فرعون کے دوبدو: حصہ چہارم ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

قدیم مصری تاریخ سےباقی دنیا کو غرض ہوگی لیکن ہم پاکستانی عوام جس سحر میں صدیوں سے مبتلا ہیں وہ حسن مصر ہے۔ مصر میں اترتے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ اگر یورپ نہیں تو اسلامی یورپ ضرور ہے جہاں سر ڈھانپ کر باقی اثاثہ جات سے لاتعلق ہوجانا یہاں کی خواتین کا سٹائیل ہے۔ خوبصورتی کا تعلق چونکہ دیکھنے والے کی آنکھ پر ہوتا ہے اس لیے کسی نے بھی مایوس نہیں کیا۔ اس سے زیادہ شجاعت دکھانے کی نا ہمت تھی اور نا ہی پیسے۔

 خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اگر مصری خواتین معصوم بھی لگتیں تو ان میں اور ہماری عورتوں میں فرق بالکل نہیں ہوتا۔ وجہ یہ کہ ہر عورت اپنے مرد کے ساتھ برابر کام پر جاتی ہے اور پروفیشنل ہونے کی وجہ سے زیادہ سمجھدار اور زمانہ شناس ہیں۔ 

قاہرہ میں دوسرے دن کا آغاز حسب معمول فری مصری ناشتے سے کیا۔ آج شام کو 650 کلومیٹر دور واقع شہر لکسر کے لئے ٹرین پر نکلنا تھا اور  کچھ خوار ہونے والے ٹورسٹس آن لائین فورمز میں بتا رہے تھے کہ پہلے سے ٹکٹ لینا کتنا سود مند ہے۔ میٹرو سٹیشن ہوٹل کے پاس ہی تھا ٹیکسی والا 10 پونڈز میں لے گیا۔ میٹرو سٹیشن اوپری منزل پر واقع تھا اور پلیٹ فارم بھی۔ سکیورٹی چیک اپ کے بعد اندر داخل ہوا تو ٹکٹ گھر نظر آیا۔ یہ لوکل عوام کے لئے تھا۔ عوام جوق در جوق پلیٹ فارم پر موجود تھی۔ ایک خوش اخلاق پولیس والے نے بتایا کہ ٹورسٹس کے لئے ٹکٹس نیچے سے ملیں گی جہاں ٹیکسی والے نے اتارا تھا۔ نیچے جا کر ایک اور پولیس والے کی خوش اخلاقی ٹیسٹ کی تو وہ اس کمرے تک چھوڑ آیا جہاں ایک سمارٹ سا مصری نوجوان بیٹھا میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اشاروں اشاروں میں طے ہوا کہ مجھے اندر جانا ہے۔ اپنا پاکستانی تعارف کروایا تو اس نے 110 ڈالر کی ٹکٹ کے اوپر مونگ پھلی اور چند چلغوزے بھی رکھ دئیے۔ مصری مونگ پھلی کا سائز پاکستان والی سے تقریبا دوگنا ہوتا ہے لیکن ذائقہ ہمارا بہتر ہے۔ 

قاہرہ میوزیم اور تحریر سکوئیر:

دن کے دس بج چکے تھے اور اگلا پڑاؤ میوزیم تھا جہاں ممیاں اور تاریخ دیکھنی تھی۔ ٹیکسی والا 30 پونڈز میں دریائے نیل کراس کر کے قاہرہ میوزیم لے گیا۔ حسب توقع سیاحوں کی کثیر تعداد یہاں موجود تھی۔ میوزیم میں لوکل کے لئے ٹکٹ 50 پونڈز اور ٹورسٹس کے لئے 100 پونڈز تھا۔ ممی سیکشن کی ٹکٹ 100 پونڈز اور فوٹوگرافی پرمٹ 50 پونڈز تھا۔ جیب ٹٹولی تو مصری پونڈز ختم ہوچکے تھے اور ٹکٹ والا امریکی ڈالر لینے پر راضی نہیں ہورہا تھا۔ ایک مصری گائیڈ سے اس کا حل پوچھا تو اس نے بنک مصر کی اے ٹی ایم کی طرف اشارہ کیا جو گیٹ کے پاس ہی لگی ہوئی تھی۔ پچاس ڈالر کا نوٹ ڈالا تو  850 پونڈز باہر نکل آئے۔  پیکیج تقریبا 250 میں خرید کر باہر نکلا موبائیل فوٹو گرافی شروع کی تو معلوم نہیں پڑا کہ کب بقیہ پیسے نیچے گر گئے۔ وہی مصری گائیڈ بھاگتا ہوا آیا اور پیسے اٹھا کر مجھے دیئے۔ اس کی اخلاقیات پر رشک آیا۔ گلے لگا کر اظہار کیا اور میوزیم کے اندر چلا گیا۔ 

یہ میوزیم تین منزلہ ہے اور اندر داخل ہوتے ہی تاریخ کے اعتبار سے ترتیب لگا کر اشیا اور مجسمے رکھے گئے ہیں کہ سیاحوں کو سمجھ آسکے۔ 4000 قبل مسیح سے لے کر رومن دور تک کی اتنی چیزیں ہیں کہ ان کے پاس جگہ کم پڑ چکی ہے۔ فرعونوں کے تابوت مجسمے ان کے زیر استعمال گھریلو اشیاء کپڑے جوتے وغیرہ اصل شکل میں موجد تھے اور ان کے ساتھ ہی تفصیل انگلش اور عربی زبان میں لکھی گئی تھی۔ دو گھنٹے صرف کرنے کے بعد احساس ہوا کہ یہ ایک دن کا کام نہیں ہے۔ 

فرعونوں کا ممی سیکشن اوپری منزل پر تھا جہاں ٹکٹ دکھا کر اندر داخل ہوگیا۔ ایک کمرے میں تقریبا دس ممیاں رکھی ہوئی تھیں۔ درمیاں میں رامسس 2 کی ممی تھی پھر اس کے بیٹے کی اور باقی دوسرے فرعونوں کی۔ رامسس 2 کی عمر 60 سال جب کہ کچھ کی 40 اور اسی رینج میں تھیں۔ یعنی  یہ طویل العمر نہیں تھے۔ توت انخ آمون  صرف 19 سال کی عمر میں مر گیا تھا۔ اقتدار کی رسہ کشی اور ناقابل علاج بیماریاں ان کی وجہ اموات تھیں ۔ ہزاروں سال بعد بھی ان کی جلد ہڈیوں کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھی جبکہ گوشت غائیب ہوچکا تھا۔ سر کے بال بھی کچھ حد تک موجود تھے۔ ہاتھ سینے پر بندھے تھے۔ ہاتھ اور پاوں ناخنوں  سے سمیت اچھی حالت میں تھے۔  فوٹو گرافی منع تھی لیکن ایک گارڈ کے چیخنے چلانے سے جب کسی کو فرق نہیں پڑ رہا تھا تو میاں صاحب کیسے ٹل جاتے۔ فرعون جب خود کچھ نہیں کہہ رہا تھا تو گارڈ کون ہوتا ہے روکنے والا۔ 3 گھنٹے بعد واپسی کی راہ لی۔ 

میوزیم کے بالکل سامنے تحریر سکوئیر ہے۔ یہ زیادہ بڑا نہیں ہے تقریبا 4 ایکٹر پر محیط اس میدان کے درمیان میں ٹریفک راونڈ اباوٹ ہے ایک  طرف کچھ گھاس بھی ہے تین اطراف میں مختلف سٹریٹس ہیں اور چوتھی طرف دریائے نیل ہے۔ عرب سپرنگ کے عروج میں یہیں سے سابقہ صدر حسنی مبارک کے تیس سالہ اقتدار کے خاتمے کا آغاز ہوا تھا۔ اس میدان کو ہم مصریوں کا ڈی چوک بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ بھی ہر دور میں سیاسی اجتماع کا واحد مرکز یہی میدان رہا ہے۔ 

ٹورسٹ ٹریپ:

اسی میدان میں ایک ویل ڈریسڈ مصری ملا جس نے وقت پوچھا اور پھر قومیت۔ پاکستان کے بارے میں تھوڑا بہت جانتا تھا۔ اپنا تعارف اس نے سرکاری آرٹ ڈائریکٹر کروایا اور کہا چلو میرے ساتھ اپنا دفتر اور کام دکھاتا ہوں۔  میں نے بھی سوچا وقت کافی ہے چلو چلتے ہیں۔ ایک دکان نما آرٹ گیلری میں جا کر چائے آفر کی اور اپنی بنائی پینٹنگز دکھانے لگا کہ تم کو جو پسند ہے لے لو اور یہ اپنی محنت نہیں لے گا۔ کافی اصرار پر میں نے آفر قبول کرلی تو اس نے پینٹنگ پر میرا نام لکھ دیا۔ پھر کہنے لگا کہ میری بیٹی کی کل شادی ہے اس پینٹنگ کے بدلے تم اگر اسے کوئی گفٹ دینا چاہو تو وہ بہت خوش ہوگی۔ یہ سیدھی سادگی ایموشنل بلیک میلنگ تھی۔ میاں چونکہ کسی مصیبت میں نہیں پھنسناچاہتا تھا کہ اب اس کے ساتھ جو آگیا تھا۔ اب اس پینٹنگ کی قیمت کا اندازہ لگایا تو 10 ڈالر سمجھ میں آئے۔ اس کو دے کر پینٹنگ پیک کروا لی۔  پینٹنگ واقعی نفیس تھی لیکن اس کا بیچنے کا طریقہ کار نہائیت شاطرانہ تھا۔ 

یہاں آنے سے پہلے میں ٹورسٹ ٹریپس کے بارے میں کافی پڑھ چکا تھا لیکن یہ ایک نیا طریقہ تھا۔ ٹورسٹس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ کسی قانونی کاروائی کی طرف جائیں اس لئے معاملہ سیٹل کرنے میں ہی عقلمندی ہوتی ہے۔ آئیندہ محتاط رہنے اور کسی نامعلوم کے ساتھ نا جانے کا پکا ارادہ کرکے واپس ہوٹل آگیا۔ 

اب شام کے 5 بج چکے تھے اور  یہاں سے ٹرین کی روانگی کا وقت 7:30 شام تھا اور 6:30 پر میٹرو سٹیشن پہنچنا تھا کہ سامان اور  سکیورٹی چیکنگ اور بورڈنگ میں کافی وقت لگتا ہے۔ نزدیکی لوکل مارکیٹ میں جا کر کچھ موبائیل اسیسریز خریدیں اور شام کا کھانا ایک مصری ہوٹل سے کھایا۔ دس گھنٹے کا سفر تھا تو کچھ چپس ریڈ بل جوسزچاکلیٹس وغیرہ لے لئے کہ رات کو کام آئیں گے۔ 6 بجے ہوٹل سے چیک آوٹ کر کے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا میٹرو سٹیشن پہنچ گیا جو یہاں سے تین کلومیٹر دور تھا۔ ٹیکسی سے نیچے اترا تو وہی بکنگ والا نوجوان اپنی کھڑکی سے دیکھ کر ہاتھ ہلا رہا تھا کہ میں وہی ہوں جو صبح اس کے پاس آیا تھا۔ ٹورسٹس کو بہت اچھے طریقے سے ہینڈل کرنا جانتا تھا۔ 

چونکہ یہ ٹرین صرف ٹورسٹس کے لئے تھے تو ہمارا انٹری پوائنٹ بھی الگ تھا جہاں میرے ساتھ سب گورے لوگ لائین میں لگ کر چیکنگ کروا رہے تھے۔ کلیئرنس کے بعد پلیٹ فارم پر گیا تو رش لگا ہوا تھا۔ ایک کینٹین پر نظر پڑی جہاں کرسیاں لگی ہوئی تھیں اور چائینیزکا ایک بڑا گروپ بیٹھا کچھ نا کچھ کھا پی رہا تھا۔ صاف ستھرا ماحول دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا اور مینودیکھ کر ایک فریش مینگوجوس آرڈر کیا۔ اس سے زیادہ مزیدار جوس شاید ہی آج تک کبھی پیا ہو۔ 

آدھے گھنٹے بعد ٹرین سیٹیاں مارتی آپہنچی۔ میرا سلیپر کیبن پہلی بوگی میں تھا۔ جس میں دو افراد سو سکتے تھے کمبل تکیے اے سی ہیٹر اور 220 V الیکٹرک پورٹ موجود تھی۔ یہ جرمن ٹرین تھی جو اب مصر میں چل رہی تھی۔ مقررہ وقت پر ٹرین چل پڑی۔ چونکہ رات کا وقت تھا تو باہر کچھ خاص نظر نہیں آرہا تھا۔ یہ ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کا بہترین وقت تھا سو شروع ہوا۔ کچھ دیر بعد ہی ایک مہذب اور خوش اخلاق اٹینڈنٹ ڈنر لے کر آگیا جو کہ روسٹڈ چکن چاول ڈبل روٹی اور سویٹس پر مشتمل تھا۔ کچھ دیر بعد نیس کیفے کافی بھی پیش کی گئی۔ 

ٹرین میڈیم سپیڈ سے چل رہی تھی لیکن باہر بالکل اندھیرا تھا۔ دریائے نیل کا پانی چاند کی روشنی میں چمک رہا تھا جو کہ لکسر تک ٹرین کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ رات کے 12 تک موبائیل اور لیپ ٹاپ پر ڈیٹا ارینج کرکے سو گیا کہ کل صبح سارا دن ریسٹ نہیں ملنے والا۔ 

صبح پانچ بجے آنکھ کھل گئی تو باہر صبح کی روشنی شروع ہوچکی تھی اور لہلہاتے کھیتوں میں مصری اپنی گدھا گاڑیوں میں چارہ لادتے نظر آرہے تھے۔ گنے کی فصل تقریبا تیار کھڑی تھی اور سبزیاں بھی وافر مقدار میں کاشت کی گئی تھیں۔ دیہاتی رہائشی آبادیاں جدید طرز کی ملٹی سٹوری بلڈنگز تھیں۔ فٹ بال کے گراونڈز  کافی تعداد میں نظر آئے جو کہ بہترین طریقے سے ڈیزائین کئے گئے تھے ۔ فٹ بال یہاں کا فیورٹ کھیل ہے۔ 

ٹرین 3 گھنٹے لیٹ تھی اور 8:30 پر لکسر شہر پہنچی۔ لکسر ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کا دارومدار زراعت اور سیاحت پر ہے کہ یہاں فرعونوں کے مقبرے اور ٹیمپلز ہیں جہاں ان کو اس دور میں دفن کیا گیا تھا۔ یہ ایک طرح کا دارالحکومت تھا۔ اس سے آگے اسوان کا شہر بھی ہے جس میں اور بھی  ایسے ہی ٹیمپلز ہیں لیکن وہاں جانا ممکن نہیں تھا کہ وقت کم تھا۔ 

ریلوے سٹیشن کے باہر کھڑے ہوکر جی پی ایس سے پتا لگایا کہ ہوٹل 2 کلومیٹر دور ہے۔ ٹیکسی والے سے اسی حساب سے 15 پونڈز میں ڈیل کی اور Eatab Hotel “ایتاب”میں پہنچ گیا۔ یہ ایک اچھا فور سٹار ہوٹل تھا اور بلڈنگ بالکل نئی تھی۔ اب 9 بج چکے تھے ۔ 3 گھنٹے سوکر ویلی آف دی کنگز جانے کا پلان پرفیکٹ تھا۔ ہوٹل کے نفیس اور آرام دہ کمرے سے باہر دریائے نیل صاف نظر آرہا تھا۔ اس سے بہتر لوکیشن اور کوئی نہیں ہوسکتی تھی۔ نہا کر سو گیا کہ بارہ بجے پھر باہر جانا ہے۔ 

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *