نیم لیکچرار گوالمنڈی میں /طارق احمد۔قسط1

جب ہم خدا خدا کرکے اور جدا جدا کرکے انگریزی ادب میں ماسٹر ہو گئے۔ اور جب ہم بیکار پھر پھر کے  اور انتظار کر کر کے بالآخر بڑے ماسٹر مقرر ہو گئے۔ اور ایک مقامی کالج میں تقرر ہو گیا ۔ تو ہم نے اپنے بچپن کے ایک کن ٹٹے دوست سے پوچھا ۔

یہ ریلوے روڈ کدھر ہے؟۔۔ اس کن ٹٹے نے ہماری بات سن کر مکمل بے شرمی کے ساتھ ہمیں یوں اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ جیسے ہم کوئی فحش مخلوق ہوں اور کسی ہوٹل کی لابی میں کسی گاہک سے بھاؤ تاؤ کر رہے ہوں ۔ پھر واہیاتی سے بولا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں ، تم خود کرشن نگر جبکہ تمہارے ننھیال اندرون شہر رہتے تھے، اور تمہارا آدھا بچپن کرشن نگر اور لوہاری گیٹ کی گلیوں میں پتنگیں لوٹنے اور گلی ڈنڈا کھیلنے میں گزرا ہے۔ جبکہ باقی کا آدھا بچپن تم نے اپنے محلے کے اوباش لونڈوں سے بچتے بچاتے گزارا  ہے۔ کچھ ایسے ہی پپو تھے تم۔ اور آج تم مجھ سے پوچھ رہے ہو۔ یہ ریلوے روڈ کہاں ہے۔۔

ہم  نے اپنے اس کن ٹٹے دوست کی یہ بات سن کر باقاعدہ شرماتے اور اپنا بدن سمیٹتے ہوئے کہا۔ دیکھو ایسے نہ مجھے تم دیکھو۔ میں ایک معزز آدمی ہوں اور ابھی حال ہی میں ہماری بطور لیکچرار اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں تقرری ہوئی  ہے۔ اور یہ کہ محکمہ تعلیم کا خیال ہےہمیں درس و تدریس کا کام کرنا چاہیے ۔ خواہ اس کے لیے ہمیں گوالمنڈی ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ اسی لیے ہم تم سے ریلوے روڈ کا پتہ پوچھ رہے ہیں۔

کن ٹٹے دوست نے ہماری بپتا سن کر ہمیں ترحم بھری نظروں سے دیکھا جیسے وہ ہمارے مستقبل سے مکمل مایوس ہو  گیا ہو  اور پھر سر ہلا کر بولا۔۔۔۔ تم ایسا کرو، اپنی گاڑی میں سوار ہو کر نکل جاؤ  اور گاڑی کا شیشہ کھول دو۔ لاہور کی جس سڑک پر تانگے میں جتے گھوڑے کا سر تمہاری گاڑی کے اندر آ جائے ، وہی ریلوے روڈ ہے۔

اس سے ہم ایک بات تو سمجھ گئے  کہ جس علاقے میں ہم پڑھانے جا رہے ہیں  وہاں تانگوں اور گھوڑوں کی بہتات ہے  لیکن یہ بات ہمیں وہاں جا کر ہی معلوم ہوئی  کہ یہ علاقہ پہلوانوں میں بھی خود کفیل ہے۔ ہم تانگوں گھوڑوں سے تو بچتے رہے  اور گاڑی کا شیشہ بھی بند رکھا۔ مبادا کوئی گھوڑا واقعتاً  اپنا منہ گاڑی کے اندر کرکے ہم سے علیک سلیک شروع کر دے، زیادہ ڈر یہ تھا کہ  بات علیک سلیک سے بڑھ کر کہیں چوما چاٹی تک نہ پہنچ جائے   اور سچی بات ہے  اگرچہ ہماری ابھی شادی نہ ہوئی تھی  لیکن ہم اتنے بھی محرومی کا شکار نہ تھے  کہ نوبت گھوڑوں کے پیار تک پہنچ جاتی۔ غلطی یہ ہوئی  کہ  ہم نے ایک پہلوان کے عین پیچھے جا کر ہارن بجا دیا۔ یہ پہلوان دھوتی اور بنیان پہن کر عین سڑک کے درمیان چل رہا تھا۔

اب خدا گواہ ہے۔ ہم نے پہلوان کی دھوتی اور بنیان پر اعتراض کی وجہ سے ہارن نہیں بجایا تھا ۔ دھوتی اور بنیان لاہوریوں کا قومی لباس ہے اور ہم خود اس ایئر کنڈیشن لباس سے گرمیوں میں محظوظ ہوتے رہے ہیں۔ بات یہ تھی کہ یہ پہلوان اپنے آدھے فرلانگ پھیلے پیٹ کے ساتھ عین سڑک کے درمیان چل رہا تھا ۔ جبکہ ہمارے  عقب میں آنے والے ایک گھوڑے نے ہماری واٹ لگا رکھی تھی۔ ہارن کی آواز سن کر پہلوان کا ترا ہ نکل گیا۔ اس نے مڑ کر خشمگیں نظروں سے ہمیں دیکھا  اور منہ بھر کر ہماری شان میں ایک فی البدیہہ قصیدہ پڑھ ڈالا۔ اب ہمارا تراہ نکلنے کی باری تھی۔ ہمیں احساس ہوا  پہلوان کو غصہ ہارن پر نہیں اپنا تراہ نکلنے پر ہوا ہے۔ اتنی دیر میں گھوڑے کی جگہ پہلوان کا سر ہماری گاڑی کے اندر آ چکا تھا اور ہمیں ڈر تھا کہ ہم ابھی اس گنبد سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں گے  اور کل کے اخباروں میں یہ خبر چھپے گی۔ ۔اے راہ حق کے شہید تجھے گوالمنڈی کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔

ہاتھ جوڑ کر کہا’پہلوان جی بڑی غلطی ہو گی ۔ معاف کر دیں۔ میں آپ کے علاقے میں استاد بن کر آیا ہوں۔ ہماری بات سن کر پہلوان کا ہاسا نکل گیا۔ اور ہمارے کندھے پر زور سے ہاتھ مار کر پھٹی ہوئی آواز میں بولا۔” استاد بن کر آئے ہو اور کہہ ایسے رہے ہو  جیسے تھانیدار بن کر آئے ہو”۔۔ ہمارا وہ کندھا ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا۔

سچی بات ہے ہم خود راجپوت رانگڑ تھے اور غصے کے زہری تھے۔ لیکن ہم نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں جو سترہ سال نوکری کی  وہاں کے گھوڑوں، پہلوانوں اور طالب علموں نے ہمارے اندر وہ صبر پیدا کیا اور وہ برداشت پیدا کی جس کا فائدہ ہمیں اپنی شادی شدہ زندگی میں بھی ہوا اور آج فیس بک پر بھی ہو رہا ہے۔
جاری ہے!!

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نیم لیکچرار گوالمنڈی میں /طارق احمد۔قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *