کیچ کا فرسودہ اور دقیانوسی نظامِ تعلیم۔۔۔۔منّان صمد بلوچ

ہر قوم کا تابناک مستقبل معیاری تعلیم سے وابستہ ہے- تعلیم کو کسی بھی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کا ضامن تصور کیا جاتا ہے- آج کی دنیا سائنسی علوم کی بدولت چاند اور مریخ کو مسخر کر چکی ہے لیکن جس رفتار سے دنیا ترقی کی منازل طے کرتی جا رہی ہے اُسی رفتار سے ہم تعلیمی میدان میں پیچھے جا رہے ہیں- پچھلی صوبائی حکومتوں کی عدم دلچسپی اور سنجیدہ غفلت کے باعث اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے- اس بات کا اندازہ لگایا جائے کہ ایک فرسودہ اور دقیانوسی نظامِ تعلیم کی ہمیں مستقبل میں کیا قیمت چکانی پڑے گی؟-

کیچ رقبے کے اعتبار سے بلوچستان کا دوسرا بڑا ڈسٹرکٹ جانا جاتا ہے- جہاں لاکھوں کی تعداد میں طلبا و طالبات فنی تعلیم حاصل کر رہے ہیں- تقریبًا کیچ ڈسٹرکٹ کے کل 56 گورنمنٹل ہائی اسکولز ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر اسکولوں میں معیاری تعلیم کا بحران اور بنیادی سہولیات کا فقدان ہے- جیسا کہ باصلاحیت اساتذہ کی کمی، صاف پانی کی قلت، بجلی کا بحران، کلاس رومز، سائنس لیبز، درسی کتابیں اور دیگر تعلیمی اوزار کی محرومیاں شامل ہیں اور کئی دیہاتوں میں بچے کھلے آسمان تلے حصولِ علم پر مجبور ہیں جو انتہائی افسوس ناک امر ہے-

کیچ کا شمار بلوچستان بھر میں تعلیم کے حوالے سے اہم علاقوں میں ہوتا ہے لیکن کیچ ڈسٹرکٹ کی مختلف تحصیلوں کے سرکاری تعلیمی ادارے مکمل ٹوٹ پھوٹ اور خستہ حالی کا شکار ہیں اور طلبا و طالبات تمام تر بنیادی حقوق سے محروم ہیں- مختلف اسکول کئی سالوں سے کھنڈررات اور ویرانے کا منظر پیش کر رہے ہیں- آج بھی ایسے اسکولوں کی کثیر تعداد موجود ہے جہاں زمینداروں کے جانور بندھے رہتے ہیں یا وہ اسکول نشہ کرنے والوں کی آماج گاہ بن چکے ہیں کیونکہ وہاں کا سب سے بڑا مسئلہ گھوسٹ ملازمین کا ہے، جہاں سیکڑوں سرکاری ملازمین سرکار سے گھر بیٹھے تنخواہ تو باقاعدگی سے وصول کرتے ہیں مگر اپنے فرائض سرانجام نہیں دیتے جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بڑا المیہ ہے-

اسی سبب سے کیچ کے دوردراز دیہات کے طلبا تربت میں کرائے کے کمروں میں ٹھہرنے پر مجبور ہیں اور اپنے دیہی علاقوں میں تعلیمی اصلاحات کی کمی کے باعث اپنا گھربار چھوڑ کر حصولِ علم کی خاطر سٹی میں رہائش پذیر ہیں- کیچ کے پسماندہ علاقوں کے نوجوان تعلیم کے حصول کے لیے محض تربت میں نہیں بلکہ ملک کے مختلف شہروں کا رخ بھی کرتے ہیں تاکہ معیاری تعلیم حاصل کر سکیں اور ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں-

ہر الیکشن سے قبل انتخابی جلسوں میں سیاسی جماعتوں نے بے شمار وعدے کیے اور الگ الگ نعرے لگائے کہ تعلیم اور ہنرمندی کو فروغ دینا ہمارے منشور کی اولین ترجیح ہے- سیاسی جماعتوں نے جو وعدے نئی نسل سے کیے، اب ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے اور اس فرسودہ نظامِ تعلیم سے چھٹکارا پانے کے لیے سنجیدگی دکھائی جائے-

مجھے اس بات پر افسوس ہو رہا ہے کہ کئی بار سیاسی نمائندوں کی توجہ طلبا کے مسائل کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی گئی اور بار بار شنوائی کے باوجود بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی- تاحال بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق کوئی نتیجہ خیز اقدامات نہیں کیے گئے ہیں اور صورت حال جوں کے توں ہے-

ہم صوبائی حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ کیچ کے سرکاری تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے جامع اور مؤثر پالیسیوں پر عمل درآمد کر کے فوری طور پر عملی اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں- کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے- طلبا و طالبات کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے اور نوجوان نسل کو تعلیم کی جدید سہولیات فراہم کر کے زیورِ تعلیم سے روشناس کرایا جائے-

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *