نیّر نیاز خان کی تحاریر

مستقبل کی دنیا کیسی ہو گی۔۔۔۔۔نیّر نیاز خان

آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ہماری دنیا بدل کر رہ گئی ہے۔ اطلاعاتی نظام سیکنڈوں میں ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہوئے باہمی اور اجتماعی روابط میں تیزی لانے کا سبب بن رہا ہے۔ مالیاتی←  مزید پڑھیے

تاریخ فہمی اور عام فکری مغالطے۔۔۔نیّر نیاز خان

بہت سارے لوگ تاریخ کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے سمجھنے کی سعی کرتے رہتے ہیں اور کچھ تو فلسفہ تقدیر کی مانند من و عن ہی اسے تسلیم کر لیتے ہیں۔ اکثر اسے ایک خشک اور غبار آلود مضمون←  مزید پڑھیے

میں آزادکشمیر ہوں، میری کہانی سنیے۔۔۔نیّر نیا ز خان

سب سے پہلے میرے نام کی وجہ تسمیہ جانیے تاکہ مجھے پہچاننے میں آپ کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 1940کے عشرے میں جہاں دوسری عالمی جنگ میں متحارب اتحادی کشیدہ صورتحال میں قومی اور علاقائی منڈیوں پر قبضہ←  مزید پڑھیے

بدلتے وقت کی بدلتی سچائیاں۔۔۔نیّر نیاز خان

سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے اوزاروں کی بدولت ہر لمحہ زندگی اور ارد گرد کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ خصوصی طور پر انٹرنیٹ کے پھیلاو کے ذریعے آپس←  مزید پڑھیے

میاں محمد بخش کا تصور عشق۔۔۔۔۔نّیر نیاز خان

انیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں میرپور (حالیہ آزاد کشمیر) کے مضافاتی قصبے(کھڑی) میں ایک کسان کے گھر جنم لینے والے میاں محمد کا رجحان عہد شباب میں ہی تصوف کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ صوفیاء کی طریقت کی←  مزید پڑھیے

سپارٹیکس۔ انسانی تاریخ کا انقلابی اور باغی غلام۔۔۔نیّر نیاز خان

سپارٹیکس کی تاریخ پیدائش پر بہت سارے محققین اور تاریخ دانوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ 111 سے 109 قبل مسیح میں تھریس (جو کہ  موجودہ عہد میں مشرقی یورپ کا بالکن علاقہ کہلاتا ہے) میں پیدا←  مزید پڑھیے

چار میل کی دوری اور تیس سال کا انتظار ۔۔۔نیّر نیاز خان

1965 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر کے نام پر جموں کشمیر کے بھارتی مقبوضہ علاقے میں ایک مہم جوئی شروع کی۔ اس کا بظاہر مقصد 1962 کی بھارت چین جنگ کے بعد کمزور بھارتی فوج کو گوریلا←  مزید پڑھیے

چار دہائیوں میں دو اذانیں اور ان کے اثرات۔۔۔۔ نیّر نیاز خان

1979 میں سوویت یونین کی افغانستان میں موجودگی کے خلاف جب مغربی ممالک نے مجاہدین کو مسلح کرنا شروع کیا  تو سعودی عرب کی حمایت سے پاکستان کو افغان جہاد کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ضیاء الحق کے خلاف عوامی←  مزید پڑھیے

برصغیر کے عوام کسی ایک جنگ کا انتخاب کریں۔۔۔۔ نیّر نیاز خان

بھارت اور پاکستان کو جغرافیائی طور پر تقسیم کرنے والی سرحد کے دونوں اطراف غربت اپنے خونی جبڑے کھولے غرا رہی ہے ۔ غربت کا یہ عفریت الیکٹرانی ساعت کی ہر جنبش پر کسی انسانی زندگی کے خاتمے کا اشارہ←  مزید پڑھیے

سچل۔ گوتم اور نانک کی دھرتی پر نفرتوں کا کاروبار۔۔۔۔ نیر نیاز خان

سیاست کے کاروبار میں نفرتوں کے سودے کا بکنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ لیکن یہ ماضی بعید کی بات ہے۔ قرون وسطی میں جب انسانی سماج ریاست۔سیاست اور قوم کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ تو انفرادی طاقت کے بل←  مزید پڑھیے