چلے تھے دیو سائی ۔جاویدخان/قسط5

اس سارے علاقے میں مچھلی کے فارم بنائے گئے ہیں۔مچھلی کی صنعت کو اس شفاف پانی والے علاقے میں مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔مچھلی کی مانگ اس وقت پوری دنیا میں دن بدن بڑھ رہی ہے۔یوں ضرور ت اور معیشت دونوں ملکی سطح پر پوری کی جاسکتی ہیں۔

کنہار یہاں چٹانوں کے درمیاں تیز اور شوریدہ ہے۔شاید ہر پہاڑی دریا کی یہی نفسیات ہوتی ہے۔جب اُسے اپنادامن کُشادہ کرنے کے لیے جگہ نہیں دی جاتی تو وہ غصیلہ اور سرکش ہوجاتاہے۔دریا ہو یا فرد ہو یا کوئی قوم جب اُس کی کشادگی،آزادی صلب کرکے اُسے سُکڑکر چلنے پہ مجبور کردیا جاتا ہے تو اُس میں غصہ،اینگزائٹی بھر جاتی ہے۔پھر وہ سرکشی کے راستے پہ چل نکلتی ہے۔تب اس کا قرض صدیاں مل کر چکاتی ہیں۔اس سرکشی میں قوموں اور نسلوں کا مُستقبل بہہ جاتا ہے۔

ناران کی طرف بڑھتے ہوئے کُنہار ہمارے ساتھ ساتھ مُتوازی چل رہا تھا۔فرق صرف اتنا تھا کہ ہم اُوپر کی طرف بڑھ رہے تھے تو کُنہار اُوپر سے نیچے کی طرف۔یہ متوازیانہ کفیت لُولُوسَر جھیل تک باقاعدہ چلتی ہے۔ہاں واپسی پہ یہ مُتضاد سمتی یک سمتی میں بدل جائے گی۔بالاکوٹ سے کاغان تک بالترتیب کیوائی،پارس،ملکنڈی،فرید آباد،شینو،جرید،مہانڈری،لوہارہ،بانڈ،پھاگل اور کھنیاں آتے ہیں۔یہ تمام علاقہ سبزے،آبشاروں اور نخلستانوں پر مشتمل ہے۔اس پورے علاقے میں اخروٹ،سیب اور ناشپاتیوں کے باغات ہیں۔ناشپاتیاں پک گئیں تھیں اور مقامی لوگ درختوں سے  چن چن کر ٹوکریوں میں ڈالے سٹرک کے کنارے فروخت کررہے تھے۔سیاحوں کی ٹولیاں ان رسیلی ناشپاتیوں کو شوق سے کھارہی تھیں۔اک ایسی ہی ٹوکری کے پاس عمران رزاق نے گاڑی رکوائی طاہر یوسف اُترے اور کوئی دو کلو ناشپاتیاں خرید لائے۔

سکولوں میں چھٹی کاوقت ہو چکا تھا۔سڑک کے کنارے کنارے بچے سکولوں سے گھروں کو جارہے تھے۔ملائشیا کے کپڑوں میں لڑکے اور نیلی شلوار قمیض میں سفید دوپٹے لیے لڑکیاں،چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں۔مُجھے اپنا ماضی یاد آیا جب تعلیم ہر فرد کے لیے سستی تھی۔نہ گاڑیوں کا جھنجٹ نہ قیمتی لباس کی ضرورت۔بَس یک رنگی تھی ہر ایک،ایک جیسا لباس زیب تن کیے سکول آتاتھا۔مکھن یا گھی کے ساتھ چُپڑی چباتیاں دیسی دودھ کی چائے کے ساتھ کھا کر ٹولیوں میں صبح سویرے گھروں سے سکول کو نکلتے تھے۔اُس وقت بازاری گھی اتنا زہریلہ نہیں ہوا تھا یوں جس کے گھر مکھن یا گھی نہیں وہ پراٹھے کھاکر سکول جاتا پھر چھٹی کے بعد گھر جاکر کھاتاتھا۔

سورج نکلتے ہی پگڈنڈیاں ملائشیاکے کپڑوں میں ملبوس لڑکوں اورنیلے کپڑوں کے ساتھ سفید دوپٹے میں لڑکیوں سے آباد ہوجاتے۔سارے مکتب شہر سے قدرے ہٹ کر ہوتے۔یوں کسی طرح کی معاشرتی آلودگی نہ ہو پاتی۔اگر شہر ہوتا بھی تو فقط چند دکانیں ہوتیں۔زندگی میں ہر طرح سے یک رنگی تھی۔سکول کے احاطوں میں سبزہ زار یاپھر کسی درخت کی گھنی چھاؤں تلے بیٹھ کر پڑھائی ہوا کرتی۔دورانیہ (پیریڈ) ختم ہونے کے بعد ملائشیا کے کپڑوں سے گھاس اور مٹی جھاڑ لیتے تھے۔پرائمری تک تختیاں لکھتے جو مشقت طلب کام تھا۔ہر روز اک نئی قلم تراشی جاتی۔تختی پر توئے کی کالک اُتار کر لگاتے۔پھر اسے سوکھا کر گوٹہ (کھردرا پن ختم کرنا) مارا جاتاتو سیاہ کالی تختی سیاہ آئینے میں تبدیل ہوجاتی۔سفید مٹی کی روشنائی تیار کر کے کتاب سے کوئی پیر ا یا فقط دوتین سطریں خوشخط لکھ دی جاتیں۔یہ خوشخطی کی بہترین کوشش تھی۔تختی قبل مسیح کی ایجاد ہے بلکہ اُسے بھی بہت پہلے کی۔بابل ونینوا کے مدرسوں میں مٹی پکاکر تختیاں (لوحیں) تیار کی جاتی تھیں۔

میں تخیل کے زور پہ پیچھے کی طرف دوڑنے لگا۔حالانکہ ہماری گاڑیاں آگے کو دوڑ رہی تھیں۔ ماضی،ہمجولی،چراگاہیں،سکول،بستے چھوٹی سی کائنات جو اُس وقت ہر ایک کیااپنی اپنی ہوتی ہے اورپورے طور پہ ماں باپ کے سہارے کھڑی رہتی ہے۔ہر بچپن معصوم،ہرلڑکپن نادان اور ہر شباب زور آور ہوتاہے۔شباب کی لہریں شوریدہ،جذبات میں تلاطم ہوتا ہے جیسے کُنہار دریاکہیں کہیں شوریدہ اور مُتلاطم ہے۔خیال کے زور آور گھوڑے نے مجھے اپنے لڑکپن کے میدان میں کھڑا کر دیا تھا۔جہاں ملائشیا کا یکساں لباس کسی بھی قسم کی طبقاتی آلودگی سے پاک تھا،چراگائیں آباد تھیں۔ان میں ڈور ڈَنگروں کے ساتھ لڑکے بالے کھیل کُود میں مصروف تھے۔ کچے گھروں میں اُپلوں کا دھواں بھی تھا مگر فضاگدلی نہ تھی زندگی خوش اور آباد تھی۔مجھے اپنی نظم کے اشعار یاد آنے لگے۔

میرا لڑکپن کتنا پیارا تھا
جب میں تھا اور سب میرے اپنے تھے
وہ بستہ،وہ تختی،وہ کتابیں اپنی
جنہیں شوق سے ہم رکھتے تھے
وہ میرے دیہات کی صبح وہ شام
کیامنظر تھے کیا سپنے تھے
وہ بلاپھٹی کا وہ کھینو (گیند)کپڑے کا
کس شوق سے بُنتے تھے کس لگن سے بناتے تھے
وہ صبح ماسٹر جی کا ڈر! وہ روز سکول جانا
ٹولیوں میں جب گھروں سے نکلتے تھے
و ہ بڑو ں کا چھوٹوں کو نک نام بُلانا
خفگیاں بانٹ کر بھی سب کتنے اپنے تھے
وہ سیب چُرانا مل کر سب کا پھر وہی پہ باتیں کرنا
ہم کتنے سادھے تھے،ہم کتنے پیارے تھے
وہ بہار کا موسم،وہ صبح کی ٹھنڈی ہوا
وہ پرندوں کا چہچہانا،وہ پھول کتنے پیارے تھے
گرما کے لمبے لمبے دن،وہ دوپہر کی دھوپ
پکتی تھیں جب خُوبانیاں تو چُن چُن کر کھاتے تھے
دن چھُٹی کو جب ہوتا تھا،جب دھوپ خوب چمکتی تھی
کیا کودتے تھے،کیا ٹھنڈے پانی میں نہاتے تھے
جب زمین تپتی تھی،تب ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں
تب مٹی خُوشبو دیتی تھی جب بادل برسا کرتے تھے
کاش! ماضی ہمارے لوٹیں،ہم بولیاں وہی بولیں
اُن زمانوں سے مل کر رو لیں،جو ہم سے بچھڑے تھے
پوچھتے ہیں کبھی کبھی دُور وہ آسمان کے مکیں
کیا ہوئے وہ دن جب نیم ِ شب لوگ ہمیں تکتے تھے۔
میں چولہے تلاش کرتا ہوں اب بھی
جہاں اُپلوں پہ چاول پکتے تھے
میں اکثر بیٹھ جاتا ہوں وہاں جا کر
جہاں فاختہ مینہ ُکوکتے تھے۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *