وہ خود بھی ایک بادل بن گئی۔۔۔ڈاکٹر خالدسہیل

میں جب بھی کوئی
اُڑتا ہوا بادل دیکھتا ہوں
تو مجھے
DANIELLE بہت یاد آتی ہے
اسے بادل بہت پسند تھے
وہ بادلوں سے باتیں کرتی تھی
بادل اس سے سوگوشیاں کرتے تھے
وہ بادلوں پر نظمیں لکھتی تھی
اس نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام بھی
WHISPERS OF A DREAM CLOUD
رکھا تھا
میں جب ڈینئیل سے ملا تھا
وہ ایک بچی تھی
پیاری سی بچی
سندر سی بچی
ذہین سی بچی
اس کا ذہن
ایک فنکار کا ذہن تھا
وہ کبھی گانے گاتی تھی
کبھی گٹار بجاتی تھی
کبھی نظمیں لکھتی تھی
وہ جب بھی مجھ سے ملتی
بڑے پیار سے ملتی
گلے لگا کر مجھ سے کہتی
انکل ! میں بھی آپ کی طرح ایک ہیومنسٹ ہوں
اس کی نظمیں
اس کی زندگی کی طرح
پُراسرار تھیں
وہ بچی تھی
لیکن بزرگوں جیسے سوال پوچھتی تھی
اسے زندگی کے راز
جاننے کا بہت شوق تھا
وہ زندگی کے راز جاننے کی خواہش میں
دور
بہت دور چلی گئی
اتنی دور
کہ پھر لوٹ کر نہ آئی
موت اسے اٹھا کر لے گئی
وہ خود تو چلی گئی
لیکن اپنی نظمیں پیچھے چھوڑ گئی
ڈینئیل
بادلوں پر نظمیں لکھتے لکھتے
بادلوں سے سرگوشیاں کرتے کرتے
خود بھی ایک بادل بن گئی
وہ زندگی کی قید سے آزاد ہو گئی
اب وہ جہاں چاہے
اُڑتی پھرتی ہے
میں جب بھی کوئی
اڑتا ہوا بادل دیکھتا ہوں
تو مجھے
ڈینئیل یاد آتی ہے
آج مجھے اس کی یہ نظم بہت یاد آ رہی ہے
I AM
I am like the sun on a cloudy day,
Parts of the planet don’t see me.
These days I float, inert in space,
I’m uncharted, alone, unplaced.

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۹

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *