فرعون کے دوبدو: حصہ دوم ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

مصر میں شاندار داخلے کے بعد سب سے پہلے جو کام ڈھونڈا وہ مقامی ناشتہ کرنے کا تھا۔ جیسا دیس ویسا بھیس کا محاورہ ہمیشہ سے اچھا لگتا ہے۔ نویں منزل پر واقع ریسٹورنٹ میں ناشتہ لگا ہوا تھا۔ یہ تو معلوم تھا  کہ یہاں آلو پراٹھا اور دودھ پتی ملنے کا  سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لئے خود کو اس پچاس سالہ مصرن کے رحم وکرم پر چھوڑ کر کھڑکی سے اس جنگل نما چڑیا گھر کا نظارہ کرنے لگا جو اس ہوٹل کے تین اطراف میں واقع تھا۔ اس میں جانوروں سے زیادہ درخت تھے۔ یہاں بہت سے مصری فیملی سمیت گھوم رہے تھے ۔ جب دور دور تک کوئی جانور نظر نہیں آیا تب یقین ہوا کہ سائینس واقعی سچ کہتی ہے کہ ہم اور وہ ایک ہی نسل سے ہیں۔ مصری اس بات کو سمجھ گئے اور اس گارڈن کا نام زو رکھ دیا۔

سوکھی ہوئی سخت ڈبل روٹی پر مکھن لگاتے ہوئے سوچا کہ یہ مصری اتنے سخت جان ایسے ہی نہیں ہوتے۔ ابلے ہوے انڈے اور سلیمانی چائے نے کسی حد تک ناشتے کا احساس دلایا۔

مصری آنٹی نے مسکرا کر دیکھا تو سمجھ گیا کہ اس کو پانچ پونڈ فوری چاہئیں تاکہ یہ خود کہیں باہر جا کر ستھرا ناشتہ کرسکے۔ فوراً  اس کی دعا لی اور واپس ہولیا۔مفت ناشتہ ہوٹل بکنگ میں شامل ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہوتا ہی کچھ نہیں۔

مصر میں آنا کچھ مشکل نہیں لیکن یہاں آکر ان کی ہزاروں سال کی تہذیب اور کلچر میری طرح پانچ دنوں میں سمجھنا تقریبا ناممکن ہے۔ یہاں آنے والوں کے لیے لاکھ روپے کی ٹپ یہ ہے کہ چاہے ایک مہینہ لگے پوری تاریخ پڑھ اور سمجھ کر آئیں تاکہ پتا بھی چلے کہ  دیکھ  کیا رہے ہیں۔

قاہرہ سے سفر شروع کرنے کا مقصد یہاں موجود اہرام مصر یا پیرامڈز تھے۔ اس کو بنانے والی ٹیکنالوجی کا اندازہ لگا کر دنیا حیرت میں گم ہے۔ ان مربع شکل کے بھاری پتھروں کا سینکڑوں میٹر اوپر لے جانا اور ایک خاص ترتیب بھی رکھنا کہ سٹرکچر چوکور  کی بجائے تکونی بنے، آج کے دور میں بھی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ان سب پیرامڈز کو ہاتھ لگا کر چھونا ایک مزیدار کام تھا جو آج ہونے جا رہا تھا۔

میری ریسرچ کے مطابق یہ سات اہرام تھے، تین بڑے اور چار چھوٹے اور ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھے۔  یہاں کھانے پینے کی کوئی چیز دستیاب نہیں تھی۔ جو بھی کھانا ہو گھر سے لے کر جانا ہے۔ ہوٹل مینیجر کو روم صفائی نا کرنے کا کہہ کر شولڈربیگ میں ایک ایکسٹرا شرٹ ٹراوزر پاور بنک اور سرفس پرو رکھے ہوٹل سے باہر نکل آیا۔ اب مسئلہ لنچ خریدنے کا تھا۔ مین روڑ پر آیا تو سٹریٹ فوڈ کی خوشبو نے متوجہ کیا۔ یہ ایک آوٹ ڈور سٹال  تھا جس کے پیچھے اسی بندے کی تین دکانیں تھیں۔ یہ شوارمے کی کوئی قسم تھی  جس میں مختلف سبزیاں،  گوشت یا حمص وغیرہ لگا کر بیچا جارہا تھا۔ ہم نے خاص عربی میں تعارف کروایا اور چار شوارمے بنوا لئے۔ ہوٹل کا مالک سن رہا تھا اور ویڈیو بناتے بھی دیکھ چکا تھا۔  پیسے پوچھے تو اس نے صاف انکار کردیا کہ بھائی آپ پاکستان سے ہو۔ آپ سے تو بالکل پیسے نہیں لینے۔ ذہن پر پورا زور لگا کر سوچا کہ شاید کچھ یاد آجائےجو ہم نے اچھا کیا ہو اور دنیا نے تالیاں بجائی ہوں۔ انٹرنیشل لیول پر اتنی عزت ایسے ہی تو نہیں مل رہی۔ ناکام ہو کر اس کو ایک پپی کی کہ مصری خوشی میں ایسا ہی کرتے ہیں اور ٹیکسی کی طرف لپکا جو سامنے ہی کھڑی تھی۔

اہرام مصر میں داخلہ:

قاہرہ اور الجیزہ (Giza) دو شہر ہیں جن کو دریائے نیل جدا کرتا ہے۔ دونوں ایسے ملے ہوئے ہیں کہ Giza کو بھی قاہرہ ہی کہا جاتا ہے اور Giza والے غصہ کرتے ہیں کہ ہمیں ہماری شناخت واپس لوٹا دو۔ اہرام Giza والی سایڈ پر ہیں اور اس ہوٹل سے کوئی دس کلومیٹر دور تھے۔ میاں صاحب نے پہلے ہی معلوم کررکھا تھا کہ سیدھا ٹکٹ کاونٹر پر جانا ہے جبکہ ٹیکسی ڈرائیوروں کی کوشش ہوتی ہے کہ اس سیاح کو کسی گائیڈ کے حوالے کریں جو ان کو کمیشن دے۔ اس ٹیکسی ڈرائیور نے 50 پاونڈز میں لے جانے کی حامی بھری۔ نیشنلٹی بتائی تو پیسے لینے سے ہی انکاری ہوگیا۔ کوشش کرکے تقریبا زبردستی پیسے اس کو دیئے۔

پیرامڈز کا ایریا کافی وسیع ہے لیکن اندر جانے کے دو راستے ہیں۔ ایک سے ٹورسٹ بسیں اندر جاتی ہیں جو پیرامڈز کے بالکل برابر اتارتی ہیں جبکہ دوسرا راستہ پیدل یا تانگہ سواروں کا ہے۔ پیدل چلنے کا الگ مزہ ہے کہ ہر ایک زاویےاور فاصلے سے تصویریں بنائی جا سکتی ہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے ابوالہول جسے انگلش میں Sphinx کہتے ہیں سے ٹاکرہ ہوتا ہے جس کا سر انسان اور دھڑ شیر کا ہے۔ دنیا میں دو ہی ابوالہول ہیں، ایک یونانی جو عورت کی شکل ہے  اور یونان میں ہے جبکہ دوسرا مصری جو مرد ہے ۔ ابوالہول کا جسم کئی ہزار برس تک ریت کے نیچے دفن رہا اور انیسویں صدی میں اس کو پوری طرح باہر نکالا گیا تاکہ اس کی خوبصورتی ظاہر ہو۔ یہ Pharaoe یا فرعون خفرے Khafre کا چہرہ بتایا جاتا ہے جس کا زمانہ 2500قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔ دوسرا اہرام اسی بادشاہ کا ہے۔ یہ ایک لائیم سٹون کی چٹان تھی جس کو تراش کر یہ مجسمہ بنایا گیا۔ اس کو خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

سولو ٹریولر ہونے کے فائدے بہت ہیں لیکن فوٹو گرافی میں کسی کی مدد لینا ضروری ہوجاتا ہے۔ حسب ضرورت صرف گورے جوڑوں سے مدد لی۔ ابوالہول سے پہلا پیرامڈ 150 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ 2 بجے کے آس پاس کا وقت اور اکتوبر کی میٹھی گرمی میں چلنا بالکل دشوار نہ تھا  کہ اچانک ایک تانگے والا اپنے تانگے کی خصوصیات و عادات بتانے لگا۔ اس کو بہت سمجھایا کہ بھائی چنگچی تو ابھی آئے ہیں یہی تانگےگھوڑے دیکھتے ہی ہم بڑے ہوئے ہیں ہمیں سب پتہ ہے کہ یہ کیسے آپریٹ ہوتا ہے۔ پھر سوچا تانگے پر بیٹھے بھی شاید بیس سال ہوگئے ہیں۔ فرعون کے دربار میں پیدل جانا عجیب سا لگے گا۔ ہلکا پھلکا فرعون تو میں بھی ہوں (لوگ کہتے ہیں)۔ 20 پاونڈز میں شڑاپ سے چھانٹا کھا کر گھوڑا چل پڑا۔ مصری نے بہت کہا کہ آگے لے جاتا ہوں۔ پانچوں پیرامڈز ایک لائین میں دکھائی دیں گے۔ صرف 100 اور دے دینا۔ میاں کا موڈ پیدل چلنے کا تھا اس لئے وہ واپس ہولیا۔

پہلا پیرامڈ یا ہرم جو کہ فرعون خوفو Khufu کا مقبرہ ہے سامنے تھا۔ تحقیق کے مطابق خوفو کو یہاں دفن نہیں کیا گیا تھا ۔ اس پیرامڈ میں دو چیمبر ملے تھے جن میں کوئی باقیات نہیں ملیں۔ پتھروں کے اس قدر منظم اور عظیم ڈھیر کو دیکھ کر کچھ وقت تو سمجھ نہیں آیا کہ یہاں دعا مانگنی ہے یا کوئی ریسرچ کرنی ہے۔

481  فٹ اونچا یہ پیرامڈ 3800 سال تک دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ رہا۔ ایک مصری دس پونڈز کے عوض عربی کپڑا سر پر سجا گیا جس سے دھوپ کی تمازت ٹھنڈ میں بدل گئی۔ یہاں موجود ہر تین میں سے دو بندے گائیڈ تھے جن سے بچتے بچاتے پیرامڈز کی پہلی قطار کے پاس پہنچا ۔ہاتھ لگا کر پتھروں کی کثافت اضافی چیک کی۔ ہر چیز درست پا کر پیرامڈ کی دوسری سائیڈ پر چلا گیا۔

زیادہ تر سیاہ پیرامڈ کی تاریخ سے زیادہ اس کے سائے میں دلچسپی دکھا رہے تھے۔

یہاں فوٹو گرافی کا شوق پورا کرکے دوسرے پیرامڈ کی طرف روانہ ہوا۔ دوسرا پیرامڈخوفو کے بیٹے فرعون خفرے Khafre کا ہے۔ 448 فٹ اونچا یہ ہرم 53 ڈگری زاویے پر بنا ہے۔ ہر پتھر کا وزن 2 ٹن ہے۔اس کی تعمیر 2570 میں شروع ہوئی۔ اس میں بھی دو چیمبر ہیں جن میں کچھ باقیات ملی ہیں جن میں سے ایک خفرے کا بیٹا ہے۔

تیسرا بڑا پیرامڈ خفرے کے بیٹے Menkaure کا ہے یعنی دادا بیٹا اور پوتا تینوں ایک ساتھ۔ اس کی اونچائی 213 فٹ ہے اور اس کے چیمبرز میں جانے کی اجازت ہے۔

باقی کے چار پیرامڈز بھی نزدیک ہی ہیں اور سب کسی نہ کسی کے مقبرے ہیں۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”فرعون کے دوبدو: حصہ دوم ۔۔۔ میاں ضیاء الحق

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *