(زوم کی وساطت سے بر پا کیے گئے ایک مباحثے پر میرا حلفیہ بیان اقبالی) اول تو غزل سے میری بیگانگی کا سبب اُس زمین کا بنجر پن ہے جس میں پہلے ہزاروں بار فصلیں بوئی جا چکی ہیں، کاٹی← مزید پڑھیے
آج کی مجلس میں دانش ور اپنے ایک مہمان دوست کو لے آیا۔جس کے بال بکھرے ہوئے گرد سے اٹے ہوئے تھے۔کپڑوں پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے۔پاؤں میں جوتے نہیں تھے۔وہ زور زور سے چیخ رہا تھا۔میں گم← مزید پڑھیے
جن دنوں راقم کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (حالیہ یونیورسٹی) میں زیرِ تعلیم تھا، پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم میڈیسن پڑھایا کرتے تھے، ان دنوں تازہ تازہ اسسٹنٹ پروفیسر ہوئے تھے، آج کل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین ہیں۔ کرونائی موسم← مزید پڑھیے
خدا ہے یا نہیں اس کے حق میں ان گنت دلائل دئے جا سکتے ہیں اور اُن دئے گئے دلائل کا اسی شدومد کے ساتھ رد بھی کیا جا سکتا ہے یعنی جتنے دلائل ہیں ان سے کہیں زیادہ رد← مزید پڑھیے
ہم اتوار کی شام کھوڑیاں گاؤں پہنچے جوباغ سے دو گھنٹے کی مسافت پہ تھا۔اگر ہم باغ سے ہی صبح لیپہ روانہ ہوتے تو ہم ایک دن میں لیپہ سے واپس نہیں آ سکتے تھے۔لہذا ہمارے دوست شرافت حسین نے← مزید پڑھیے
دل و جگر میں پُر افشاں جو ایک موجہ ء خوں ہے ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے ستیہ پال آنند حضور، اس شعر کی تصویر یہ بنتی ہے ذہنوں میں کہ متموج ہے اک← مزید پڑھیے
میں بارہا اپنے ہمدردوں، عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں سے ہر تحریر کے بعد وعدہ کرتا ہوں کہ ٹھیک ہے خطرات ہیں، چپقلشیں ہیں، جان کھونے کا خطرہ ہے، آج کے بعد میں وڈھ کی صورت حال پر حالات کی← مزید پڑھیے
زندگی تو بس چلتے رہنے کا نام ہے،اور ہم میں سے اکثریت مرنے تک بغیر مقصد کے چلتی رہتی ہے۔ہماری پہچان,ہمارا کام, ہماری حیثیت دنیا کی نظر میں کسی کیڑے مکوڑے کی مانند ہی ہوتی ہے جن کے مرنے سے ← مزید پڑھیے
ریورنڈ مجلے جیننگز ہندوستان میں 1832 میں پہنچے تھے۔ وہ کرسچن کمیونیٹی کے مذہبی راہنما تھے اور ان کا ایک اپنا ہی خیال تھا۔ “برٹش سرکار نے ہندوستان سے کوہِ نور ہیرا لے لیا ہے۔ اس کا قرض چکانا ہے← مزید پڑھیے
صبر رشتے جوڑ سکتا ہے۔ بے صبرا انسانوں کی بستی میں نہیں رہ سکتا، اسے تو خدا نے باغِ بہشت میں نہیں رہنے دیا تھا۔ صبر جواب آں غزل ہے جو آسمان سے تیر و نشتر نچھاور کرتے ہوۓ سیدھا← مزید پڑھیے
یقین کیجئے کہ قدیم رومی چرچ “آیا صوفیہ ” کو مسجد ، پھر میوزیم اور اب دوبارہ مسجد قرار دینے سے نہ تو کسی الباکستانی کی صحت پر کوئی فرق پڑتا ہے نہ ہی وہاں موجود کسی ترک کی صحت← مزید پڑھیے
اس بات سے قطع نظر کہ انسان کے خمیر میں خیر کا عنصر زیادہ ہے یا شر اور یہ امن و محبت سے رہنے کا خواہاں ہے یا جنگ و جدل اس کی فطرت ہے، اگر ہم دنیا کی تاریخ← مزید پڑھیے
رومن اردو(یعنی اردو کو انگریزی حروف تہجی سے لکھنا) قوموں کی شناخت جن چیزوں سے ہوتی ہے ان میں سے ایک زبان اور رسم الخط بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بحیثیت مسلمان ہماری سب سے بڑی پہچان← مزید پڑھیے
تغافل دوست ہوں میرا دماغ ِ عجز عالی ہے اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے ستیہ پال آنند حضور، اب کیا کہوں میں آپ کے اس ’’عجز‘‘ کے حق میں کہ ’’فارس‘‘ کی زباں میں آپ← مزید پڑھیے
فرانسیسی مہم جو فرانسوئے بیمئیر نے شاہ جہاں کی بیٹی روشن آرا بیگم کے 1640 کی دہائی میں کئے گئے کشمیر کے سفر کی داستان لکھی ہے۔ ان کا تبصرہ تھا کہ انہوں نے ایسی شان و شوکت والا سفر← مزید پڑھیے
آمد ِ خط سے ہو ا ہے سر د جو بازار ِ دوست دود ِ شمع کشتہ تھا شاید خط ِ رخسار ِ دوست ستیہ پال آنند بندہ پرور، آپ سے پوچھوں ، بصد عجز و نیاز کیا نہیں اس← مزید پڑھیے
میں Global Slavery Indexہوں ،اورغلامی کے عالمی انڈیکس کے مطابق غلام و ہ انسان ہے جس کے حقوق سلب کر لئے گئے ہوں ۔اسے کسی دوسرے انسان کی ملکیت سمجھا جائے جیسے جانور یا کوئی مشین ہوتی ہے ۔ اللہ← مزید پڑھیے
گزرے وقتوں کی بات ہے ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے۔ نام تھا جن کا سید فرمان علی۔ چار دانگ عالم میں ان کا چرچا تھا۔ بیمار آتے شفایاب ہوتے، مصیبت زدہ آتے مشکلوں کا حل پاتے، گو طب و← مزید پڑھیے
آج کا مغربی سعودی عرب اور حجاز کے تاریخی علاقہ تہامہ جو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ایک شہر ہے یہ اس وقت اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز بھی ہے۔ علاوہ ازیں بحیرہ احمر کی سب سے بڑی بندرگاہ← مزید پڑھیے
مسافر، کل ایک شخص کو میں نے زمین پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچتا دیکھا۔پوچھا، کیا کر رہے ہو؟ وہ بولا۔ تاریخ کو ڈھونڈ رہا ہوں۔تاریخ گم ہو گئی ہے۔یہ تاریخ کے اختتام کا دور ہے۔مجھے اس کی باتیں سمجھ نہیں← مزید پڑھیے