میرے ہم سفر ۔۔۔ محمد اشتیاق

بزرگ کہتے ہیں کہ کسی انسان کی اصلیت پہچاننی ہو تو اس سے لین دین کرو یا اس کے ساتھ سفر کرو۔ گزشتہ ہفتے کے دوران میں نے تین دوستوں کے ساتھ کراچی سے پشاور تک کا سفر بذریعہ سڑک کیا۔ پانچ دن اور پانچ راتیں کافی وقت ہوتی ہیں کسی کو پہچاننے کے لیے۔ دوران سفر ہر کسی کی طبیعت کھل کہ سامنے آ جاتی ہے۔ بندہ ایک دوسرے کو تمام انسانی کمزوریوں کے ساتھ دیکھ سکتا ہے، مختلف حالات اور ضروریات کے زیر اثر اس شخص کا رد عمل کیا رہا۔ اس کا مزاج، حس مزاح، برداشت، اظہار، نزاکت، لطافت، اخلاق، کردار، جذبہ قربانی، غصہ، طیش، کون سی ایسی خصوصیت ہے جو سامنے نہیں آتی۔

میرے ساتھ چلنے والے دوست پتہ نہیں میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں لیکن میں ان کے بارے جو رائے رکھتا تھا اس میں کچھ خاص بدلاو نہیں آیا۔ ایک پہلے سے حقیقی زندگی کا واقف اور دو سوشل میڈیا کے دروازے سے زندگی میں داخل ہونے والے، سارے کے سارے اپنی ذات میں “نمونے “۔ “انجمن” کہنا زیادتی ہے چاروں کے ساتھ، چوتھی میڈم انجمن کو شامل کیا ہے۔ ہر ایک میں الگ الگ خوبیاں، لیکن ایک خوبی جو سب میں بدرجہ اتم موجود تھی “حس مزاح”۔ شخصیات مختلف، دیکھنے میں تو اور بھی مختلف، بیک گراونڈ بالکل مختلف ایک پشاور میں پلا بڑھا ہوا معاذ، تو ایک ٹنڈو الٰہ یار میں بھاگا دوڑا منظور، تیسرا خانیوال کی پگڈنڈیوں کو پھلانگا ہوا افضل۔ لیکن مجال ہے کہ جو کسی کے ماتھے پہ ایک شکن بھی کسی فقرے سے آئی ہو۔ بھلے کوئی ڈرائیو کر رہا ہو۔ کوئی ازدواجی ہیڈ کوارٹر میں رپورٹ کر رہا ہو یا کوئی چارجر ٹھیک کروانے میں مصروف ہو، ہر چست فقرے کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور بڑے دل کے ساتھ اپنے جثے کے حساب سے قہقہہ لگایا۔ 

سفر کی خوبصورتی یہ تھی کہ کوئی پلان نہیں تھا سوائے اس کے کہ کراچی سے پشاور بائی روڈ جانا ہے اور واپس آنا ہے۔ یہ خوبصورتی کسی ایک بندے کی تھوڑی سی سخت مزاجی سے وبال میں بدل سکتی تھی۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ سخت مزاجی میسر نہ آسکی۔ تمام معاملات قدرتی طور پہ بہت اچھے طریقے سے طے پاتے رہے۔ حتٰی کہ سکہ بند بسترہ بند حضرات کی طرح امیر مقرر کرنے کی ضرورت بھی پیش نہ آئی اور معاملات بنیادی جمہوریت سے طے پاتے رہے۔ دن کا بیشتر حصہ لوہے کے حصار میں چار بندوں نے مقید حالت میں جنگل اور منگل والی مثال کی والدہ و ہمشیرہ ہی ایک کر دی۔ ہر موضوع اور ہر موقعے کے حساب سے لطیفوں اور واقعات کی بوچھاڑ ہوتی رہی۔لطیفوں میں  زیادہ تر حصہ خاموش طبع نظر آنے والے افضل صاحب کا رہا، لطیفہ سناتے ہوئے  سماں باندھ دیتے ہیں، اور پھر لطیفے سارے سفر میں ان پہ نازل ہوتے رہے۔ اپنا تجربہ کچھ یہ رہا ہے کہ برمحل، برموقع، تیر بہدف لطیفہ، شعر کی نسبت زیادہ سود اور زود مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر خوشی کے موقعے پہ ہوتواس لطیفے کی نسبت سے کئی سالوں تک خوشی دوبالا رہتی ہے اور اگر غلطی پہ ہوتو پھر عرصے تک جلن کے ساتھ ساتھ بندہ وہ غلطی کرنے سے بھی باز رہتا ہے۔ لطیفوں کی اس بوچھاڑ کا ایک ہی توڑ تھا کہ افضل صاحب کے آگے ہاتھ باندھ دئیے جائیں۔ 

سفر ہو اور موسیقی نہ ہو ایسا کیسے ممکن ہے؟ ہم نے رفیع، نصرت، عابدہ پروین سے لے کر عطااللہ اور تو لونگ میں لاچی تک موسیقی کا غیر ہموار سفر طے کیا۔ اپنے ہم سفروں کے سر اور تال پہ عبور کو دیکھنے کے بعد ایک دلی تسکین پہنچی کہ بے سرے زمانے میں اک ہم ہی نہیں الحمدوللہ اس میدان میں بھی ہم طفل مکتب ہی ہیں۔ ہاں اس بات کا اعتراف ضرور ہے کہ ذاتی موسیقی کی وجہ سے سفر زیادہ خوشگوار رہا اور گاڑی میں سی ڈی پلئیر کی افادیت کا بھی اچھے سے اندازہ ہوا۔ 

اس سفر کی آخری اہم بات یہ کہ تمام لوگوں نے اپنی زندگی کے ان گوشوں سے پردہ اٹھایا جو ہم سے اور شائد سب سے ہی چھپے ہوئے تھے۔ جن کو سن کے ایسے لگتا ہے کہ تھوڑی مختلف سہی لیکن شائد ہم سب “ایک ” ہی زندگی جی رہے ہیں۔ تھوڑے مختلف رنگ، تھوڑے مختلف زاویے سے واقعات پے درپے انسان کو بدلتے رہتے ہیں، اس کا رخ موڑتے رہتے ہیں۔ حقیقت میں ہر شخص کے اندر ایک جیسا بچہ بیٹھا ہے جس کی کچھ خواہشات ہوتی ہیں۔ کچھ ادھوری رہ جاتی ہیں اور کچھ آسودہ۔ ادھوری خواہشات کسک اور چبھن کی شکل میں زندہ رہتی ہیں کسی گوشے میں، جو کبھی کبھی آسودہ خواہشات کے نشے میں جینے والے انسان کو سازگار ماحول میں دکھی کر دیتی ہیں۔ ویسے تو ایسے ماحول کو سازگار کہنا مناسب ہے یا نہیں، یہ اپنی جگہ ایک اہم سوال ہے۔

لب لباب یہ کہ میں بحیثیت پہلی اترنے والی سواری، باقی دوستوں کے منزل تک پہنچنے سے پہلے دوبارہ خواہشمند تھا اس سفر کے لئے۔ مطلب ہمارا سفر بہت اچھا رہا اور میرے ہمسفر بہت اچھے تھے۔ اس سفر نے مجھے ان کو پہچاننے میں آسانی پہنچائی اور اب میں پہلے سے زیادہ ان دوستوں کی عزت اور احترام کرتا ہوں۔ میں شکرگزار ہوں معاذ کا جو اس دورے کا روح رواں تھا، منظور بھائی اور افضل صاحب کا جنہوں نے سارے راستے ڈرائیو کی اور تھکاوٹ کا گلہ تک نہیں کیا۔ تمام دوستوں نے مجھے اور میں نے ان کو برداشت کیا۔ اس کے لئے ہم سب ہی داد کے مستحق ہیں۔ 

اور اب شدید خواہش ہے کہ ایسا سفر جلد دوبارہ ہو ۔۔۔

Avatar
محمد اشتیاق
Muhammad Ishtiaq is a passionate writer who has been associated with literature for many years. He writes for Mukaalma and other blogs/websites. He is a cricket addict and runs his own platform ( Club Info)where he writes about cricket news and updates, his website has the biggest database of Domestic Clubs, teams and players in Pakistan. His association with cricket is remarkable. By profession, he is a Software Engineer and has been working as Data Base Architect in a Private It company.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *