• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نریندرا مودی اور اُن جیسے دیگر قائدین۔۔۔اختر علی سیّد

نریندرا مودی اور اُن جیسے دیگر قائدین۔۔۔اختر علی سیّد

آپ نے ہیوسٹن میں ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی کا جلسہ دیکھا ہوگا۔ شاید آپ اس سلسلے میں امریکی صدر اور کانگریس کے اراکین کی شرکت پر حیران ہوئے ہوں گے لیکن میرے لئے اس سے زیادہ تعجب کی بات 50000 سے زائد ہندوستانیوں کی اس جلسے میں شرکت تھی۔ آپ میں سے جو امریکہ میں مقیم ہندوستانی باشندوں کے بارے میں واقفیت رکھتے ہیں ان کو معلوم ہوگا کہ پچاس ہزار افراد کا یہ مجمع صرف ٹیکسی چلانے والے اور چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنے والے افراد پر مشتمل نہیں تھا۔ امریکہ اور یورپ میں مقیم ہندوستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد انجینئرنگ، آئی ٹی، طب اور بزنس کے شعبوں سے وابستہ ہے۔سماجی حیثیت اور دولت کے اعتبار سے ہندوستانی باشندے ان ملکوں میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں میں مقامی باشندوں کو شریک رکھنے میں یہ لوگ پاکستانیوں سے بہتر ہیں۔ سماجی میل جول میں جو رکاوٹیں بالعموم پاکستانی مسلمانوں کو پیش آتی ہیں ہندوستانی باشندوں کو ان کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ جس طرح دہشت گرد کاروائیوں میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کی خبروں کے بعد ہم جیسے لوگوں سے سوال کیے جاتے ہیں، میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ گجرات کے واقعے میں نریندرا مودی کے ملوث ہونے کے بعد اور ان کے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے پر ہندوستانی باشندوں سے بھی مغربی ملکوں کے مقامی باشندوں نے سوال ضرور پوچھے ہونگے۔ ان سے بھی پوچھا گیا ہوگا کہ “گجرات کے قصاب” کو ہندوستانی عوام نے ایک مرتبہ پھر ملک کے وزیراعظم کے طور پر کیوں منتخب کرلیا ہے۔۔۔مغربی ممالک کے باشندے اس طرح کے سوال اٹھانے کے مواقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔۔۔ اس طرح کے سوالات کا سامنا کرنے والے بھارتی شہریوں نے اتنی بڑی تعداد میں ایک ایسے شخص کو اپنی پذیرائی سے نوازا جس کا کچھ برسوں پہلے تک امریکہ میں داخلہ ممنوع تھا۔

جہاں مغربی ممالک میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کا بڑھتا ہوا ووٹ بینک، مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور پاکستان میں جہادی تنظیموں کے لیے موجود حمایت باعث تشویش تھی اور تا حال ہے اسی طرح یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں۔۔۔ آزاد میڈیا کی موجودگی میں۔۔ اور اشیش نندی، سدھیر کاکڑ، رومیلا تھاپر اور ارون دتی رائے جیسے مفکرین کے دیس میں راشٹریا سیوک سنگ کی مقبولیت کے اسباب کیا ہیں۔ ہندوستان میں رہنے والے ہو سکتا ہے کچھ ایسے مسائل کا شکار ہوں جن کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دینا ان کی مجبوری بن گیا ہو۔۔ کانگریس اور دیگر پارٹیوں کی بری کارکردگی ہوسکتا ہے بی جے پی کی کامیابی کا سبب بن گئی ہو۔ لیکن امریکہ میں مقیم ہندوستانی تو ایسی مجبوریوں کا شکار نہیں تھے۔ وہ کس وجہ سے دور دراز کا سفر طے کرکے ہیوسٹن صرف نریندرا مودی کا استقبال کرنے کے لیے پہنچے؟ شاید ہی کوئی ایسا شدت پسند سیاسی لیڈر پاکستان میں موجود ہو جو نریندرا مودی کی طرح وزیر اعظم منتخب ہوسکتا ہو۔ چالیس سالہ ریاستی انتہاءپسندانہ پالیسیوں۔۔ دہشتگردوں کی ریاستی پشت پناہی کے باوجود کوئی شدت پسند پارٹی تو ایک طرف رہی کوئی مذہبی سیاسی پارٹی بھی کبھی پاکستان میں آزادانہ الیکشن میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔
اقتصادیات سے ناواقف ہم جیسے لوگوں کو ماہرین اعدادوشمار کے حوالے دے کر آسانی سے خاموش کرا دیتے ہیں یہ بتاتے ہیں کہ اقتصادی لحاظ سے کس حکومت نے کیا کارنامے انجام دیے۔ آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ یہ اعدادوشمار موم کی ناک کی طرح سے ہوتے ہیں۔ جنہیں ہر پارٹی اپنے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ان اعدادوشمار کا سہارا لے   کر ماہرین ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ کس وجہ سے، کس سیاسی پارٹی کو عوام نے دوبارہ حکومت کے لیے منتخب کیا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ بھارت کی اقتصادی حالت گزشتہ مودی دور حکومت میں پہلے سے زیادہ خراب ہوئی ہے۔ شرح نمو گِری، بیروزگاری میں اضافہ ہوا لیکن اس کے باوجود 2019 کے الیکشن میں بی جے پی نے 1984 کے بعد ایک پارٹی کے طور پر اتنی بڑی اکثریت حاصل کی ہے۔
اب ذرا ایک اور حیران کر دینے والی حقیقت پر نظر ڈالیے 2014 کے الیکشن سے قبل ہندوستان کے 36 فیصد افراد نے نریندر مودی کو ایک وزیراعظم کے طور پر پسند کیا تھا۔ مودی نے 2014 کے الیکشن سے قبل اقتصادیات کے حوالے سے جو بنیادی وعدے اپنے منشور میں شامل کیے تھے مثلاً  ملازمتوں اور شرح نمو میں تیزی کے ساتھ اضافہ اور ہندوستان میں بیرونی سرمایہ کاری وغیرہ۔ ان میں سے کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہ ہوا۔ انہوں نے سیلز ٹیکس اور دیوالیہ پن کے نئے قوانین بھی متعارف کرعائے مگر وہ ہندوستان میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ نہ کرسکے۔ ہندو انتہا پسندوں کی مسلمانوں، عیسائیوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں میں اضافہ اس کے علاوہ تھا۔ اس خراب کارکردگی کے باوجود جب 2019 کے انتخابات سے قبل عوام سے مودی کے بارے میں رائے لی گئی تو 43 فیصد عوام نے مودی کے حق میں رائے دی. مجھے یقین ہے کہ  یہ بات جان کر آپ مزید حیران ہوں گے اور مجھے اپنی بات کہنے میں مزید آسانی ہوگی۔ جب 43 فیصد عوام مودی کو وزیر اعظم دیکھنا پسند کر رہے تھے تب ان کی پارٹی بی جے پی کی مقبولیت صرف 32 فیصد تھی۔ یعنی مودی اپنی پارٹی کی وجہ سے الیکشن نہیں جیتے ان کی پارٹی مودی کی وجہ سے الیکشن جیتی ہے۔۔ اس بات کو آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بھارتی جمہوریت اب پارٹی اور پارٹی پالیسی کی بجائے شخصی خصائص پر انحصار کر رہی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر نفسیات کے طالب علم کی حیثیت سے میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہ رہا ہوں۔
یہاں آپ ان تجزیہ نگاروں کو یاد کر سکتے ہیں کہ جوہر ہم سماجی تبدیلی کے پیچھے اقتصادی عوامل کی کارفرمائی کو ایک لازمہ قرار دیتے ہیں۔ اور دیگر اعمال کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہندوستان ہی کے ایک انتہائی اہم ماہر نفسیات جناب اشیش نندی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب The intimate enemy میں اس انتہائی اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی تھی کہ بہت سے ملکوں میں نوآبادیاتی نظام اقتصادی نقصان کے باوجود بھی جاری رکھا گیا۔۔۔۔ کم و بیش یہی صورتحال نریندرا مودی کے انتخاب اور مقبولیت کے حوالے سے درپیش ہے۔
سوال یہ ہے کہ مودی کی شخصیت میں ایسا کیا ہے جس نے انہیں اتنا مقبول لیڈر بنا دیا ہے کہ پڑھے لکھے ہندوستانی ڈاکٹر، انجینئر اور سائنسدان ایک قصاب کا لقب رکھنے والے کے استقبال کے لیے پچاس ہزار کی تعداد میں اکھٹا ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ مغرب اور ہندوستان کے نمایاں اخبارات میں مودی کے شخصی خصائص کے حوالے سے شائع ہونے والے تجزیوں کو دیکھیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ عوام نے بنیادی طور پر تین اہم خصائص کو بہت اہمیت دی ہے۔ پُر اعتماد قیادت،  ایک فیصلہ لے کر اس پر ثابت قدم رہنا،اورتیسرے طاقت کے استعمال پر اصرار۔
ان اہم ترین تجزیوں میں جن امور کو مودی کی مقبولیت میں اضافے کا کریڈٹ دیا گیا ہے وہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہونے والے جنگی نوعیت کے تنازعے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ یہ تنازعے فروری 2019 میں پلوامہ کے واقعے کے بعد دوبارہ شروع ہوئے تھے۔ اور ہندوستانی پائلٹ کی پاکستان کے ہاتھوں گرفتاری اور بعدازاں اس کی بھارت کو حوالگی کے بعد معاملات کی حدت میں کمی آئی تھی۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ اس معاملے میں بعض اندازوں کے مطابق 63 فیصد باتیں جو میڈیا نے کیں،وہ جھوٹ پر مبنی تھیں۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ہندوستانی پائلٹ کی گرفتاری اور بعد ازاں حوالگی کو ہندوستان نے اپنی فتح قرار دے کر ابھینندن کو ایک قومی ہیرو کا درجہ دے دیا تھا۔
عددی کے اوپر بیان کی گئی بات کا آپ کی آسانی کے لئے خلاصہ کر دوں۔ نریندرا مودی اپنی عوام کے لیے پارٹی سے بھی زیادہ پسندیدہ ہیں ان کی پسندیدگی کی وجہ ان کی اقتصادی محاذ پر کارکردگی کے بجائے پاکستان کے ساتھ ہونے والے فوجی محاذ پر کارکردگی کو قرار دیا گیا ہے۔ غور فرمائیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی عوام کن بنیادوں پر اپنی قیادت منتخب کر رہی ہے۔ گفتگو کے اس نتیجے کو اس طالب علم کی گزشتہ تحریر سے ملایے اور دیکھیے کہ کس طرح سبز باغ دکھانے والے،عوام سے جھوٹ بولنے والے، ان کے لئے دشمن پیدا کرنے والے، اور انہیں دشمنوں کے خلاف صف آراءکر دینے والے، ذہنی لحاظ اوسط درجے سے بھی پست اور معاشروں میں مصنوعی تقسیم پیدا کرنے والے بتدریج عوام کی پسندیدگی حاصل کرتے چلے جارہے ہیں۔
پہلے بھی عرض کر چکا آپ سے، دوبارہ دوہراتا ہوں کہ عوامی رجحان میں اضافے کے امکانات بہت واضح ہیں۔جب اقتصادی حالت گرتی چلی جائے اور دشمن بڑھتے چلے جائیں تو آپ جانتے ہیں کہ نتیجہ تشدد میں اضافے کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلتا۔۔۔مودی اور ان جیسے دوسرے لیڈر بری اقتصادی صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عوامی غصے اور مایوسی کو ایک نئی سمت دینے پر مہارت تامہ رکھتے ہیں۔

اختر علی سید
اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *