• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • پتی پتنی اور پتایہ ‘ (تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد) ۔۔ قسط نمبر 1بٹا 3 ۔ ۔شفیق زادہ

پتی پتنی اور پتایہ ‘ (تھائی لینڈ کے ایک سفر کی مختصر روداد) ۔۔ قسط نمبر 1بٹا 3 ۔ ۔شفیق زادہ

سفر بھی ایک عجیب تجربہ ہوتا ہے جس میں مسافر مختلف کیفیات سے مسلسل گزرتا رہتا ہے۔ کبھی کوئی لمحہ مایوسی و حزن لاتا ہے تو کوئی خوشی و انبساط چھوڑ جاتا ہے ۔ کچھ لوگوں سے مل کر کان پکڑ کر دوبارہ کبھی سامنا نہ کرنے کی خواہش ہوتی ہے تو کچھ سے مل کر کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جب تلک رات رہے یہ ملاقات رہے۔ کل رات کا ہوائی سفر بھی کچھ ایسا ہی تجربہ تھا جس کا تمنائی کوئی بھی ’ شریف ’ آدمی ہو سکتا ہے۔

دوستو آپ کو اگر سفرناموں سے شغف ہے تو یقیناً آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ اکثر سفرنامے شروع ہی شروع سےہوتے ہیں اور اختتام پر ہی ختم ہو جاتے ہیں مگر ہماری کہانی اکثر انتہا سے ابتدا کی طرف سفر کرتی ہے گویا بیسٹ پارٹ  آف  دی اسٹوری آتے آتے نہیں بلکہ جاتے جاتے آتی ہے۔ کہنے کو بہت کچھ ہے مگر سنانے کا نہیں ہے ۔

پچھلے زمانے کے بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ سفر وسیلہ ظفر ، ہمارے لیے تو سفر ہمیشہ سے ہی ایک اداس اور یاسیت سے بھر ی ،خود کو تلاش کرتی، ایک ایسی مہم ہوتی جس میں ہم بہ صورت مسمی خود کو کسی اور ٹائم لائن میں کھو کر آج میں کھوجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیٹھے بیٹھے گم صم ہو جانا، کسی گزرتے درخت کے پیچھے کوئی گمشدہ آشنا چہرہ دیکھ کر چونک پڑنا ،پھر خود کو باور کرانا کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ اُس سے بچھڑے صدیاں گزریں، کبھی کسی سڑک کے نام سے ماضی کی کوئی ایسی پگڈنڈی یاداشت کی زمین پر ابھر آتی، جس پر ننگے پاؤں کبھی چلے ہوں گے پر نقش پا ء آج بھی یاد میں روشن روشن دِکھتے ہیں ۔ جس وقت سب ہمسفر گلا پھاڑ پھاڑ کر کسی ہپ ہوپ یا پوپلر گانے کا ستیاناس کررہے ہوتے ہوں تو ہم اس گیت کے بولوں سے رفیع یا کشور کا کوئی پرانا گانا  کشید کر کے خود کو اس میں قید کر لیتے ’ یاد کیا دل نے، کہاں ہو تم ‘۔ ہمیں تو اس ناسٹیلجیا نے کہیں کا نہیں چھوڑا کہ دو قدم آگے تو چار قدم پیچھے چلنے لگتے ہیں ، ہائے یادش بخیر ۔

تو ہوا کچھ یوں کہ ہم جب تھائی لینڈ کے ساحلی شہر پتایہ سے واپسی کے لیے چلے تو بھی چلتے چلتے رستے میں ایک خوبصورت باغ دیکھنے رکے، بہت سی تصویریں بنائیں ، ہاتھی کی  سونڈوں سے اٹھکھیلیاں اور دکھانے والے دانتوں کے ساتھ نٹ کھیلیاں کرنے کے بعد واپس اسی ہائیس میں سوار ہو گئے جس کو پہلی بار دیکھ کر ناران و کاغان کے سفر والی اس کی ہم نام جڑواں بہن کی یاد آگئی تھی ۔ دونوں بہنوں کی ولدیت تو ایک ہی تھی مگر رہن سہن، دیکھ ریکھ،اور جوبن و اُٹھان میں زمین آسمان کا فرق تھا، کہاں تو ہماری والی دیسی ہائیس مثل دیہات میں دیوار پر اُپلے تھاپنے والی دن بھر چولہے کے آگے پھنکنی منہ میں دبائے سانس پھلائے ہوئے مائی پھاتاں اور کہاں یہ سبک خرام تھائی  دوشیزہ کہ جس کے فرنٹ وہیل بنکاک تو پچھل پیر پتایہ کے ساحل پر ،الغرض درمیانی سفر میں مسافر کے ’ مجے ہی مجے ‘۔ اس ہائیس کا باطن اس کے ظاہر سے بھی زیادہ خوبصورت تھا، گداز چرمی نشستیں ایسی آرام دہ کہ بیٹھتے ہی لیٹنے کا جی چاہے،اکیلے ہی سہی ، سکون آوریخ بستہ ائیر کنڈیشنر اور اس سے حظ اٹھاتے ہم جیسے نَر اور اُن سے وہی کام لیتی ان کی مادائیں ۔

پتایہ سے بنکاک ائیر پورٹ تقریبا ًدو سوا دو گھنٹے کا سفر تھا۔ ہموار سڑک پر گاڑیاں اپنے اپنے انداز میں نظم و ضبط سے رواں تھیں، شاذ ہی کوئی گاڑی ملک عزیز کے اداروں کی طرح حب الوطنی کا پوّا چڑھائے اپنی حد سے نکل کر دوسرے کے پیٹی کوٹ یعنی ’علاقہ غیر دسترس‘ میں دخول کی مشقِ لاحاصل کر رہا تھا۔ سڑک پر غریبوں کی جوروئیں یعنی چھوٹی گاڑیاں تو بہت تھیں مگر وہ سب کی بھابھی نہ تھیں، رشتوں کا احترام باقی تھا، اُن کے لیے طارق روڈ پر خواتین کے لیے چاند رات کے رش والے حالات نہیں تھے ، لہٰذہ کوئی پلٹ کر کسی کو گالی نہیں دے رہا تھا، یعنی لین ڈسپلن کمال کا تھا ۔ پتایہ میں اپنے قیام کے تمام دنوں میں صرف ایک بار ہی کسی گاڑی کا ہارن بجنے کی آواز سننے کی سعادت ملی،بے اختیار وطن عزیز یاد آگیا، آنکھوں میں نمی اُتر آئی ، بیچارے تھائی مسکین، گاڑیاں انجن سے چلاتے ہیں ، کتنا خرچ کرتے ہیں فضول میں، ایک ہم لوگ ہیں، نمبر ون، گاڑیاں ہارن ، جمہوریت ڈنڈے اور انصاف واٹس ا یپ سے چلاتے ہیں ۔ بے اختیار پنڈ ی والے بوائز پر پیار آیا، دل میں طے کر لیا کہ جیسے ہی انٹر نیٹ کا نیٹ ورک ملے گا ، اپنی ڈی پی ڈی جی کر لیں گے۔

جاپانیوں کی طرح تھائی لوگوں نے بھی ہر چیز اس کی صحیح جگہ پر رکھی ہوئی ہے ، بادشاہ محل میں، فوج بیرک میں ،دماغ کام پر اور ٹھرک کی اقامت گاہ کا تو پوچھیں ہی نہ۔ ہر شہر میں خواروں کی غم خواری کے لیے ’ آنندی ‘ قائم ہے ۔ تھائی لینڈ کے مشہور نان ویج پکوان کے شوقینوں کی تسکین کے لیے کلچے ، کباب جیسے کسی بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ادھر پھجّے کے پائے نہیں ہوتے، سائلین کو گوشت پشوری کا شوق پورا کرنے کے لیے کسی پائے کا بہانہ کرنے کی حاجت نہیں ہوتی، بس حاجت ہو نا ہی کافی ہے ۔ جیب میں بھات ہوں تو بھانت بھانت کاجانور دستیاب ہے، خصّی بھی اور بہ صورت دیگر بھی ، یعنی ٹو ان ون ٹائپ۔ آسٹریلیا اور برطانیہ کے ریٹائڑڈ بڈھے اپنے گریجیوٹی اور پنشن سےشارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم لیز پر بھی زنانہ ، مردانہ اور بہ صورت دیگر جنس کو ساتھ رکھتے ہیں اور ٹرافی کی  طرح لیے لیے پھرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یہ تھائی جانور فلور کراسنگ اور یو ٹرن کے لیے بھی مشہور ہیں ، جس کے بارے میں یہاں مشہور ہے کہ یہ فن ملک عزیز کے چار مارش لاؤں کا مطالعہ کر نے کے بعد لوکل انڈسٹری نے اپنایا ہے ، مقامی اَن داتا اس فن کو پیار سے ’ کنٹرولڈ ڈیموکریسی ‘ کہتے ہیں ۔ کنٹرول انگریز ی کا لفظ ہے جس کی ادائیگی انگریزی اور پنجابی میں دو سلیبل سے کی جاتی ہے ۔ انگریزی سیکھنے کے خواہش مند کوشش کر دیکھیں، نتائج سے مصنف کو بھی آگاہ کریں ۔

3 قسطوں کی روداد کی پہلی قسط آپ نے ملاحظہ کی ، اگلی قسط میں تھائی  تجربہ رکھنے والے مجّو بھائی سے ملاقات کروائی جائے گی جو آپ کو اندر کی باتیں بتائیں گے، اسٹے ٹیونڈ، ٹا ٹا!

جاری ہے

ShafiqZada
ShafiqZada
شفیق زاد ہ ایس احمد پیشے کے لحاظ سےکوالٹی پروفیشنل ہیں ۔ لڑکپن ہی سے ایوَی ایشن سے وابستہ ہیں لہٰذہ ہوابازی کی طرف ان کا میلان اچھنبے کی بات نہیں. . درس و تدریس سے بھی وابستگی ہے، جن سے سیکھتے ہیں انہیں سکھاتے بھی ہیں ۔ کوانٹیٹی سے زیادہ کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں سوائے ڈالر کے معاملے میں، جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طمع صرف ایک ہی چیز ختم کر سکتی ہے ، اور وہ ہے " مزید ڈالر"۔جناب کو کتب بینی کا شوق ہے اور چیک بک کے ہر صفحے پر اپنا نام سب سے اوپر دیکھنے کے متمنّی رہتے ہیں. عرب امارات میں مقیم شفیق زادہ اپنی تحاریر سے بوجھل لمحوں کو لطیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ " ہم تماشا" ان کی پہلوٹھی کی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ کہتے ہیں جس نے ہم تماشا نہیں پڑھی اسے مسکرانے کی خواہش نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *