• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مشت زنی سے متعلق آگاہی پر اعتراضات کے جوابات ۔۔۔ حمزہ ابراہیم

مشت زنی سے متعلق آگاہی پر اعتراضات کے جوابات ۔۔۔ حمزہ ابراہیم

SHOPPING
SHOPPING

پاکستان میں جنسی تعلیم کے سلسلے میں سب سے  اہم موضوع مشت زنی یا خود لذتی کا ہے۔ وزارتِ صحت  اور پاکستان کی فلاحی تنظیموں کو اس سلسلے میں دیواروں اور اخباروں میں چھپنے والے جھوٹ کے خلاف کاروائی کرنے میں شرم، غیر ذمہ داری  اور نا اہلی جیسے مسائل لاحق ہیں۔ نہ صرف صحت عامہ کیلئے اس جھوٹی وال چاکنگ پر پابندی ضروری ہے بلکہ وزارتِ داخلہ کو یہ معاملہ جرائم کی روک تھام  کا حصہ سمجھنا  چاہئیے۔خود لذتی/مشت زنی کے بارے میں آگاہی کے عنوان سے چھپنے والے مضمون پر لوگوں نے کچھ سوالات پوچھے ہیں، جن کی اہمیت کے پیش نظر ان کو ایک مضمون کی شکل دی جا رہی ہے۔

سوال: کیا آپ سے مشورے کیلئے رابطہ کیا جا سکتا ہے؟

جواب: اس مضمون کی تیاری میں پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید کی ریسرچ سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔بہتر ہے آپ لاہور میں  ان کے کلینک سے رابطہ کریں۔ ان  کی ویب سائٹ ، نور کلینک، اور سوشل میڈیا پر دیا گیا رابطہ  نمبر یہ ہے: 03009484655

سوال: بڑوں کو جنسی تعلیم دینے کی بات کرنے کے بجائے آپ بچوں کو جنسی تعلیم دینے کی بات کیوں نہیں کرتے تاکہ وہ خود کو بچا لیں؟

جواب: بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ  والدین کے علاوہ کوئی بڑا ہاتھ ملانے کے علاوہ ان کے جسم کو چھوئے تو انھیں شور مچانا اور والدین یا استاد کو بتانا چاہئیے۔ لیکن کمزور بچوں پر اس وبا سے نبٹنے کی  ذمہ داری ڈالنا غلط ہے۔ جب معاشرے میں جرائم ہو رہے ہوں تو سب سے پہلی ترجیح مجرموں کی نفسیات اور ان کو جرم پر اکسانے والے عوامل کو سمجھنے کو دینی چاہئیے۔ ہمارے معاشرے میں بڑوں کو جنسی تعلیم کی زیادہ ضرورت ہے۔

سوال: مشت زنی کا فائدہ کیا ہے؟

جواب:  اس کا فائدہ مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔ ”حکیمانہ“ انداز میں سننا چاہیں تو ٹھوس حقائق اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مشت زنی ذہنی سکون اور توجہ میں اضافہ کرتی ہے۔ دوران خون اور بلڈ پریشر میں بہتری پیدا کرتی ہے۔ مشت زنی کرنے سے حافظے کی قوت میں بہتری آتی ہے۔ مشت زنی کے بعد ورزش کرنے سے جسم تروتازہ ہو جاتا ہے۔ اعلی تعلیمی اداروں تک وہی بچے پہنچتے ہیں جو باقاعدگی سے مشت زنی کرتے ہیں۔ وہی اچھی ملازمتیں حاصل کرتے ہیں اور امیر ہوتے ہیں۔ پھر انہی کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے اور اچھی غذا کھاتے ہیں۔ جو لوگ مشت زنی کرتے ہیں وہ زیادہ متقی ہوتے ہیں۔ انکے روح آرام اور سکون والی اور انکی عقل ہیجان سے پاک ہوتی ہے۔

سوال: مشت زنی نہ کرنے کا نقصان کیا ہے؟

جواب: نقصان بھی مضمون میں بیان ہو چکا ہے، البتہ حکیموں والے انداز میں پڑھنا چاہیں تو یہ ہے:  جو مشت زنی نہیں کرتا اس پر نحوست چھا جاتی ہے۔ وہ چڑچڑا ہو جاتا ہے۔ اس کو چکر آنے لگتے ہیں، اور آنکھوں کے سامنے سائے  بننے لگتے ہیں۔ اس کا دماغ الجھاؤ کا شکار رہتا ہے اور وہ گھر والوں اور  دوستوں سے سڑی ہوئی باتیں کرتا ہے۔ وہ معصوم بچوں کی ٹانگوں اور بازؤں پر ہاتھ پھیرتا ہے اور بعض اوقات ان کو تنہائی میں لے جا کر جنسی درندگی کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ وہ غربت اور جرائم کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔  وہ بیوی سے لڑتا رہتا ہے۔ وہ  بس میں بیٹھی  یا بازار میں چلتی خواتین کو ہاتھ سے چھوتا ہے۔ جنسی ہراسانی کا ارتکاب کر کے دنیا و آخرت میں رسوا ہوتا ہے۔ مشت زنی سے نفرت کا مریض نشہ کرنے لگتا ہے۔ مشت زنی سے فرار کی کوشش میں نوجوان دہشتگرد تنظیموں میں پھنس جاتے ہیں اور انہیں دہشتگردی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مشت زنی نہ کرنے والے کے جسم پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے،  وغیرہ وغیرہ!

سوال: حکیم حضرات کیوں مشت زنی کے خلاف ہیں؟

جواب: اگر وہ فرضی جنسی مسائل کی تشہیر کر کے پیسے نہ کمائیں تو کیا دل کا ہسپتال  کھول سکتے یا گردے کے آپریشن کر سکتے ہیں ؟ حکیموں کا تو دھندہ جھوٹ پر قائم ہے۔ وہ اگر مردانہ کمزوری سے نہ ڈرائیں تو کمائیں گے کہاں سے؟ مشت زنی کے خلاف پروپیگنڈا ہی انکا گھر کا خرچہ چلا رہا ہے۔ یہ سوچ بالکل جاہلانہ ہے کہ  کوئی  مشت زنی کرے تو اسکی اولاد نہیں ہوتی ۔ مشت زنی مردانہ قوت میں اضافہ کرتی ہے۔ ہم میں سے اکثر  کے والدین یہ کام کرتے تھے۔ ہاں بہت زیادہ مشت زنی کی جائے، یعنی روزانہ پانچ یا دس بار، تو بخار ہو سکتا ہے، لیکن اکثر لوگ روزانہ ایک سے تین بار کرتے ہیں۔ بیوقوف لوگ  نہ ہوں تو حکیموں کو مزدوری کر کے حلال کمانا پڑ جائے گا۔سکون کو کمزوری نہ سمجھیں۔ غلط فہمیاں آپ کا وقت ضائع کریں گی۔

سوال: کیا مشت زنی سے بیماریاں پھیلتی ہیں؟

جواب:  بیماریاں جراثیم کے منتقل ہونے سے لگتی ہیں۔ آپ اس  کام سے پہلے  ہاتھ پر صابن یا شمپو  لگا لیا کریں۔

سوال: کچھ علماء  کیوں کہتے ہیں کہ مشت زنی حرام ہے؟

جواب: اکثر مذہبی علماء اس کو گناہ یا حرام نہیں سمجھتے۔ شادی شدہ حنفی علماء اسے بے کار اور لغو قرار دیتے ہوئے مکروہ ضرور سمجھتے ہیں لیکن اہل حدیث علماء کے نزدیک بعض آثار میں اس کے شواہد ملتے ہیں کہ یہ مباح ہے۔ مولانا مودودی سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ محلے کی عورتوں کو بری نظر سے دیکھنے کے بجائے بہتر ہے کہ آدمی اپنا پانی نکال لے۔ البتہ بعض جھوٹی روایات بیان کی جاتی ہیں کہ ایسا کرنے والا سخت سزا کا مستحق ہے اور اسے قیامت کے روز سخت عذاب دیاجائے گا اور اس کے ہاتھ حاملہ ہوں گے ۔ یہ سراسر بہتان اور گھڑی ہوئی جھوٹی روایات ہیں۔ جھوٹی حدیث بیان کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

کچھ علماء اس کو حرام سمجھتے ہیں، اور اس کی متعدد وجوہات ہیں:

  1. جو کام انسان کے فائدے کا ہے اس سے خالق نے منع نہیں کیا اور جس سے جسم کو نقصان پہنچتا ہو اس سے منع کیا ہے۔ جیسے ایسی حالت میں روزہ رکھنا کہ جان کو خطرہ لاحق ہو، حرام ہے۔ علماء کو چونکہ انسانی جسم کے بارے میں معلومات نہیں ہیں لہذا وہ اخباروں اور دیواروں پر لکھے جھوٹ کے زیر اثر اس کو انسان کیلئے نقصان دہ سمجھ کر حرام قرار دیتے ہیں۔
  2. کچھ علماء یہ سمجھتے ہیں کہ مشت زنی شہوت کیلئے کی جاتی ہے۔ چونکہ اسلام میں شہوت رانی کو پسند نہیں کیا گیا اس لیے وہ مشت زنی کے خلاف جوشیلی تقریریں کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ‏مشت زنی اور شہوت رانی الگ ہیں۔ شہوت کیلئے مشت زنی کم ہی کوئی کرتا ہے۔ مشت زنی خصیئے خالی کرنے کیلئے کی جاتی ہے۔ اسکا حکم پیشاب کرنے جیسا ہے اور اسکا مقصد شرمگاہ کی حفاظت ہے۔ کچھ علماء یہ سمجھتے ہیں کہ مشت زنی کی وجہ جدید ماحول ہے۔ چنانچہ ٹی وی اور موبائل فون وغیرہ لے لیے جائیں تو بچے مشت زنی نہیں کریں گے۔ دینی ماحول خصیئوں پر دباو کم نہیں کر سکتا۔ مشت زنی کرنی ہو گی اور یہ نہایت پاک اور صحت مند سرگرمی ہے۔  نماز سے خصیوں میں بنی منی نہیں نکلتی۔ نماز اپنی جگہ ہے اور مشت زنی اپنی جگہ اہم ہے۔  آپکو پیشاب آئے تو نماز کی نہیں، پیشاب نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خصیئوں میں منی بھر جائے تو نماز سے نہیں ٹلتی۔ روزے رکھنا بھی  نماز کی طرح روح کو پاک کرتا ہے۔ لیکن اس سے منی بننے کا عمل نہیں رک جاتا ۔ الٹا بدن میں چربی کم ہو تو رگیں کھلی ہو جاتی ہیں اور منی زیادہ تیزی سے بنتی ہے۔ اسی لیے موٹے پیٹ والے حضرات میں منی کم بنتی ہے، اور جن کے جسم میں چربی کم اور مسلز زیادہ ہوں، انہیں جنسی عمل کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔ نفس پر قابو رکھنے کیلئے مشت زنی کر کے ہیجان دور کرنا ہو گا۔
  3. مشت زنی تو زمانہ قبل از تاریخ سے جاری ہے۔ ہزاروں سال پرانے کھنڈرات سے ڈلڈو ملے ہیں۔ پچھلے مضمون میں ایک مسلمان کا ذکر ہوا ہے  جو شاہراہ پر سب کے سامنے مشت زنی کر رہا تھا اور اس  کو حضرت علی کے سامنے لایا گیا  تو  آپ نے اس کو غالبا  سر عام فحاشی کے جرم میں  معمولی سزا دی۔ قرآن و سنت میں اسکو واضح طور پر حرام نہیں کہا گیا نہ اسکی سزا متعین ہوئی ہے۔  حالانکہ لواطت اور گالیاں بکنے اور جانوروں سے جنسی تعلق پر قرآن و حدیث میں مفصل اور الگ سے بات ہوئی ہے۔ جو چیز جدید علم طب کے مطابق انسان کیلئے صحت افزا ہے اسکو انسان کا خالق بھی حرام نہیں کہتا، مگرکچھ لوگ  ادھر ادھر سے آیتوں اور حدیثوں کے معنی  گھما  کر اور قیاس آرائیاں کر کے  اسکو حرام کہہ دیتے  ہیں، ان کے لاشعور میں وہی حکیموں کی کہانیاں ہوتی ہیں۔ مثلا  ہاتھ کا زنا بھی نامحرم کو چھونے (جنسی ہراسانی) کو کہا گیا ہے، جیسا کہ زبان کا زنا  نا محرم پر جنسی  جملے کسنا ہے، لیکن یہ علماء  اس میں مشت زنی کو شامل کر دیتے ہیں۔ مسلمانوں میں کاغذ عام ہونے اور چھاپہ خانہ آنے سے پہلے مشت زنی ہر کوئی کرتا تھا۔ پھر نئے ذرائع ابلاغ سے پروپیگنڈا کرنا آسان ہوا تو حکیموں نے لوگوں کے ذہنوں کو پریشان کرنا شروع کیا۔  یہ ہمیشہ سے  اتنی عام  ہے جتنی لواطت نہیں، اس کو اگر حرام کیا جاتا تو قرآن میں واضح آیات نازل ہوتیں۔

سوال: آپ نکاح کو عام کیوں نہیں کرتے؟

جواب: اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا؟

نکاح پہلے ہی عام ہے۔ آپ اس غلط فہمی سے نکلیں کہ  لوگ نکاح نہیں کرنا چاہتے۔ یہ کہنا کہ نکاح کو عام کرنے کی ضرورت ہے ایسا ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ لوگوں کو گھر بنانے کی ترغیب دینی چاہئیے یا لوگوں کو کھانا کھانے کی ترغیب دینی چاہئیے تاکہ لوگ کھانا کھائیں۔ لوگ پہلے ہی کھانا کھانا چاہتے ہیں، سڑک کے بجائے گھر بنا کر اس  میں سونا چاہتے ہیں،  ہر انسان بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ لیکن نکاح دیر سے کیوں ہوتا ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ سنت کے مطابق بھی نکاح کی عمر 25 سال ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ نکاح کا مطلب ہے کہ بچوں کیلئے گھر اور سکول کے اخراجات کے قابل ہونا۔ اسلئے اس میں دیر ہی بہتر ہے۔ بچے پیدا کر کے مدرسے کے قاری صاحب کے حوالے کرنا غلط ہے۔ بیس سال کی  عمر میں نکاح کر کے بچے پیدا کرنے کے بجائے اپنی پڑھائی مکمل کرو اور غربت دور کرو۔ پاکستان کے 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، بھوکے ننگے والدین نے پیسے کمانے کے بجائے سیکس کرنے پر زیادہ توجہ دی۔ بچپن میں دودھ اور کھانا کم ملنے کی وجہ سے انکے دماغ کمزور ہو جاتے ہیں۔

دوسری بات، میں نکاح کو کیسے عام کروں؟ نکاح کا لنگر نہیں کھولا جا سکتا۔ نکاح کی خیرات نہیں کی جا سکتی۔  اس بات کو سمجھیں، جلدی سے پڑھ کر گزر نہ جائیں۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ نکاح کے بعد بھی مشت زنی کی جا سکتی ہے۔ اگر بیوی کا سیکس کرنے کو دل نہ چاہے تو شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ زبردستی کرنے کے بجائے مشت زنی کر لی جائے۔ لہٰذا مشت زنی کی اپنی اہمیت ہے اور نکاح کی اپنی اہمیت ہے۔

سوال: مشت زنی کر سکتے ہیں تو نکاح کیوں کریں؟

جواب: یہ سوچ ہی غلط ہے کہ نکاح کا مقصد سیکس کرنا ہے۔ اگر آپ کو شادی کے بعد پتا چلے کہ آپ کی بیوی نے آپ سے شادی صرف سیکس کرنے کیلئے کی ہے تو کیسا لگے گا؟ نکاح کا مقصد پوری زندگی کا اشتراک ہے۔ اس کا مقصد عشق و محبت ہے۔ مشت زنی عشق کی جگہ لے سکتی ہے؟ کبھی کسی شاعر نے مشت زنی کی مدح میں غزل کہی ہے؟ اسی طرح مشت زنی آپ کو اولاد نہیں دے سکتی۔ نکاح آپ کو اولاد دیتا ہے۔ نکاح کے بعد آپ مل کر گھر بناتے ہیں جہاں آپ بڑھاپے تک رہتے ہیں اور وہیں فوت ہوتے ہیں۔ آپ بیمار ہوں تو نکاح آپ کو تیمارداری کرنے والی زوجہ یا خاوند دیتا ہے، خیال رکھنے اور پیار کرنے والے بچے دیتا ہے۔ نکاح انسان کی ضرورت ہے۔ زمانۂ قبل از تاریخ میں بھی لوگ شادی کرتے اور گھر بناتے تھے۔ ہمارے آباد و اجداد ٹیکسلا، ہڑپہ، موئنجو ڈارو میں شادیاں کرتے تھے۔

سوال: کیا کم کھانا کھانے سے منی بننے کا عمل سست کیا جا سکتا ہے؟

جواب: ۔ جنسی ضرورت  کھانا  کم کھانے سے بڑھتی ہے۔ موٹے لوگوں میں  جنسی ضرورت  کم ہوتی ہے کیونکہ انکی رگوں میں چربی پھنس جاتی ہے۔ متقئ لوگوں میں، جن کا پیٹ نکلا ہوا نہ ہو،  مردانہ قوت زیادہ ہوتی ہے۔ جو شخص ورزش کرتا ہو، اس کا جسم گٹھا ہوا اور صحت مند ہو، اسے روزانہ جنسی عمل یا مشت زنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ منی بننے کا عمل سست کرنے کیلئے موٹا ہونا پڑے گا، جس کے اپنے کئی نقصانات ہیں۔ موٹے لوگوں کو ذیابیطس اور دل کی بیماریاں لگ جاتی ہیں۔

سوال: یہ کیا بدتمیزی ہے؟

جواب: علم پھیلانا بدتمیزی نہیں، نہ ہی مشت زنی کرنا بدتمیزی ہے۔ بس لوگوں کے سامنے مشت زنی کرنا بدتمیزی ہو گا۔ تنہائی میں صاف ہاتھوں سے کر لیا کرو۔

سوال: کیا مشت زنی کے جسمانی طور پر کمزور ہو جانے کے ثبوت بھی موجود ہیں؟ کثرت ِجماع کا کیا نقصان ہے؟۔ میں ایسے دوست کو جانتا ہوں جو کثرت مشت زنی سے بہت کمزور جسم کا مالک ہے۔

جواب: مضمون میں بتایا جا چکا ہے کہ مشت زنی صحت اور معاشرتی نظام دونوں کیلئے مفید ہے۔ اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ مشت زنی سے انسان کمزور ہو جاتا ہے۔  اگر اس دوست کے جسم میں چربی آپکی نسبت کم ہے تو یہ صحت مند ہونے کی علامت ہے۔ اگر وہ خود کو کمزور سمجھتا ہے تو اسے ڈاکٹر سے تفصیلی چیک اپ کروانا چاہیئے تاکہ اصلی اسباب کا علم ہو سکے۔ قیاس آرائی کرنا غلط ہو گا۔ مشت زنی یا پیشاب کرنے کو کمزوری کی وجہ قرار دینا بے بنیاد الزام ہے۔

منی کوئی خفیہ قسم کا مادہ نہیں بلکہ اب معلوم ہو چکا ہے کہ وہ ان سپرمز پر مشتمل ہوتی ہے جو ہر دو تین دن بعد بن کر آپکے دماغ پر بوجھ کی طرح سوار ہو جاتے ہیں۔ یہ پیشاب کی طرح ایک اضافی بوجھ ہوتے ہیں جن کو نکالنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور جن کو نکالے بغیر ذہنی دباو سے نجات ممکن نہیں۔ “مادہ” اور “نسل انسانی کی بقا کا انحصار” کہہ کر اسکو بجلی یا توانائی نہ سمجھیں، اس میں توانائی نہیں ہوتی بلکہ خلئے یعنی بیج ہوتے ہیں۔ پکے ہوئے بیج کو الگ کر لینے سے پودوں کی توانائی ضائع نہیں ہوتی۔

کثرت ِجماع سے مراد اگر روزانہ پانچ یا سات مرتبہ جماع کرنا ہے تو اسکا کوئی نقصان نہیں۔ البتہ دوسرے فریق کی مرضی سے ہی کریں تاکہ تعلقات میں خرابی نہ آئے۔ ہاں روزانہ پچاس مرتبہ جماع کرنے سے بخار وغیرہ ہو سکتا ہے لیکن وہ بھی ہفتے کے اندر اندر ٹھیک ہو جائے گا۔ اگر بخار ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

سوال: کیا مشت زنی پہلے ہی عام نہیں؟

جواب: غریب طبقہ اس کو صحت کیلئے نقصان دہ سمجھنے کی وجہ سے اس سے پرہیز کرتا ہے-  انھیں چوری، قتل اور جھوٹ بولنے جیسے گناہوں کی طرح اس بات کی بھی فکر نہیں ہوتی کہ یہ گناہ کا کام ہے یا ثواب کا یا مباح ہے۔ البتہ مڈل کلاس میں  اس حوالے سے ایک احساس جرم اور خوف پایا جاتا ہے۔ مڈل کلاس اسکو گناہ  کے ساتھ ساتھ مردانہ کمزوری کا سبب بھی سمجھتی ہے، وہ مست زنی کر لیتے ہیں لیکن ان کے ضمیر پر بھاری پتھر پڑا رہتا ہے۔ امیر اور اعلی تعلیم یافتہ مہذب  طبقہ نہ اسے گناہ سمجھتا ہے نہ صحت کیلئے نقصان دہ سمجھتا ہے۔

SHOPPING

سوال: آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں؟

جواب: بھائی اس مضمون کو دوبارہ پڑھیں اور  اپنے تمام دوستوں تک واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کی مدد سے پہنچائیں :۔

خود لذتی/مشت زنی کے بارے میں آگاہی ۔۔۔ حمزہ ابراہیم

SHOPPING

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مشت زنی سے متعلق آگاہی پر اعتراضات کے جوابات ۔۔۔ حمزہ ابراہیم

  1. اے عقل و دانش والے لوگو!

    شہروں کا لاک ڈاؤن کرنا کرونا وائرس سے زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہے۔

    کرونا وائرس سے تو بچا جا سکتا ہے مگر بھوک سے بچنا مشکل ہے کیونکہ بھوک میں ہر جرم چھپا ہے۔
    بے روزگاری سب سے زیادہ خطرناک وائرس ہے

    اگر کاروبار نہ ہو گا تو جمع پونجی کب تک چلے گی؟

    موجودہ پاکستانی حکومت خودساختہ سائینس دانوں کی ٹیم ہے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے اور حقیقت میں کچھ نہیں سمجھتے۔

    حکمرانوں کا مقصد حیات فقط اپنے سیاسی مخالفین کو لاک ڈاؤن اور قرنطین کرنا ہے اس کے علاوہ ان کا کوئی ایجنڈا نہیں۔

    یہ حلواہ پکاؤ اور حلوا کھاؤ لوگ ہیں۔ جب یہ حکومت جاۓ گی تو پاکستان تباہی کے دھانے پر کھڑا ہو گا اور ملک کا کوئی سیاستدان حکومت چلانے کو تیار نہ ہو گا۔ کیونکہ معاملات اتنے بگڑ چکے ہونگے کہ جن کا تدارک ممکن نہ ہو گا۔

    اس وقت وطن عزیز گہری کھائی میں گر رہا ہے اور نا تجربہ کار لوگ اپنے اپنے خیالی تجربات کر رہے ہیں۔

    کوئی ہم سے پوچھے کہ کاروبار ختم کیسے ہوتا ہے؟
    کاروباری خسارہ کیا ہوتا ہے؟

    سچ تو یہ ہے موجودہ حکومت کی طفلانہ پالیسیوں کی وجہ سے کاروباری طبقہ عرش سے فرش پر آ گیا ہے مگر حکومت کے آئن سٹائن تجربے سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب مینڈک کی چاروں ٹانگیں کاٹ دی جاتی ہیں تو مینڈک سنتا نہیں ہے۔

    معاشرے کے ایک فرد کی اندرونی کیفیت جو اب ٹیکس ادا کرنے کے قابل نہیں رہا۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *