سوشل میڈیا اور سیاسی احوال/محمد اسد شاہ

سوشل میڈیا ایک طاقت ہے اور یہ ترقی پذیر ممالک میں بے لگام ہو چکی ہے ۔ امریکہ  اور یورپی ممالک سمیت بہت سے ترقی یافتہ اور متمدن معاشروں میں ایک منظم، مربوط اور موثر انداز میں سوشل میڈیا کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ عوام سوشل میڈیا اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں، لیکن ان معاشروں میں کچھ اَن دیکھی حدود ہیں جنھیں پامال نہیں کیا جا سکتا ۔ جیسے ہی کوئی ان حدود کے نزدیک پہنچے، اسے خودکار طریقے سے روک لیا جاتا ہے ۔ ایسی کوئی تحریر، تصویر یا پیغام پھیلنے سے پہلے ہی ہٹا دیا جاتا ہے جو معاشرتی رویوں کی پامالی کا باعث بن سکتا ہو۔ ساتھ ہی، ایسی کوشش کرنے والے شخص کو بھی اسی میڈیا کے ذریعے محتاط رہنے کا پیغام مل جاتا ہے ۔ اور اگر وہی شخص دوبارہ ایسی کوشش کرے تو بعض اوقات عارضی طور پر ، اور بعض اوقات ہمیشہ کے لیے اسے سوشل میڈیا کی سہولت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں تو ایسے شخص کو جیل بھی جانا پڑتا ہے۔ سعودی عرب، اسرائیل، چین، متحدہ عرب امارات، شمالی کوریا، قطر، کیوبا، برازیل، مصر، ایران، ترکیہ اور بعض افریقی ممالک میں تو مزید سخت پابندیاں بھی عائد ہیں، اور سوشل میڈیا کے بعض پلیٹ فارمز عوام کے لیے میسر ہی نہیں۔ مثلاً بعض ممالک میں آپ سوشل میڈیا کے ذریعے بیرون ممالک براۂ راست آڈیو یا ویڈیو کال تک نہیں کر سکتے۔ بلکہ آپ کو وائس میسجز/نوٹس یا تحریری پیغامات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اسی طرح بعض ممالک ایسے بھی ہیں کہ وہاں کوئی شخص اپنے ملک یا حکومت وقت کے خلاف کسی قسم کی بات نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی شخص ایسی کوشش کرے تو چند ہی گھنٹوں کے اندر اسے تلاش کر کے گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔

پاکستان البتہ ان ممالک میں شامل ہے جہاں مکمل آزادی ہے، بلکہ یوں کہیے کہ “مادر پدر آزادی” ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بعض لوگ مذہبی، سیاسی، لسانی، اور نسلی تعصبات تک پھیلاتے ہیں اور سالہا سال تک انھیں کوئی روکنے یا پوچھنے کی جسارت نہیں کرتا۔ ایک سیاسی جماعت نے تو سوشل میڈیا کو باقاعدہ “خطرناک ترین ہتھیار” بنا دیا۔ مختلف سیاسی نظریات رکھنے والوں کے خلاف اتنی نفرت پھیلائی گئی کہ حالات، نعوذ باللّٰہ، خانہ جنگی تک پہنچانے کی سازش صاف نظر آ رہی تھی۔ ایک پوری نسل کو بدزبان، متشدد، بدلحاظ، بدکردار، بے شرم اور جاہل بنا دیا گیا۔ اس قدر جھوٹ اور نفرت پھیلائی جاتی رہی، کہ چند جملوں میں احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں ۔ افسوس کہ اس ظالمانہ ایجنڈے میں انھیں کسی نے کبھی نہیں روکا، بلکہ ان کی بھرپور سرپرستی کی گئی۔ انھیں “لاڈلا” بنا کر رکھا گیا اور صاف نظر آتا رہا کہ وہ جماعت اور اس کی قیادت گویا ہر قانون و آئین سے ماوریٰ ہو ۔ اونچے درباروں میں انھیں خوش آمدید کہا جاتا، اور ان کی پسند کے مطابق احکامات جاری ہوتے رہے۔ موجودہ حکومت نے جرأت کر کے ریگولر میڈیا پر تو ان کے حوالے سے کچھ پابندیاں عائد کی ہیں، لیکن سوشل میڈیا اب بھی بے لگام ہے ۔

سوشل میڈیا ہمارے ملک میں اس قدر بے قابو ہے کہ بعض لوگ اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے کی جسارت تک کرتے ہیں اور انھیں روکا نہیں جاتا۔ مقدس کتب، مقامات اور شخصیات کی توہین کی جاتی ہے۔ اور ایسا کرنے والوں کو جیسے کوئی خوف نہیں ہے۔ شرپسند عناصر حساس مواقع اور معاملات میں جان بوجھ کر شر انگیزی پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو گم راہ کرتے ہیں۔ حج، قربانی، عید، نکاح اور محرم رشتوں وغیرہ کے متعلق گھٹیا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ حکومتی اداروں کو خود تحقیق کر کے ایسے اکاؤنٹس بلاک کرنا، اور ایسے لوگوں کو قانون کی گرفت میں لانا چاہیے۔

گزشتہ دنوں حج کے موقع پر ایک نئی شرارت سامنے آئی، یا شاید میں نے پہلی بار پڑھی۔ لکھا گیا کہ سعودی حکومت حج کے موقع پر جو دولت کماتی ہے وہ مسلم ممالک میں تقسیم کی جائے یا پھر باری باری ہر سال مختلف مسلم ممالک کو دی جائے۔ در حقیقت یہ نہایت گھٹیا اور شر انگیز پروپیگنڈا ہے۔ بعض نوجوان اس سے متاثر ہوتے، سوچے سمجھے بناء ایسی باتیں آگے پھیلاتے اور پھر امت مسلمہ میں انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ حج اور عمرہ کے مواقع پر انتہائی شان دار اور محفوظ انتظامات، حجاج اور عازمین کے لیے نہایت آرام دہ خدمات مہیا کرنا سعودی حکومت کا بہت بڑا اور حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ اپنے اخراجات وصول کرنا سعودی حکومت کا بالکل جائز حق ہے۔ اس معاملے میں دیگر ممالک کو حصے دار بنانے جیسی گھٹیا باتیں، اور اس حوالے سے منفی پروپیگنڈا کرنا نہایت شرم ناک حرکت ہے۔ ہماری حکومت کو ایسے پروپیگنڈے کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے ۔ ویٹی کن میں ہر سال دنیا بھر سے کروڑوں عیسائی زیارات کے لیے پہنچتے ہیں۔ ان سے ہونے والی آمدن میں دیگر عیسائی ممالک کا کوئی حصہ نہیں۔ اسی طرح بھارت میں بہت بڑی بڑی مساجد کے علاوہ بھی اسلامی دور کی بے شمار یادگاریں موجود ہیں۔ آگرہ کا تاج محل بھی مسلمان حکمران شاہ جہاں نے تعمیر کروایا۔ تاج محل کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے بے شمار سیاح ہر سال بھارت آتے ہیں۔ اور یہ سیاحت بھارت کے لیے بہت بڑے منافع بخش کاروبار کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن اس کمائی میں پاکستان، بنگلہ دیش یا دیگر مسلم ممالک کا کوئی حصہ نہیں بنتا۔ اسی طرح ایران اور عراق میں بہت سے مقدس مقامات ہیں جن کی زیارت کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے کروڑوں زائرین ہر سال ایران اور عراق جاتے ہیں۔ یہ زیارات ایران اور عراق کی حکومتوں کے لیے ایک بہت بڑا ذریعہ آمدن ہیں۔ لیکن اس آمدن میں پاکستان سمیت کسی ملک کے لوگوں نے کبھی حصہ داری کا دعویٰ نہیں کیا۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن مجید، قربانی، حج، پردہ اور دیگر شعائر اسلام کے متعلق بے پر کی اڑاتے رہنا ایک مذموم ایجنڈہ ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ ایسی فضولیات سے متاثر ہو کر انھیں آگے پھیلانے کی بجائے، ان سے دور رہیں اور خود کو بچائیں۔

اب ذرا سیاست پر بھی کچھ بات ہو جائے۔ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف آج کل دبئی میں ہیں، جہاں مختلف ممالک کی اہم شخصیات سے ان کی ملاقاتیں جاری ہیں۔ پاکستان سے بھی سیاسی قائدین دبئی جا کر ان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری اور بلاول زرداری نے بھی دبئی جا کر میاں صاحب اور محترمہ مریم نواز سے ملاقات کی ہے اور اہم سیاسی معاملات پر گفتگو کی ہے۔ نومولود استحکام پاکستان پارٹی کا ایک وفد بھی میاں صاحب سے ملاقات کے لیے دبئی پہنچا۔ میری معلومات کے مطابق ان ملاقاتوں میں سیاسی جماعتوں کے باہمی معاملات اور مستقبل قریب کے سیاسی منظرنامے سے متعلق مشاورت ہو رہی ہے، جس کے اثرات ملک کے قومی سیاسی مستقبل پر بھی ہوں گے۔ امید کی جانا چاہیے کہ یہ مشاورت پاکستان کے لیے ترقی و خوشحالی اور آسانیوں کا باعث بنے۔

Advertisements
julia rana solicitors

دوسری طرف ق لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کیمپ جیل جا کر کرپشن کے مقدمات قید پرویز الہٰی کے ساتھ دوسری بار ملاقات کی ہے۔ چودھری شجاعت نہایت لاغر اور بیمار ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے قریبی رشتے دار پرویز الہٰی کی عیادت اور اس کے ساتھ سیاسی صلح کے لیے دو بار خود چل کر گئے ہیں اور امکان ہے کہ چند دنوں بعد ایک اور ملاقات بھی کریں گے۔ یاد رہے کہ یہ وہی چودھری شجاعت حسین ہیں، جنھیں ق لیگ کی صدارت سے ہٹانے کے لیے پرویز الہٰی نے بہت سازشیں کیں، جعلی اجلاس منعقد کر کے ان کے خلاف قراردادیں منظور کروائیں، ان کی جگہ ایک اور شخص کو صدر مقرر کر دیا، اور پھر الیکشن کمیشن میں تحریری درخواست تک جمع کروائی کہ چودھری شجاعت حسین کو ق لیگ کا صدر تسلیم نہ کیا جائے۔ اس سب کے باوجود چودھری شجاعت حسین کا اس بیماری اور نقاہت کے ساتھ اپنے بیٹوں سمیت پرویز الہٰی سے ملنے جانا اور اسے ق لیگ میں دوبارہ شمولیت کی دعوت دینا بہت بڑی بات ہے۔ چودھری خاندان کی سیاست سے مجھے ہمیشہ بیزاری رہی ہے جس کی وجوہات بیان کرنے کا یہ موقع نہیں، لیکن چودھری شجاعت کی تحسین کرنا بنتا ہے۔ یاد رہے کہ پرویز الہٰی جس پارٹی کا مرکزی صدر ہے، یعنی پاکستان تحریک انصاف، اس کا کوئی لیڈر پرویز الہٰی کی عیادت کے لیے آج تک جیل نہیں گیا۔ حتیٰ کہ عمران خان اسی لاہور شہر میں اپنے پرتعیش اور محفوظ بنگلے میں موجود ہونے کے باوجود اپنی پارٹی کے مرکزی صدر کی عیادت کرنے نہیں گیا۔

Facebook Comments

محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ کالم نگاری اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں - پاکستانی سیاست ، انگریزی و اردو ادب ، تقابل ادیان اور سماجی مسائل ان کے موضوعات ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply