• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • مدینہ ہم نے دیکھا ہے ‘مگر نادیدہ نادیدہ۔۔محمود چوہدری/آخری حصہ ۔سفرنامہ

مدینہ ہم نے دیکھا ہے ‘مگر نادیدہ نادیدہ۔۔محمود چوہدری/آخری حصہ ۔سفرنامہ

محبت حق جتاتی ہے ۔ پوزیسیو  بنا دیتی ہے ۔محبت” محبوب صرف میرا“ اور” صرف میر ا“کہلواتی ہے ۔یہ سنا تھا ، پڑھاتھا لیکن عملی مظاہرہ مواجہ شریف پر حاضری کے بعد ہوا، جب میری نظر سنہری جالیوں پرلکھی ہوئی اس قرآنی آیت پر پڑی

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔محمدﷺ  تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے آخری نبی ہیں تو احساس ہوا کہ خدا بھی اپنے محبوب نبی ﷺ کی محبت میں پوزیسیو  ہوگیا ہے اس پر اپنا حق جتا دیا ہے کہ دنیا والوں یاد رکھو ”و لکن رسول اللہ و خاتم النبین “۔۔وہیں آس پاس یہ آیت بھی تحر یر ہے ۔

ترجمہ!اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم ﷺ  کی آواز سے بلند مت کیا کرو۔

تو پنجابی شعر ”اچا بول نہ بولیں میرے ڈول اگے “ کی سمجھ آئی، پھروہیں کہیں درج تھا ”بیشک جو لوگ رسول اللہﷺ  کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لئے جانچ لیا ہے“۔چپ کر مہر علی ایتھے جاہ نہیں بولن دی۔ آیتوں تک تو نظر گھمانا آسان تھا لیکن ان سے نیچے نظریں کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی

” وَسدے ہاسے تے وسدے ناسے

تیری جھوک دے آسے پاسے “

یعنی بستے تو تیرے دربا ر کے آس پاس ہی ہیں لیکن ادب و خوف کا عالم یہ ہے کہ اس طرف بڑھنے کی ہمت نہیں ہوتی “

سنہری جالیوں کے پاس بہت ہی خوبصورت عربی پہرہ دار ہیں ۔ ان کے چہرے نورانی ہیں ۔ ان کے آگے وردی والے نوجوان ہیں ۔ ایک سکیورٹی والا نوجوان نرمی اور اخلاق کا مرقع تھا ۔ میں نے غور سے دیکھا اس کی آنکھیں سرخ تھیں ،دل میں سوچا اگر اس کی ڈیوٹی روز انہی جالیوں کے پاس لگتی ہے تو ابھی تک تو اس کی آنکھوں کو سیرا ب ہوجانا چاہیے تھا لیکن اس کی آنکھوں کی سرخی بتاتی تھی کہ اس کی تشنگی ابھی باقی تھی ۔ ہمارے شاعراور لکھاری جانے کیوں ان پہرہ داروں کو عجیب طرح سے پیش کرتے ہیں کہ وہ جالیوں کو ہاتھ لگانے والوں یا چومنے والوں کو روکتے ہیں۔ذہن میں خیال آیا کہ کوئی محب اتنا بے باک کیسے ہو سکتا ہے کہ ان جالیوں کو چھونے کی کوشش کرے ۔کسی محبت کرنے والے کے ذہن میں ایسا خیال بھی کیسے آسکتا ہے کہ وہ اپنے ناپاک ہاتھ محبوب کی چوکھٹ پر رکھ کر انہیں میلا کرنے کی کوشش کرے ۔ کسی کی اتنی مجال کیسے ہو سکتی  ہے کہ وہ اپنے گندے ہونٹ ان جالیوں سے لگانے کی کوشش کرے جو محبوب رب کائنات ﷺ کے در کی جالیاں ہیں ، کوئی گستاخ نظر ان جالیوں میں سے اندر جھانکنے کی کوشش کرسکتی ہے کہ جن کے گھر میں فرشتے بھی اجازت لے کر آتے ہیں؟۔۔۔نظر اس سمت اٹھتی ہے مگر دزدیدہ دزدیدہ۔۔۔۔۔۔

ڈیوٹی پر تعینات وردی والا نوجوان خودآگے بڑھتا ۔ بزرگ اور عمر رسیدہ لوگوں کو اپنے ہاتھ سے پکڑتا اور انہیں عین اس جگہ کے قریب لے کر جاتا جہاں جالیوں پر ”رسول اللہﷺ‘ لکھا ہوا تھا اور انہیں بتاتا کہ یہاں سلام پیش کرو ۔جالیوں پر لکھا ہوا رسول اللہ ﷺنظر آیا تو یاد آیا کہ مجھے بھی اپناہاتھ ماتھے پر رکھنا ہے اور تاجدار کائنات ﷺ کو اپنا سلام کہنا ہے ۔ لیکن یہ کیا ؟ہاتھ تو دور کی بات ہے میری تو زبان بھی میرا ساتھ نہیں دے رہی ؟ مجھے کیا ہو گیا ہے ؟میری سانس پھول گئی ہے ۔ میں آواز نکالنے لگا لیکن ایسا محسوس ہوا کہ میری زبان میرے حلق سے نیچے گر گئی ہے ۔ میں ہونٹ ہلانے کی کوشش کرنے لگا تو محسوس ہوا کہ ہونٹ  ساکت ہو گئے ہیں ۔میرے اعضاءمیرے اختیار میں نہیں تھے ۔ یہ فرط جذبات کا اثر تھا۔یا کچھ اور ؟میرا جسم نہیں تھا بس روح ہی روح تھی۔ جسم خالی کاسہ ذات بن گیا ۔

پر سلام تو مجھے کہنا تھا۔ میں بہت دور سے آیا تھا ۔مجھے کہنا تھا! یارسول اللہ ﷺ غلام حاضر ہے ۔مجھے بتانا تھا یارسول اللہ ﷺ میں آپ کے شہر سے ساڑھے چار ہزار کلومیٹر دور پیدا ہواہوں ۔ میری پیدائش کے چند لمحوں بعد ہی میرے والدین نے میرے کانوں میں خالق کی کبریائی کے بعد جس میٹھے نام کی حلاوت ڈالی تھی وہ آپ ﷺ کا نام ہی تھا شاید اسی وجہ سے آپ سے محبت میرے ایمان کا ہی نہیں میری فطرت کا بھی حصہ بن چکا ہے ۔ مجھے بتانا تھا میرے والدکی زبان پرجب بھی آپ ﷺ کا نام آتا تھا تو ان کا تبسم تک نمناک ہو جاتاتھا ۔ مجھے بتانا تھا کہ میری ماں میرے بچپن میں میرے لئے کھانا بناتے، آٹا گوندھتے بھی آپ ﷺ پر درود بھیجتی رہی ہے ۔ مجھے عرض کرنی تھی یارسول اللہ ﷺ میرا تعلق اس ملک سے ہے جس میں لوگ آپ ﷺ کے نام پر جان چھڑکتے ہیں ۔بھلے کوئی گناہوں میں لت پت مجرم ہو یا کوئی زہد وتقوی میں نامور عالم’ آپ ﷺ کا نام آتے ہی  ہمار ے جسم کا ایک ایک خلیہ آپ ﷺ کے عشق و محبت کی چاشنی سے لبریز ہو جاتا ہے ۔ ہماری نظریں احترام سے جھک جاتی ہیں۔ یارسول اللہ ﷺ میرے ملک کے شہری آپ ﷺ کا نام زبان پر آتے ہی  اپنے انگوٹھے چومتے ہیں اور آنکھوں سے لگاتے ہیں ۔ میرے دیس کی چھوٹی چھوٹی بچیاں آپ ﷺ کانام سن کر آپ ﷺ پر عربی میں درود بھیجتے ہوئے پنچابی میں ایک جملے کا اضافہ کرتی ہیں وہ کہتی ہیں ” صدقے یارسول اللہﷺ “۔۔۔ یارسول اللہ ﷺمجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ گاؤں کی ان بھولی بھالی بچیوں کو یہ شاعری کس نے سکھائی ہے انہیں یہ آداب محبت کون سے مکتب سے ملے ہیں۔

میں سلام عرض نہیں کر پا رہاتھا ۔ دل میں آرزوئیں تھیں تمنائیں تھیں  کہ ان کی دہلیز پر سلام عرض کروں گا۔ لیکن میرا بدن لرزیدہ لرزیدہ ہے کیا میں گونگا ہو گیا ہوں ؟۔۔۔ کیا میں اب کبھی بول نہیں پاؤں گا ؟ مجھے کیا ہوگیا ہے ؟ انہی  سوچوں میں گم تھا کہ میرے پیچھے ایک نوجوان آکر کھڑ ا ہو گیا ۔ اس نے خالص پنجابی میں کہا کہ ”یارسول اللہ جی میرا سلام قبول کرلیں “میرے لئے وہ نوجوان ایک فرشتہ ثابت ہوا ۔میں جو اردو انگلش ، اطالوی اور عربی میں سلام کے مخمصے میں مبتلا تھا۔ مجھے پنجابی کا یہ اسٹائل اچھا لگا ”یارسول اللہ جی میرا سلام قبول کریں “میں نے اس کے پیچھے پیچھے اپنے ہونٹوں کو  ہلانے کی کوشش کی اور اتنی ہی آہستگی ،اتنی ہی عاجزی ،اتنی ہی انکساری، اتنی ہی شرمساری سے ہونٹ ہلانے کی کوشش کی ۔

اس نوجوان نے ایک بار پھر کہا ”یارسول اللہ جی میرا سلام قبول کریں“مجھے ایسے لگا جیسے کسی نے میرے لئے کوئی استاد بھیج دیا ہو۔ میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کہ کون ہے لیکن مجھے ایسے ہی لگتا تھا جیسے کوئی مجھے کہہ رہا” چل محموداب بول ، لب کھول !۔ “میں نے اس کے پیچھے دھرانا شروع کر دیا ”یارسول اللہ جی میرا سلام قبول کریں“ ہونٹ ہل رہے تھے لیکن میری آواز اتنی ہلکی تھی کہ میرے ہی کانوں تک نہیں پہنچ رہی تھی ۔ میری آواز رندھ گئی تھی ۔ بلکہ میری گگھی بندھ گئی تھی ۔ ہچکیاں آگئیں ۔ میرے لئے یہ سب کچھ نیا تجربہ تھا ۔ میری ناک کے اندر اور حلق کے نیچے تک درداور جلن کی ٹیس محسوس ہونا شروع ہو گئی ۔ میری آواز اس نالائق بچے کی طرح کانپ رہی تھی جو روتے ہوئے سبق سنانا چاہ رہا ہولیکن اس کا جملہ اتنا ادھورا ہو کہ کچھ سمجھ نہ آئے اوراسے کہا جائے کہ دوبارہ پھر سے سارا سبق سناؤ ۔ اس نوجوان نے پھر سے کہا ”یارسول اللہ جی میرا سلام قبول کر یں “ میں نے بھی پھر سے کہا ”یا رسول اللہ جی میرا سلام قبول کر لیں ۔“الصلوة والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ۔۔۔۔

پہرہ دار سب سے جلدی جلدی سلام کر کے باہر نکل جانے کا کہہ رہے تھے کیونکہ لوگوں کا رش بہت زیادہ تھا۔ سلام کر چکنے کے بعد میں اگرچالاکی سے تھوڑا پیچھے ہوکر دیوار کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا تو ایسا کر سکتا تھا لیکن میں نے سوچا اہل محبت کااک ہجوم ہے اس جگہ پر قبضہ جما کر کھڑا ہو نے کا مطلب دیگر محبان رسول ﷺ کے شوق دیدار میں رکاوٹ ڈالنا ہے ۔ آپ ﷺ کے ساتھ ہی شیخین کریمین حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓبھی استراحت فرما ہیں ان کے نام بھی جالیوں پر لکھے ہوئے ہیں ان کی خدمت میں بھی سلام عرض کیا اور دروازے سے باہر نکل آیا ۔

وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر

فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ!

پہلی قسط کا لنکhttps://www.mukaalma.com/14283

Save

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *