سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔ ۔مروہ ال ثوبانی/سلمیٰ اعوان۔۔قسط24

اُس گرم سہ پہر جب ہماری ٹیکسی پرانے حمص شہر کے مرکزی سکوائر کے چکر پر چکر کاٹ رہی تھی۔ ساتھ ساتھ میری ساتھی خواتین کی بڑ بڑاہٹ بھی جاری تھی۔ تب کہیں یہ میرے گمان کے کسی کونے کھدرے میں بھی نہ ہوگا کہ یہیں کہیں نزدیک ہی ان ہی بلند وپست عمارتوں اور انہی ملحقہ گلی کوچوں کے سلسلوں میں سے کسی ایک میں شام کی وہ مایہ ناز مروہ ال ثوبانی اپنے دو بچوں اور شوہر کے ساتھ ایک پرانے گھر کے ایک کمرے میں گولہ بارود کی بارش کو برستے دیکھ کر بھی اِس گھر کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی۔ یہیں اِس قیامت کے ماہ و سال میں عزم حوصلے کی ایک نئی قندیل روشن کرے گی۔ہر بمباری پر شام کے گھر کیسے ہونے چاہئیں پر غوروفکر کرتے ہوئے کتاب لکھے گی جسے دنیا کے ماہر تعمیرات دانتوں میں انگلی دبا کر پڑھیں گے اور سوچیں گے کہ آخر انہوں نے اِن پہلوؤں پر کبھی غور کیوں نہیں کیا۔
شام میں ایک کہاوت رائج ہے کہ وہ جس کے پاس کچھ پرانا نہیں اس کے پاس نیا بھی نہیں۔ خانہ جنگی کے تاریک دنوں سے پہلے یہ کہاوت بڑے شدو مدّ سے نوجوان اور ماڈرن لوگوں کو طنزیہ سنائی جاتی تھی کہ جنہیں ماضی کی چیزوں سے کوئی لگاؤ دلچسپی اور وابستگی نہیں تھی۔ شہر کی چھوٹی چھوٹی گلیاں ساتھ ساتھ جڑے مکان اور ہجوم سے بھر ے بازار۔ بس اسی کائنات کے گرد زندگی گھومتی ہے۔
لیکن 2011ء میں جب مصائب کاآغاز ہوا تو یہ سب عذاب بن گیا۔ ملک تباہ ہوگیا۔ اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ لوگ غم کی شدت سے آنکھیں بند کر لیتے اور خود سے کہتے۔ اِس قیامت کا کبھی سوچا تھا؟
مروہ ال ثوبانی اکتیس سالہ دلکش خاتون، دو بچوں کی ماں جو حمص میں ڈاکٹر والد کے گھر پیدا ہوئی۔ اِسی حمص میں ہی بڑھی پلی اور ماہر تعمیرات بنی۔ یوں فیملی تو اُسے میڈیکل میں ہی بھیجنا چاہتی تھی۔ شام میں پڑھائی اور مستقبل میں پیشے  کا فیصلہ اُن کے امتحانی گریڈز کرتے ہیں۔ میڈیکل کے لئے گریڈ ز کا بہت زیادہ ہونا ضروری ہے۔ لیکن وہ بہت مطمئن تھی کہ اس کا شوق اس میں تھا۔
دمشق میں چار سالہ قیام نے اُسے سمجھا دیا کہ وہ جو بے حد تخلیقی ذہن کی مالک ہے اور چیزوں کو ایک دوسرے رخ اور زاویوں سے دیکھتی ہے۔ روایتوں اور طرز کہن سے جڑے لوگوں کو اس کا قطعی شعور نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اُسے ہر جگہ ردّ کیا گیا۔ تاہم اس نے حوصلہ نہیں ہارا۔ امید اندھی ہوتی ہے اور یہ ہمیشہ انسانی دل میں اپنا راستہ بنا کر ایک شمع جلانے کا اہتمام کر لیتی ہے۔ چار سال کی خجل خواری کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ حمص آگئی۔ جہاں ان کا آبائی گھر اور سٹوڈیو تھا۔ اُن کے سارے خواب بھی اُن کے ساتھ تھے۔
جنگ کے دوران وہ حمص کے اسی گھر میں رہی جو پرانے حمص کے قریب تھا اور جو جنگ کے دوران نو گو ایریا بن گیا تھا۔
یہ خو ش قسمتی تھی کہ اِس کا گھر محفوظ رہا۔ بچے، شوہر اور وہ خود محفوظ رہی۔ مگر دو سال تک زندگی تو جیسے قیدیوں کی سی تھی۔ دو سال تک چاند نہیں دیکھا۔ گھر سے باہر بموں کی بارش ہوتی، تڑتڑ گولیاں چلتیں۔ کھڑکیاں بجتیں اور شیشے ٹوٹتے۔ بچے سہم جاتے۔ مگر وہ انہیں حوصلہ دیتے۔خود اپنا حوصلہ بڑھاتی۔ مروہ کہتی ہے۔
”میں اپنے شوہر کی ممنون ہوں کہ حمص نہ چھوڑنے کے میرے فیصلے کو اُس نے پسند کیا۔ اپنا میرا اور بچوں کا حوصلہ قائم رکھنے میں معاون بنا۔“
تو انہوں نے اس کا مقابلہ کیسے کیا؟ سالو ں پر پھیلے ہوئے اِس خوفناک وقت کے بہت سے مرحلے تھے۔ ہر مرحلے پر نئے اور جان لیوا واقعات کا سامنا تھا۔ آغاز میں تو اس جنگ کا انداز جیسے کچھ نمائشی، کچھ تنبیہی کا سا تھا۔ لڑائی جھگڑے کی زور دار آوازیں سنائی دیتیں جو بہت پریشان کن ہوتیں۔ پھر باقاعدہ لڑائیاں تھیں۔ گلیوں میں گولیاں چلنے کی آوازیں آتیں اور آپ کو کچھ پتہ نہ ہوتا کہ باہر ہو کیا رہا ہے۔ دہشت اور خوف پر دھیرے دھیرے قابوپاتے صبح جب باہر نکلتے تو گلیوں میں کچھ نہ ہوتا۔
دھیرے دھیرے بمباری کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جہازوں او ر ٹینکوں نے چڑھائیاں شروع کر دیں۔ اس وقت اندر بیٹھے کسی بلڈنگ کے گرنے کی آواز زور دار گونج کے ساتھ اُبھرتی۔ یہ بہت خوفناک وقت تھا۔ سنپرزSnipers کے جتھوں نے علاقے کو گھیر لیا تھا۔ شکاری کی گولیوں سے جیسے پرندے گرتے ہیں اسی طرح انسان مر رہے تھے۔
علی الصبح آپ گلی میں چل رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آپ کے ایک طرف کوئی مرا پڑا ہے۔ ایسا بھی ہوتا۔ میں یا میرا شوہر باہر نکلتے۔ تو مجھ سے آگے چلنے والا اوندھے منہ گر پڑتا۔ کہیں گھات سے آنے والی گولی اُسے مار جاتی، یہ کیسے لرزا دینے والے لمحے ہوتے۔ لگتا جیسے ہم جان بوجھ کر شیر کی کچھار میں گھسے ہوئے ہیں۔ ہر شہر اس اذیت سے نہیں گزرا جو ہمارے شہر کو نصیب ہوئی۔
ہم خود سے سوال کرتے کیا ہم احمق ہیں جو اِس برستی آگ میں بیٹھے اپنا اور اوپروالے کا امتحان لے رہے ہیں۔ دو سال تک تو ہم نے کوئی کام بھی نہیں کیا۔
مروہ اپنے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ
”جب میں اپنے تباہ وبرباد شہر پر نظر ڈالتی ہوں تو بے اختیار ایک سوال میرے لبوں پر آجاتا ہے۔ اِس بے کار اور فضول جنگ کا فائدہ؟ شام اپنے تاریخی اثاثوں کے ساتھ مختلف النوع مذاہب وعقائد رکھنے والے لوگوں کا ایک روادار اور افہام وتفیہم رکھنے والا ملک تھا۔ یہ کیسے خانہ جنگی کی اِس آگ میں گر گیا؟
ہمارے پاس جو تھوڑی بہت بچت کی پونجی تھی۔ کچھ گہنے پات کی صورت میں تھا۔ وہی سب آلام وابتلا کے دنوں میں خرچ کر ڈالا۔ بچوں کی سکولنگ گھر پر میں نے اور شوہر نے مل کر کی۔ پھر وہ سکول جانے لگے۔ اور اب میں نے خود پڑھانا شروع کر دیا ہے۔ حما کی یونیورسٹی میں۔ تیس کلومیٹر کا یہ فاصلہ تقریباً بیس منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔
خطرات ابھی بھی ہیں۔ مگر ہم پُر عزم ہیں۔ ہم نے ثابت کیا ہے کہ شامی زندہ قوم ہے۔ گورنمنٹ کا کنٹرول اب آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ کچھ حصہ ابھی بھی اسلامک سٹیٹ کے پاس ہے۔ تاہم 2015ء کے سیز فائر میں اہم باغی قوتوں نے ہتھیار پھینک دئیے ہیں۔
حمص کتنا بھرپور رونق والا شہر تھا۔ یہ اب خاموش ہے۔ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ پرانا شہر جہاں مارکیٹیں تھیں، گلیاں تھیں،پرانے طرز کے گھر تھے سب ختم ہو گئے ہیں۔ اتنی تباہی ہوئی ہے کہ جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
مگر زندگی نے ہر رنگ میں جینا ہے چلنا ہے۔ آگے بڑھنا ہے۔ لوگوں نے دکانیں اُن رہائشی علاقوں میں کھول لی ہیں جو تباہ ہونے سے بچ گئے ہیں۔ شیڈوں کے نیچے ریڑھیوں پر، زمین پر، تختوں پر سامان خوردونوش بکھرا ہواہے۔
نائی بال کاٹ رہے ہیں۔ گاڑیاں دھل رہی ہیں۔ مٹھائیاں بن رہی ہیں۔ لوگ ہر قسم کا کام کر رہے ہیں۔ میرے شوہر چار پانچ گھنٹے اکاؤنٹ کا کام کرتے ہیں۔ مکینیکل انجنیئر ٹیکسی ڈرائیور بن گئے ہیں۔ حمص سالوں سے بہت سے معاملات میں شام کے کچھ شہروں کے لئے باعث تقلید تھا کہ یہاں بے گھر لوگ نہیں تھے۔ مگر اِن اسلامی گروپوں کی فیاضیوں اور خیراتوں نے اب گلیاں ان سے بھر دی ہیں۔
حالات سے ناواقف لوگوں کاخیال ہے کہ ہمارے لئے اب سب سے بڑا چیلنج ہتھیاروں کی فراہمی ہے۔ لیکن حقیقتاً سچائی یہ ہے کہ ہسپتالوں کے حالات اتنے مخدوش ہیں کہ جہاں نہ دوائیں ہیں اور نہ موزوں آلات۔ لوگ اتنے گولیوں سے نہیں مرے جتنے اب مر رہے ہیں۔
اب ذرا شہر کے ورثے کی کہانی بھی سن لیں۔ حمص اپنے دو لینڈ مارک کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل رہا۔ خالد بن ولید کی مسجد جس کے لکڑی کے منبر کی کارونگ جسے صلاح الدین ایوبی نے خود بنوایا تھا۔
دوسرے دنیاکا قدیم ترین چرچ آف سینٹ میری آف دی ہولی بیلٹ، دونوں کا بہت نقصان ہوا۔ منبر تو لوٹا گیا۔ تاہم ورجن کی بیلٹ محفوظ رہی۔ ایسا ہی قلعہ Krakdes Chevaliersکے ساتھ ہوا۔ حکومتی انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ اِسے ٹھیک کر دیا گیا ہے۔ لیکن میرے شوہر اسے دیکھ کر آئے ہیں اُن کا کہنا ہے کام اتنی عجلت میں کئے گئے ہیں کہ ان کا بودا پن صاف ظاہر ہو رہا ہے۔
کوئی میرے جذبات کا تو اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔ اپنے ملک کے اِن اثاثوں کی دوبارہ بحالی اور ان سب کی تعمیر نو جو باقی بچ گئیں کیسے اور کیوں کر ہو؟
ہم نے بہرحال اِس خبر کو سنا کہ جب حکومت نے اعلان کیا کہ پلمیراPalmyra کا قدیم شہر حکومت نے واپس لے لیا ہے۔
ہدا آپ کو تو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ شام کے صحرا کا کس قدر قیمتی موتی ہے۔ اس کا اُن ہاتھوں سے واپس حکومت کے پاس آنا کس قدر مسرت کی بات تھی کہ اُن کے نزدیک تو اِ ن اثاثوں کی تباہی ہی اُن کی نجات اور بخشش کا راستہ ہے۔ مجھے مامون عبد الکریم سیریا کے انٹیک کا مسرت بھرا لہجہ کہ جب وہ مجھے فون پر بتاتے ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا دوسرا بڑا خوشی کا دن ہے۔ لیکن یہ سب اپنی جگہ تاہم مجھے تو پلمیرا کے مایوس اور پریشان لوگوں کا خیال ہے جو گرفتار ہیں۔ زخمی ہیں۔ پریشان حال ہیں۔ جہاں نہ ڈاکٹر نہ دوائیں۔ اتنی خوفناک باتیں ہیں جودل دہلاتی ہیں۔
اب اگر میں سچائی سے کچھ کہوں۔ بعض اوقات مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیسے اپنے آپ کا اظہار کروں۔ پلمیرا کو میں نے تب دیکھا تھا جب میں سکول میں پڑھتی تھی۔ تب میں نے اِن کالموں کے گرد برقی وائرنگ دیکھی تھی۔ پرانے پتھروں پر کھدائی کیے نئے نام، غیر منظم سی شہری آبادی کا پھیلاؤ۔ سیاحت اور Restoration کو اِس درجہ نظر انداز کیا گیا کہ حیرت ہوتی تھی۔ صحرا میں نہ حفاظتی اقدامات۔ تم اس پر چھلانگیں مارو۔ اُچھلو کودو۔ So called میوزیم کی تصویریں کھینچو۔ ناقص چھت۔ سچ تو یہی ہے کہ جو تباہ ہوگیا وہ تو بہت بہتر تھا۔
میں خوب سمجھتی ہوں۔ مغرب اس کے لئے اتنا جذباتی کیوں ہے؟ لیکن جب آپ یہاں رہتے ہیں توآپ کی سوچ کے زوایے مختلف ہوتے ہیں۔
وہ اپنے خونخوار قسم کے طرز عمل کا بڑے ناقدانہ انداز میں اپنی کتاب The Battle of Home میں جائزہ لیتی ہے۔
اور اس کی اس The Battle of Homeکو کوئی سنجیدگی سے دیکھے گا کہ تباہ شدہ حمص آنے والے دنوں میں اس کی بیٹی کی خواہش کے مطابق تعمیر ہو۔
اُسے کے خیال میں بہت ساری دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک اہم شامیوں کی شناخت اور اُن کی عزت نفس کی پامالی تھی۔ شہری آباد کاریوں کے بے رحمانہ اور غیر منصفانہ تعمیرات اسی کا ایک پہلو
ہیں۔ جہاں اقلیتی اور نسلی گروہوں نے اپنے اپنے باڑے بنا لئے۔ وقت کے ساتھ شہر ایک ایسی آبادکاری میں بدل گئے جہاں مربو ط ومضبوط آباد کاروں کی جگہ چھوٹے چھوٹے سماجی فرقوں نے لے لی۔ جن کا آپس میں اور مرکز سے مربوط تعلق نہیں تھا۔ میرے نقطہ نظر کے مطابق ایک بنیادی مرکز سے تعلق اور باہمی رواداری کا نہ ہوناوہ بنیادی چیزیں ہیں جنہوں نے تباہی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
جب اس کے اردگرد بم گرتے تھے تب وہ سوچتی تھی کہ گھر کیسے ہونے چاہئیں کہ جو ایسے حالات میں انسانی زندگیوں کا تحفظ کر سکیں۔ وہ کاغذوں پر ڈرائنگ بناتی۔ شوہر سے بحث کرتی۔ حمص کے کوچہ و بازار اور گلیاں کیسی ہوں؟
وہ مستقبل کے شام کے تعمیری خدوخال پر بے حد جذباتی ہے۔ اور یہیں اس نے جی داری سے اِس قیامت کو سہا۔
جنگ کبھی کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ بے شمار عوامل کا ایک ڈھیر لگ جاتا ہے تو چنگاریاں بھڑک کر آگ کا طوفان اٹھاتی ہیں۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *