میرا صحافتی کیریئر۔۔رعایت اللہ فاروقی/حصہ اول

میرے صحافتی کیریئر کا آغاز 1990ء میں ماہنامہ “صدائے مجاہد” سے ہوا تھا جس کے  چار سال بعد میں نے ادارت بھی سنبھالی. کیریئر کی پہلی تحریر “خلیجی بحران کا پس منظر” کے عنوان سے لکھی جو خارجہ و عسکری امور پر تھی اور یوں یہی شعبہ پہلے روز سے میری خصوصی  توجہ کا مرکز  بن گیا.۔مین سٹریم میں آنے سے قبل کے 6 سال جرائد سے ہی وابستگی رہی البتہ یہ ہے کہ روزنامہ جنگ و جسارت میں بھی اس زمانے میں کئی مضامین شائع ہوئے۔ قدرت کی شان دیکھیے کہ اپنے صحافتی کیریئر کے دوران اب تک مین سٹریم میڈیا کے جتنے اداروں سے وابستگی ہوئی غائبانہ ہی ہوئی۔

1996ء میں میرے مرحوم دوست مولانا اللہ وسایا قاسم نے روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے اس وقت کے ایڈیٹر حامد میر سے بات کی کہ میرے دوست رعایت اللہ فاروقی بہت اچھا لکھتے ہیں آپ انہیں بطور کالم نگار موقع دیجیے، میر صاحب نے کہا۔۔

“کالم لکھنا الگ چیز ہے دیکھنا پڑے گا کہ وہ کالم کا اسلوب جانتا بھی ہے یا نہیں، آپ اسے کہیے چند کالم لکھ کر بھیجے، اگر کالم پسند آئے تو رکھ لیں گے”

میں کسی کام سے کراچی میں تھا اللہ وسایا نے فون کرکے کالم بھیجنے کا کہا تو میں نے پوچھا۔۔”یار یہ بتاؤ کہ میر صاحب کی ٹاپ پسندیدہ و ناپسندیدہ سیاسی جماعتیں کون سی ہیں؟”

اللہ وسایا نے بتایا۔۔”پیپلز پارٹی کے لئے نرم اور جماعت اسلامی کے لئے گرم گوشہ رکھتے ہیں”

میں ان دونوں کے لئے ہی گرم گوشہ رکھتا تھا مگر انہی دنوں میر مرتضی بھٹو شہید ہوئے تھے چنانچہ کیرئیر کا پہلا ہی کالم ایسا لکھ دیا جس میں پیپلز پارٹی کے لئے نرمی بھی تھی اور ربط قائم کرکے ساتھ ہی جماعت اسلامی کا بھی رگڑا نکال دیا. اب ایسے کالم سے میر صاحب قابو نہ آتے یہ ممکن ہی نہ تھا. انہوں نے فوراً اللہ وسایا سے کہا

“اسے کہو جلدی سے کالم کا مستقل ٹائٹل منتخب کرکے بھیجے”

میں نے “گفتار و پندار” بھیج دیا اور یوں کالم نگاری کا کیرئیر شروع ہوگیا۔ اس کے ایک ماہ بعد میری میر صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی. روزنامہ اوصاف شروع ہوا تو اس کے مالک نے روزنامہ پاکستان کی ہی ٹیم کھینچ لی تھی، چنانچہ وہاں تو ہم 21 رکنی ٹیم کی صورت اپنے کیپٹن حامد میر کے ساتھ پہنچے تھے، اس اخبار کے  ہم بانی ٹیم تھے سو اخبار کے لے آؤٹ سمیت تمام جزیات مل کر طے کیں، اس میں میرے لئے ایک یاد گار چیز یہ ہے کہ ممتاز شاعر حبیب جالب کا شعر

ہمارے ذہن پر چھائے نہیں ہیں حرص کے سائے
جو ہم محسوس کرتے ہیں وہی تحریر کرتے ہیں!

روزنامہ اوصاف کے ادارتی صفحے کی لوح کا مستقل حصہ ہے، یہ واحد اخبار ہے جس کے ادارتی صفحے کی لوح میں شعر شامل ہے اور یہ میری تجویز تھی جسے میر صاحب نے بہت سراہا بھی اور عملی جامہ بھی پہنایا. اسی طرح کارٹون کے سلسلے میں بھی میں نے تجویز دیتے ہوئے کہا تھا۔۔”کارٹون تو ادارے کی سٹیٹمنٹ ہے، اس کا خبروں والے صفحے پر کیا کام ؟ کارٹون ادارتی صفحے پر ہونا چاہیے”۔

میر صاحب نے یہ تجویز بھی قبول کرلی اور بعد میں مجھ پر انکشاف ہوا کہ عالمی اخبارات میں بھی کارٹون   ادارتی  صفحے  پر ہی شائع ہوتے ہیں۔ میر صاحب کے ساتھ دونوں اخبارات میں  مجموعی  طور  پر  سات سال کام کیا اور کچھ تاریخی ایونٹس میں ان کے ساتھ شامل رہا  جن کی تفصیل کتاب کا ہی حصہ بنے گی انشاءاللہ  ہاں جاتے جاتے یہ گواہی ضرور دوں  گا کہ جو لوگ انہیں انڈین ایجنٹ کہتے ہیں وہ حامد میر کو اندر سے نہیں جانتے، میں ان کے کچھ بہت ہی نجی معاملات سے واقف ہوں سو حلفیہ کہہ سکتا ہوں کہ حامد میر کچھ بھی ہو سکتا ہے انڈین ایجنٹ یا ملک دشمن کبھی نہیں ہو سکتا. اس باب میں ان کے ساتھ ان کے ناقدین بہت بڑی زیادتی کرتے ہیں!

جاری ہے!

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”میرا صحافتی کیریئر۔۔رعایت اللہ فاروقی/حصہ اول

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *