سفر - ٹیگ

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/2

جہاں کیلاشا بستے ہیں۔ جاویدخان/قسط1 مردان،مردوں کی سر زمین:۔ مردان خیبر پختون خوا کا ایک ضلع ہے۔ایک مضبوط تہذیب کے آثار اِس کے سینے میں دفن ہیں۔سکندر اعظم جیسا سر پھرا تو یہاں سے گُزرا ہی تھا۔مگر وسط ایشیا کے←  مزید پڑھیے

پتی پتنی اور پتایہ ‘ (تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد) ۔۔ قسط نمبر 1بٹا 3 ۔ ۔شفیق زادہ

سفر بھی ایک عجیب تجربہ ہوتا ہے جس میں مسافر مختلف کیفیات سے مسلسل گزرتا رہتا ہے۔ کبھی کوئی لمحہ مایوسی و حزن لاتا ہے تو کوئی خوشی و انبساط چھوڑ جاتا ہے ۔ کچھ لوگوں سے مل کر کان←  مزید پڑھیے

ذرا وادیء شاران تک۔۔۔محمد شافع صابر

انسانی زندگی بہت سے مراحل سے گزرتی ہے ۔ ایک کا اختتام دوسرے کے آغاز کی نوید لاتا ہے یہی انسانی زندگی کی حقیقت ہے ۔اب کالج لائف کے ختم ہونے اور عملی زندگی میں داخل ہونے میں کچھ ہی←  مزید پڑھیے

پُر عزم زندگی جینی ہے؟۔۔۔۔محمد فیضان

اپنی زندگی (ایمان، اعتماد، شجاعت اور اعصاب) کو بہتر کیسے بنائیں؟ تجربات، مشاہدات، اساتذہ اور مربّی کے اسباق سے اخذ کردہ تجاویز پیشِ خدمت ہیں- اپنی جائز خواہشات یا اہداف کے لئے جو کام مشکل نظر آئیں، ان کی فہرست←  مزید پڑھیے

انجان جہانوں کے مسافر ۔۔۔ بابر فیروز

اور پھر آج سے چند دن پہلے مورخہ ۵ دسمبر کے دن پروفیسر کو اپنے دوسرے چھوٹے ہونہار بیٹے وائجر دوم کا خط ملا کہ والد صاحب میں اس وقت اپ سے ۱۸ ارب کلومیٹر دور پہنچ چکا ہوں، آج سورج سے نکلنے والی شعاؤں کے ذرات جن کے بارے میں میں نے سراغ رکھا ہوا تھا بالکل ماند پڑ چکی ہیں۔ اب میں سورج کے حفاظتی بلبلے ہیلو پاز کے شمسی کشش کے دائرے سے شام کسی لمحے نکل جاؤں گا۔۔ ←  مزید پڑھیے

فرعون کے دو بدو: پانچواں (آخری) حصہ ۔۔۔ میاں ضیاءالحق

  97 لاکھ آبادی والے ہنگامہ خیز قاہرہ میں دودن گزارنے کے بعد 5 لاکھ آبادی والے لکسر میں آیا تو یہ شہر پرسکون سا لگا۔قیمتوں کے لحاظ سے بھی سستا ہے۔ مشرقی افریقی حصہ ہونے کی وجہ سے لوگوں←  مزید پڑھیے

فرعون کے دوبدو: حصہ چہارم ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

قدیم مصری تاریخ سےباقی دنیا کو غرض ہوگی لیکن ہم پاکستانی عوام جس سحر میں صدیوں سے مبتلا ہیں وہ حسن مصر ہے۔ مصر میں اترتے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ اگر یورپ نہیں تو اسلامی یورپ ضرور ہے جہاں سر ڈھانپ کر باقی اثاثہ جات سے لاتعلق ہوجانا یہاں کی خواتین کا سٹائیل ہے۔←  مزید پڑھیے

فرعون کے دوبدو: حصہ دوم ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

مصر میں آنا کچھ مشکل نہیں لیکن یہاں آکر ان کی ہزاروں سال کی تہذیب اور کلچر میری طرح پانچ دنوں میں سمجھنا تقریبا ناممکن ہے۔ یہاں آنے والوں کے لاکھ روپے کی ٹپ یہ ہے کہ چاہے ایک مہینہ لگے پوری تاریخ پڑھ اور سمجھ کر آئیں تاکہ پتا چلے کہ کیا دیکھ رہے ہیں۔←  مزید پڑھیے

یادیں ۔۔۔ معاذ بن محمود

ہر جانب مٹی ہی مٹی، دھول ہی دھول تھی۔ عام حالات میں مجھے دھول سے سخت الجھن ہوا کرتی ہے۔ اس وقت پورا جسم گرد میں اٹا پڑا تھا اور میرا ذہن ایک ہی سوال میں الجھا پڑا تھا: “اس سے برا وقت بھلا کیا ہوسکتا ہے؟”←  مزید پڑھیے

فرعون کے دوبدو: حصہ اول ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

جوہانز برگ، سنگاپور، سری لنکا ،جارجیا اور نیپال کے حالیہ لگاتار ٹورز کے بعد اس سال کا آخری ٹرپ مصر منتخب کیا۔ چند مصری دوستوں سے ابتدائی معلومات لے کر دبئی میں مصری قونصلیٹ میں ویزہ اپلائی کیا جو کہ تین دن بعد پاسپورٹ پر ایک خوبصورت اسٹکر کی شکل میں مل گیا۔←  مزید پڑھیے

سٹریس۔۔۔۔عاطف نذیر

عصرِحاضر میں شاید ہی کوئی انسان ہوگا جو سٹریس سے بچا ہو  ۔ ہماری زندگی عموماً  حاصل ومحصول کی تگ ودو میں گزر جاتی ہے۔جوانسان کے پاس ہوتاہے، اُسکی بےقدری کرتاہےاورجو پاس نہیں ہوتا اُسکی جستجو میں لگا رہتاہے۔یہ کہنا←  مزید پڑھیے

ایک سفر ۔۔۔۔ محمد فیاض حسرت

کوئی انسان اگر کہیں سفر کرتا ہے تو لازماً اس سفر کی کوئی منزل ہو تی ہے اور وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سفر کرتا ہے یا اس سفر کا کوئی مقصد ہوتا ہے جس کو حاصل کرنے←  مزید پڑھیے

میرے ہم سفر ۔۔۔ محمد اشتیاق

بزرگ کہتے ہیں کہ کسی انسان کی اصلیت پہچاننی ہو تو اس سے لین دین کرو یا اس کے ساتھ سفر کرو۔ گزشتہ ہفتے کے دوران میں نے تین دوستوں کے ساتھ کراچی سے پشاور تک کا سفر بذریعہ سڑک←  مزید پڑھیے

ایک بھول ایک سبق ۔۔۔عثمان ہاشمی

 سٹٹگارٹ جرمنی کے صوبے “بادن ویوتم برگ ” کا مرکزی شہر ہے ، خوبصورت انسانوں سے بھرا یہ شہر خود بھی بہت خوبصورت، دیکھنے ،گھومنے اور رہنے لائق ہے ۔ میری رہائش سٹی سنٹر سے تقریباً  15 میل کی مسافت←  مزید پڑھیے

مدینہ ہم نے دیکھا ہے ‘مگر نادیدہ نادیدہ۔۔محمود چوہدری/آخری حصہ ۔سفرنامہ

محبت حق جتاتی ہے ۔ پوزیسیو  بنا دیتی ہے ۔محبت” محبوب صرف میرا“ اور” صرف میر ا“کہلواتی ہے ۔یہ سنا تھا ، پڑھاتھا لیکن عملی مظاہرہ مواجہ شریف پر حاضری کے بعد ہوا، جب میری نظر سنہری جالیوں پرلکھی ہوئی←  مزید پڑھیے

آؤ مدینے چلیں ۔مستنصر حسین تارڑ

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ان دنوں بینکوں کے باہر ’’یہاں حج کی درخواستیں وصول کی جاتی ہیں ‘‘         کہ جو بینر آویزاں ہیں انہیں دیکھ کر میں ایک عجیب اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہوں←  مزید پڑھیے

کھڑکیاں سمندر کی طرف کھلتی ہیں۔محمد اظہار الحق

میں تو ایک جھیل ہوں ۔جاڑا آتا ہے تو کونجیں اترتی ہیں ،دور دور سے آئی ہوئی،سائبیریاسے،صحرائے گوبھی کے اس پار سے برف سے، مستقل ڈھکے پہاڑوں سے،آکر میرے کناروں پر بیٹھتی ہیں ، باتیں کرتی ہیں ۔میرے ترسے ہوئے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی ۔جاویدخان/قسط5

اس سارے علاقے میں مچھلی کے فارم بنائے گئے ہیں۔مچھلی کی صنعت کو اس شفاف پانی والے علاقے میں مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔مچھلی کی مانگ اس وقت پوری دنیا میں دن بدن بڑھ رہی ہے۔یوں ضرور ت اور معیشت←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔جاوید خان

خُوبصورت پگڈنڈیوں ،ڈھلوانوں پہ بسے گاؤں ،جہاں سارے گھر کبھی کچے تھے میں نے شعور سنبھالا۔میرے کچے گھر کے سامنے سیبوں کا گھنا باغ تھا۔بہار میں سیبوں پہ پھول آتے تو بھنورے  ،شہد کی مکھیاں اِن پہ لپک آتیں ۔کچے←  مزید پڑھیے

سفر عشق – علی زیدی – قسط 3

صبحِ انور (صادق پھر ہم سے چھوٹ گیا) 11 بجے ہماری آنکھ کھلی۔ ویسے تو 11 بجے کو صبح بھی نہیں کہا جا سکتا، صادق یا انور تو دور کی بات۔ مگر 9 سال کراچی میں رہ کر یہی ہماری←  مزید پڑھیے