محمد اسد شاہ، - ٹیگ

سقوطِ مشرقی پاکستان – کیا ہم نے کوئی سبق سیکھا ؟۔۔محمد اسد شاہ

13 دسمبر 2020 کے جلسے نے بلاشبہ تاریخ رقم کر دی ہے ۔ یہ پاکستانی تاریخ کا واحد جلسہ ہے کہ جس کی میزبان یعنی محترمہ مریم نواز کے کھانے کی وجہ سے لکشمی چوک کے ایک ریسٹورنٹ کے عملے←  مزید پڑھیے

کیا حکومت مائنس ہو رہی ہے ؟۔۔محمد اسد شاہ

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے محترمہ مریم نواز کے حالیہ انٹرویو نے ملکی سیاست میں اتنی ہلچل مچا دی ہے کہ حکومتی بزرج مہروں کو کوئی ٹھوس اور مستند جواب تک سجھائی نہیں دے رہا – محترمہ نے واضح←  مزید پڑھیے

کیا یہاں کوئی محب وطن بھی ہے؟۔۔محمد اسد شاہ

اس ملک کی تاریخ کے ساتھ اس سے زیادہ سنگین مذاق اور کیا ہو سکتا ہے کہ یہاں محترمہ فاطمہ جناح اور محمد نواز شریف جیسی شخصیات کو بھی غدار کہا گیا ہے۔یقیناً  اب یہاں ایسے ذہن تیار ہو چکے←  مزید پڑھیے

ہم کہاں جا رہے ہیں؟۔۔محمد اسد شاہ

29 جولائی 2020کو ایک بار پھر ایک ایسا واقعہ ہوا ہے جس نے ہر باشعور پاکستانی اور ہر سچے مسلمان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔پشاور کی ایک عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ایک←  مزید پڑھیے

تم بہت بھولے ہو۔۔محمد اسد شاہ

وہ جنوبی پنجاب کے ایک پس ماندہ علاقے کا نوجوان ہے۔ والد مزدور تھے، چنانچہ گھر چلانے کے لیے اس کی والدہ کو بھی چھوٹی موٹی گھریلو دستکاری پر کام کرنا پڑتا تھا۔ نوجوان کو پڑھنے کا شوق تھا۔ ٹیوشنز←  مزید پڑھیے

کرپشن کی حکمرانی ۔۔محمد اسد شاہ

میں تو ہمیشہ سے اسی بات کا قائل رہا ہوں اور اپنے قارئین کو بھی یہ سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ کرپشن کا نشانہ چونکہ عوام ہیں، اس لیے کرپشن کے خلاف جنگ بھی عوام کو خود ہی←  مزید پڑھیے

کرونا، معیشت اور شاعر۔۔محمد اسد شاہ

زندگی خوشی اور غم کا مرکب ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جس کے لیے صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا کہ جس کے لیے غم کے سوا کچھ نہ ہو۔ یہی حال معاشروں اور ملکوں کا←  مزید پڑھیے

جذباتی قوم کا معاملہ۔۔محمد اسد شاہ

پاکستانی قوم کی چند خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ محبت اور نفرت، دونو معاملات میں جذباتی ہے۔ہمارے لوگ جس سے محبت کریں، اسے سر پر بٹھا لیتے ہیں، اور جس سے ناراض ہوں، اس کی خوبیوں←  مزید پڑھیے

نئی پریس کانفرنس کا انتظار۔۔محمداسد شاہ

غور تو کیجیے ! آپ نے سیاسی اختلاف کو ذاتی بغض ، دشمنی اور نفرت میں تبدیل کر دیا ہے – صرف تبدیل ہی نہیں کیا ، بلکہ اس کو نکتہ انتہا تک پہنچا دیا – کچھ تو سوچا ہوتا←  مزید پڑھیے