اسکارف ہماری پہچان ہے یا خطرہ؟۔۔حمیرا گُل خان

 بقول علامہ اقبال کے اثر کرے نہ کرے سن تو لے میری فریاد۔ ایک عرصہ سے امریکہ میں رہنے کے سبب اپنے ملک پاکستان سے بہت دوری رہی۔ خبروں کے  ذریعے جومعلومات ملتی رہتی ہیں ورنہ ملک میں ہونے والی بہت سی تبدیلیوں کے بارے میں نہیں جان پاتے۔ خاص کر کہ وہ تبدیلیاں جو پاکستانی اداروں کی پالیسیوں میں ہوتی ہیں۔ والدہ کی ناسازی طبع کی وجہ سے  پاکستان آنے کا اردہ کیا تو اس سلسلے میں نائیکوپ کی ضرورت پیش آئی۔ نائیکوپ بنوانے کے لیے جب تصویر ایجنٹ کو دی تو انھوں نے یہ کہہ کر واپس لوٹا دی کہ، اسکارف کے بغیر تصویر کھنچوائیں۔

یہ سن کر تھوڑی حیرت ہوئی۔ میں نے اپنی تصدیق کے لیے دوبارہ استفسار کیا، مبادا  میرے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہو۔ تو ایجنٹ نے پھر وہی کہا، اسکارف کے بغیر تصویر کھنچوائیں، اب اسکارف والی تصویر کی پالیسی ختم کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی اضافہ کیا، اگر میں یہ تصویر لے بھی لوں تو آگے جا کر مسترد کر دی جائے گی۔ تو بہتر یہی ہے کہ آپ بغیر اسکارف کے تصویر بنوا کر لادیں۔

چونکہ اب تک ایسی کسی پالیسی کا مجھے علم نہیں اس لیے حیرت و دکھ کی کچھ ملی جلی کیفیت کے ساتھ واپس آگئی۔ پھر ارادہ کیا کہ اسکارف نہیں تو ڈھیلے دوپٹے کے ساتھ تصویر بنوالوں گی۔ دوسرےدن  صبح نیویارک میں موجود پاکستانی قونصلیٹ میں فون کیا تاکہ ان سے تصدیق ہو جائے کہ اسکارف ڈھیلا کر کے تصویر بنوانے میں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ وہاں موجود خاتون نے صاف الفاظ میں کہا، سر پر کسی بھی قسم کا اسکارف یا دوپٹہ نہ ہو، تصویر لیتے وقت سر کھلا ہونا چاہیے۔ اب سے امریکہ سے نائیکوپ بنوانے کے لیے تصویر میں سر کھلا ہونا لازمی ہے۔ سر ڈھانپنے کی صورت میں تصویر مسترد کر کے کارروائی روک دی جائے گی۔

امریکہ میں رہتے ہوئے تقریباً  دس سال ہونے والے ہیں لیکن کبھی کسی امریکی ادارے نے مجھے اسکارف اتارنے کا نہیں کہا۔ اگر کبھی  کسی نے پوچھا بھی تو مذہب کا حوالہ دے دیا۔ یہاں تک کہ  میرے امریکن پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر بھی تصویر اسکارف کے ساتھ ہی لگائی گئی ہے۔ کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ اس کے مقابلے میں جب اپنا ہی مسلم ملک اپنی کاغذی کارروائی کے سلسلے میں یہ کہے کہ آپ سر نہیں ڈھانپ  سکتے تو یقیناً افسوس کی بات ہے۔

بلاشبہ ہمارے ادارے جو بھی پالیسی اختیار کرتے ہیں جو ملکی  مفاد کے لیے ہی ہوتی ہے۔ اور ملکی  فلاح و بہبود کے آگے کوئی چیز اہم نہیں۔ اگر مجھ سے یہ کہا جاتا کہ آپ اسکارف ڈھیلا کر کے پہن لیں یا ہلکا دوپٹہ  اوڑھ  لیں تاکہ چہرے کے نقوش واضح ہو سکیں تو بخدا بہت خوشی ہوتی۔ ہمارے ادارے ہمارے ملک کی سلامتی کے لیے کوشاں ہیں اور ساتھ ہی اپنی اسلامی تعلیمات بھی لے کر چل رہے ہیں یہ بات محسوس کرنا ہی دیار غیر میں رہنے والوں کے لیے خوشی اور راحت کا باعث ہوتی ہے۔ بقول اقبال ۔۔

 تمیزِ خار و گل سے آشکارا نسیمِ صبح کی روشن ضمیری

حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹے میں ہو خوئے حریری!

بات اسکارف لینے یا نہ لینے کی  نہیں۔ بات صحیح اور غلط کی ہے۔ جب جب امریکہ کی سڑکوں پہ کہیں جاتی ہوں ہر غیر مسلم دیکھ کر پہچانتا ہے کہ ایک مسلمان ہوں۔ امریکہ میں پیدا ہونے والی اور  پرورش   پانے والی بے شمار بچیاں اسکارف اوڑھتی  ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہاں رہتے ہوئے یہ بات واضح کر سکیں کہ اسکارف ایک مسلمان عورت کی پہچان ہے۔ اس کی یہ شناخت نہ تو کسی کام میں رکاوٹ ہے اور نہ ہی کوئی اس کی یہ پہچان چھین سکتا ہے۔ غیر مسلم ملک امریکہ کواسکارف سے کوئی خطرہ نہیں۔ میرا سوال بس اتنا ہے، کہ جو سر مذہبی احکام کی پاسداری کے لئے ڈھانپا جائے،وہ  میرے ملک کی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث کیسے  ہے؟

حمیرا گل
حمیرا گل
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *