• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کچھ الگ طرح کا سوچیں گے،سزا تو ملے گی۔۔منور حیات

کچھ الگ طرح کا سوچیں گے،سزا تو ملے گی۔۔منور حیات

یہ کہانی ہےکراچی میں رہنے والے دو بھائیوں کی،جن کا تعلق نچلے درجے کے ایک متوسط گھرانے سے تھا،لیکن انہوں نے محنت کر کے نہ صرف یہ کہ اپنا ذاتی کاروبار کھڑا کیا،بلکہ کئی لوگوں بشمول خواتین کو روزگار بھی دیا،اور پچھلے اٹھارہ سال سے ملک کے لئے لاکھوں ڈالرز کا زرمبادلہ بھی کمارہے ہیں۔

جب سن2000 میں، انہوں نے اپنی گریجویشن مکمل کی،تو انہیں ان کے والد نے آٹھ سو امریکی ڈالرز اور ایک کمپیوٹر لے کر دیا،اور نوکریاں ڈھونڈھنے کی بجائے انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے کا مشورہ دیا۔دونوں بھائیوں نے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا،اور سارا دن انٹر نیٹ پر سرچنگ میں گزارنے لگے۔

کئی کاروبار ان کے ذہن میں آتے،ان کے نفع نقصان پر بات ہوتی اور وہ دونوں کسی نتیجے پر پہنچنے کی بجائے اگلے آئیڈیے کی کھوج میں نکل پڑتے۔کافی دنوں کی تلاش بسیار کے بعد انہوں نے اپنی توجہ لیدر گارمنٹس پر مرکوز کر لی۔لیکن اس میدان میں آئے روز کاروبار میں ہونے والے اتار چڑھاؤ انہیں کسی فیصلے پر پہنچنے سے روک دیتے۔بالآخر انہوں نے چمڑے کی غیر روائتی مصنوعات پر توجہ مرکوز کی،اور ایک اچھوتے آئیڈیے پر کام شروع کرنے پر متفق ہو گئے۔

ویڈیوپر آنے والے کمنٹس
ویڈیوپر آنے والے کمنٹس

ویڈیوپر آنے والے کمنٹس

مغربی ملکوں میں سیکس کے عمل کے دوران استعمال ہونے والے کئی اقسام کے کاسٹیومز کی بہت مانگ ہے۔جن کا ایک غالب حصہ چمڑے اور ریکسین سے تیار شدہ ملبوسات پر مشتمل ہوتا ہے۔وہاں پر سیکس جیسے قدرتی عمل کو یہاں کی طرح صرف گرمی نکالنے یا بچے برآمد کر نے کے لئے سرانجام نہیں دیا جاتا،بلکہ انہوں نے اس عمل کو دلچسپ،اور نشاط انگیز بنانے کے لئے،اس میں کئی آلات و معمولات کا اضافہ کیا ہے ،اور اسے ایک بے کیف عمل سے ایک انٹرٹیننگ آرٹ میں تبدیل کردیا ہے۔۔۔ان دونوں بھائیوں نے بھی اسی طرح کے ملبوسات تیار کر کے مغربی ممالک کو برآمد کرنے کا فیصلہ کیا،اور سن 2001ایک میں ایک چھوٹے سے کمرے سے ایک آفس کی شکل میں شروع ہونے والی ان کی کمپنی اب سالانہ ایک ملین ڈالر کی یہ مصنوعات مغربی ممالک کو برآمد کر رہی ہے۔

ان کا یہ کاروبار بالکل منڈی کے اصولوں کے مطابق ہے،کہ دنیا میں جس چیز کی مانگ ہے،وہ بنا کر بیچی جائے،جیسا کہ لادین ملک چین دنیا جہان کے مسلمانوں کو ٹوپیاں،جائے نماز اور تسبیحات بنا کر برآمد کرتا ہے،بیشک وہ اپنے ملک میں مصلے بچھانے کی اجازت نہ دیتے ہوں۔گائے کاٹنے پر لوگوں کو جان سے مار دینے والے بھارتی اس وقت دنیا میں بیف کے سب سے بڑے ایکسپورٹر ہیں،جبکہ دنیا کی بہترین وائن فلسطینی انگوروں سے تیار ہوتی ہے۔

خیر یہاں تک تو یہ معمول کی بات تھی ۔کہانی میں ٹوئسٹ اس وقت آیا ،جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ان دونوں بھائیوں کی جدوجہد اور ہمت سے متاثر ہو کر ان کے کاروبار پر ایک ڈاکیومنٹری بنائی،اور نشر کردی۔بس یہ ویڈیو نشر ہونے کی دیر تھی کہ،خدائی فوجداروں کے لشکر اپنے اپنے فتوے اور مغلظات کے تھوبڑے اٹھا کر سوشل میڈیا پر پہنچ گئے۔ہو سکتا ہے،آنے والے دنوں میں کوئی گروہ صالحین سوٹے ڈنڈے اٹھا کر ،اس طرح کی کفریہ اور فحاشی پھیلانے والی اشیا بنانے والی فیکٹری کے دروازے تک بھی پہنچ جائے۔جبکہ کچھ لوگ ان کو زبانی کلامی حد تک یہ “غیر اخلاقی کام بند کرنے کا مشورہ بھی دے چکے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جہالت،تنگ نظری،انتہا پسندی اور مذہبی جنون کی کانٹے دار فصل کی جڑیں اتنی گہری ہو چکی ہیں،کہ اس جھاڑ جھنکاڑ کو صاف کرتے کرتے بھی دہائیاں گزر جائیں گی،وہ بھی اگر کسی کی نیت ہوئی تو۔ابھی تک تو اس کے آثار نظر نہیں آتے۔ان خرانداموں کو کون سمجھائے کہ یہ دنیا صرف دولتیاں جھاڑنے کے لئے نہیں بنائی گئی۔یہ عمل کی دنیا ہے۔مختلف معاشرے ہیں ،ملک ہیں،ان کی ضروریات ہیں۔ ان کے طریقے ہیں جو کوئی ان کی ضروریات پوری کرتا ہے،وہی کامیاب کہلاتا ہے۔اب کیا کیا جائے کہ یہاں پر خودکش جیکٹس بنانے کی فیکٹریاں اور جہادی بنانے کے کارخانے تو بِلا روک   ٹوک چلتے رہے ،جبکہ کوئی بھی نیا خیال یا کاروبار یہاں کے لوگوں کے مذہب و تہذیب کو فوراً خطرے میں ڈال دیتا ہے۔آخر یہاں ہر کام کو مذہب و معاشرت سے زبردستی کیوں نتھی کر دیا جاتا ہے؟۔ کیا ہمیں بھی دنیا کے ساتھ چلنے کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر وہ ہمیں برقع ،عبایہ اور ہماری ضرورت کے لباس بنا کر بیچ سکتے ہیں،تو ہم ان کو ان کی ضرورت کا سامان بنا کر کیوں نہیں بیچ سکتے؟

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *