بخش دیا کرتے تھے، اُن دنوں ہمیں زندگی کے مختلف تجربات کرنے کا شوق ہوتا تھا سو کبھی کسی فقیر کے آستانے پر← مزید پڑھیے
میں جب بھی کوئی اُڑتا ہوا بادل دیکھتا ہوں تو مجھے DANIELLE بہت یاد آتی ہے اسے بادل بہت پسند تھے وہ بادلوں سے باتیں کرتی تھی بادل اس سے سوگوشیاں کرتے تھے وہ بادلوں پر نظمیں لکھتی تھی اس← مزید پڑھیے
اُس گرم سہ پہر جب ہماری ٹیکسی پرانے حمص شہر کے مرکزی سکوائر کے چکر پر چکر کاٹ رہی تھی۔ ساتھ ساتھ میری ساتھی خواتین کی بڑ بڑاہٹ بھی جاری تھی۔ تب کہیں یہ میرے گمان کے کسی کونے کھدرے← مزید پڑھیے
(چار حصّوں میں ایک نظم کہانی) (۱) تم بہت بے صبر ہو، واقف نہیں ہو ضابطوں سے زندگی کو چائے کے چمچوں میں بھر بھرکر تحمل، قاعدے سے لمحہ ، لمحہ ، مختصر وقفوں سے جینا ضابطہ ہے تم نہیں← مزید پڑھیے
سن تھا 92 کا اور ورلڈکپ ہم جیت چکے تھے۔ عمران کا سحر اپنے عروج پہ تھا جب عمران کی تصویر والی ٹکٹیں دیکھیں۔ آرمی پبلک سکول سیالکوٹ میں ٹیچرز نے ہمیں ٹکٹ بکس دیں کہ جاؤ اور بیچو۔ ۔سکول← مزید پڑھیے