29 اپریل1931 کو جموں میں خطبہ عید کے دوران فرعون کے ظالمانہ نظام حکومت کے ذکر پر امام محمد اسحاق کو پولیس اہلکار کھیم چند نے خطبہ سے روک دیا جس کے خلاف مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کی اور← مزید پڑھیے
جب ہم خدا خدا کرکے اور جدا جدا کرکے انگریزی ادب میں ماسٹر ہو گئے۔ اور جب ہم بیکار پھر پھر کے اور انتظار کر کر کے بالآخر بڑے ماسٹر مقرر ہو گئے۔ اور ایک مقامی کالج میں تقرر ہو← مزید پڑھیے
دنیا کا مشکل ترین جزیرہ، دنیا کا سب سے خطرناک جزیرہ، دنیا کا سب سے اکیلا جزیرہ، دنیا کا سب سے عجیب و غریب جزیرہ،دنیا کا سب سے انوکھا جزیرہ۔۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا آخری آباد علاقہ← مزید پڑھیے
یہ سچ ہے کہ ہماری کائناتی چادر اپنی سکرین پر ہر لمحہ نئے نظارے دِکھاتی رہتی ہے، یہ بھی سچ ہے کہ ہماری کائنات کے بے انتہا وسیع ہونے کے باعث ہم بہت سے نظاروں کو “مِس” کرچکے ہیں، لیکن← مزید پڑھیے
سانحہ قصور لاریب کہ ہمارا سماجی واخلاقی المیہ ہے مگر اس سانحاتی آڑ میں فکری ابہامات،سماجی انتشار،غیر اخلاقی اقدار اور متنازعہ افکار کا پرچار اس سے زیادہ مذموم اور پراگندگی افکارکا مظہر ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی سماجی بے← مزید پڑھیے
جب ہم پاکستان کی سیاسی معاشی ، سماجی اور معاشرتی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو ہمیشہ ہر معاملے میں ہمیں مایوسی ہی ہوتی ہے ، لیکن ایسے ناموس حالات میں بھی کچھ سرپھرے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان نامساعد← مزید پڑھیے
آ ج کل فیس بک پر ٹرینڈ ہے کہ چار پانچ دانشور کسی ریسٹورنٹ میں اکٹھے ہوکر چائے، برگر، یا کھانا شانا کھاتے ہیں اور سیلفیاں بنا کر اپلوڈ کرتے ہیں.ہم جیسے سفید پوش لوگوں کی نظر ان سے زیادہ← مزید پڑھیے
“اسلام کا فلسفہ دراصل کیا ہے، یہی چار پانچ پرانے مذاہب کا مرکب ہے وگرنہ کچھ اپنا ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔ بالخصوص یہودیوں، پارسیوں، عیسائیوں اور مانیت کا بہت ہی گہرا اثر ہے اسلام پر۔ اب مسئلہ یہ← مزید پڑھیے
اسلام آباد ایک خاموش شہر ہے اور خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ جب کبھی اس شہر جانا ہوا تو یونہی لگا جیسے کائنات ٹھہر گئی ہے، خیر لاہور سے جانے والے کو ہر شہر میں کائنات ٹھہری ہوئی ہی← مزید پڑھیے
پاکستانی معاشرے کے اپنے ہی معیار ہیں۔ یہ معیار دراصل ایک کلاسیکل قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کی حقیقی تصویر کشی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کون کتنا طاقتور ہے؟ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ← مزید پڑھیے
بقول علامہ اقبال کے اثر کرے نہ کرے سن تو لے میری فریاد۔ ایک عرصہ سے امریکہ میں رہنے کے سبب اپنے ملک پاکستان سے بہت دوری رہی۔ خبروں کے ذریعے جومعلومات ملتی رہتی ہیں ورنہ ملک میں ہونے والی← مزید پڑھیے
میرے ایک بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے،سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا ۔روز کا ساتھ تھا اورروح کا تعلق تھا،اس لئے آج بھی وہ ہر وقت میرے دماغ میں رہتے ہیں۔ ان کے لئے دعائے مغفرت کرتی ہوں،← مزید پڑھیے
سعادت حسن منٹو کی ذہنی کیفیت ،محرومیوں اور اذیتوں کا شدید احساس اس رات ہوا جب ارتھر روڈ جیل کی تاریکی میں،میں نے خود کو بے بس محسوس کیا تھا۔ چند سعادت مندوں کی نوازش کے سبب میرے پہلے ناول← مزید پڑھیے
جب بھی پاکستانی چینلز پر شرم و حیاء کے جنازے اُٹھتے دیکھتا ہوں تو ایک بزرگ مجھے ٹوٹ کر یاد آتے ہیں ! میں انہیں سائیں جی کہا کرتا تھا، بہت نیک انسان تھے،مردانہ وجاہت کا شاہکار قندھاری انار کی← مزید پڑھیے
میرے صحافتی کیریئر کا آغاز 1990ء میں ماہنامہ “صدائے مجاہد” سے ہوا تھا جس کے چار سال بعد میں نے ادارت بھی سنبھالی. کیریئر کی پہلی تحریر “خلیجی بحران کا پس منظر” کے عنوان سے لکھی جو خارجہ و عسکری← مزید پڑھیے
میں نے جب عملی صحافت میں قدم رکھا تو مجھے علم ہوا کہ مجھے کتابوں میں جو کچھ بتایا اور پڑھایا جاتا تھا حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ہمیں پڑھایا جاتا رہا کہ اچھا صحافی غیر جانبدار ہوتا ہے مگر← مزید پڑھیے
میرا تعلق کسی سیاسی تنظیم سے ہے نہ کسی مذہبی جماعت سے اگر میں کسی جماعت کے جلسہ جلوس میں شرکت کرتا ہوں یا ان کے دھرنے میں ان کا ساتھ دیتا ہوں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں← مزید پڑھیے
اشفاق سلیم مرزا ، جو بعض افراد کے نزدیک “جدلیاتی مادیت پسند” ،یعنی کمیونسٹ، بھی ہیں، اپنی تنقیدی کتاب “مکیاولی سے گرامچی تک” میں کہتے ہیں کہ مارکس کا تاریخی مادیت کا نظریہ محض ایک “مفروضہ” تھا۔ ان کی دانست← مزید پڑھیے
ٹیلی ویڑن ڈرامے کے بارے میں کہا جاتاہے اگر ایک اچھا لکھاری لکھے اور ایک اچھا ہدایت کار اس کو ڈرامے کی شکل میں پیش کرے تو یہ آرٹ کا حصہ بن جاتا ہے بالکل اسی طرح ٹی وی ون← مزید پڑھیے
مسلم لیگ نواز کے رُکن قومی اسمبلی اور ممتاز ہندو رہنماء ڈاکٹر رامیش وانکوانی سے انٹرویو! ڈاکٹر رامیش وانکوانی ہندو کمیونٹی کے ممتاز سیاسی رہنما اور مسلم لیگ نواز کے ممبر قومی اسمبلی ہیں۔ وہ 2002میں پہلی بار قومی اسمبلی← مزید پڑھیے