انسانم آرزوست مصنف ڈاکٹر محمد امین/مرتب سخاوت حسین(مجلس12)

مسافر، کل ایک شخص کو میں نے زمین پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچتا دیکھا۔پوچھا، کیا کر رہے ہو؟ وہ بولا۔ تاریخ کو ڈھونڈ رہا ہوں۔تاریخ گم ہو گئی ہے۔یہ تاریخ کے اختتام کا دور ہے۔مجھے اس کی باتیں سمجھ نہیں آئیں۔میں دانش ور کو اس کے پاس لے آیا۔دانش ور اس سے مل کر بہت خوش ہوا۔اور اس نے مجھ سے کہا۔یہ شخص ٹھیک کہتا ہے۔تاریخ ختم ہو رہی ہے۔
ابوالحسن، تاریخ تو میں نے بھی پڑھی ہے۔یہ ختم کیسے ہو رہی ہے؟
ابوالحسن نے کہا، مسافر سن، تاریخ نہیں ختم ہو رہی۔انسان ختم ہو رہا ہے۔جب تک زمانہ ہے تاریخ رہے گی۔ زمانہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔تاریخ زمانے میں ایک عمل کا نام ہے۔یہ کیسے ختم ہو سکتی ہے۔یہ دراصل انسان کی صلاحیتوں سے مایوسی کا اظہار ہے۔اور ابھی تو انسان نے اپنے آپ کو جانا نہیں۔اس لیے زمانے کے ساتھ ساتھ ساتھ تاریخ کا عمل جاری رہے گا۔
مسافر پھر گویا ہوا۔ابوالحسن، آج ایک آدمی ملا ۔ وہ کہہ رہا تھا کہ جب میں پہلی مرتبہ اس بستی سے گزرا۔تو یہاں ویرانہ تھا۔دوسری مرتبہ گزرا تو جنگل تھا۔اور اب گزرا ہوں۔تو یہاں بستی آباد ہے۔میں چونکا۔میں نے پوچھا یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اس نے کہا۔میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔یہ میرا تیسرا جنم ہے۔اور ان جنموں میں صدیوں کا فاصلہ ہے۔
ابوالحسن، یہ کیا ہے۔کیا انسان بار بار ہیدا ہوتا ہے۔اور ایک ہی شکل وصورت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔مسافر سن، یہ مجھے معلوم نہیں۔کہ انسان بار بار پیدا ہوتا ہے کہ نہیں۔ اور یہ جنموں کا پھیر کیا ہے؟ لیکن وہ آدمی ٹھیک کہہ رہا تھا۔یہ اس کا حافظہ ہے۔جو اسے ورثے میں ملا ہے۔ہمارا ہر تجربہ ورثے میں منتقل ہوتا ہے۔اگر انسان کے حواس قوی ہوں۔اور ذہن تروتازہ ہو تو وہ اپنے گزشتہ تجربات جو اسے ورثہ میں ملے ہیں۔ان کی بازیافت کر سکتا ہے۔میرے خیال میں حقیقت یہی ہے۔
یہاں مجلس برخاست ہوئی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *