• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بلوچ خواتین گلوکاراؤں کی مشکلات۔۔علی جان مقصود/انگریزی سے ترجمہ: سعدیہ مگسی

بلوچ خواتین گلوکاراؤں کی مشکلات۔۔علی جان مقصود/انگریزی سے ترجمہ: سعدیہ مگسی

بلوچستان میں 70 سے 100 کے درمیان گلوکار ہر سال بلوچی زبان میں ٹریک جاری کرتے ہیں۔ مایوسی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف چند ہی خواتین ہیں۔

ہانی خان، تربت کے علاقہ کوش قلات سے تعلق رکھتی ہیں،اور ایک ابھرتی ہوئی بلوچ گلوکارہ ہیں۔

“میں نے ہمیشہ گلوکار بننے کا خواب دیکھا تھا۔ بچپن سے ہی یہ میرے لیے ایک جنون رہا ہے۔ بلوچ معاشرے میں صرف چند خواتین گلوکارائیں ہیں۔ اس کے باوجود، میں ہمیشہ ہی ان میں سے ایک بننے کا خواب دیکھا ہے،” ہانی کہتی ہیں۔
“ہمارے معاشرے میں زیادہ تر خواتین روایت کے مطابق خود کو محدود محسوس کرتی ہیں۔ تاہم، میرے اہلِ خانہ کی طرف سے مجھے کبھی نہیں کہا گیا ہے کہ میں اپنے خوابوں کی پیروی کرنا چھوڑ دوں۔”

اپنی صلاحیتوں اور اہلِ خانہ کی مدد اور حوصلہ افزائی سے، ہانی خان تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ جلد ہی ایک ریکارڈنگ اسٹوڈیو میں شامل ہونے جا رہی ہیں۔ دیگر بلوچ والدین کو بھی اپنی بیٹیوں کو کسی قسم کی پابندی عائد کیے بغیر انھیں مطلوبہ کیریئر کو حاصل کرنے دینا چاہیے۔

مقامی موسیقی کے منظرنامے پر گوادر سے تعلق رکھنے والی مہر بلوچ ایک اور ابھرتی ہوئی اسٹار ہیں۔ انھوں نے 2017 میں ریلیز ہونے والے اپنے پہلے گانے سے آغاز کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھیں کچھ تنقید اور حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ ان کا کا کنبہ معاون رہا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنی فیلڈ میں واپسی کی امید ہے۔

وہ کہتی ہیں، “میں ہمیشہ ایک اچھی گلوکارہ بننا چاہتی تھی۔ خوش قسمتی سے میرا کنبہ معاون رہا ہے۔ جب کہ کچھ لوگوں نے مجھ پر تنقید کی ہے، مگر مجھے اس سے زیادہ حوصلہ افزائی اور حوصلہ ملا ہے۔ میں ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی رہی ہوں”۔

مہر کا کہنا ہے کہ یہ ان کی آواز ہے، لیکن اس نے اس کے لیے باضابطہ تربیت حاصل نہیں کی۔ “میں گوادر میں رہتی ہوں۔ مرد گلوکاروں کے لیے میوزک اکیڈمی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ خواتین کو میوزک کلاس میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ میں نے پوچھا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ ہمارے لیے انتظام نہیں کر سکتے ہیں۔”

مہر کا کہنا ہے کہ انھوں نے استاد اصغر حسین سے بہت کچھ سیکھا جو ان کے گھر آتے تھے۔

“میں نے سن 2016 میں ریکارڈنگ شروع کی تھی اور پانچ گانے گائے تھے۔ 2019 میں، میں نے اپنا دوسرا البم جاری کیا۔ میں زیادہ تر ان شاعروں کا انتخاب کرتی ہوں جن کی شاعری معنی خیز ہوتی ہے۔ ان میں سید ظہور شاہ ہاشمی، عطا شاد اور جی آر مُلا شامل ہیں۔” وہ مزید بتاتی ہیں، “متعدد شعراء نے مجھ سے اپنی نظمیں گانے کو کہا ہے، ان میں سے کچھ نے ریکارڈنگ کے اخراجات برداشت کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ تاہم مجھے معذرت کرنا پڑی کیونکہ میں صرف اس شاعری کو گانے میں یقین رکھتی ہوں جو میرے دل کو چھوتی ہے۔”

کراچی سے تعلق رکھنے والی نوجوان فنکار عظمیٰ حیا بلوچ ایک اور بلوچ گلوکارہ ہیں۔ انھیں شروعات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ والدین نے ان کی گلوکاری کے کیریئر کے انتخاب کی مخالفت کی تھی۔ خوش قسمتی سے، انھیں اپنے دادا کی حمایت حاصل ہوئی۔

میں بچپن سے ہی گا رہی ہوں۔ میں نے اپنے کیریئر کی بہت مایوس کن شروعات کی تھی کیوں کہ میرے آس پاس کے ہر شخص حتیٰ کہ میرے اپنے خاندان نے بھی میرے منصوبوں کی مخالفت کی تھی۔ میں اس پر روتی تھی۔ شکر ہے کہ مجھے اپنے دادا کی حمایت حاصل تھی جنھوں نے مجھے ہمیشہ کہا کہ کسی سے یا کسی بھی چیز سے نہ ڈرو اور میں تمھارے ساتھ کھڑا ہوں۔

عظمیٰ کا کہنا ہے کہ وہ بلوچی موسیقی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

“جب لوگوں نے میری کفالت سے انکار کیا تو میں نے ایک YouTube چینل بنایا اور اپنے گانوں کو شیئر کیا۔ اس کے بعد میں نامور شعرا کی تائید اور کفالت کے ساتھ چار البمز جاری کرنے میں کامیاب ہو گئی۔”

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *