آیا صوفیہ , چرچ یا مسجد ؟۔۔ڈاکٹر جون فاطمی

SHOPPING
SHOPPING

یقین کیجئے کہ قدیم رومی چرچ “آیا صوفیہ ” کو مسجد ، پھر میوزیم اور اب دوبارہ مسجد قرار دینے سے نہ تو کسی الباکستانی کی صحت پر کوئی فرق پڑتا ہے نہ  ہی وہاں موجود کسی ترک کی صحت پر ۔۔ لیکن روشن اذہان والے با شعور افراد کے لئے کچھ زمینی و تاریخی حقائق کا جاننا بہت اہم ہے جو کہ درج ذیل ہیں :

غاصب قسطنطنیہ سلطان محمد ثانی نے تخت نشین ہوتے ہی اپنے ایک سالہ شیر خوار سوتیلے بھائی احمد کو پانی میں ڈبو کو قتل کروا دیا ۔۔۔

اور یہ قتل اس وقت عمل میں لایا گیا جب احمد کی سربیین ماں سلطان کو تخت نشینی کی مبارک باد دینے آئی تھی ۔ بعد میں سلطان کے حکم پر احمد کے قاتل غلام کو بھی احمد کے قتل کے جرم میں قتل کروا دیا گیا اور احمد کی سربیین ماں کی شادی ایک ترک سردار سے کروا کر انہیں سلطنت بدر کر دیا گیا ۔

اسی سفاک و درندہ صفت سلطان نے اس وقت کے شاہ پرست مولبیوں کے ذریعے یہ فتویٰ صادر کروایا کہ جو کوئی بھی تخت نشین ہو تو اس پر واجب ہے کہ اپنے بھائیوں اور تخت کے مزید متوقع دعوے داروں کو امن کی خاطر قتل کروا دے ۔

29 مئی 1453 کو سلطان نے قسطنطنیہ پر غاصبانہ و جابرآنہ قبضہ کر لیا اور شہر میں تین دن تک لوٹ مار ، درندگی ، بربریت ، سفاکی و قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ۔۔ سلطان کے کرائے کے سفاک فوجیوں نے جوان و خوبرو مرد و خواتین سمیت بچوں کو غلام بنا لیا اور باقیوں کو قتل کر دیا ۔۔۔ اس موقع پر سلطان کے مسیحی فوجیوں نے بھی یہی روش اختیار کی ۔۔

یاد رہے کہ سلطان کی حفاظت پر معمور جانباز ایلیٹ کمانڈو فورس کو “جینیسریز ” کہا جاتا تھا اور حیرت انگیز طور پر یہ تمام جانباز از روئے مذہب مسیحی ہوتے تھے ۔ کوئی مسلمان اس فورس کا حصہ نہیں بن سکتا تھا ۔ اس فورس نے بھی لوٹ مار کے ساتھ ساتھ قتل و غارت گری کی رہی سہی کسر پوری کر دی۔

مذکورہ بالا جارحیت نے یزید اول کے واقعہ حرہ کو بھی شرمسار کر دیا جب مدینہ منورہ میں تین دن تک یزیدی فوج نے کم و بیش ایسی ہی بے حیائی و نا قابل فراموش قتل و غارت گری ڈھائے رکھی

سلطان نے کرائے کے فوجیوں کو یہ لالچ دیا تھا کہ آیا صوفیہ میں بیش قیمت و لا تعداد خزانہ موجود ہے جو تمام فوج کا حق ہے ۔۔ لہٰذا اب فوج و ایلیٹ فورس کا رخ آیا صوفیہ کی جانب تھا ۔ وہاں موجود پناہ گزین پادریوں ، عورتوں ، مردوں اور بچوں کو غلام بنا لیا گیا جبکہ مزاحمت کرنے والوں کو قتل کر دیا گیا ۔

آیا صوفیہ میں لوٹ مار کرنے کے بعد فوج نے مخفی خزانے کی تلاش شروع کر دی مگر وہاں موجود قبروں و دیگر چھوٹی تعمیرات کی پر تھکن کھدائی کے بعد بھی کوئی خزانہ حاصل نہیں ہوا ۔۔۔

سلطان نے اپنے ترک رشتہ دار اؤرحان قلبی اور رومن سلطان کونسٹینٹائین الیون سمیت چاروں دشمنوں کو بھی قتل کروا دیا ۔

سلطان نے اپنے وزیر اعظم خلیل پاشا کو بھی محض اس لئے قتل کروا دیا تھا جس نے قسطنطنیہ پر قبضے کو ایک جنونی نوجوان کا بیوقوفانہ خواب کہا تھا ۔

اس جارحانہ قبضے کے بعد آیا صوفیہ کو مسجد بنا دیا گیا ۔۔ بعد ازاں مصطفیٰ کمال اتاترک کی لا دین حکومت میں اسے عجائب گھر بنا دیا گیا ۔ اب حال ہی میں اسے دوبارہ مسجد بنانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے ۔۔

SHOPPING

مذکورہ پس منظر میں آیا یہ فیصلہ درست ہے یا غلط یہ قارئین کی علمی و فکری بصیرت پر منحصر ہے مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ چرچ کو مسجد بنا کر یروشلم میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی غاصبانہ قبضے اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لئے جواز فراہم کیا جا رہا ہے؟

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *