• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سر چڑھنے والے کو اتارنے کا طریقہ سیکھ لیں وزیراعظم صاحب۔۔۔غیور شاہ ترمذی

سر چڑھنے والے کو اتارنے کا طریقہ سیکھ لیں وزیراعظم صاحب۔۔۔غیور شاہ ترمذی

تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے راہنماؤں میں ایک عجیب سوچ سرائیت کر چکی ہے کہ بچیوں اور عورتوں کو شٹل کاک برقعوں میں ہی قید رکھیں گے تو وہ محفوظ رہیں گی۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ گزشتہ سال خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے جتنے واقعات ہوئے ہیں, تقریباًاتنے ہی واقعات بچوں کے ساتھ بھی ہوئے ہیں۔ بچیوں کو اگر شٹل کاک برقعے دے کر بچانا ہے تو بچوں کو کس برقع سےبچائیں گے؟۔۔ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی آج کی دنیا میں عورت اگر مرد کے شانہ بشانہ نہیں چلے گی تو ہم نہ صرف دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو “پردہ” اور “مذہب” سے بھی برگشتہ کر دیں گے۔ اپنے گزشتہ ایک کالم “عورت 7 پردوں میں بھی سب کر سکتی ہے اس کو چھوڑیں اور حکومت کرنا سیکھیں” میں عربی ادب کی مشہور کتاب الف لیلی کی تعارفی کہانی سے شہرزاد بادشاہ اور اس کے بھائی کی کہانی کا کچھ حصہ بیان کیا تھا جس میں عرض کی تھی کہ عورت کو 7 پردوں میں بھی چھپا کر رکھیں تو اس کی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ بگڑنا چاہے تو نہیں بگڑے گی۔ عورت جب دل سے ہی چاہے گی تو وفادار رہے گی ورنہ یہ پردے, قید, سختیاں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ اس لئے عورتوں کو شٹل کاک برقعوں میں قید کر کے جاہل رکھنے کی بجائے اسے تعلیم دیں تاکہ وہ شعور حاصل کرے اور ترقی میں قدم سے قدم ملا کر چلے۔

اس کالم کے بعد دوستوں اور کچھ قارئین نے کہنا شروع کر دیا کہ ضد پر اتری عورت کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ ان سب محترم احباب سے سوال ہے کہ ضد پر اتری صرف عورت ہی کیا, کسی کا بھی کوئی علاج ہوتا ہے کیا۔ ضد پر اترا عزازیل بھی الہی راستہ چھوڑ کر ابلیس بن جاتا ہے۔ مگر ایسی ضد سے پہلے کی سٹیج تک یقیناً ایسے عوامل اور اسباب موجود ہوتے ہیں کہ کسی ضدی کی اصلاح کی جا سکے۔ الف لیلی کی اسی تعارفی کہانی کے اگلے حصہ میں ایک سوداگر اور اس کی ضدی بیوی کی کہانی بیان کی گئی ہےجو بیل اور گدھے کی کہانی کے عنوان سے موجود ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش خدمت ہے۔۔

ایک سوداگر تھا۔ ۔ اس کے پاس بہت مال و دولت تھی اور بہت سے مویشی بھی اس کی ملکیت تھے۔ سوداگر کی صرف ایک ہی بیوی تھی جس سے وہ سوداگر بہت پیار کرتا تھا۔ خدا نے اسے کئی اولادوں سے نوازا تھا، اور جانوروں, پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم عطا کیا تھا۔ ۔ اس علم کی ایک شرط یہ تھی کہ اگر سوداگر نے یہ راز کسی پر بھی ظاہر کیا تو اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ سوداگر کا مکان سمندر کے کنارے تھا۔ ۔ اس کے گھر میں ایک گدھا اور ایک بیل تھا۔ ۔ ایک روز بیل, گدھے کے تھان پر آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ جھاڑو سے صاف ستھرا تھا اور اس پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ہوا ہے ۔ گدھے کے ”توبڑے“ میں چھنے ہوئے جَو اور صاف ستھری گھاس پڑی ہے۔ کبھی کبھی اس کا مالک کسی خاص ضرورت کے لئے گدھے پر سوار ہوتا ہے مگر کام کاج کر کے فوراً واپس آ جاتا ہے۔

ایک روز سوداگر نے بیل کو گدھے سے کہتے ہوئے سنا کہ خدا تجھے خوشحالی مبارک کرے۔ ۔ میں تو تھکا ماندہ رہتا ہوں اور تُو عیش و آرام میں زندگی بسر کرتا ہے۔ ‘ تو چھنے ہوئے صاف ستھرے جو کھاتا ہے اور لوگ تیری خدمت کرتے ہیں۔ مالک کبھی کبھی تجھ پر سوار ہوکر نکلتا ہے مگر فوراً لوٹ آتا ہے۔ ۔ مجھے دیکھو کہ میں ہمیشہ ہل اور چکی میں جتا رہتا ہوں۔ گدھے نے جواب دیا کہ اچھا ایسا کر کہ جب تجھے کھیت پر لے جائیں اور تجھ پر جو رکھیں تو تُو لیٹ جائیو۔ اور اگر تجھے ماریں تب بھی مت اٹھیو۔۔ اٹھیو اور گر پڑیو۔ ۔ جب وہ تجھے گھر لائیں اور تیرے آگے چارہ ڈالیں تو مت کھائیو، گویا تُو بے حد کمزور ہے۔ اس طرح تین دن تک کھانا پینا چھوڑ دے ‘پھر تجھے بھی محنت و مشقت سے آرام مل جائے گا۔

سوداگر ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔ ۔ جب چرواہا بیل کے پاس چارہ لایا تو اس نے صرف دو ایک منہ مارے اور بس۔ جب دن صبح کو وہ بیل کو کھیت میں لے جانے کے لئے آیا تو اسے بے حد کمزور پایا۔ ۔ چرواہا بہت اداس ہوا اور سمجھا کہ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ کل دن بھر جتا رہا ہے۔ ۔ یہ خبر اس نے سوداگر کو پہنچائی اور کہا کہ اے آقا‘ بیل آج کام کے قابل نہیں ہے۔ رات بھر اس نے چارہ چھوا تک نہیں۔ سوداگر سمجھ گیا کہ کیا معاملہ ہے اور کہنے لگا کہ اچھا‘ اس کے بجائے آج دن بھر گدھے کو جوت۔ جب دن بھر جتنے کے بعد گدھا شام کو گھر آیا تو بیل نے اس کی مہربانی کا بہت شکریہ ادا کیا کیونکہ اس کی وجہ سے وہ دن بھر عیش و آرام سے رہا۔ لیکن گدھے نے کچھ جواب نہ دیا اور دل ہی دل میں شرمندہ تھا۔ ۔

اگلے دن جب گدھا دن بھر کا تھکا ماندہ گردن ڈالے ہوئے واپس آیا تو بیل نے اسے دیکھ کر پھر اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کی تعریف کی۔گدھے نے کہا کہ سن میں تیری خیر خواہی چاہتا ہوں ۔‘اس لئے میں تجھ سے یہ کہتا ہوں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا ہے کہ اگر بیل اپنی جگہ سے اٹھنے کے قابل نہ رہا تو اسے قصاب کے حوالے کر دینا چاہیے تاکہ وہ اسے ذبح کر ڈالے اور اس کی کھال کے ٹکڑے کر ڈالے۔ اس لئے مجھے تجھ پر ترس آتا ہے اور میں تجھے محض نصیحت کرتا ہوں اور بس۔

جب بیل نے گدھے کو یہ کہتے سنا تو اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا کہ کل میں ان کو پریشان نہ کروں گا۔ اس روز اس نے سارے چارے کو صفا چٹ کر دیا، یہاں تک کہ خالی توبڑا چاٹنے لگا۔ ۔ جب صبح ہوئی تو سوداگر اپنی بیوی کے ساتھ بیل کے تھان پر گیا۔ اتنے میں چرواہا آیا اور بیل کو لے کر جانے لگا۔ جب بیل نے آقا کو دیکھا تو اکڑ کر چلنے اور ریح خارج کرنے لگا۔ اس پر سوداگر کو اتنی ہنسی آئی کہ اس کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔ اس کی بیوی نے کہا کہ تم کس بات پر ہنستے ہو۔

اس نے جواب دیا کہ ایک راز کی بات ہے جو میں نے سنی اور دیکھی ہے۔ اور اگر میں اسے ظاہر کر دوں تو مر جاﺅں گا۔ ۔ بیوی نے کہا کہ خواہ تم مر ہی کیوں نہ جاﺅ تمہیں اپنی ہنسی کی وجہ ضرور بتانی پڑے گی۔اس نے دوبارہ کہا کہ مرنے کے ڈر سے میں اظہار نہیں کر سکتا۔ بیوی نے کہا کہ ہو نہ ہو تم مجھ پر ہنستے ہو۔ پھر اس نے اتنا اصرار کیا کہ سوداگر مجبور ہو گیا۔ اس نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو جمع کیا اور قاضی اور گواہوں کو بلوایا اور یہ ٹھان لی کہ آخری وصیت کر دے اور بیوی کو راز بتا دے اور جان دے دے‘ کیونکہ وہ اسے بہت پیاری تھی اور اس کی چچیری بہن اور اس کی اولاد کی ماں تھی اور اس کی عمر ایک سو بیس سے زیادہ ہو چکی تھی۔

اس نے سارے اہل و عیال اور محلے والوں کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ میرے پاس ایک بھید ہے جس کسی کے پاس یہ بھید ہو اور وہ اسے ظاہر کر دے تو اس کی سزا موت ہے۔ اس پر تمام حاضرین نے بیوی سے کہا کہ خدا کے لئے اس بات کو جانے دو۔ خدانخواستہ کہیں تمہارا شوہر اور تمہارے بچوں کا باپ مر نہ جائے۔ بیوی نے کہا کہ اسے اپنا بھید بتانا پڑے گا خواہ وہ مر ہی کیوں نہ جائے۔ ۔ یہ سن کر وہ سب خاموش ہو گئے۔سوداگر اٹھا اور جانور خانے کی طرف گیا تاکہ وضو کرے اور واپس آئے اور راز کہے اور مر جائے۔ اس کے یہاں ایک مرغا اور پچاس مرغیاں تھیں اور ایک کتا بھی تھا۔ سوداگر نے سنا کہ کتا , مرغے کو سخت سست کہہ رہا اور گالیاں دے رہا اور چلا کر کہہ رہا ہے کہ تو خوشیاں منا رہا اور ہمارا آقا مرنے جارہا ہے۔
مرغے نے کتے سے کہا کہ یہ کیونکر؟ کتے نے مرغے کے آگے سارا ماجرا شروع سے آخر تک کہہ ڈالا۔ مرغے نے کہا واللہ ہمارا آقا بھی کیسا ناسمجھ آدمی ہے۔ مجھے تو دیکھ کہ میری پچاس بیویاں ہیں۔ کبھی ایک کو راضی کرتا اور کبھی دوسری کے ساتھ صلح کرتا ہوں۔
آقا کے پاس تو ایک ہی بیوی ہے‘ پھر بھی اس کے آگے اس کی نہیں چلتی۔ وہ ایسا کیوں نہیں کرتا کہ شہتوت کی چھڑیاں توڑے اور اسے تہہ خانے میں لے جا کر اتنی چھڑیاں لگائے کہ یا تو وہ مر جائے یا توبہ کرے کہ اب میں تجھ سے کچھ نہیں پوچھتی۔

سوداگر نے یہ سن کر شہتوت کی چھڑیاں توڑیں اور تہہ خانے میں چھپا دیں۔ اس کے بعد وہ اپنی بیوی کو لے کر اس میں داخل ہوا اور اس سے کہنے لگا کہ میں چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ راز یہاں تہہ خانے میں کہوں اور یہیں مر جاﺅں تاکہ کوئی اور مجھے نہ دیکھے۔ پھر اس نے کواڑ بند کر دیے اور اپنی بیوی کو اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئی اور کہنے لگی کہ میں توبہ کرتی ہوں۔ اور وہ اس کے ہاتھ پاﺅں جوڑنے اور توبہ کرنے لگی۔ آخر کار دونوں تہہ خانے سے نکل آئے اور تمام لوگ خوش ہوگئے اور مرتے دم تک دونوں نے ہنسی خوشی زندگی بسر کی۔

عرض ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ صرف عورت ہی بےجاء ضد کرتی ہے۔ یہ برائی مردوں میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ سیاسی لیڈروں میں بھی موجود ہے اور ان کے کارکنوں میں بھی۔ بچہ جمہورے بھی ضدی ہو سکتے ہیں اور ان کے مداری بھی۔ اس لئے سر پر چڑھے ہوئے کو نیچے اتارنے کے لئے جو فارمولا اس کہانی میں پیش کر رہا ہوں وہ صرف ضدی عورت پر ہی نہیں لاگو ہوتا بلکہ بےجاء ضد کرنے والے ہر ذی روح کے لئے بھی یہی فارمولا ہے۔وزیر اعظم صاحب اگر چاہیں تو اس کا برمحل و موقع استعمال کرکے اور کروانے کی بےجاء ضد کو سدھارنے اور اپنے ان پارٹی لیڈروں و ورکروں پر بھی کماحقہ کر سکتے ہیں جن کی بےجاء ضد اور مطالبات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *